ججوں کی تقرری اور آئینی عدالتوں کے قیام سے متعلق 26 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی کے خصوصی اجلاس میں حکومت نے مجوزہ ترمیم کا ڈرافٹ پیش کردیا ہے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے بھی کمیٹی اجلاس میں اس ترمیم پر تجاویز پیش کی گئی ہیں۔
پارلمینٹ ہاؤس اسلام آباد میں کمیٹی اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ پاکستان تحریک انصاف نے آج بھی آئینی ترمیم پر اپنی تجاویز پیش نہیں کیں۔
یاد رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کی اتحادی جماعتوں پر مشتمل حکومت کو اس آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں میں دو تہائی اکثریت درکار ہوگی۔
وزیر قانون نے صحافیوں کے سوال پر بتایا کہ ’بلاول نے اپنا اور مسلم لیگ ن نے اپنا ڈرافٹ اجلاس میں پیش کیا ہے۔ تحریک انصاف نے آج کوئی رائے نہیں دی اور کہا ہے کہ ہم اس کا جائزہ لے کر واپس آتے ہیں۔ پچھلی بار بھی یہی ہوا تھا اور ہم ان سے بار بار کہتے ہیں کہ آپ اپنی رائے دیں۔‘
وزیر قانون نے مزید بتایا کہ ’میں نے جے یو آئی سے بھی کہا ہے کہ آپ اپنا ڈرافٹ بھی شیئر کریں ہمارے ساتھ۔۔ امید ہے کہ وہ کل دیں گے۔‘
جمیعت العلما اسلام ف کے سرببراہ مولانا فصل الرحمان کا کہنا ہے کہ جے یو آئی اور پیپلز پارٹی کی کوشش ہے کہ ایک مسودے پر اتفاق ہو۔
جے یو آئی اور پیپلز پارٹی کوشش کرے گی کے ایک ڈرافٹ پر اتفاق ہو: مولانا فضل الرحمان
جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے اس موقع پر صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ حکومت نے آج پہلی مرتبہ آئینی ترمیم کا ڈرافٹ ہم سے شئیر کیا ہے، اب حکومت کی جانب سے اس پر بات چیت شروع ہو گی، دیکھتے ہیں حکومت کیا موقف اختیار کرتی ہے۔
جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا پیپلز پارٹی کی تجاویز آج کے اجلاس میں سامنے آئی ہیں تو انھوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی تجاویز سامنے آ گئی ہیں اور اب ہم پیپلز پارٹی سے اس پر بات چیت کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اپنا ڈرافٹ اتحادی جماعت مسلم لیگ (ن) سے بھی شیئر کرے گی اور امید ہے کہ بات چیت سے اتفاق رائے حاصل کیا جا سکے گا۔ جے یو آئی اور پیپلز پارٹی کوشش کرے گی کہ ایک ڈرافٹ پر اتفاق ہو پیپلز پارٹی اپنا مسودہ اپنی اتحادی مسلم لیگ ن کے ساتھ شیئر کرے گی اور ہم اپوزیشن کا پی ٹی آئی کے ساتھ شیئر کریں گے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ ہم اتفاق رائے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔‘
سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتفاق رائے کرکے آئینی ترمیم چاہتے ہیں: بلاول بھٹو
اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی کی تفصیلی میٹنگ ہوئی جس میں تمام جماعتوں نے رائے دی اور پیپلز پارٹی نے اپن تجاویز کمیٹی میں پیش کیں جس میں آئینی عدالت سے متعلق امور ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے یہ ڈرافٹ حکومت کے علاوہ تمام سیاسی جماعتوں کے سامنے بھی رکھا ہے۔ بلاول بھٹو کہا کہ وزیر قانون نے وکلا کے ساتھ ایک تفصیلی بحث کی اور اس کی تفصیلات بھی سامنے آئیں۔
اس حوالے سے جو وکلا کی تجاویز سامنے آئیں وہ بھی پیش کی گئیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ اپوزیشن جماعتوں نے بھی اپنا موقف پیش کیا جبکہ مولانا فضل الرحمٰن نے بھی اپنا موقف دہرایا کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ اتفاق رائے سے مسودہ بنانا چاہتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ہم نے بھی اس بات کو دہرایا کہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتفاق رائے کرکے آئینی ترمیم ہو اور ہماری کوشش بھی یہی تھی، آج بھی یہی بات کہتے ہیں اور کل بھی یہی کوشش ہوگی۔ بلاول بھٹو نے دعویٰ کیا کہ وہ صرف مخالفت برائے مخالفت نہیں کرنا چاہتے۔
’وزیر قانون پر بڑی تنقید ضرور ہوئی کہ آپ نے سب کے ساتھ اتفاق رائے قائم کرنے کی کوشش نہیں کی لیکن وفاقی حکومت بہت پر اعتماد ہے کہ ان کے پاس نمبر گیم ہیں۔‘
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی نے کہا کہ وزیر قانون نے بتایا کہ ان کے پاس دو تہائی اکثریت موجود ہے مگر وہ تمام سیاسی جماعتوں سے اس معاملے پر اتفاق رائے کے لیے یہاں بیٹھے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ م گزشتہ ماہ سے اب تک اتفاق رائے کی ہی کوشش ہورہی ہے مگر حکومت ہمیں اتفاق رائے کے لیے آخر کتنا وقت دے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ’ایک ایسے موقع پر جب شھنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس ہورہا ہے، میں بھرپور کوشش کررہا ہوں کہ اتفاق رائے قائم ہو۔‘
’اگر اتفاق رائے میں وقت لگتا ہے تو شاید حکومت اپنے آئینی قانونی حق کو استعمال کرے اور ترمیم پیش کرے مگر ہماری پوری کوشش ہےکہ مکمل اتفاق رائے قائم ہو۔‘