یہ صفحہ اب مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی کا کہنا ہے کہ برطانیہ نے اسرائیلی حکومت کے ساتھ نئے آزاد تجارتی معاہدے پر مذاکرات معطل کر دیے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’امداد روکنا، جنگ کو وسعت دینا، دوستوں اور شراکت داروں کے خدشات کو مسترد کرنا ناقابل دفاع ہے اور اس سب کو اب روکنا چاہیے۔‘
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
غزہ میں خوراک کی کمی اور بچوں کی صورتحال کے بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے چند ماؤں کا کہنا ہے کہ وہ ’اپنے بچوں کو بھوک سے کمزور ہوتے ہوئے دیکھ رہی ہیں۔‘
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ ٹام فلیچر نے بی بی سی ریڈیو فور کے ٹوڈے پروگرام کو بتایا تھا کہ اگر امدادی سامان غزہ کے لوگوں تک نہیں پہنچا تو اگلے 48 گھنٹوں میں 14 ہزار بچے ہلاک ہو سکتے ہیں۔
دو بچوں کی والدہ شہناز کہتی ہیں کہ ان کا سات ماہ کا بچہ ’بھوک سے لگاتار روتا اور چیختا رہتا ہے۔‘
وہ بتاتی ہیں کہ ان کے بچے کا مدافعتی نظام بہت کمزور ہو چُکا ہے اور ان کی بیٹی کیلشیم کی کمی کا شکار ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ ’کوئی بھی ہماری تکلیف میں ہماری مدد کرنے کے قابل نہیں ہے۔‘
دو چھوٹے بچوں کی والدہ فاطمہ خمیس کا کہنا ہے کہ وہ اب اپنے بچوں کو اپنا دودھ پلانے کے قابل نہیں وہ خوراک کی کمی کی وجہ سے انتہائی کمزور ہو چُکی ہیں اور بچوں کا فارمولا ملک یا تو دستیاب نہیں اور اگر ہے بھی ہم خریدنے کی طاقت نہیں رکھتے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’میرے بچے کا چہرہ خوراک کی کمی کی وجہ سے پیلا پڑ چُکا ہے اور وہ شدید کمزور اور لاغر ہو چُکا ہے۔‘
غزہ سے ہی تعلق رکھنے والی تیسری ماں حنا محمود اسماعیل کا کہنا ہے کہ ’حمل کے دوران خوراک کی کمی نے ان کے بچے کی نشوونما کو متاثر کیا۔‘
وہ اپنے پانچ ماہ کے بیٹے سے متعلق بتاتی ہیں کہ ’وہ کمزوری کی وجہ سے اب بھی بیٹھ نہیں سکتا، دودھ اور خوراک کی کمی کی وجہ سے اُس کی جان خطرے سے دوچار ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیل کے خارجہ امور کے ترجمان اورن مارمورسٹائن نے برطانیہ کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ تجارتی مذاکرات معطل کرنے کے فیصلے پر ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
ایکس پر ایک پوسٹ میں مارمورسٹائن کا کہنا ہے کہ ہاؤس آف کامنز یعنی ایوانِ نمائندگان میں ڈیوڈ لیمی کے اعلان سے قبل برطانوی حکومت کی جانب سے آزاد تجارتی مذاکرات تعطل کا شکار تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’اگر برطانیہ اسرائیل مخالف جنون اور داخلی سیاسی مصلحتوں کی وجہ سے اپنی معیشت کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے تو یہ اُن کا اپنا فیصلہ ہے۔‘
اسرائیل کے خارجہ امور کے ترجمان اورن مارمورسٹائن نے مزید کہا کہ ’مغربی کنارے میں متعدد افراد اور گروہوں کے خلاف برطانوی پابندیاں ’غیر منصفانہ‘ ہیں۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’بیرونی دباؤ اسرائیل کو اپنے وجود اور سلامتی کے دفاع میں ان دشمنوں کے خلاف اپنے راستے سے نہیں ہٹا سکتا جو اس کی تباہی چاہتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہHouse of Commons
برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی کا کہنا ہے کہ برطانیہ نے اسرائیلی حکومت کے ساتھ نئے آزاد تجارتی معاہدے پر مذاکرات معطل کر دیے ہیں۔
ایوانِ نمائندگان میں خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ہم نے اس اسرائیلی حکومت کے ساتھ ایک نئے آزاد تجارتی معاہدے پر مذاکرات معطل کر دیے ہیں۔ ہم 2030 کے دوطرفہ روڈ میپ کے تحت ان کے ساتھ تعاون کا جائزہ لیں گے۔‘
ڈیوڈ لیمی کا یہ بھی کہنا ہے کہ برطانیہ میں اسرائیلی سفیر تزیپی ہوٹوویلی کو دفتر خارجہ طلب کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے وزیر ہمیش فالکنر ہوٹوویلی کو بتائیں گے کہ ’غزہ کو امداد پر 11 ہفتوں کی پابندی ظالمانہ اور ناقابل دفاع ہے۔‘
ڈیوڈ لیمی نے مزید کہا کہ ’غزہ میں جنگ برطانیہ کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو نقصان پہنچا رہی ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’امداد روکنا، جنگ کو وسعت دینا، دوستوں اور شراکت داروں کے خدشات کو مسترد کرنا ناقابل دفاع ہے اور اس سب کو اب روکنا چاہیے۔‘
واضح رہے کہ اس سے قبل برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے ایوانِ نمائندگان سے اپنے خطاب کا آغاز یہ کہتے ہوئے کیا کہ ’غزہ میں خوراک کی کمی اور بھوک کا خطرہ عام شہریوں پر منڈلا رہا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’حماس کے زیر حراست باقی اسرائیلی یرغمالیوں کو ’زیادہ خطرہ‘ لاحق ہے کیونکہ ان کے ارد گرد جنگ جاری ہے۔‘
ڈیوڈ لیمی کا کہنا تھا کہ ’غزہ میں انسانی بحران اور تباہی شدت اختیار کر جاتی ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’اسرائیل غزہ کی پٹی کا کنٹرول سنبھالنے اور غزہ کے باشندوں تک کم سے کم خوراک پہنچانے کا ارادہ رکھتا ہے۔‘ غزہ میں پہنچنے والی امداد کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے صورتحال کو ’ناقابل برداشت‘ قرار دیا۔

،تصویر کا ذریعہEyal Warshavsky/SOPA Images/LightRocket via Getty Images
حزب اختلاف کے ایک اسرائیلی رکن پارلیمنٹ نے کہا ہے کہ اسرائیل ’ایک پاگل ریاست بنتا جا رہا ہے،‘ انھوں نے اپنے ہی ملک پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ’ہمارا مُلک شوقیہ طور پر بچوں کو قتل کر رہا ہے۔‘
اسرائیل کی ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما یائر گولان نے گزشتہ روز اسرائیلی سرکاری ریڈیو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’ایک سمجھدار ملک شہریوں کے خلاف لڑائی میں ملوث نہیں ہوتا، بچوں کو شوقیہ طور پر قتل نہیں کرتا اور نہ ہی کسی آبادی کو بے دخل کرنے کے اہداف طے کرتا ہے۔‘
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے گولان کے بیان پر ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں انھوں نے لکھا کہ گولان ایک ’گراوٹ کا شکار فرد ہیں۔‘ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’انھوں نے (یائر گولان) اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کے فوجیوں پر ’سب سے گھناؤنے یہود مخالف خون ریزی‘ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔‘
اسرائیلی وزیرِ اعظم نے لکھا کہ ’آئی ڈی ایف دنیا کی سب سے زیادہ اخلاقی فوج ہے اور ہمارے فوجی ہمارے وجود کی جنگ لڑ رہے ہیں۔‘
ایک بیان میں آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ وہ ’اپنے دشمنوں کے خلاف، آئی ڈی ایف کی اقدار، قانون اور بین الاقوامی قانون سے وفاداری کی وجہ سے کام کرتی ہیں، اور اسی کے ساتھ ساتھ آئی ڈی ایف اسرائیل کی سلامتی اور اس کے شہریوں کی حفاظت پر کوئی سمجھوتا نہیں کر سکتی۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حماس کے زیر انتظام غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ میں 87 افراد ہلاک اور 290 زخمی ہوئے ہیں۔
وزارت کے مطابق تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 53,573 ہو گئی ہے۔
دریں اثنا یورپی کمیشن کی خارجہ پالیسی کے سربراہ کاجا کلاس کا کہنا ہے کہ وہ ہالینڈ کے وزیر خارجہ کیسپر ویلڈ کیمپ کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ یورپی یونین کے معاہدے کے آرٹیکل ٹو پر نظر ثانی کی تجویز پر تبادلہ خیال کریں گی۔
معاہدے کے آرٹیکل دو میں کہا گیا ہے کہ تعلقات ’انسانی حقوق اور جمہوری اصولوں کے احترام پر مبنی ہوں گے۔‘ دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق ویلڈ کیمپ نے اسرائیل کی جانب سے امداد کی بندش کو اس معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کلاس نے کہا کہ ’یقینا اسرائیل کی جانب سے غزہ میں پانچ ٹرکس کو جانے کی اجازت دینا سمندر میں ایک قطرہ پانی ڈالنے کے مترادف ہے، اس کا خیر مقدم تو کیا جاسکتا ہے لیکن یہ ناکافی نہیں ہے۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’غزہ میں داخلے کے لیے ہزاروں ٹرک انتظار کر رہے ہیں، یہ سب یورپی ممالک کی جانب سے کیا جا رہا ہے اس انسانی امداد کو ہر حال میں لوگوں تک پہنچنا ہے کیونکہ غزہ میں صورتحال انتہائی سنگین ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

،تصویر کا ذریعہISPR
حکومتِ پاکستان نے بری فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دے دی ہے۔ وزیر اعظم آفس سے جاری ہونے والی ایک پریس ریلیز کے مطابق ان اہم فیصلوں کی منظوری منگل کے روز وزیر اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران دی گئی ہے۔
جنرل عاصم منیر کون ہیں؟
راولپنڈی کے علاقے ڈھیری حسن آباد سے تعلق رکھنے والے موجودہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے اپنی سروس کا آغاز آفیسرز ٹریننگ سکول کے 17 ویں کورس میں منگلا سے کیا تھا جس کے بعد انھیں فرنٹئیر فورس ریجمنٹ کی 23 ویں بٹالین میں کمیشن دیا گیا تھا۔
بطور لیفٹیننٹ کرنل عاصم منیر نے سعودی عرب میں بھی فرائض سرانجام دیے ہیں۔ عاصم منیر نے سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ بطور بریگیڈیئر فورس کمانڈ ناردرن ایریاز بھی کام کیا، جنرل قمر جاوید باجوہ اُس وقت ٹین کور کمانڈ کر رہے تھے۔
اپنی سروس کے دوران وہ متعدد پوسٹوں پر تعینات رہے تاہم ان کی اہم تعیناتی سنہ 2017 میں بطور ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلیجنس (ڈی جی ایم آئی) تھی جس کے بعد سنہ 2018 میں انھیں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی۔
سنہ 2019 میں انھیں کور کمانڈر 30 کور یعنی گوجرانوالہ میں بھی تعینات کیا گیا تھا اور اکتوبر سنہ 2021 میں انھوں نے اس عہدے کی کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر کے سپرد کی تھی۔
اپنے کیریئر کے دوران وہ لگ بھگ آٹھ ماہ کے لیے ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز انٹیلیجینس ایجنسی (ڈی جی آئی ایس آئی) بھی کام کر چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حکومتِ پاکستان نے بری فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دینے کے ساتھ ساتھ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کو مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد بطور پاکستانی ایئرفورس کے سربراہ اپنی خدمات جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
وزیر اعظم آفس سے جاری ہونے والی ایک پریس ریلیز کے مطابق ان اہم فیصلوں کی منظوری آج وزیر اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران دی گئی ہے۔
وزیر اعظم آفس سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’حکومت پاکستان کی جانب سے معرکہ حق، آپریشن بنیان مرصوص کی اعلیٰ حکمتِ عملی اور دلیرانہ قیادت کی بنیاد پر ملک کی سلامتی کو یقینی بنانے اور دشمن کو شِکست فاش دینے پر جنرل سید عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دینے کی منظوری دی گئی ہے۔‘
اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ وفاقی کابینہ نے قرار دیا کہ ’چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر نے مثالی جرات اور عزم کے ساتھ پاکستان فوج کی قیادت کی اور مسلح افواج کی جنگی حکمتِ عملی اور کاوشوں کو بھرپور طریقے سے ہم آہنگ کیا۔ اور آرمی چیف کی بے مثال قیادت کی بدولت پاکستان کو معرکہ حق میں تاریخی کامیابی حاصل ہوئی۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اُن (عاصم منیر) کی شاندار عسکری قیادت، جرات، اور بہادری، پاکستان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کو یقینی بنانے اور دشمن کے مقابلے میں دلیررانہ دفاع کے اعتراف میں، جنرل سید عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دینے کی وزیرِ اعظم کی تجویز کابینہ نے منظور کر لی ہے۔‘
اس ضمن میں وزیر اعظم آفس کی جانب سے مزید بتایا گیا ہے کہ ’وزیرِ اعظم شہباز شریف نے صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کرکے انھیں اس فیصلے کے حوالے سے اعتماد میں لیا۔‘
بیان کے مطابق ’حکومت نے ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی مدت ملازمت پوری ہونے پر ان کی خدمات کو جاری رکھنے کا بھی متفقہ فیصلہ بھی کیا ہے۔‘
وفاقی کابینہ نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ افواج پاکستان کے افسران و جوان اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے پاکستانی شہریوں کو آپریشن بنیان مرصوص کے دوران ان کی خدمات کے اعتراف میں اعلیٰ سرکاری ایورڈز سے نوازا جائے گا۔
اعزاز ملنے پر اللہ کا شکر گزار ہوں: فیلڈ مارشل عاصم منیر
وزیر اعظم آفس سے جاری ہونے والے بیان کے بعد پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں جنرل عاصم منیر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ فیلڈ مارشل کا عہدہ ملنے پر اللہ کے شکر گزار ہیں۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کہنا تھا کہ ’یہ اعزاز پوری قوم، افواجِ پاکستان، خاص کر سول اور ملٹری شہدا اور غازیوں کے نام وقف کرتا ہوں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’صدر پاکستان، وزیرِ اعظم اور کابینہ کے اعتماد کا شکر گزار ہوں۔ یہ اعزاز قوم کی امانت ہے جس کو نبھانے کے لیے لاکھوں عاصم بھی قربان ہیں۔ یہ انفرادی نہیں بلکہ افواجِ پاکستان اور پوری قوم کے لیے اعزاز ہے۔‘
میں غزہ میں برطانیہ کی مالی اعانت سے قائم ہونے والے پہلے فیلڈ ہسپتال کے ایک ڈاکٹر سے واٹس ایپ پر ہونے والی گفتگو سے متعلق بی بی سی کی یوروشلم میں موجود نامہ نگار ایلس کڈی نے بتایا کہ ’المواسی کے فیلڈ اسپتال میں دھماکہ خیز مواد سے زخمی ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔‘
برطانوی امدادی تنظیم یوکے میڈ کے میڈیکل کوآرڈینیٹر نے بی بی سی کی نامہ نگار ایلس کڈی کو بتایا کہ ’گزشتہ چند دنوں میں غزہ کے جنوب میں المواسی کے فیلڈ ہسپتال میں دھماکہ خیز مواد سے زخمی ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’ہمارے آرتھوپیڈک سرجن فریکچر اور چھروں کی وجہ سے زخمی ہونے والوں کے آپریشن کر رہے ہیں اور کچھ لوگوں کو چوٹیں آئی ہیں جس کے نتیجے میں ان کے اعضا کاٹ دیے گئے ہیں۔ بدقسمتی سے بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کے واقعات میں ہمیں ایسے لوگ ملے ہیں جن میں بچے بھی شامل ہیں، جو ہمارے فیلڈ ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے تھے۔‘
ڈاکٹر کا مزید کہنا تھا کہ ’گزشتہ روز ہسپتال میں تین بچوں کی پیدائش ہوئی جن میں سے دو پیدائش ایمرجنسی سی سیکشن سہ ہوئی۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’آج ہمارے بچوں کا وارڈ آپریشن کے بعد صحت یاب ہونے والے بچوں سے بھرا ہوا ہے، لیکن خیموں میں بھیڑ بھاڑ والے حالات میں رہنے کے نتیجے میں کچھ کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہے۔ صاف پانی اور دیگر ضروری اشیا تک رسائی کی کمی کا مطلب ہے کہ ہم بہت سے بچوں کو جلد کے مسائل میں مبتلا دیگھیں گی جن کو انفیکشن کو ختم کرنے کے لئے سرجری کی ضرورت ہوتی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
غزہ میں ایک جانب تو خوراک اور ادویات کی شدید قلت ہے اور ایسے میں اسرائیلی فوج کی جانب سے مختلف علاقوں اور مقامات کو نشانہ بھی بنایا گیا ہے۔
اسرائیلی فوج کے حملوں کے بعد حالات خطرناک حد تک خراب ہو چُکے ہیں، غزہ کے مختلف علاقوں سے لوگ ایک مرتبہ پھر نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں اور اپنی جان کی حفاظر کے لیے محفوظ مقامات کی تلاش میں ہیں۔
غزہ سے سامنے آنے والی چند تصاویر:

،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اقوام متحدہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں اس بات کا اظہار کیا گیا ہے کہ ’ادارے کو غزہ میں ’تقریباً 100‘ امدادی ٹرک بھیجنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔‘
یہ اقدام اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ کی جانب سے خبردار کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے کہ اگر امدادی سامان ان تک نہیں پہنچا تو آئندہ 48 گھنٹوں میں 14 ہزار بچے ہلاک ہو سکتے ہیں۔
اس سے قبل بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کے انسانی امداد کے سربراہ ٹام فلیچر نے کہا تھا کہ 11 ہفتوں کی ناکہ بندی کے بعد کل پانچ ٹرکوں کو غزہ میں داخلے کی اجازت دی گئی تھی۔
دوسری جانب بی بی سی کا خان یونس کے ناصر میڈیکل کمپلیکس میں رضاکارانہ طور پر کام کرنے والے ایک برطانوی ڈاکٹر سے رابطہ ہوا یہ اُسی ہسپتال میں ہیں کہ جہاں گزشتہ روز اسرائیلی حملے میں طبی سامان سے بھرا ایک گودام تباہ ہوا تھا۔
برطانوی ڈاکٹر گریم گروم کا کہنا ہے کہ ’کل غزہ میں امداد کے پانچ ٹرکوں کو آنے کی اجازت دی گئی جو ناکافی ہیں اور یہ کہا گیا کہ غزہ کے جو حالات ہیں اُن میں ’کئی سو ٹرکوں‘ کی ضرورت ہے۔‘
ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ انھوں نے دھماکے میں ہلاک ہونے والے متعدد افراد کا علاج کیا جن میں ایک شخص بھی شامل ہے جس کی ٹانگیں کاٹنی پڑی تھیں۔ ڈاکٹر گریم گروم کا کہنا ہے کہ وہ اس شخص کی مدد کرنے میں کامیاب تو رہے لیکن ’اس کے خاندان کے باقی افراد کی موت ہو گئی۔‘
ڈاکٹر گریم گروم نے ایک ایک 10 سالہ لڑکے کا بھی ذکر کیا جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ خاندان کے باقی لوگوں کی موت کے بعد اُن کا صرف ایک بھائی زندہ بچا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کی مختلف ریاستوں میں پہلگام حملے اور پھر ’آپریشن سندور‘ پر سوشل میڈیا پر تبصرہ کرے پر متعدد لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں عسکریت پسندوں کے حملے کے بعد 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب پاکستان کے خلاف انڈین فوج کی جانب سے ’آپریشن سندور‘ کے نام سے ایک آپریشن کیا گیا، جس کے بعد دونوں مُمالک کے درمیان حالات کشیدہ ہوئے جنگ کا ماحول بنا ایک دوسرے پر میزائل داغے گئے تھے۔
حالہ تنازع کے دوران سوشل میڈیا پر رائے کا اظہار کرنے والے تقریباً 116 انڈین شہریوں کے خلاف سوشل میڈیا پر پاکستان کے حق میں اپنی رائے کا اظہار کرنے پر مقدمات درج ہوئے۔
انڈیا میں کہاں کہاں لوگوں کو دونوں مُمالک کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کا اظہار کرنے پر گرفتار کیا گیا ہے آئیے ایک نظر ڈالتے ہیں۔۔۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ریاست اتر پردیش
انڈیا کی ریاست اتر پردیش کی پولیس نے 18 اضلاع سے تقریباً 30 افراد کو گرفتار کیا ہے۔
محمد ساجد کو 11 مئی کو بریلی سے مبینہ طور پر ’پاکستان زندہ باد‘ پوسٹ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔
بریلی کے علاوہ لکھیم پور کھیری میں سمیر علی اور عبدالعاشق کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔
عثمان زاہد کے خلاف باغپت میں قابل اعتراض پوسٹ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
مغربی یوپی کے میرٹھ میں 7 مئی کو ایک کیس درج کیا گیا تھا۔ جس کے تحت سیلون کے مالک زید اور اُن کے ایک ساتھی پر سوشل میڈیا پر ’پاکستان نواز‘ پوسٹ کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔
پھر 10 مئی کو مظفر نگر ضلع کی کوتوالی پولیس نے انور جمیل نامی شخص کے خلاف اسی طرح کے الزامات کے تحت رپورٹ درج کی۔
16 مئی کو مغربی اتر پردیش کے چھتاری علاقے میں پاکستان کی مبینہ حمایت کا معاملہ سامنے آیا ہے۔جس میں انصار صدیقی کے خلاف پاکستان کی حمایت میں پوسٹ کرنے پر مقدمہ درج کر کے انھیں جیل بھیج دیا گیا ہے۔
17 مئی کو سب انسپکٹر گورو کمار کی شکایت پر مغربی یوپی کے بجنور کے شیرکوٹ کے دو نوجوانوں ابو سعد نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ سے پاکستان کی حمایت والی پوسٹ کی تھی۔ تحقیقات کے دوران گاؤں کے ایک اور نوجوان حمزہ کا نام بھی سامنے آیا ہے۔
16 مئی کو بجنور کے سیوہارا علاقے میں شہباز نامی نوجوان کے خلاف رپورٹ درج کی گئی تھی۔ نوجوان پر ’پاکستان نواز‘ پوسٹ کرنے کا الزام ہے۔
آسام
آسام کے وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا سرما کی جاب سے دی جانے والی تفصیلات کے مطابق اب تک اُن کی ریاست میں 71 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
ڈھنگ اسمبلی حلقہ سے آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے ایم ایل اے امین الاسلام کا نام بھی اس فہرست میں شامل ہے۔
23 اپریل کو امین الاسلام پر پہلگام حملے کے واقعہ کے بارے میں مبینہ طور پر متنازعہ ریمارکس کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ اگلے دن اسے آسام کی ناگون پولیس نے گرفتار کر لیا۔

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں پولیس نے ہلال میر کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے انڈیا کے خلاف ’علیحدگی پسند نظریہ‘ کو فروغ دینے کے الزام میں حراست میں لیا تھا۔
مدھیہ پردیش
ریاست مدھیہ پردیش میں سوشل میڈیا اور احتجاج کے ذریعے فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دینے کے الزام میں کم از کم سات افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
ریاست کی دموہ پولیس نے 23 اپریل کو وسیم خان اور تنویر قریشی نامی دو ملزمان کے خلاف فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلانے کا مقدمہ درج کیا تھا۔
وسیم خان نے 22 اپریل کو اپنے فیس بک پیج پر 'متنازع' پوسٹ پوسٹ کی تھی جب کہ تنویر نے مبینہ طور پر اس پوسٹ کی حمایت میں قابل اعتراض تبصرہ کیا تھا۔
اسی طرح کے معاملے میں جبل پور میں بھی کارروائی کی گئی ہے۔ ابھے سریواستو کی شکایت کی بنیاد پر، ضلع پولیس نے محمد اوسف خان کو اشتعال انگیز اور نفرت انگیز تبصرے کرنے پر گرفتار کیا۔
ڈنڈوری ضلع کے آدرش مہاودیالیہ کی گیسٹ لیکچرر نسیم بانو کے خلاف بھی مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ الزام ہے کہ اس نے پہلگام حملے سے متعلق ایک ویڈیو اپنے واٹس ایپ اسٹیٹس پر پوسٹ کیا تھا۔
مدھیہ پردیش کے اندور میں 25 اپریل کو پہلگام حملے کے خلاف مظاہرے کے دوران مبینہ طور پر 'پاکستان زندہ باد' کے نعرے سنے گئے۔
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد، پولیس نے کارروائی کی اور جمعہ کو کانگریس کونسلر انور قادری اور ایک اور شخص کو حراست میں لے لیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہBBC/ALOKPUTUL
چھتیس گڑھ
انڈیا کی ریاست چھتیس گڑھ کے دارالحکومت رائے پور میں ’آپریشن سندور‘ کے بارے میں سوشل میڈیا پر سوالات اٹھانے والی خاتون لوزینا خان کو گزشتہ ہفتے گرفتار کیا گیا تھا۔
لوزینا خان ایک نوجوان فوٹوگرافر ہیں۔ انھیں 2016 میں بی جے پی حکومت میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ رمن سنگھ نے بھی اعزاز سے نوازا تھا۔ انسٹاگرام پر ان کے 1.23 لاکھ فالوورز ہیں۔
لوزینا خان کی پوسٹ کے بعد بجرنگ دل نے رائے پور میں پولیس سٹیشن کے سامنے احتجاج کیا اور لوزینا خان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
تاہم تنازعہ بڑھنے پر لوزینا خان نے اپنی پوسٹ ڈیلیٹ کر دی اور ایک اور پوسٹ میں لکھا کہ ’مجھے انڈین فوج کی بہادری پر فخر ہے، میں نے نادانستہ اور غلطی سے کچھ پوسٹ کر دیا تھا جسے دوبارہ پڑھنے پر مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا اور میں نے وہ پوسٹ فوری طور پر ڈیلیٹ کر دی، اگر میری پوسٹ سے لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے تو میں تہہ دل سے معذرت خواہ ہوں، میں انڈین فوج کی حامی ہوں۔‘
میگھالیہ
میگھالیہ کے نارتھ گارو ہلز ضلع میں دو نابالغوں کو سوشل میڈیا پر پاکستان کی حمایت کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ ملزمان پر مبینہ طور پر انڈیا مخالف ویڈیوز پوسٹ کرنے کا الزام ہے۔
کرناٹک
کرناٹک کے کولار میں منیر خان قریشی نامی شخص کو گرفتار کیا گیا۔ اس کے علاوہ ریاست سے کوئی دوسرا کیس رپورٹ نہیں ہوا ہے۔ منیر نے ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی۔ اس ویڈیو میں انھوں نے پہلگام حملے کو بہار میں ہونے والے اسمبلی انتخابات سے جوڑا تھا۔

،تصویر کا ذریعہSARA MUKADAM
سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس میں مرکزی ملزم ظاہر جعفر کی موت کی سزا کے خلاف دائر کی گئی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے ان کو سزائے موت دیے جانے کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔
تاہم عدالت نے نور مقدم کے ساتھ ریپ کا جرم ثابت ہونے پر اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا ہے۔ اسی طرح سپریم کورٹ نے نور مقدم کو اغوا کرنے کے الزام میں ظاہر جعفر کو دی گئی دس سال قید کی سزا کو کم کر کے ایک سال کر دیا ہے جبکہ عدالت نے نور مقدم کے ورثا کو مالی معاوضہ فراہم کرنے سے متعلق ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔
سپریم کورٹ نے اس مقدمے میں شریک ملزمان یعنی ظاہر جعفر کے مالی جان محمد اور چوکیدار محمد افتخار کو دی جانے والی دس، دس سال کی سزائیں کم کر دی ہیں اور کہا ہے کہ اب تک یہ دونوں ملزمان جتنی بھی سزا کاٹ چکے ہیں، اُسے اتنا ہی تصور کیا جائے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے ظاہر جعفر کی موت کی سزا برقرار رکھے جانے کے فیصلے کے بعد وہ تمام قانونی آپشن استعمال کر چکے ہیں اور اب واحد آپشن صدر پاکستان کے پاس رحم کی اپیل کا ہے۔
یاد رہے کہ 27 سالہ نور مقدم کو 20 جولائی 2021 کو اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیون فور کے ایک مکان میں قتل کر دیا گیا تھا اور اسی روز پولیس نے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو گرفتار کر لیا تھا۔
اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے 24 فروری 2022 کو نور مقدم کا قتل ثابت ہونے پر ظاہر جعفر کو سزائے موت جبکہ ریپ کے الزام کے تحت 25 سال قید بامشقت کی سزا سُنائی تھی۔ اُن کے دو ملازمین جان محمد اور افتخار کو اعانت جرم میں دس، دس سال قید کی سزا سُنائی تھی جبکہ ظاہر جعفر کے والدین سمیت دیگر نامزد ملزمان کو بری کر دیا گیا تھا۔
مقامی عدالت کی جانب سے سزائے موت سنائے جانے کے اِس فیصلے کے خلاف ظاہر جعفر نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔ تاہم مارچ 2023 میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ظاہر جعفر کی سزائے موت کے خلاف اپیل ناصرف مسترد کر دی بلکہ ریپ کے جرم میں انھیں دی گئی 25 سال قید کی سزا کو بھی سزائے موت میں تبدیل کر دیا تھا۔
اور اب سپریم کورٹ نے بھی سزا کے خلاف ظاہر جعفر کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سزائے موت کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔
فوجداری مقدمات کی پیروی کرنے والے وکیل ذوالفقار نقوی کا کہنا ہے کہ ’مجرم کے وکیل اگر چاہیں تو وہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی اپیل دائر کرسکتے ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ ’ابھی بھی سپریم کورٹ میں قتل کے مقدمات میں فیلصوں کے خلاف نظرثانی کی درجنوں اپلیں زیر التوا ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’نظرثانی کی اپیل بھی اگر خارج ہو جائے تو پھر صدر مملکت کے پاس رحم کی اپیل دائر کی جاسکتی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’گزشتہ 15 سال سے قتل اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث مجرمان کو دی جانے والی سزائے موت پر عمل درآمد نہیں ہوا۔‘ انھوں نے کہا کہ ’پاکستان میں سزائے موت پر آخری مرتبہ عمل درآمد کمسن بچی زینب کو ریپ کے بعد قتل کرنے کے مقدمے میں ہوا تھا جس میں نامزد مجرم کو موت کی سزا سنائی گئی تھی۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
منگل کے روز عدالتی کارروائی کا احوال
سپریم کورٹ میں جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل تین رُکنی بینچ نے نور مقدم قتل کیس میں ملزمان کی سزاؤں کے خلاف اپیلوں پر منگل کے روز دوبارہ سماعت کا آغاز کیا۔
یاد رہے کہ ظاہر جعفر کی سزائے موت کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر کردہ اپیل پر ابتدائی سماعت رواں ماہ 13 مئی کو ہوئی تھی جس کے دوران ظاہر جعفر کے وکیل سلمان صفدر عدالت میں پیش ہوئے اور مزید دستاویزات جمع کروانے کے لیے سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی۔ جس پر عدالت نے اس کیس پر سماعت 19 مئی تک ملتوی کر دی تھی۔
منگل کے روز ظاہر جعفر کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر عدالت میں پیش ہوئے جبکہ نور مقدم کے والد سابق سفارتکار شوکت مقدم کی جانب سے ایڈووکیٹ شاہ خاور عدالت میں موجود تھے۔
ظاہر جعفر کے وکیل سلمان صفدر نے سماعت کے آغاز میں دلائل کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’استغاثہ کا سارا کیس سی سی ٹی وی فوٹیج اور ڈی وی آر کی بنیاد پر ترتیب دیا گیا ہے، جبکہ اپیل کرنے والے کے خلاف شواہد کا ہر طرح کے شک و شبہ سے بالاتر ہونا ضروری ہے۔‘
وکیل سلمان صفدر نے دلائل جاری رکھنے ہوئے مزید کہا کہ ’عدالت بطور شواہد پیش کردہ فوٹیجز سے باہر نہیں جا سکتی ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں پراسیکیوشن کی جانب سے پیش کردہ فوٹیج چلائی گئی لیکن وہ چل نہ سکی جس کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ میں وکیل کی جانب سے فراہم کردہ یو ایس بی کی مدد سے ویڈیو چلائی گئی۔‘
اس سے قبل عدالت نے مجرم کے وکیل کی طرف سے اُن کے موکل کی ذہنی حالت کے بارے میں جانکاری کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی درخواست دی تھی، جو سپریم کورٹ کی جانب سے مسترد کر دی گئی تھی۔

نور مقدم قتل کیس کا پس منظر
واضح رہے کہ سابق سفارتکار شوکت مقدم کی صاحبزادی 27 سالہ نور مقدم کو 20 جولائی 2021 کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے پوش علاقے سیکٹر ایف سیون فور میں ایک گھر میں قتل کیا گیا تھا۔ اُسی روز ظاہر جعفر کے خلاف واقعے کا مقدمہ درج کرتے ہوئے انھیں جائے وقوعہ سے گرفتار کر لیا گیا تھا۔
واقعے کا مقدمہ مقتولہ کے والد کی مدعیت میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 (منصوبہ بندی کے تحت قتل) کے تحت درج کیا گیا تھا۔
اس کیس کے ملزمان میں مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والدین سمیت گھریلو ملازمین کو بھی نامزد کیا گیا تھا۔
اس قتل کے مقدمے کی اسلام آباد کی مقامی عدالت میں باقاعدہ سماعت کا آغاز 20 اکتوبر 2021 کو شروع ہوئی تھی اور یہ ٹرائل 4 ماہ 8 روز جاری رہا جس کے دوران 19 ملزمان کے بیانات قلمبند کیے گئے۔
اس دوران ظاہر جعفر نے خود کو ذہنی طور پر بیمار بھی ثابت کرنے کی کوشش کی تاہم میڈیکل ٹیسٹ میں انھیں مکمل فٹ قرار دیا گیا تھا۔
24 فروری 2022 کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے سابق پاکستانی سفیر کی بیٹی نور مقدم کے بہیمانہ قتل سے متعلق کیس میں ظاہر جعفر کو سزائے موت سنا دی تھی۔
عدالت نے مختصر فیصلے میں ظاہر جعفر کو قتل عمد کے سلسلے میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت سزائے موت سنائی تھی اور نور مقدم کے ورثا کو 5 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے نور مقدم قتل کیس میں مرکزی ملزم ظاہر جعفر کی سزا کے خلاف اپیل پر وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ 21 دسمبر 2022 کو فیصلہ محفوظ کیا تھا اور چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں ڈویژن بینچ نے سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سُنایا تھا۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ نے انڈین فوج کے اس الزام کو مسترد کیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ پاکستان نے سکھوں کے سب سے مقدس مقام گولڈن ٹیمپل کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔
یاد رہے انڈین فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ آٹھ مئی کو پاکستان نے ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے گولڈن ٹیمپل پر حملہ کیا جسے ناکام بنا دیا گیا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے 7 اور 8 مئی 2025 کی درمیانی شب پاکستان کی جانب سے امرتسر میں واقع سکھوں کے مذہبی مقام گولڈن ٹیمپل کو ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنانے کے انڈین فوج کے بیان سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا: ’ہم اس الزام کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہیں کہ پاکستان نے سکھوں کے سب سے مقدس مقام، گولڈن ٹیمپل کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ پاکستان تمام مذاہب کے عبادت گاہوں کو انتہائی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور گولڈن ٹیمپل جیسے مقدس مقام کو نشانہ بنانے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔‘
ترجمان کا کہنا ہے کہ ’حقیقت یہ ہے کہ 6 اور 7 مئی 2025 کی درمیانی شب انڈیا نے خود پاکستان میں مختلف مذہبی مقامات کو نشانہ بنایا۔ انڈیا کے الزامات اس ناقابل قبول اقدام سے توجہ ہٹانے کی ایک ناکام کوشش ہیں۔‘
’پاکستان سکھ مذہب کے متعدد مقدس مقامات کا فخر سے محافظ ہے۔ ہر سال دنیا بھر سے ہزاروں سکھ یاتری پاکستان آتے ہیں اور پاکستان ان کے لیے کرتارپور راہداری کے ذریعے ویزا فری رسائی بھی فراہم کرتا ہے۔ ایسے پس منظر میں پاکستان کی جانب سے گولڈن ٹیمپل کو نشانہ بنانے کے کسی بھی دعوے کی کوئی حقیقت نہیں اور یہ بالکل بے بنیاد اور غلط ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہANI
انڈیا کی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہونے والے حالیہ فوجی تصادم کے دوران پاکستان نے ڈرونز اور میزائلوں سے امرتسر میں واقع سکھوں کے مذہبی مقام گولڈن ٹیمپل کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔
خیال رہے کہ اس سے قبل بھی انڈیا نے پاکستان پر سکھوں کے مذہبی مقامات کو نشانہ کا الزام لگایا جاتا رہا ہے تاہم پاکستانی ریاست اور فوج کی جانب سے اس کی تردید کی گئی ہے۔
انڈین فوج کی 15 انفینٹری ڈویژن کے میجر جنرل کارتک سی شیشادری نے خبر رساں ادارے اے این آئی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ انڈیا کی جانب سے سات مئی کو پاکستان میں مبینہ دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے سے قبل ہی ارلی وارننگ اور ایئر ڈیفنس نظام کو فعال کر دیا گیا تھا۔
انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انڈین فوج کو اندازہ تھا کہ پاکستانی فوج انڈین حملوں کے جواب میں فوجی اور سول تصیبات بشمول مذہبی مقامات کو نشانہ بنا سکتی ہے ’ہمارے پاس انٹیلیجنس معلومات موجود تھی کہ گولڈن ٹیمپل بھی ممکنہ بڑے اہداف میں سے ایک ہے لہذا گولڈن ٹیمپل کی حفاظت کے لیے انڈین فوج نے ایئر ڈیفنس سسٹم کو فعال کرتے ہوئے حملہ ناکام بنایا۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA
اقوامِ متحدہ کے انسانی امداد کے سربراہ ٹام فلیچر نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ پیر کے روز پانچ امدادی ٹرک غزہ میں داخل ہوئے ہیں لیکن وہ سرحد پار کر کے رک گئے ہیں اور تاحال کسی متاثرہ علاقے تک نہیں پہنچ سکے۔
ان ٹرکوں میں بچوں کی خوراک اور غذائیت سے متعلق اشیا موجود ہیں۔ فلیچر کے مطابق یہ امداد ’سمندر میں ایک قطرے‘ کے برابر ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ امدادی سامان غزہ نہ پہنچا تو اگلے 48 گھنٹوں میں 14 ہزار بچے جان کی بازی ہار سکتے ہیں۔


،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانیہ، فرانس اور کینیڈا نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے غزہ میں فوجی کارروائیوں میں ’سنگین‘ توسیع جاری رکھی تو وہ ’ٹھوس اقدامات‘ لیں گے۔
برطانوی وزیرِ اعظم سر کیئر سٹارمر نے فرانسیسی اور کینیڈین رہنماؤں کے ساتھ مل کر اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ’اپنی فوجی کارروائیاں بند کرے‘ اور ’فوری طور پر انسانی امداد کو غزہ میں داخلے کی اجازت دے۔‘
اقوام متحدہ کے مطابق 2 مارچ کے بعد سے غزہ میں خوراک، ایندھن یا ادویات کو داخلے کی اجازت نہیں دی گئی جس کے فلسطینی آبادی پر تباہ کن اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
اتوار کے روز وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل 11 ہفتوں کی ناکہ بندی کے بعد غزہ میں ’خوراک کی بنیادی مقدار‘ داخل ہونے کی اجازت دے گا لیکن اس کا منصوبہ پورے غزہ کا ’کنٹرول سنبھالنے‘ کا ہے۔
تینوں مغربی رہنماؤں نے اس اقدام کو ’مکمل طور پر ناکافی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’عام شہریوں کو بنیادی انسانی امداد سے محروم رکھنا ناقابلِ قبول ہے اور یہ بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آ سکتا ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’غزہ میں انسانی المیے کی شدت ناقابلِ برداشت ہو چکی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
جیریمی بوؤون کا تجزیہ: کیا اسرائیل کے لیے عالمی حمایت کمزور پڑنے لگی ہے؟
اسرائیل نے 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملوں کے جواب میں جنگ کا آغاز کیا۔ یہ جنگ اُس بھاری اسلحے کے ذخیرے کے ساتھ شروع ہوئی جو زیادہ تر امریکہ کی جانب سے فراہم کیا گیا، مالی مدد سے خریدا گیا یا بعد میں دوبارہ سپلائی کیا گیا۔
اس کے دیگر مغربی اتحادیوں نے بھی اسرائیل کو ایک اور طاقتور ہتھیار فراہم کیا۔۔۔ یہ ہتھیار تھا مکمل اخلاقی حمایت اور یکجہتی۔ یہ حمایت اُن 1200 ہلاکتوں پر غم و غصے کے اظہار کے طور پر دی گئی جن میں اکثریت اسرائیلی شہریوں کی تھی اور اُن 251 افراد کے اغوا پر جنھیں حماس یرغمال بنا کر غزہ لے گئی۔
مگر اب ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل کا یہ اخلاقی سرمایہ ختم ہو چکا ہے۔۔۔ کم از کم فرانس، برطانیہ اور کینیڈا کے نزدیک تو ایسا ہی ہے۔ ان تینوں ممالک نے غزہ میں جاری جنگ کے حوالے سے سرائیل کے طریقۂ کار کی اب تک کی سب سے سخت مذمت کی ہے۔
انھوں نے کہا ہے کہ اسرائیل کو غزہ میں اپنی فوجی کارروائی فوراً روک دینی چاہیے۔۔۔ وہ کارروائی جس کے بارے میں وزیرِاعظم نیتن یاہو کا دعویٰ ہے کہ اس سے حماس کا خاتمہ ہو گا، یرغمالیوں کو رہا کرایا جائے گا اور پورے غزہ کو براہِ راست اسرائیلی فوجی کنٹرول میں لایا جائے گا۔
تاہم برطانیہ، فرانس اور کینیڈا نے نیتن یاہو کی اس حکمتِ عملی کو مسترد کرتے ہوئے جنگ بندی کا واضح مطالبہ کر دیا ہے۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا: ’ہم غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائی کے پھیلاؤ کی شدید مخالفت کرتے ہیں۔ وہاں انسانی المیے کی شدت ناقابلِ برداشت ہو چکی ہے۔‘
انھوں نے باقی یرغمالیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ دہراتے ہوئے یاد دلایا کہ 7 اکتوبر کے ’سفاکانہ حملے‘ کے بعد انھوں نے اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کیا تھا، ’لیکن اب جو کچھ ہو رہا ہے وہ مکمل طور پر غیر متناسب ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
نیتن یاہو کی جانب سے غزہ میں ’انتہائی محدود‘ خوراک کی فراہمی کی اجازت کو بھی ان ممالک نے ناکافی قرار دیا ہے۔
جواباً نیتن یاہو نے سخت ردعمل دیا اور کہا کہ ’لندن، اوٹاوا اور پیرس کے رہنما 7 اکتوبر کو اسرائیل پر ہونے والے نسل کش حملے کرنے والوں کو انعام دے رہے ہیں اور مزید ایسے مظالم کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اگر حماس یرغمالیوں کو واپس کرے، ہتھیار ڈال دے، اس کی قیادت جلاوطنی قبول کرے اور غزہ کو غیر فوجی علاقہ بنایا جائے تو جنگ ختم ہو سکتی ہے۔ نیتن یاہو نے کہا: ’کسی بھی ملک سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ اس سے کم پر راضی ہو اور اسرائیل تو ہرگز نہیں ہوگا۔‘
خیال رہے نیتن یاہو پر جنگی جرائم کے الزامات ہیں اور ان کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت نے وارنٹ بھی جاری کر رکھا ہے۔ وہ ان الزامات کو یہود دشمنی قرار دیتے ہیں۔
نیتن یاہو عالمی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ غزہ کی ناکہ بندی ختم کریں، خاص طور پر ایک معتبر عالمی ادارے کے اس سروے کے بعد جس میں غزہ میں قحط کے خطرے کی نشاندہی کی گئی ہے۔
لندن میں ہونے والے یورپی یونین اور برطانیہ کے مشترکہ اجلاس میں یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے صورتحال کو ’ایک ایسا سانحہ قرار دیا جہاں بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہو رہی ہے اور پوری آبادی غیر متناسب فوجی طاقت کا نشانہ بن رہی ہے۔‘
انھوں نے زور دیا کہ ’انسانی امداد کی فراہمی کے لیے فوری، محفوظ اور بغیر رکاوٹ رسائی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔‘

،تصویر کا ذریعہCourtesy: umar farooq
پاکستان کے سابقہ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی کے گاؤں ہرمز میں مبینہ ڈرون حملے میں ہونے والی ہلاکتوں کے خلاف مقامی شہری آج احتجاج کر رہے ہیں۔
میر علی میں اتمانزئی قبیلے کے ترجمان مولانا بیت اللہ نے بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس مبینہ حملے میں ہلاک ہونے والے چار افراد کی میتیں میر علی میں انتظامیہ کے دفاتر کے سامنے رکھ کر احتجاج کیا جا رہا ہے۔
پولیس حکام نے بی بی سی کو اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک انھیں مقامی افراد کی جانب سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق یہ ایک مبینہ ڈرون حملہ تھا تاہم اس معاملے پر تحقیقات کی جا رہی ہیں اور یہ معلوم کیا جا رہا ہے کہ مبینہ ڈرون کہاں سے آیا۔
شمالی وزیرستان کے ضلعی پولیس افسر وقار احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ اس واقعے میں ہلاک ہونے والوں میں تین بہن بھائی اور ایک ان کا معذور کزن شامل ہے۔
مولانا بیت اللہ نے بتایا کہ یہ مبینہ حملہ پیر کے روز صبح کے وقت ہوا تھا جس کے بعد زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں کو بنوں ہسپتال منتقل کیا گیا۔
مولانا بیت اللہ کے مطابق اس واقعے کے خلاف مقامی افراد میں اشتعال پایا جاتا ہے۔
مولانا بیت اللہ کے مطابق مقامی افراد دعویٰ کر رہے ہیں کہ انھوں نے اس حملے سے قبل مبینہ ڈرون جیسی شے کو فضا میں اُڑتے دیکھا تھا۔
ضلعی پولیس افسر وقار احمد کے مطابق پولیس اور دیگر ادارے اس بارے میں تحقیقات کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ مسلح شدت پسندوں کواڈ کاپٹرز کا استعمال کر رہے ہیں تاہم فی الحال اس کی تصدیق ممکن نہیں ہے۔
واضح رہے کہ میر علی میں 12 مئی کو بھی اسی نوعیت کا ایک دھماکہ ایک مکان کے اندر ہوا تھا جس میں 15 خواتین، بچے اور بچیاں زخمی ہو گئی تھیں۔ مقامی افراد کی جانب سے اس معاملے میں بھی ڈرون حملے کا شبہ ظاہر کیا گیا تھا تاہم اس کی تصدیق نہیں ہو سکی تھی۔

،تصویر کا ذریعہgettyimages
نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ محسن داوڑ نے ایکس پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس واقعے میں چار بچے ہلاک جبکہ ایک خاتون زخمی ہوئی ہیں۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ اب اس علاقے میں اس طرح کے حملے معمول بن چکے ہیں۔
محسن داوڑ نے اپنی جماعت این ڈی ایم سے وابستہ طلبا تنظیم سے کہا ہے کہ وہ آج تمام تعلیمی اداروں میں میر علی واقعے کے خلاف احتجاج کریں۔
مقامی قبائلی رہنما نثار علی نے بتایا کہ علاقے میں سخت کشیدگی ہے اور اس وقت میر علی سے چار علاقوں کی جانب جانے والی سڑکیں بند کر دی گئی ہیں۔ ان میں بنو میرانشاہ روڈ، ہنگو ٹل روڈ، رزمک روڈ اور خیسور کی جانب جانے والی سڑک شامل ہیں۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اور سکیورٹی حکام اس بات کی وضاحت کریں گے کہ یہ حملہ کس نے اور کیسے کیا۔
مولانا بیت اللہ کا کہنا تھا کہ اس وقت شمالی وزیرستان اور دیگر علاقوں سے لوگ یہاں پہنچ رہے ہیں اور ان کا احتجاج جاری ہے۔
انھوں نے بتایا کہ گذشتہ روز مقامی قبائل کا جرگہ منعقد ہوا اور اس بارے میں سکیورٹی فورسز کے حکام کے ان کے ساتھ مذاکرات ہونا باقی تھے لیکن اس دوران یہ دھماکہ ہو گیا۔ میر علی میں مقامی انتظامی افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ علاقے میں احتجاج جاری ہے اور انتطامیہ کی جانب سے مظاہرین سے مذاکرات کی کوششیں بھی جاری ہیں۔

،تصویر کا ذریعہMOFA
پاکستان کے نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے آج بیجنگ میں چین کی کمیونسٹ پارٹی کے انٹرنیشنل ڈیپارٹمنٹ کے وزیر لیو جیان چاو سے ملاقات کی ہے۔
خیال رہے پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم و وزیر خارجہ چین کے تین روزہ سرکاری دورے پر ہیں۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق انھیں دورے کی دعوت چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے دی تھی۔
دفترِ خارجہ کے مطابق محمد اسحاق ڈار نے پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور اہم قومی مفادات پر چین کی حمایت کو سراہا۔
چینی وزیر نے کہا کہ چین پاکستان کو اپنا قریبی اور پُراعتماد دوست سمجھتا ہے اور ہمیشہ اس تعلق کو ترجیح دے گا۔
دونوں رہنماؤں نے پاکستان کی سیاسی جماعتوں اور چین کی کمیونسٹ پارٹی کے درمیان روابط کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا۔
19 سے 21 مئی تک جاری رہنے والے اس دورے میں اسحاق ڈار چینی وزیر خارجہ کے علاوہ دیگر سینیئر چینی رہنماؤں سے جنوبی ایشیا کی بدلتی ہوئی صورتحال اور امن و استحکام کی کوششوں پر تبادلہ خیال کریں گے۔ اس کے علاوہ پاکستان اور چین کے باہمی تعلقات، علاقائی و عالمی پیشرفت پر بھی بات چیت ہوگی۔
خیال رہے کہ 20 مئی کو افغانستان کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی بھی بیجنگ پہنچ رہے ہیں۔
اس سے قبل 11 مئی کو کابل میں افغانستان کے وزیر خارجہ سے چین کے خصوصی ایلچی یو شیاؤونگ اور پاکستان کے خصوصی ایلچی محمد صادق نے ملاقات کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہMOFA
پاکستان کے صوبہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کی صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے 20 سے 24 مئی 2025 کے دوران دونوں صوبوں میں ہیٹ ویو کے خطرے کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا ہے۔
پنجاب میں درجہ حرارت کے غیر معمولی اضافے اور ممکنہ ہیٹ ویو کے پیش نظر پراوِنشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے 20 سے 24 مئی کے لیے الرٹ جاری کر دیا ہے۔ ادارے کے مطابق صوبے کے بڑے شہروں اور میدانی علاقوں میں گرمی کی شدت معمول سے 5 سے 7 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہنے کا امکان ہے۔
ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ ہیٹ ویو سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کریں اور متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے میں رہیں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا کے مطابق محکمہ تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ، لوکل گورنمنٹ اور ریسکیو سمیت تمام اداروں کو الرٹ جاری کیا جا چکا ہے تاکہ ممکنہ ہیٹ ویو کے دوران کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری نمٹا جا سکے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ گرمی کی شدت کے باعث بعض علاقوں میں تیز ہواؤں اور آندھی کی بھی توقع ہے جبکہ شہریوں کو غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز اور احتیاطی تدابیر اپنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ:
انھوں نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ عوامی مقامات پر صاف پانی کی دستیابی یقینی بنائیں اور ہسپتالوں و موبائل ہیلتھ یونٹس میں ہیٹ سٹروک سے متعلق ابتدائی طبی امداد کی سہولیات کو فعال رکھیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ادھر محکمہ موسمیات اور پی ڈی ایم اے کے مطابق خیبرپختونخوا کے جنوبی و وسطی اضلاع میں شدید گرمی کی لہر برقرار رہے گی جبکہ دن کے اوقات میں درجہ حرارت معمول سے 5 سے 7 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ سکتا ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ گرمی کی شدت کے باعث گرد و غبار، تیز ہواؤں اور خشک موسم کے نتیجے میں ہیٹ سٹروک اور آبی ذخائر پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔ بالائی علاقوں میں برف پگھلنے کی رفتار میں بھی اضافہ ممکن ہے۔
تمام ضلعی انتظامیہ کو الرٹ کر دیا گیا ہے، جبکہ عوام کو غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کرنے اور پانی کا استعمال بڑھانے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ بزرگ افراد اور بچوں کو خصوصی طور پر صبح 10 بجے سے شام 5 بجے کے درمیان دھوپ سے بچنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
کسانوں کو فصلوں کی کٹائی کے دوران احتیاط برتنے اور مویشیوں کا خاص خیال رکھنے کی تاکید کی گئی ہے۔ ہیلتھ و میڈیکل سروسز، پیرا میڈیکس، ریسکیو اداروں اور ہیٹ سٹروک سینٹرز کو الرٹ رہنے اور فعال رکھنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
شہریوں کو سفر سے قبل اپنی گاڑی کے انجن میں پانی اور ٹائروں کا پریشر چیک کرنے کا مشورہ بھی دیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
گذشتہ برس ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ یوکرین جنگ کو ’24 گھنٹوں میں‘ ختم کروا دیں گے۔
پچھلے ہفتے اُن کا کہنا تھا کہ یہ مسئلہ اُس وقت تک حل نہیں ہو سکتا جب تک وہ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن ’آمنے سامنے بیٹھ کر‘ بات نہ کریں۔
پیر کے روز ایک بار پھر مؤقف میں تبدیلی آئی۔
پوتن سے دو گھنٹے طویل فون کال کے بعد ٹرمپ نے کہا کہ کسی بھی امن معاہدے کی شرائط صرف روس اور یوکرین کے درمیان طے ہو سکتی ہیں اور شاید پوپ اس میں مدد کر سکتے ہیں۔
اس کے باوجود امریکی صدر جنگ کے خاتمے کے حوالے سے اپنی امید کا دامن نہیں چھوڑ رہے۔ انھوں نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ دونوں فریقین جنگ بندی اور امن معاہدے کے لیے ’فوری طور پر مذاکرات کا آغاز‘ کریں گے۔
لیکن یہ خوش فہمی روسی مؤقف سے کچھ مختلف دکھائی دیتی ہے۔ پوتن کا کہنا تھا کہ ان کا ملک یوکرین کے ساتھ مل کر ایک ’ممکنہ مستقبل کے امن معاہدے کے لیے یادداشت‘ پر کام کرنے کو تیار ہے۔
یادداشتوں اور ’ممکنہ مستقبل‘ کی باتیں ایسے پائیدار معاہدے کی بنیاد معلوم نہیں ہوتیں جو فوری طور پر طے پا سکے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پوتن نے ایک بار پھر زور دیا کہ کسی بھی حل میں جنگ کی ’اصل وجوہات‘ کو ضرور مدنظر رکھنا ہوگا اور روس ماضی میں یہ دعویٰ کرتا رہا ہے کہ ان وجوہات میں سب سے اہم یوکرین کی یورپ کے ساتھ قریبی تعلقات کی خواہش ہے۔
ٹرمپ کا حالیہ مؤقف سے شاید یہ اشارہ ملے کہ امریکہ بالآخر مذاکرات کی میز چھوڑنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
ٹرمپ نے پیر کی سہ پہر کہا ’بڑے بڑے انا پرست لوگ اس میں شامل ہیں لیکن میرا خیال ہے کچھ نہ کچھ ہونے والا ہے اور اگر نہیں ہوا تو میں پیچھے ہٹ جاؤں گا اور پھر وہ خود ہی سب سنبھالیں۔‘
لیکن اس قسم کے اقدام کے ساتھ کئی سوالات اور خطرات بھی جُڑے ہوئے ہیں۔
اگر امریکہ واقعی پیچھے ہٹ گیا تو اس کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔
اگر امریکہ جنگ سے خود کو الگ کر لیتا ہے جیسا کہ نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی کہہ چکے ہیں تو کیا اس کا مطلب یہ ہوگا کہ امریکہ یوکرین کو ہتھیار اور خفیہ معلومات دینا بھی بند کر دے گا؟
اگر ایسا ہوا تو یہ روس کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے کیونکہ یوکرین کے پاس اتنے وسائل نہیں جتنے روس کے پاس ہیں۔
اسی خطرے نے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلینسکی کو پریشان کر دیا ہے۔
انھوں نے پیر کو ٹرمپ اور پوتن کی کال کے بعد کہا ’ہمارے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ امریکہ بات چیت اور امن کی کوششوں سے پیچھے نہ ہٹے۔‘
پیر کے دن دیے گئے بیانات کو اگر نظرانداز کریں تو لگتا ہے کہ یوکرین اور روس کے درمیان کسی نہ کسی طرح کی بات چیت جاری رہے گی اور تین سال کی جنگ کے بعد بات چیت کا ہونا ہی ایک مثبت قدم ہے۔ لیکن یہ ابھی واضح نہیں کہ روس کی طرف سے مذاکرات میں وہی نچلے درجے کا وفد شامل ہوگا جو پچھلے جمعے استنبول میں یوکرینی نمائندوں سے ملا تھا یا کوئی بڑا گروپ ہوگا۔
ٹرمپ امن معاہدے کے بدلے روس کو لالچ دے رہے ہیں کہ اگر پوتن راضی ہو جائیں تو ان پر سے پابندیاں ہٹائی جا سکتی ہیں، نئے تجارتی معاہدے کیے جا سکتے ہیں اور سرمایہ کاری ہو سکتی ہے۔ انھوں نے فون کال کے بعد یہ بات دوبارہ کہی۔ لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ اگر بات نہ بنی تو روس کو کیا نقصان ہو سکتا ہے۔
گذشتہ ماہ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ وہ پوتن کی بہانے بازی برداشت نہیں کریں گے اور روس کو شہری علاقوں کو نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔ مگر کل ہی روس نے یوکرینی شہروں پر سب سے بڑا ڈرون حملہ کیا۔
ان تمام باتوں سے لگتا ہے کہ جنگ بندی یا امن کا کوئی معاہدہ ابھی کافی دور ہے۔