’مفرور‘ ملک ریاض کے دبئی پراجیکٹ میں سرمایہ کاری منی لانڈرنگ ہوگی: نیب کی تنبیہ

نیب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کے پاس ’اس بات کے مضبوط شواہد موجود ہیں کہ ملک ریاض اور ان کے ساتھیوں نے بحریہ ٹاؤن کے نام پر کرچی، تخت پڑی راولپنڈی اور نیو مری میں نہ صرف سرکاری بلکہ نجی اراضی پر بھی ناجائز قبضہ کر کے بغیر اجازت نامے کے ہاؤسنگ سوسائیٹیز قائم کی ہیں اور وہ لوگوں سے دھوکہ دہی کے ذریعے بھاری رقم وصول کر رہے ہیں۔‘

خلاصہ

  • نیب نے لوگوں کو 'تنبیہ' کی ہے کہ وہ بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کے دُبئی میں شروع ہونے والے نئے پراجیکٹ میں سرمایہ کاری نہ کریں کیونکہ ایسے کسی بھی فعل کو 'منی لانڈرنگ' تصور کیا جائے گا۔
  • ترکی کے شہر بولو کے ایک ہوٹل میں آگ لگنے سے 66 افراد ہلاک اور 51 زخمی ہو گئے ہیں۔
  • آئی ایس پی آر کے مطابق بلوچستان میں 11 جنوری کو ہلاک ہونے والے ایک دہشت گرد کی شناخت محمد خان خیل کے نام سے ہوئی ہے جو افغان شہری تھا اور پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث تھا۔
  • ڈونلڈ ٹرمپ نے 47ویں امریکی صدر کی حیثیت سے اپنے عہدے کا حلف اُٹھانے کے بعد اپنے خطاب میں کہا کہ ’امریکہ کے سنہری دور کا آغاز ہو رہا ہے‘
  • نئے امریکی صدر نے عہدہ سنبھالتے ہی بہت سے ایگزیکٹیو حکمنامے جاری کیے ہیں
  • ٹرمپ نے کیپیٹل ہل حملے میں ملوث تقریباً 1600 افراد کے لیے معافی کے حکمنامے پر بھی دستخط کیے ہیں
  • امریکی کانگریس کی سابق سپیکر نینسی پلوسی نے کیپٹل ہل کر حملہ کرنے والوں کو معافی دینے کے اقدام کو ’اشتعال انگیز توہین‘ قرار دیا ہے

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    21 جنوری کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

  2. پاکستان کو مشرق وسطیٰ کے دو بینکوں سے ایک ارب قرض ملے گا: وزیر خزانہ

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے دو بینکوں کے ساتھ چھ سے سات فیصد سود پر ایک ارب ڈالر قرض دینے پر اتفاق ہوا ہے۔

    انھوں نے یہ بیان ڈیوس میں ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس کے دوران خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے دیا۔

    محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ دو اداروں کے ساتھ ٹرم شیٹ پر دستخط ہوئے ہیں جن میں سے ایک کا مقصد باہمی اور دوسرے کا تجارت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ قلیل مدتی قرض ایک سال تک کے لیے ہیں۔

    اگست میں سٹیٹ بینک کے سربراہ نے کہا تھا کہ اگلے مالیاتی سال تک مشرق وسطیٰ کے کمرشل بینکوں سے چار ارب ڈالر حاصل کیے جائیں گے۔

    محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پاکستان ریٹنگ ایجنسیوں سے بات چیت کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ بی ریٹنگ مل سکے اور انھیں آئندہ مہینوں کے دوران مثبت پیشرفت کی امید ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’میں چاہوں گا کہ ہمارا مالیاتی سال ختم ہونے تک اس سمت میں کوئی پیشرفت ہو۔‘

    اگست میں موڈیز نے پاکستان کی ریٹنگ بہتر کر کے سی اے اے ٹو کر دی تھی اور میکرو اکمنامک حالات میں بہتری تسلیم کی تھی۔ فِچ نے آئی ایم ایف معاہدے کے بعد جولائی میں ریٹنگ بہتر کر کے سی سی سی پلس کی تھی۔

    پاکستان نے ستمبر 2024 کے دوران آئی ایم ایف سے سات ارب ڈالر قرض منظور کرایا تھا جس پر پہلی نظر ثانی فروری کے اواخر میں ہوگی۔

    دریں اثنا پاکستانی وزیر خزانہ نے امید ظاہر کی کہ پی آئی اے کی نجکاری کے حوالے سے پانچ سے چھ ماہ میں اچھی پیشرفت ہوگی۔

    سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب 20 سے 24 جنوری تک جاری رہنے والے عالمی اقتصادی فورم میں شرکت کے دوران ’مختلف ممالک اور عالمی اداروں کے سیاسی، تجارتی و کاروباری رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے۔‘

    وہ فورم کے دوران ’ترقی پذیر معیشتوں پر عالمی قرضوں کے بڑھتے بوجھ کے موضوع پر ایک اعلیٰ سطحی مذاکرے میں بطور پینلسٹ شریک ہوں گے۔‘

  3. ’مفرور‘ ملک ریاض کے دبئی پراجیکٹ میں سرمایہ کاری منی لانڈرنگ ہوگی: نیب کی تنبیہ

    بحریہ ٹاؤن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    قومی احتساب بیورو (نیب) نے لوگوں کو ’تنبیہ‘ کی ہے کہ وہ بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کے دُبئی میں شروع ہونے والے نئے پراجیکٹ میں سرمایہ کاری نہ کریں کیونکہ ایسے کسی بھی اقدام کو ’منی لانڈرنگ‘ تصور کیا جائے گا۔

    منگل کو جاری ایک بیان میں نیب کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ملک ریاض اس وقت ’عدالتی مفرور‘ کی حیثیت سے دبئی میں مقیم ہیں اور انھوں نے وہاں ایک نیا پراجیکٹ شروع کیا ہے۔

    ’عوام الناس کو اس حوالے سے تنبیہ کی جاتی ہے کہ وہ مذکورہ پراجیکٹ کے اندر کسی بھی قسم کی سرمایہ کاری سے اپنے آپ کو دور رکھیں اور اگر وہ ایسا کریں گے تو ان کا یہ قعل منی لانڈرنگ کے زمرے میں آئے گا۔‘

    نیب کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض اور دیگر افراد کے خلاف دھوکا دہی اور فراڈ کے کئی مقدمات زیرِ تفتیش ہیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’نیب کے پاس اس بات کے مضبوط شواہد موجود ہیں کہ ملک ریاض اور ان کے ساتھیوں نے بحریہ ٹاؤن کے نام پر کرچی، تخت پڑی راولپنڈی اور نیو مری میں نہ صرف سرکاری بلکہ نجی اراضی پر بھی ناجائز قبضہ کر کے بغیر اجازت نامے کے ہاؤسنگ سوسائیٹیز قائم کی ہیں اور وہ لوگوں سے دھوکہ دہی کے ذریعے بھاری رقم وصول کر رہے ہیں۔‘

    نیب کے بیان کے مطابق ملک ریاض 190 ملین پاؤنڈ کیس میں عدالت اور نیب دونوں کو مطلوب ہیں اور ان کو مفرور قرار دیا گیا ہے۔

    یہ وہی کیس ہے جس میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو 14 برس اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو سات سال قید کی سزا سُنائی ہے۔

    عدالت نے اس مقدمے میں ملک ریاض کی کی مسلسل عدم پیشی پر انھیں گرفتار کرنے اور ان کے ملک میں موجود اثاثے منجمد کرنے کا حکم دیا تھا۔

    اس حوالے سے بحریہ ٹاؤن یا ملک ریاض کی جانب سے کوئی بیان نہیں جاری کیا ہے۔ تاہم گذشتہ برس راولپنڈی میں بحریہ ٹاؤن کے دفاتر پر چھاپوں کے بعد ملک ریاض نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا تھا کہ: ’ملک ریاض وعدہ معاف گواہ نہیں بنے گا۔ جو چاہے مجھ پر ظلم کرو۔‘

  4. ترکی کے ایک ہوٹل میں آگ لگنے سے 66 افراد ہلاک، 51 زخمی

    fire

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ترکی کے شہر بولو کے ایک ہوٹل میں آگ لگنے سے 66 افراد ہلاک اور 51 زخمی ہو گئے ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق 12 منزلہ گرینڈ کارٹل ہوٹل میں مقامی وقت کے مطابق 3 بج کر 27 منٹ پر اس وقت آگ لگی جب 234 افراد وہاں قیام پذیر تھے۔

    ترکی کی وزارت داخلہ کی جانب سے آگ لگنے کے چند گھنٹوں کے دوران ابتدائی طور پر 10 افراد کی ہلاکت کا بتایا گیا تھا۔ ترک خبر رساں ادارے کے مطابق ہوٹل کی کھڑکیوں سے چھلانگ لگانے سے کم از کم دو افراد ہلاک ہوئے۔

    ترکی میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں لوگوں کو ہوٹل کی کھڑکیوں سے لٹکتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    بولو کے گورنر عبدالعزیز ایدین نے کہا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ ہوٹل کی چوتھی منزل کے ریسٹورنٹ سیکشن میں لگی اور اوپر کی منزلوں تک پھیل گئی۔

    ہوٹل انتظامیہ اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ آگ پھیلنے کے بعد مہمان اپنے کمروں میں پھنس گئے تھے یا وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوئے۔

    گورنر نے مزید بتایا کہ کارٹلکیا ہوٹل تک موسم کی خرابی کی وجہ سے آگ بجھانے والے والے عملے کو پہنچنے میں ایک گھنٹے سے زیادہ کا وقت لگا۔

    ،ویڈیو کیپشنترکی: اسکی ریزورٹ ہوٹل میں خوفناک آتشزدگی

    وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ آگ پر قابو پانے کے لیے 267 افراد کو تعینات کیا گیا ہے اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

    صبح تک مقامی میئر نے کہا کہ وہ اب بھی ہوٹل کے کچھ حصوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    بولو کے پہاڑ استنبول اور دارالحکومت انقرہ کے سکیئنگ مقامات کی وجہ سے خاصے مقبول ہیں اور دو ہفتوں کی سکول کی تعطیلات کے آغاز پر ہوٹل میں خوب رش ہوتا ہے۔

    شمال مغربی قصبہ بولو انقرہ سے تقریباً 170 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

    اگرچہ آگ صرف ایک ہوٹل تک محدود ہے تاہم گورنر نے ترک میڈیا کو بتایا کہ احتیاط کی غرض سے پڑوس کے دیگر ہوٹل بھی خالی کروا لیے گئے ہیں۔

  5. عمران خان نے کہا ہے کہ نو مئی سے متعلق کمیشن بنے گا تو ہی چوتھی نشست ہو گی: بیرسٹر گوہر

    pakistan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چئیرمین پاکستان تحریکِ انصاف بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ ’معاملہ عدالت میں ہونے کے باوجود نو مئی کے واقعات کے لیے کمشن بنایا جا سکتا ہے۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا ’بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہدایت ہے کہ اگر حکومت نو مئی کے واقعات سے متعلق تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیتی ہے تو اسی صورت میں حکومتی مشاروتی کمیٹی کے ساتھ ہونے والی چوتھی ملاقات میں شرکت ہو گی اور اگر کمشن نہیں بنتا تو چوتھی نشست میں نہیں جائیں گے۔‘

    دوسری جانب پی ٹی آئی کی جانب سے سامنے آنے والے مطالبات پر حکومتی مشاورتی کمیٹی کا اجلاس آج جاری ہے۔

    سینیٹر عرفان صدیقی نے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی میں شامل تمام سیاسی جماعتوں کے سامنے پاکستان تحریکِ انصاف کے مطالبات رکھے جائیں گے اور اس پر بحث ہوگی۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’نو مئی کے واقعات سے متعلق کمشن بنایا جانا چاہیے یا نہیں ابھی اس معاملے پر حکومتی مشاورتی کمیٹی کسی بھی نتیجے پر نہیں پہنچی۔‘

    واضح رہے کہ حکومتی مشاورتی کمیٹی کا اجلاس اس وقت قومی اسمبلی میں سپیکر نیشنل اسمبلی کے چیمبر میں جاری ہے۔

  6. بلوچستان میں آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے ایک دہشت گرد کا تعلق افغانستان سے ہے: آئی ایس پی آر

    پاکستان افغانستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں 11 جنوری کو ہلاک ہونے والے ایک عسکریت پسند کی شناخت محمد خان خیل کے نام سے ہوئی ہے جو کہ ایک افغان شہری تھا اور پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث تھا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق بلوچستان کے ضلع ژوب کے سرحدی علاقے سمبازہ میں دہشت گردی میں ملوث افغان شہری کی لاش افغانستان کے حوالے کردی گئی ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایسے واقعات میں افغان شہریوں کے پاکستان میں دہشت گردی کے واضح ثبوت ہیں۔

    آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’توقع ہے افغان حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گی اور اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گی۔‘

    یاد رہے کہ گذشتہ برس دسمبر کے اواخر میں پاکستان نے افغانستان کے سرحدی علاقوں میں انٹیلیجنس پر مبنی آپریشن کیا تھا۔ جبکہ افغان طالبان حکومت نے اس ’فضائی کارروائی‘ پر اسلام آباد سے شدید احتجاج ریکارڈ کروایا تھا اور خبردار کیا تھا کہ افغانستان کی علاقائی خودمختاری حکمران اسلامی امارت کے لیے سرخ لکیر ہے اور وہ اس کا جواب دے گا، جس کے بعد پاکستان کی حدود میں واقع سرحدی چوکیوں پر فائرنگ کے واقعات پیش آئے تھے۔

    تاہم دوسری جانب پاکستان سے بڑی تعداد میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کو وطن واپس بھیجے جانے پر بھی دونوں مُمالک کے درمیان حالات کشیدہ رہے ہیں۔

  7. ٹرمپ پوتن کو یوکرین میں جنگ ختم کرنے کا کہہ سکتے ہیں: رابرٹ ولکی

    امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ میں شامل پینٹاگون کی عبوری ٹیم کے سربراہ رابرٹ ولکی یوکرین کی جنگ کے بارے میں صدر ٹرمپ کے نقطہ نظر کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’امریکی صدر روسی صدر ولادیمیر پوتن کو فون کریں گے اور انھیں یوکرین جنگ روکنے کے لیے کہیں گے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ٹرمپ یوکرین کے صدر زیلنسکی کو یہ کہیں گے کہ انھوں نے اپنے لوگوں کے لیے کُچھ خاص نہیں کیا ہے اور انھوں نے اپنے مُلک کی آبادی کے ایک ایسے حصے کو نظر انداز کیا ہے کہ جو طاقت بڑھانے کا باعث ہیں۔‘

    ولکی کا کہنا ہے کہ اگر پوتن جنگ کے خاتمے کے ٹرمپ کے مطالبے کی مخالفت کرتے ہیں تو ٹرمپ کا ایک ایگزیکٹو آرڈر حالات کو تبدیل کر سکتا ہے۔

    ولکی کا کہنا تھا کہ ’یورپ میں امریکی مائع قدرتی گیس کا بہاؤ شروع ہو جائے گا اور تیل کی عالمی مارکیٹ میں امریکی موجودگی تیل کی قیمتوں کو نیچے لے جائے گی جس سے روسی معیشت دیوالیہ ہو جائے گی۔ اس سے پوتن کی جنگ کے وقت کی معیشت پر ناقابل یقین اثر پڑے گا۔

  8. ڈونلڈ ٹرمپ اپنی صدارت کا ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کرنا چاہتے, سارہ سمتھ، ایڈیٹر شمالی امریکہ

    ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    دوسری مرتبہ عہدہ صدارت سنبھالتے ہی ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پے در پے ایگزیکٹیو حکمناموں کا اجرا پہلے سے رائج نظام پر ایک حملے کے مترادف ہے۔ صدر ٹرمپ تمام اصول دوبارہ سے لکھ رہے ہیں۔

    ان کے اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ بطور صدر اپنے اختیار ات کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے امریکہ میں اس بنیادی تبدیلی کو لانے کی کوشش کریں گے جس کا انھوں نے وعدہ کیا ہے۔

    لیکن وہ محض اپنے دستخط کے ذریعے یہ سب نہیں کر سکتے۔

    مثال کے طور پر انھوں نے ایک ایگزیکٹیو حکم نامے کے ذریعے امریکہ میں پیدائش کے ساتھ ہی شہریت دیے جانے کے 150 سال پرانے حق کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن اس حکم کو یقیناً عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔

    اسی طرح ان کے کئی دوسروں احکامات پر عملدرآمد کے لیے قانون سازی کی ضرورت بھی پڑے گی۔

    لیکن اپنے قلم کی ایک جنبش سے انھوں نے امریکہ کو پیرس کے موسمیاتی تبدیلی کے معاہدے سے دستبردار کر دیا، عالمی ادارہ صحت سے الگ کر لیا اور میکسیکو کے ساتھ سرحد پر قومی ایمرجنسی نافذ کر دی۔

    اس بات میں اب کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ وہ اپنی صدارت کی مدت کا ایک بھی لمحہ ضائع نہیں کرنے والے۔

    وہ اپنی پہچان ایک ایسے صدر کے طور پر بنانا چاہتے ہیں جو تبدیلی کی علامت سمجھا جائے اور انھوں نے اس جانب کام شروع کر دیا ہے۔

  9. غزہ جنگ بندی معاہدے کے بارے میں پر امید نہیں: ڈونلڈ ٹرمپ

    ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ’پر امید نہیں‘ کہ غزہ جنگ بندی معاہدہ برقرار رہے گا۔

    ایک صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا، ’یہ ہماری جنگ نہیں ہے، یہ ان کی جنگ ہے۔ لیکن میں پر اعتماد نہیں ہوں۔‘

    ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ حماس کو ’کمزور‘ کر دیا گیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ غزہ ایک تباہ شدہ علاقے کا منظر پیش کرتا ہے۔

    امریکی صدر نے صحافیوں کو بتایا کہ اگر منصوبہ آگے بڑھتا ہے تو غزہ میں کئی ’خوبصورت چیزیں ہو سکتی ہیں‘۔

    ’یہ سمندر [کنارے] پر ایک بہترین مقام ہے... آپ جانتے ہیں، سب کچھ بہترین ہے۔‘

    خیال رہے کہ اتوار کے روز اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں جنگ بندی پر عمل درآمد شروع ہو گیا ہے جس کے بعد دونوں جانب سے قیدیوں کا تبادلہ بھی ہوا ہے۔

    اسرائیل نے اپنے تین خواتین قیدیوں کے بدلے 90 فلسطینیوں کو رہا کیا ہے جبکہ دوسری جانب بے گھر فلسطینیوں نے غزہ میں اپنے گھروں کو واپس جانا شروع کر دیا ہے۔

  10. ڈونلڈ ٹرمپ کا 47ویں امریکی صدر کی حیثیت سے پہلا دن

    ڈونلڈ ٹرمپ نے 47ویں امریکی صدر کی حیثیت سے حلف اٹھانے کے بعد اپنے دن کا اختتام تین مختلف تقریبات میں حصہ لے کر کیا۔

    دن بھر نئے امریکی صدر کی مصروفیات کیا رہیں اس کا ایک خلاصہ:

    • صدر ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹیو حکم کے ذریعے کیپیٹل ہل حملے میں ملوث تقریباً 1600 افراد کو معافی دے دی۔ ان میں سے کئی افراد کی جلد رہائی متوقع ہے۔
    • انھوں نے میکسیکو کے ساتھ سرحد پر قومی ایمرجنسی کے نفاذ سمیت امیگریشن اور تارکین وطن سے متعلق متعدد ہدایت نامے جاری کیے ہیں۔ ان میں سے کئی احکامات پر ٹرمپ انتظامیہ کو قانونی پیچیدگیوں کو سامنا کرنا پر سکتا ہے۔
    • اپنے پہلے دورِ صدارت کے دوران بھی ڈونلڈ ٹرمپ نے پیرس کے موسمیاتی تبدیلی کے معاہدے سے دستبرداری اختیار کر لی تھی۔ اس مرتبہ بھی انھوں نے صدر بنتے ہی پیرس معاہدے سے دستبرداری کے حکمنامے پر دستخط کر دیے ہیں۔
    • ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) سے علیحدہ ہونے کا عمل شروع کرنے کی منظوری بھی دے دی ہے۔
    • صدر ٹرمپ نے ٹک ٹاک پر پابندی کے نفاذ کو 75 روز کے لیے مؤخر کر دیاہے۔ کمپنی کے پاس موقع ہے کہ وہ امریکہ میں پابندی سے بچنے کے لیے کمپنی کو فرخت کر دیں۔
  11. صدر بننے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کا سوشل میڈیا پر پہلا پیغام: بائیڈن دور کے چار عہدیدار برطرف

    ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکہ کے 47ویں صدر کے طور پر حلف اٹھانے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنا پہلا پیغام جاری کرتے ہوئے چار افراد کو برطرف کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    اپنے سوشل میڈیا نیٹ ورک ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے تقرر کیے جانے والے ان ایک ہزار سے زیادہ افراد کو برطرف کرنا شروع کر دیا جو ان کے ’امریکہ کو عظیم بنانے‘ کے نظریے سے متفق نہیں ہیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے چار اہلکاروں کی نشاندہی کی جنھیں انھوں نے برطرف کر دیا ہے۔ ان میں

    کھیل، صحت اور غذائیت سے متعلق صدر کی کونسل میں شامل جوز اینڈریس، نیشنل انفراسٹرکچر ایڈوائزری کونسل کے مارک ملی، ولسن سینٹر برائے سکالرز سے برائن ہُک، اور صدر کی ایکسپورٹ کونسل کی کیشا لانس بوٹمز شامل ہیں۔

  12. ڈونلڈ ٹرمپ نے عہدہ سنبھالتے ہی کن حکمناموں پر دستخط کیے ہیں؟

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منصب سنبھالتے ہی اپنے وعدے کے مطابق ملک کی پالیسیوں میں تبدیلی لاتے ہوئے متعدد ایگزیکٹیو حکمناموں پر دستخط کر دیے ہیں۔

    ان حکمناموں میں میکسیکو کی سرحد پر ایمرجنسی کا نفاذ، کیپیٹل ہل حملے میں ملوث افراد کے لیے معافی، ٹک ٹاک پر پابندی کا نفاذ 75 روز موخر کرنا اور دیگر شامل ہیں۔

    ڈونلڈ کی طرف سے جاری کیے گئے ایگزیٹیو حکم نامے کس بارے میں ہیں؟

    اپنے انتخابی وعدوں کے مطابق ڈونلد ٹرمپ نے عہدہ سنبھالتے ہی سابق انتظامیہ کی متعدد پالیسیوں کو ختم کر دیا ہے۔

    نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جاری کیے گئے کئی حکمناموں کا تعلق سرحدی امور اور امیگریشن سے ہے۔

    ایک حکم نامے کے تحت ڈونلڈ ٹرمپ نے میکسیکو کی سرحد کے ساتھ ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔

    میکسیکو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اس کے علاوہ انھوں نے ڈرگ کارٹیلز (منشیات فروش گروہوں) کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کا درجہ دے دیا ہے۔

    صحافیوں کی جانب سے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وہ ڈرگ کارٹیلز کے خلاف میکسیکو میں فوجی کارروائی کے امکان کو رد نہیں کر سکتے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کی سرزمین پر پیدائش کے ساتھ ہی امریکی شہریت دینے والے 150 سال پرانے حق کو ختم کرنے کا ایگزیکٹیو حکم بھی جاری کیا ہے۔

    تاہم آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حق کو ختم کرنا مشکل ہو گا کیونکہ اس حق کی ضمانت امریکی آئین میں دی گئی ہے۔

    وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ بھی اعلان کیا گیا ہے کہ آنے والی انتظامیہ کیوبا کو ’دہشت گردی کے ریاستی سرپرستی‘کرنے والے ممالک کی فہرست میں دوبارہ شامل کر دے گی اور کیوبا کی مسلح افواج سے منسلک کمپنیوں پر پابندیاں بحال کردی جائیں گی۔ سابق صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے محض ایک ہفتہ قبل ہی کیوبا پر عائد پابندیاں اٹھائی تھیں۔

    کیپیٹل ہل

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ڈونلڈ ٹرمپ نے چار سال قبل امریکی کیپیٹل ہل میں ہونے والے فسادات میں ملوث تقریباً 1600 افراد کے لیے معافی اور سزا میں کمی کا ایگزیکٹیو حکم بھی جاری کر دیا ہے۔ جنوری 2021 میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ہزاروں حامیوں نے 2020 کے صدارتی انتخاب کے نتائج مسترد کرتے ہوئے امریکی قانون ساز اسمبلی پر دھاوا بول دیا تھا اور یہاں توڑ پھوڑ کی تھی۔

    نئے امریکی صدر نے عوامی اخراجات میں کمی لانے کے لیے کاروباری شخصیت ایلون مسک کی سربراہی میں حکومتی کارکردگی کا محکمہ (ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی) قائم کرنے کا ایگزیکٹیو آرڈر بھی جاری کیا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے ایگزیکٹیو حکمنامہ جاری کرتے ہوئے ٹِک ٹاک پر وفاقی پابندی کے نفاذ کو 75 دنوں کے لیے موخر کر دیا ہے۔ ٹک ٹاک پر امریکہ میں اتوار کو پابندی نافذ ہوئی تھی۔

    ایلون مسک

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر نے پیرس کے موسمیاتی تبدیلی کے معاہدے سے دستبرداری کے ایگزیکٹیو حکمنامے پر بھی دستخط کر دیے ہیں۔

    اپنے پہلے دورِ صدارت کے دوران بھی ڈونلڈ ٹرمپ نے پیرس کے موسمیاتی تبدیلی کے معاہدے سے دستبرداری اختیار کر لی تھی۔ تاہم جو بائیڈن نے بطور صدر پہلے ہی دن 2021 میں اس معاہدے میں دوبارہ شمولیت اختیار کر لی تھی۔

    اس کے علاوہ ڈونلڈ ٹرمپ نے جو بائیڈن کی جانب سے گذشتہ سال فروری میں جاری کیے گئے اس آرڈر کو ختم کرنے کا حکمنامہ جاری کر دیا ہے جس کے تحت امریکی حکومت کسی بھی ایسے غیر ملکی شہری پر پابندی عائد کر سکتی تھی جو مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر حملہ کرنے، ان کو دھمکانے یا ان کی املاک پر قبضے کی کوشش کرے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی ادارہ صحت سے علیحدگی کے ایگزیکٹیو حکمنامے پر بھی دستخط کر دیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ نے دوسرے ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ادائیگیاں کی ہیں۔

    اس کے علاوہ جن حکمناموں پر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پہلے روز دستخط کیے گئے ہیں ان میں وفاقی ایجنسیوں اور محکموں میں مہنگائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے نئے ضوابط، ’آزادی تقریر کی بحالی‘ اور سابقی انتظامیہ کے خلاف ’حکومت کا بطور ہتھیار استعمال پر پابندی‘ شامل ہیں۔

  13. ڈونلڈ ٹرمپ نے منصب صدارت سنبھالتے ہی کیپیٹل ہل پر حملہ کرنے والے 1600 افراد کو معافی دے دی

    کیپیٹل ہل فسادات

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چار سال قبل امریکی کیپیٹل ہل میں ہونے والے فسادات میں ملوث تقریباً 1600 افراد کے لیے معافی اور سزا میں کمی کا حکم جاری کر دیا ہے۔ یہ تمام افراد سزا یافتہ تھے یا ان پر فردِ جرم عائد ہو چکی تھی۔

    انتہائی دائیں بازو کے گروہ پراؤڈ بوائز اور اوتھ کیپرز کے چودہ ارکان کے نام بھی ان افراد میں شامل ہیں جن کی سزاؤں کو نئے ریپبلکن صدر نے وائٹ ہاؤس میں عہدہ سنبھالتے ہی تبدیل کر دیا ہے۔

    اس کے علاوہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے محکمہ انصاف کو کیپیٹل ہل فسادات میں ملوث مشتبہ افراد کے خلاف تمام زیر التوا مقدمات ختم کر نے کا حکم جاری کیا ہے۔

    یہ ایگزیکٹیو احکامات ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کے 47 ویں صدر کے طور پر حلف اٹھانے کے فوراً بعد جاری کیے ہیں۔

    جنوری 2021 میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ہزاروں حامیوں نے 2020 کے صدارتی انتخاب کے نتائج مسترد کرتے ہوئے امریکی قانون ساز اسمبلی پر دھاوا بول دیا تھا اور یہاں توڑ پھوڑ کی تھی۔ اس فسادات کو کیپیٹل ہل فسادات کے نام سے جانا جاتا ہے۔

    ان فسادات میں ملوث ہونے کے الزام میں سنہ 2021 میں سینکڑوں افراد کو سزا سنائی گئی تھی۔

    سوموار کی شام اوول آفس میں ایگزیکٹو احکامات پر دستخط کی ایک تقریب کے دوران، ٹرمپ نے امریکی کیپیٹل فسادات میں نامزد افراد کے ناموں کی ایک فہرست دکھاتے ہوئے کہا کہ ان تمام کو معافی دی جا رہی ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’یہ تمام یرغمالی ہیں، تقریباً 1500 معافی کے لیے، مکمل معافی کے لیے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ان افراد کی زندگیاں تباہ ہو چکی ہیں۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’ان لوگوں کے ساتھ جو کچھ کیا گیا وہ بہت برا ہے۔ ہمارے ملک کی تاریخ میں ایسا شاذ و نادر ہی ہوا ہے۔‘

    ثونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جن افراد کو معافی دی گئی ہے اس اوتھ کیپر گروہ کے رہنما سٹیورٹ رہوڈز شامل ہیں۔ انھیں جنہیں 2023 میں 18 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

    پراؤڈ بوائز کے سابق رہنما ہنری ٹیریو جنھیں بغاوت کی سازش کے الزام میں 22 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی ان کے وکیل کا کہنا ہے کہ ان کے مؤکل کی بھی رہائی کی امید ہے۔

  14. صدر ٹرمپ کی حلف برداری کے بعد آج واشنگٹن میں مزید کیا ہو گا؟

    trump

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    صدر ٹرمپ نے باضابطہ طور پر امریکہ کے 47ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا ہے لیکن آج واشنگٹن میں مزید تقریبات بھی ہونی ہیں۔

    ہم نے صدر ٹرمپ کو پہلے سرکاری دستاویزات پر دستخط کرتے دیکھا ہے اور یہ منظر ہمیں آج دوبارہ بھی نظر آئے گا۔

    تاہم آنے والے گھنٹوں میں وہ مندرجہ ذیل تقریبات میں شریک ہوں گے:

    مہمانوں کے لیے ظہرانہ: ٹرمپ باضابطہ ظہرانے میں اتحادیوں اور حمایتیوں کے ساتھ دکھائی دیں گے۔

    پریڈ: کیپیٹل ون ایرینا میں ایک حلف برداری کی پریڈ منعقد ہو گی جس میں ٹرمپ بھی شریک ہوں گے

    ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کرنے کی تقریب: ٹرمپ کی جانب سے آج وائٹ ہاؤس میں ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کیے جائیں گے۔

    اس کے علاوہ شام میں ٹرمپ کے لیے تین مختلف تقریبات بھی منعقد کروائی جائیں گی اور ناقدین کی جانب سے ان کی تقریر اور دیگر اقدامات پر تنقید بھی سامنے آئے گی۔

  15. ’ڈونلڈ ٹرمپ کا ابتدائی خطاب سابقہ انتظامیہ پر تنقید اور بہتر مستقبل کے وعدوں کا مجموعہ تھا‘, اینتھونی زرچر، بی بی سی نامہ نگار برائے شمالی امریکہ

    trump

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ڈونلڈ ٹرمپ کا ابتدائی خطاب گذشتہ ڈیموکریٹ انتظامیہ پر تنقید اور مستقبل کے حوالے سے کیے گئے وعدوں کا مجموعہ تھا۔

    سابق امریکی صدر جو بائیڈن اور ان کے ساتھی ڈیموکریٹس خاموشی سے ٹرمپ کی پشت پر بیٹھے تھے اور ٹرمپ دعویٰ کر رہے تھے کہ انھیں ایک ایسا میڈیٹ ملا جس سے وہ ایک ’خوفناک دھوکے‘ کو ریورس کریں گے۔

    انھوں نے ایک ’انتہا پسند اور کرپٹ اسٹیبلشمنٹ‘ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس نے ’قوم کی طاقت اور دولت نچوڑ لی ہے۔‘

    ’یہ سب کچھ آج سے تبدیل ہونے والا ہے۔‘

    یہاں سے ٹرمپ نے ان وعدوں کا ذکر کرنا شروع کیا جو وہ مستبقل میں پورے کرنا چاہتے ہیں جن میں امیگریشن، توانائی، سمیت حکومت کی جانب سے صنف اور نسل کے حوالے سے بنائے گئے پروگرامز کے خاتمے کے حوالے سے ایگزیکٹو آرڈرز جاری کرنا شامل تھا۔

    انھوں نے اپنے وعدوں کو دہراتے ہوئے کہا کہ ’خلیجِ میکسیکو کا نام تبدیل کر کے ’خلیج امریکہ‘ رکھا جائے گا اور پانامہ کینال واپس لی جائے گی۔

    انھوں نے کہا کہ ’امریکہ ایک بار پھر ایک ترقی کرتی ہوئی قوم بنے گی‘ اور وعدہ کیا کہ امریکہ کی ’دولت میں اضافہ ہو گا‘ اور اس کے علاقے میں وسعت پیدا ہو گی۔

    یہ امریکہ کہ اتحادیوں کے لیے ایک اہم بات ہو گی جو پہلے ہی ٹرمپ کے گرین لینڈ کو حاصل کرنے میں دلچسپی اور کینیڈا کو امریکہ کی 51ویں ریاست بنانے کے بارے میں بات کر چکے ہیں۔

    اپنی مہم کے دوران اور اپنی تقریر میں ٹرمپ نے متعدد بڑے وعدے کیے ہیں۔ اب جبکہ وہ صدر بن چکے ہیں تو انھیں چیلنج کیا جائے گا کہ وہ انھیں پورا کریں اور یہ دکھائیں کہ ’سنہرے دور‘ کا اصل میں مطلب کیا ہے۔

  16. ’امریکی خلاباز مریخ پر جائیں گے اور ’فتح کی نئی بلندیاں‘ چھوئیں گے‘

    ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کا امریکیوں کو پیغام ہے کہ وہ ’بہادری، جوش اور قوت سے قدم اٹھائیں کیونکہ وہ تاریخ کی عظیم ترین تہذیب کا حصہ ہیں۔‘

    ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ’امریکہ اپنی دولت میں اضافہ کرے گا، اپنے علاقے کو توسیع دے گا اور نئے علاقوں میں اپنے جھنڈے کو لہرائے گا جس میں مریخ بھی شامل ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہم ستاروں تک پہنچنے کی اپنی تقدیر کا تعاقب کریں گے اور اپنا جھنڈا مریخ پر لہرائیں گے۔‘

  17. ’امریکی حکومت کی سرکاری پالیسی یہ ہے کہ صرف دو صنف ہیں، مرد اور عورت‘

    ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ نسل اور صنف کو ذاتی اور سماجی زندگی کے ہر پہلو کا حصہ بنانے کی حکومتی پالیسی کو ختم کریں گے اور معاشرے کو ’رنگ سے ماورا اور میرٹ کی بنیاد پر‘ تشکیل دیں گے۔

    انھوں نے کہا کہ ’آج سے امریکی حکومت کی سرکاری پالیسی یہ ہے کہ صرف دو صنف ہیں: مرد اور عورت۔‘

  18. ٹرمپ کی تقریر کے دوران بائیڈن اور کملا ہیرس کے چہرے کے تاثرات

    بائیڈن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ٹرمپ کی تقریر کے دوران ان کے سامنے موجود افراد تو تالیاں بجا کر انھیں داد دیتے رہے اور کچھ تو ان کی تعظیم میں کھڑے بھی ہوئے لیکن ٹرمپ کی پشت پر بیٹھے اکثر افراد کے چہرے کے تاثرات ایک مختلف کہانی سنا رہے تھے جن میں سابق صدر جو بائیڈن اور سابق نائب صدر کملا ہیرس بھی شامل تھیں۔

  19. ’امریکہ-میکسیکو سرحد پر قومی ایمرجنسی کا اعلان کیا جائے گا‘

    ٹرمپ کی جانب سے اپنی تقریر میں ان اقدامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے جن پر وہ اقتدار میں آنے کے بعد ایگزیکٹو فیصلے لیں گے۔

    انھوں نے کہا کہ ’آج وہ ایک ایک ایسے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کریں گے جس کے ذریعے امریکہ میکسیکو سرحد پر قومی ایمرجنسی کا اعلان کیا جائے گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ملک میں تمام غیرقانونی داخلوں پر فوری طور پر پابندی عائد کی جائے گی اور ’جرائم پیشہ خلائی مخلوق‘ کو وہاں واپس بھیجا جائے گا جہاں سے وہ آئے تھے۔‘

  20. ’امریکہ کو اس وقت اپنی شدت پسند اور کرپٹ اسٹیبلشمنٹ پر اعتماد کے بحران کا سامنا ہے‘

    trump

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ٹرمپ کی جانب سے اپنی تقریر میں بائیڈن انتظامیہ پر حملے بھی کیے اور کہا کہ ان کی جانب سے ملک میں آنے والے پناہ گزینوں کے بحران سے صحیح انداز میں نہیں نمٹا گیا۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’ملک کے چیلنجز کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا، امریکہ کو اس وقت اپنی شدت پسند اور کرپٹ اسٹیبلشمنٹ پر اعتماد کے بحران کا سامنا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ سابقہ انتظامیہ نے خطرناک جرائم پیشہ افراد کو تحفظ اور محفوظ جگہ فراہم کی ہے جو ملک میں غیرقانونی طور پر داخل ہوئے۔

    انھوں نے کہا کہ ’حکومت نے دوسرے ممالک کی سرحدوں کی حفاظت کرنے کے لیے لامحدود فنڈنگ کی ہے لیکن یہ امریکی سرحدوں کی حفاظت کرنے سے انکاری ہیں۔‘

    ٹرمپ نے کہا کہ ’ہماری ایسی حکومت ہے جو گھر پر ایک عام سے بحران کا مقابلہ بھی نہیں کر سکتی۔‘