آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

اسرائیل لبنان میں امن فوج کے دستوں کی حفاطت یقینی بنائے: امریکہ

امریکہ نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ لبنان میں امن دستوں کی حفاظت کو یقینی بنائے۔ اس سے قبل فرانس، اٹلی اور سپین کے رہنماؤں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ ایسے حملے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 اور انسانی حقوق کے تحت ’سنگین خلاف ورزی‘ ہیں اور یہ ’غیر منصفانہ ہیں اور انھیں فوری طور پر ختم ہونا چاہیے۔‘

خلاصہ

  • اسرائیلی فوج نے حملے کے دوران اقوام متحدہ کے دو امن فوجی زخمی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی افواج نے فوری خطرے کا جواب فائر سے دیا جس دوران امن فوج کے دو اہلکار زخمی ہوگئے ۔
  • 10 ڈاؤننگ سٹریٹ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ حکومت کو ان رپورٹس پر شدید حیرانگی ہے کہ اسرائیل نے جان بوجھ کر جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کے امن مشن کی ایک چوکی پر فائرنگ کی ہے۔
  • لبنان کے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ رات گئے اسرائیلی حملوں میں آج 22 افراد ہلاک ہوئے ہیں جو تمام کے تمام عام شہری ہیں دوسری جانب غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 24 گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں سے غزہ میں 61 افراد ہلاک اور 230 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔
  • پی ٹی ایم کا نماز جمعہ کے بعد شروع ہونے والا جرگہ تاحال شروع نہ ہو سکا تاہم جرگے کے انعقاد کے حوالے سے تیاریاں جاری ہیں۔
  • ججوں کی تقرری اور آئینی عدالتوں کے قیام سے متعلق 26 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی کے خصوصی اجلاس میں حکومت نے مجوزہ ترمیم کا ڈرافٹ پیش کردیا ہے۔
  • بلوچستان کے ضلع دکی میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے 20 مزدور ہلاک اور سات زخمی ہو گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق چار مزدوروں کا تعلق افغانستان جبکہ باقی کا تعلق بلوچستان سے ہے۔

لائیو کوریج

  1. اسرائیل لبنان میں امن فوج کے دستوں کی حفاطت یقینی بنائے: امریکہ

    امریکہ نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ لبنان میں امن دستوں کی حفاظت کو یقینی بنائے۔

    امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے جمعے کی شام اسرائیل کے وزیر دفاع سے ٹیلیفونک رابطہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان میں ’اقوام متحدہ کے امن فوج کے دستوں کی حفاظت‘ کو یقینی بنائے۔

    آسٹن کا کہنا ہے کہ انھوں نے لبنان میں اسرائیل کی کارروائیوں پر اسرائیلی وزیر دفاع سے بات کی۔

    انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ اسرائیل کے ’اپنے دفاع کے حق‘ کی حمایت کرتا ہے اور ’ایک ایسے سفارتی انتظام کے امریکی عزم کا اعادہ کرتا ہے جو سرحد کے دونوں طرف لبنانی اور اسرائیلی شہریوں کو بحفاظت ان کے گھروں میں واپس بھیجے۔‘

    انھوں نے ’جتنا جلد ممکن ہو سفارتی راستے‘ کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

    یورپی یونین سمیت سری لنکا نے بھی لبنان میں امن فوج کے دستوں کو نشانہ بنانے کے واقعے کی مذمت کی ہے۔ سری لنکا کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ جنوبی لبنان کے شہر نقورا میں یونیفیل (اقوام متحدہ کی امن فوج) کے ہیڈ کوارٹر پر حملے کی ’سخت مذمت‘ کرتی ہے، جس میں سری لنکا کے دو اقوام متحدہ کے امن فوجی زخمی ہوئے۔

    سری لنکا کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہےکہ ’سری لنکا اقوام متحدہ کے اہلکاروں کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانے کی ذمہ داریوں کو برقرار رکھتا ہے‘

    قبل ازیں، اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے یونیفیل بیس کو اس وقت نشانہ بنایا جب فوجیوں نے قریب سے ’ان کے خلاف فوری خطرے‘ کی نشاندہی کی اور فائرنگ شروع کر دی، اور مزید کہا کہ اس واقعے کی ’اعلیٰ سطح پر‘ تحقیقات کی جائیں گی۔

    ادھر فرانس، اٹلی اور سپین کے رہنماؤں کا ایک مشترکہ بیان میں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حملے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 اور انسانی حقوق کے تحت ’سنگین خلاف ورزی‘ ہیں اور یہ ’غیر منصفانہ ہیں اور انھیں فوری طور پر ختم ہونا چاہیے۔‘

    اسرائیل نے قبل ازیں تسلیم کیا تھا کہ اس کی فوج کی گولیوں سے جنوبی لبنان میں دو امن فوجی زخمی ہوئے، لیکن ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے حملہ اس وقت کیا جب فوجیوں نے قریب سے ’ان کے خلاف فوری خطرہ‘ کی نشاندہی کی اور فائرنگ کی۔

  2. خطرے کے دوران جوابی کارروائی میں امن فوجی زخمی ہوئے: آئی ڈی ایف

    اسرائیلی فوج نے حملے کے دوران اقوام متحدہ کے دو امن فوجی زخمی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی افواج نے فوری خطرے کی نشاندہی کی اور اس کا جواب فائر سے دیا جس دوران امن فوج کے دو اہلکار زخمی ہوگئے ۔

    آئی ڈی ایف کا دعویٰ ہے کہ اس نے واقعے سے چند گھنٹے قبل اقوام متحدہ کے اہلکاروں کو ’محفوظ مقامات پر جانے اور وہاں رہنے‘ کی تنبیہ کی تھی۔

    آئی ڈی ایف کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ابتدائی معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ واقعے کے دوران یونیفیل پوسٹ سے تقریباً 50 میٹر کے فاصلے پر واقع خطرے کے مقام کی نشاندہی کی گئی تھی اور جس کے نتیجے میں دو امن فوج کے اہلکار زخمی ہوئے۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق واقعے کی مکمل تحقیقات کے لیے وہ یونیفل کے ساتھ رابطے میں رہے گا۔

    یاد رہے اس سے قبل یونیفیل اپنے بیان میں کہہ چکا ہے کہ ایسا کوئی بھی جان بوجھ کر حملہ بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

    اس سے قبل اسرائیلی فوج نے اقوام متحدہ کے امن فوجیوں کے زخمی ہونے کی تحقیقات کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کی لڑائی کے دوران نادانستگی میں اقوام متحدہ کے دو امن فوجیوں کے زخمی ہونے کے بعد صورت حال کی مکمل تحقیقات کر رہی ہے۔

    انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ’اسرائیلی فوج شہریوں اور امن دستوں کو کم سے کم نقصان پہنچانے کے لیے تمام احتیاطی تدابیر اختیار کر رہی ہے‘

  3. مشرق وسطی میں کشیدگی کم کرنے کی ضرورت ہے: برطانوی وزیر اعظم

    برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر سٹامر کا کہنا ہے کہ ’مشرق وسطیٰ کا کشیدگی کے دہانے پر پہنچنا باعث تشویش ہے اور ہمیں اس کشیدگی کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔‘

    ان کے اس بیان سے قبل یہ اطلاعات سامنے آ چکی ہیں کہ اسرائیلی فورسز نے جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کی امن فوج کے زیر استعمال تنصیبات پر حملہ کیا تھا۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اس کی مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔

    جب برطانوی وزیر اعظم سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اس کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہتے ہیں اس سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں یہ واقعی اہم ہے کہ پیغام کو کم کیا جائے۔ میں لبنان، غزہ کی صورت حال اور عام طور پر تنازعات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بارے میں بہت فکر مند ہوں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہمیں یہاں آگے بڑھنے کے لیے ایک سیاسی اور سفارتی راستہ تلاش کرنا ہے اور اسی لیے میں دنیا بھر کے اتحادیوں اور ساتھیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہوں۔۔‘

  4. مشرق وسطیٰ کی آج کی صورت حال کے چیدہ چیدہ نکات

    جمعے کے روز مشرق وسطیٰ کی صورت حال کے چیدہ چیدہ نکات آپ کے لیے یہاں پیش کر رہے ہیں۔

    • اقوامِ متحدہ نے لبنان میں گزشتہ روز اسرائیلی فوج کی جانب سے امن فوج کے اڈوں پر حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔اور کہا ہے کہ ’ہمارے فوجیوں کے خلاف یہ ایک سوچا سمجھا حملہ لگتا ہے، جو اس وقت استحکام واپس لانے کی کوشش کرنے کے لیے جنوب میں موجود ہیں اور یہ ہمارے لیے بہت چیلنجنگ ہے۔‘
    • برطانیہ کے وزیر اعظم ہاؤس یعنی 10 ڈاؤننگ سٹریٹ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ حکومت کو ان رپورٹس پر شدید حیرانگی ہے کہ اسرائیل نے جان بوجھ کر جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کے امن مشن کی ایک چوکی پر فائرنگ کی ہے۔
    • لبنان کے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ رات گئے اسرائیلی حملوں میں آج 22 افراد ہلاک ہوئے ہیں جو تمام کے تمام عام شہری ہیں۔ دوسری جانب غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں سے غزہ میں 61 افراد ہلاک اور 230 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔
    • بیروت سے دور یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی جنگوؤں کا کہنا ہے کہ انھوں نے دو بحری جہازوں کو میزائلوں اور راکٹوں سے نشانہ بنایا ہے۔
  5. امن فوج کے اڈوں پر حملے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں: اقوام متحدہ, اورا گوئرین، بی بی سی نیوز، بیروت

    اقوامِ متحدہ نے لبنان میں گزشتہ روز اسرائیلی فوج کی جانب سے امن فوج کے اڈوں پر حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    یاد رہے کہ جنوبی لبنان میں اسرائیل کی سرحد کے قریب اقوام متحدہ کی امن فوج (جسے یونیفیل کہا جاتا ہے) کے اڈوں پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں دو فوجی زحمی ہوئے ہیں۔

    ایونیفل کے ترجمان آندریا ٹینینٹی سے جب پوچھا گیا کہ کیا یہ جنگی جرم ہے جس پر ان کا کہنا تھا کہ یونیفیل اس پر ابھی غور کر رہا ہے تاہم یہ یقینی طور پر ایک بہت سنگین پیش رفت اور خلاف ورزی ہے۔‘

    انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ حالیہ دنوں میں کئی حملے ہوئے جن میں کل دو افراد زخمی ہوئے۔

    ’ہمارے فوجیوں کے خلاف یہ ایک سوچا سمجھا حملہ لگتا ہے، جو اس وقت استحکام واپس لانے کی کوشش کرنے کے لیے جنوب میں موجود ہیں اور یہ ہمارے لیے بہت چیلنجنگ ہے۔‘

    انھوں نے کیمروں پر حملوں، بیس کے اندر روشنی پر، اور ہیڈ کوارٹر کے اندر ایک آبزرویشن ٹاور پر ہونے والے حملوں کو گنواتے ہوئے کہا کہ ’یہ ایک ایسی فوج سے کیسے غلطی ہو سکتی ہے جو بہت اچھی طرح سے تیار ہے، اور وہ جانتے ہیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں؟‘

    ترجمان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ اسرائیل امن فوجیوں کو وہاں سے انخلا پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہا ہے، ٹینینٹی نے جواب دیا کہ ’یقیناً، لوگ اس کا تجزیہ اس طرح کر سکتے ہیں۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کا ’بلیو لائن‘ کے قریب اپنی 29 پوسٹوں میں سے کسی کو خالی کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

    یاد رہے کہ بلیو لائن دراصل اسرائیل اور لبنان کے درمیان اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ حد بندی کی لائن ہے۔

  6. لبنان میں اقوام متحدہ کی چوکی پر اسرائیلی فائرنگ کی خبر سے ’دھچکا‘ پہنچا: 10 ڈاؤننگ سٹریٹ, دامیان گراماٹیکاس، بی بی سی نیوز

    برطانیہ کے وزیر اعظم ہاؤس یعنی 10 ڈاؤننگ سٹریٹ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ حکومت کو ان رپورٹس پر شدید حیرانگی ہے کہ اسرائیل نے جان بوجھ کر جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کے امن مشن کی ایک چوکی پر فائرنگ کی ہے۔

    یہ بیان لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری فورس کے ایک بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایک اسرائیلی ٹینک نے گزشتہ روز جنوبی لبنان میںان کی تنصیبات پر فائرنگ کی ہے۔

    اس دوران گولیاں لگنے سے دو امن فوجی زخمی ہوئے جبکہ ان سے آبزرویشن ٹاور کو بھی نقصان پہنچا۔

    ڈاؤننگ سٹریٹ کی بریفنگ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ترجمان نے مزید کہا کہ ’ان رپورٹس کو سن کر ہمیں دھچکا لگا۔ یہ ضروری ہے کہ امن دستوں اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔‘

    ترجمان نے کہا کہ ’جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ہم فوری جنگ بندی کے مطالبے کی حمایت کرتے ہیں اور یہ اس بات کی یاد دہانی کرواتا ہے کہ ہم سب اس کے حل کے لیے اپنی سفارتی کوششوں کی تجدید کریں۔‘

    اس دوران ترجمان سے صحافی نے سوال پوچھا کہ کیا وہ آئرلینڈ کے وزیر اعظم کی اس بات سے اتفاق کریں گے کہ اسرائیل نے بین الاقوامی قانون کو توڑا ہے۔

    ترجمان نے جواب میں کہا کہ فریقین کو ہمیشہ شہریوں کے تحفظ اور بین الاقوامی قانون کی تعمیل کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔

  7. اسرائیلی حملوں سے بیروت میں 22 اور غزہ میں 61 ہلاکتیں

    لبنان کے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ رات گئے اسرائیلی حملوں میں آج 22 افراد ہلاک ہوئے ہیں جو تمام کے تمام عام شہری ہیں۔

    لبنانی وزیر اعظم نجیب میقاتی نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ یہ سراسر ناقابل قبول ہے۔ ان سب میں انسانیت کہاں ہے اور ہم کس دنیا میں رہ رہے ہیں۔

    یاد رہے کہ اسرائیلی فضائی حملے وسطی بیروت میں گزشتہ رات کیے گئے۔

    وزیر اعظم نجیب میقاتی نے اسرائیلی فورسز کے ان حملوں کی مذمت کی جس میں دوسرے دن بھی جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کی امن فوج کی ایک پوسٹ پر فائرنگ کی اطلاعات تھیں اور جس میں اقوام متحدہ کے زرائع کے مطابق دو فوجی زخمی ہوئے۔

    ان کے مطابق ’اقوام متحدہ کی سکیورٹی فورس کو نشانہ بنانا اس کے تقدس کی خلاف ورزی ہے۔‘

    اسرائیلی فوج نے اس بیان پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

    دوسری جانب غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں سے غزہ میں 61 افراد ہلاک اور 230 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

    ڈیٹا کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 42 ہزار 126 سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ اس دوران 98 ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

  8. پی ٹی ایم کا نماز جمعہ کے بعد خیبر میں ہونے والا جرگہ تاحال شروع نہ ہو سکا, افتخار خان، بی بی سی پشتو

    پی ٹی ایم کا نماز جمعہ کے بعد شروع ہونے والا جرگہ تاحال شروع نہ ہو سکا تاہم جرگے کے انعقاد کے حوالے سے تیاریاں جاری ہیں۔

    پی ٹی ایم کا الزام ہے کہ راستے بند ہونے کے باعث اب تک کارکنان کی بڑی تعداد وہاں نہ پہنچ سکی۔

    یاد رہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ نے 11 اکتوبر کو ضلع خیبر کے ایک بڑے میدان میں ’پشتون قومی جرگہ‘ یا عدالت کے انعقاد کا اعلان کر رکھا ہے۔

    بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق دن کے وقت وہاں دھوپ کی بھی تیزی تھی اور پی ٹی ایم کا کہنا ہے کہ ان کو ٹینٹ وغیرہ کرائے پر نہیں مل رہے۔

    یہ اطلاعات بھی ہیں کہ کوہاٹ کے اس پار کارکنان کی بڑی تعداد پھنسی ہوئی ہے اور حکومت کی یقین دہانی کے باوجود نہ ان کے گرفتار ساتھی رہا ہو سکے اور نہ ہی راستے کھولے جا سکے جس کے باعث جرگے کے شروع ہونے میں تاخیر ہے۔

    اس سے قبل بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پی ٹی ایم کے میڈیا کوارڈینیٹر زبیر شاہ آغا نے کہا کہ ’گذشتہ رات حکومت اور سیاسی جماعتوں کے وفد مذاکرات کے لیے نہیں بلکہ گذشتہ روز کے واقعات اور ہونے والے جانی نقصان پر افسوس کے لیے جرگے کی شکل میں آئے تھے۔‘

    اس سوال کے جواب میں کہ کیا وفد نے انھیں پاکستان یا فوج مخالف نعروں سے منع کیا ہے، زبیر شاہ کا کہنا تھا کہ ’یہ کوئی جلسہ، ریلی یا مظاہرہ نہیں ہے جہاں نعرے لگائے جائیں گے۔‘

    انھوں نے وضاحت کی کہ ’یہ پشتون روایات کے مطابق جرگہ ہے جہاں صرف مشاورت ہوگی اور اس کے نتیجے میں قائدین کسی فیصلے کا اعلان کریں گے اور یہ فیصلہ جو بھی ہوگا پی ٹی ایم اور آنے والے تمام پشتونوں کو اسے قبول کرنا ہوگا۔

    پی ٹی ایم کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حکومتی وفد نے پی ٹی ایم کو آج گیارہ اکتوبر کو تمام بند رستے کھلنے او گرفتار افراد رہا کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ جس کے بعد منظورپشتین نے جرگہ نماز جمعہ کے بعد شروع کرنے کا وقت طے کیا ہے۔

  9. 26ویں آئینی ترمیم پر پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس، پی ٹی آئی نے تجاویز تاحال نہیں دیں امید ہے کل جے یو آئی اپنا مسودہ پیش کر دے گی: وزیر قانون

    ججوں کی تقرری اور آئینی عدالتوں کے قیام سے متعلق 26 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی کے خصوصی اجلاس میں حکومت نے مجوزہ ترمیم کا ڈرافٹ پیش کردیا ہے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے بھی کمیٹی اجلاس میں اس ترمیم پر تجاویز پیش کی گئی ہیں۔

    پارلمینٹ ہاؤس اسلام آباد میں کمیٹی اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ پاکستان تحریک انصاف نے آج بھی آئینی ترمیم پر اپنی تجاویز پیش نہیں کیں۔

    یاد رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کی اتحادی جماعتوں پر مشتمل حکومت کو اس آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں میں دو تہائی اکثریت درکار ہوگی۔

    وزیر قانون نے صحافیوں کے سوال پر بتایا کہ ’بلاول نے اپنا اور مسلم لیگ ن نے اپنا ڈرافٹ اجلاس میں پیش کیا ہے۔ تحریک انصاف نے آج کوئی رائے نہیں دی اور کہا ہے کہ ہم اس کا جائزہ لے کر واپس آتے ہیں۔ پچھلی بار بھی یہی ہوا تھا اور ہم ان سے بار بار کہتے ہیں کہ آپ اپنی رائے دیں۔‘

    وزیر قانون نے مزید بتایا کہ ’میں نے جے یو آئی سے بھی کہا ہے کہ آپ اپنا ڈرافٹ بھی شیئر کریں ہمارے ساتھ۔۔ امید ہے کہ وہ کل دیں گے۔‘

    جمیعت العلما اسلام ف کے سرببراہ مولانا فصل الرحمان کا کہنا ہے کہ جے یو آئی اور پیپلز پارٹی کی کوشش ہے کہ ایک مسودے پر اتفاق ہو۔

    جے یو آئی اور پیپلز پارٹی کوشش کرے گی کے ایک ڈرافٹ پر اتفاق ہو: مولانا فضل الرحمان

    جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے اس موقع پر صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ حکومت نے آج پہلی مرتبہ آئینی ترمیم کا ڈرافٹ ہم سے شئیر کیا ہے، اب حکومت کی جانب سے اس پر بات چیت شروع ہو گی، دیکھتے ہیں حکومت کیا موقف اختیار کرتی ہے۔

    جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا پیپلز پارٹی کی تجاویز آج کے اجلاس میں سامنے آئی ہیں تو انھوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی تجاویز سامنے آ گئی ہیں اور اب ہم پیپلز پارٹی سے اس پر بات چیت کریں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اپنا ڈرافٹ اتحادی جماعت مسلم لیگ (ن) سے بھی شیئر کرے گی اور امید ہے کہ بات چیت سے اتفاق رائے حاصل کیا جا سکے گا۔ جے یو آئی اور پیپلز پارٹی کوشش کرے گی کہ ایک ڈرافٹ پر اتفاق ہو پیپلز پارٹی اپنا مسودہ اپنی اتحادی مسلم لیگ ن کے ساتھ شیئر کرے گی اور ہم اپوزیشن کا پی ٹی آئی کے ساتھ شیئر کریں گے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ ہم اتفاق رائے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔‘

    سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتفاق رائے کرکے آئینی ترمیم چاہتے ہیں: بلاول بھٹو

    اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی کی تفصیلی میٹنگ ہوئی جس میں تمام جماعتوں نے رائے دی اور پیپلز پارٹی نے اپن تجاویز کمیٹی میں پیش کیں جس میں آئینی عدالت سے متعلق امور ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم نے یہ ڈرافٹ حکومت کے علاوہ تمام سیاسی جماعتوں کے سامنے بھی رکھا ہے۔ بلاول بھٹو کہا کہ وزیر قانون نے وکلا کے ساتھ ایک تفصیلی بحث کی اور اس کی تفصیلات بھی سامنے آئیں۔

    اس حوالے سے جو وکلا کی تجاویز سامنے آئیں وہ بھی پیش کی گئیں۔

    بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ اپوزیشن جماعتوں نے بھی اپنا موقف پیش کیا جبکہ مولانا فضل الرحمٰن نے بھی اپنا موقف دہرایا کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ اتفاق رائے سے مسودہ بنانا چاہتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ہم نے بھی اس بات کو دہرایا کہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتفاق رائے کرکے آئینی ترمیم ہو اور ہماری کوشش بھی یہی تھی، آج بھی یہی بات کہتے ہیں اور کل بھی یہی کوشش ہوگی۔ بلاول بھٹو نے دعویٰ کیا کہ وہ صرف مخالفت برائے مخالفت نہیں کرنا چاہتے۔

    ’وزیر قانون پر بڑی تنقید ضرور ہوئی کہ آپ نے سب کے ساتھ اتفاق رائے قائم کرنے کی کوشش نہیں کی لیکن وفاقی حکومت بہت پر اعتماد ہے کہ ان کے پاس نمبر گیم ہیں۔‘

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی نے کہا کہ وزیر قانون نے بتایا کہ ان کے پاس دو تہائی اکثریت موجود ہے مگر وہ تمام سیاسی جماعتوں سے اس معاملے پر اتفاق رائے کے لیے یہاں بیٹھے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ م گزشتہ ماہ سے اب تک اتفاق رائے کی ہی کوشش ہورہی ہے مگر حکومت ہمیں اتفاق رائے کے لیے آخر کتنا وقت دے گی۔

    بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ’ایک ایسے موقع پر جب شھنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس ہورہا ہے، میں بھرپور کوشش کررہا ہوں کہ اتفاق رائے قائم ہو۔‘

    ’اگر اتفاق رائے میں وقت لگتا ہے تو شاید حکومت اپنے آئینی قانونی حق کو استعمال کرے اور ترمیم پیش کرے مگر ہماری پوری کوشش ہےکہ مکمل اتفاق رائے قائم ہو۔‘

  10. پی ٹی ایم کا جرگہ نماز جمعہ کے بعد شروع ہوگا: ’قائدین کا فیصلہ پی ٹی ایم اور تمام پشتونوں کو ماننا ہوگا‘, افتخار خان، بی بی سی پشتو

    پشتون تحفظ موومنٹ کا کہنا ہے کہ حکومت نے جرگے کے لیے کوئی شرائط نہیں رکھی ہیں اور نہ ہی ان کو ایسی کوئی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پی ٹی ایم کے میڈیا کوارڈینیٹر زبیر شا آغا نے کہا کہ ’گذشتہ رات حکومت اور سیاسی جماعتوں کے وفد مذاکرات کے لیے نہیں بلکہ گذشتہ روز کے واقعات اور ہونے والے جانی نقصان پر افسوس کے لیے جرگے کی شکل میں آئے تھے۔‘

    اس سوال کے جواب میں کہ کیا وفد نے انھیں پاکستان یا فوج مخالف نعروں سے منع کیا ہے، زبیر شاہ کا کہنا تھا کہ ’یہ کوئی جلسہ، ریلی یا مظاہرہ نہیں ہے جہاں نعرے لگائے جائیں گے۔‘

    انھوں نے وضاحت کی کہ ’یہ پشتون روایات کے مطابق جرگہ ہے جہاں صرف مشاورت ہوگی اور اس کے نتیجے میں قائدین کسی فیصلے کا اعلان کریں گے اور یہ فیصلہ جو بھی ہوگا پی ٹی ایم اور آنے والے تمام پشتونوں کو اسے قبول کرنا ہوگا۔‘

    جناب زبیر شاہ کا کہنا ہے کہ ’وزیر اعلیٰ کی قیادت میں وفد نے پی ٹی ایم سے صرف پرامن طریقے سے جرگہ کرنے کی درخواست کی ہے اور وفد کو اس کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔‘

    پی ٹی ایم کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حکومتی وفد نے پی ٹی ایم کو آج گیارہ اکتوبر کو تمام بند رستے کھلنے او گرفتار افراد رہا کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ جس کے بعد منظورپشتین نے جرگہ نماز جمعہ کے بعد شروع کرنے کا وقت طے کیا ہے۔

  11. قائد اعظم یونیورسٹی میں طلبا تنظیموں میں تصادم: پختون طلبا پر حملے کے الزام میں پنجابی طلبا کے خلاف مقدمہ درج

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں موجود قائد اعظم یونیورسٹی میں طلبا تنظیموں میں تصادم کے بعد تھانہ سیکریٹیریٹ میں یونیورسٹی کے سکیورٹی آفیسر ندیم عباس کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    پولیس کے مطابق اقدام قتل ،حملہ آور ہونے اور ہوائی فائرنگ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔

    ایف آئی آر کے مطابق ’جمعرات کی ایک تنظیم نے دوسری تنظیم پر حملہ کیا۔ ملزمان نے حملہ کے دوران فائرنگ ، راڈ اور آہنی مکوں کا آزادانہ استعمال کیا جس سے ایک تنظیم کے 8 طلبا زخمی ہوئے۔‘

    ایف آئی آر میں 11 طلبا کو نامزد کیا گیا ہے۔

    ایف آئی آر کے مطابق ملزمان نے دوسرا حملہ ہاسٹل نمبر 9 پر کیا گیا جہاں کمروں کے دروازے توڑے اور فرنیچر کو آگ لگا دی گئی۔

    ایف آئی آڑ کے متن کے مطابق ’ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے احاطے میں طلبہ کے دو گروپوں کے درمیان پرتشدد جھگڑا ہوا۔ تفصیلات کے مطابق تقریبا 180 سے 200 پنجابی طالب علموں کے ایک گروپ نے پختون طلبا کے ایک گروپ پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں متعدد طلبا زخمی ہوئے۔ ‘

    ’اس کے بعد وہ جمنازیم کے سامنے جمع ہوئے اور وہاں موجود پختون طالب علموں پر حملہ کیا۔ واقعے کے دوران آٹھ پختون طالب علم زخمی ہوئے جنہیں مزید تفصیلی طبی معائنے کے لیے پولی کلینک ریفر کر دیا گیا۔‘

    ایف آئی آر کے مطابق اس جھگڑے کے دوران مبینہ طور پر’ پنجابی طالب علموں کی جانب سے متعدد گولیاں چلائی گئیں۔ پنجابی طالب علموں نے بہت سے بیرونی لوگوں کے ساتھ مل کر پختون طالب علموں پر حملہ کیا اور جھگڑے کے نتیجے میں پختون طالب علم زخمی ہوگئے۔‘

    ایف آئی میں کہا گیا ہے کہ ’پنجابی طلبا نے کیمپس میں دہشت پھیلا دی، آتشی ہتھیاروں کا استعمال کرکے معصوم طلبا کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا اور پرامن ماحول کو خراب کیا۔ آگ لگا کر یونیورسٹی کی املاک کو نقصان پہنچایا اور دروازوں، کھڑکیوں، اور فرنیچر کو نقصان پہنچایا۔‘

    اسلام آباد پولیس نے مقدمہ درج کرنے کے بعد ضابطہ کی کاروائی شروع کر دی ہے۔

  12. ایک پر امن تحریک کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنا ظلم اور جبر کا فیصلہ ہے: منظور پشتین

    پاکستان میں وفاقی حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی جانے والی پشتون قوم پرست تنظیم پختون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین نے کہا ہے کہ ’ایک پر امن تحریک کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنا ظلم اور جبر کا فیصلہ ہے اور صرف ہم نے نہیں پورے پختون علاقوں نے اس کی مذمت کی ہے۔‘

    جمعرات کی رات وزیر اعلیٰ خییبر پختونخوا علی امین گنڈہ پور کے ساتھ ون آن ون ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے منظور پشتین نے پابندی کے حوالے سے سوال پر کہا ’یہ انتہائی ظلم اور جبر کا فیصلہ ہے کہ کیونکہ جو دہشت گردوں کے معاون ہیں آماجگاہیں دی ہیں یہاں پر احسان اللہ احسان جیسے لوگوں کو بنگلے دیے گئے ہیں وہ کھلے عام گھوم پھر رہے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’صرف ہم نے نہیں بلکہ پورے پختون خطے اور سیاسی جماعتوں اور تنظیموں نے حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی‘

    ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے ہلاکتوں اور جبر کے فیصلوں کو برداشت کیا ہے لیکن بات حکومت پر آئی تو ان سے برداشت نہیں ہو گی۔

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے منظور پشتین نے کہا کہ پختونوں کا جرگہ اپنی روایات کے مطابق اپنی جگہ پر اپنے وقت پر منعقد ہوگا۔

    منظور پشتین نے بتایا کہ پختون علاقوں میں امن اور قوم کے لیے پر امن تحریک کو سراہنے پر بات چیت ہوئی ہے اور کبھی بھی ایسا مسئلہ نہیں ہوگا کہ ان میں رکاوٹ پیدا کی جائے اس لیے جرگہ اپنے وقت پر اور اپنے مقام پر ہوگا۔

    اس دوران ایک سوال پر علی امین گنڈہ پور نے کہا کہ ’وفاقی حکومت نے جو صوبے کے اندر مداخلت کرکے اور صوبے کی روایات اور جرگہ جو پختونوں کی روایت پہچان ہے اس پر جو حملہ کیا اس کی مذمت کرتا ہوں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ان قربانیوں کی وجہ سے آج جرگہ اسی جگہ ہو رہا ہے اور اسی وقت پر ہو رہا ہے اور اس جرگے میں تمام مسائل اور مطالبات پر بات ہوگی۔

    کل رات صوبائی حکومت کی جانب سے سپیکر صوبائی اسمبلی اور اراکین پارلیمان پر مشتمل ایک جرگہ پی ٹی ایم سے مذاکرات کے لیے جمرود پہنچا تھا لیکن اس میں کوئی پیش رفت نظر نہیں آئی جس پر وزیر اعلی علی امین خود جمرود پہنچے اور انھوں نے پی ٹی ایم کی قیادت سے مذاکرات کیے جس کے بعد پی ٹی ایم کو جرگہ منعقد کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔

    اس دوران آج پشاور کے علاقے حیات آباد ، ریگی للمہ اور یونیورسٹی ٹاؤن میں بیشتر تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے ہیں۔

  13. کسی مخصوص جج کی ذاتی پسند قانونی ہے اور نہ ہی آئینی: آرٹیکل 63 اے کی تشریح پر سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق عدالت عظمیٰ کے ایک سابقہ فیصلے کے خلاف دائر کردہ اپیل پر اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا ہے کہ 17 مئی 2022 کا عدالتی فیصلہ آئین کے خلاف ہے۔

    فیصلے میں کہا گیا کہ آرٹیکل 63 اے سے متعلق اکثریتی ججز کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔

    فیصلے میں کہا گیا کہ ’قانون سازی کرنے والے اخلاقیات پر مبنی قانون سازی کر سکتے ہیں لیکن عدالت نے صرف دیکھنا کہ کیاقانونی اور کیا غیرقانونی ہے۔ پارلیمنٹ آئین بناتی ہے اور عدالت آئین کا اطلاق کرتی ہے۔‘

    عدالت کا کہنا ہے کہ ’اگر جج کسی قانون کی تشریح کرتا بھی ہے تو پیرامیٹرز کے اندر رہ کر اصولوں کے مطابق کرنی چاہیے، آرٹیکل 63 اے میں پارٹی کے سربراہ کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ پارٹی پالیسی کے خلاف جانے پر کسی ارکان کو منحرف قرار دے گا۔‘

    سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ ’اگر پارٹی سربراہ منحرف قرار دینے کا فیصلہ کرتا ہے تو پہلے اسے رکن کو شوکاز نوٹس دینا ہوتا ہے۔ اگر رکن پارٹی پالیسی کیخلاف جانے کی کوئی معقول وجہ بیان کر دیتا ہے تو ہوسکتا ہے پارٹی سربراہ منحرف قرار نہ دے۔ یہ پارٹی سربراہ کا ہی صوابدیدی اختیار ہے کہ وہ کسی رکن کے منحرف ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرے گا۔‘

    ’فیصلہ لکھنے والے اکثریتی ججز نے پارٹی سربراہ کا یہ صوابدیدی اختیار خود کو دے دیا۔‘

    سپریم کورٹ کے تحریری فیصلے کے مطابق ’آئین کے آرٹیکل 63 اے اور اس کی تمام ذیلی شقیں انتہائی واضح ہیں اسے کسی تشریح کی ضرورت ہی نہیں۔ آرٹیکل 63 اے میں کہیں نہیں لکھا کہ منحرف رکن کا ووٹ شمار نہیں ہو گا۔ آرٹیکل 63 اے میں یہ بھی نہیں لکھا کہ پارٹی کیخلاف ووٹ دینے پر رکن خود بخود ڈی سیٹ ہو جائے گا۔ ‘

    ’آئینی دفعات کو ذاتی پسند اور اخلاقیات سے بدلنے سے گریز کرنا چاہیے‘

    سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ’آرٹیکل 63 اے سے متعلق ریفرنس سابق صدر عارف علوی نے بھیجا۔ انھوں نے ظاہر نہیں کیا کہ اس وقت وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد آچکی ہے۔‘

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’ریفرنس میں اٹھائے گئے سوالات قانونی سوالات کی کسوٹی پر پورے نہیں اترتے تھے۔ اور سابق صدر نے قانونی سوال کے بجائے اخلاقیات پر رائے مانگی۔‘

    تفصیلی فیصلے کے مطابق جسٹس منیب اختر بنچ میں شامل تھے مگر حصہ نہیں بنے۔ ’یہ کہنا درست نہیں کہ نظرثانی درخواست جلدی میں مقرر ہوئی۔‘سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’نظرثانی کیس سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے دور سے زیر التوا تھا۔‘

    فیصلے کے مطابق ’سابق چیف جسٹس نے اس نظرثانی پر توجہ نہیں دی۔ جسٹس منیب اختر نے بھی سابق چیف جسٹس کو اس کیس کی یاد دہانی نہیں کرائی۔ ‘

    سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ ’سنہ 2022 کا فیصلہ اراکین پارلیمنٹ کے لیے پریشانی کی عکاسی کرتا ہے۔ اکثریتی فیصلے کے مطابق تاریخ میں ایک مرتبہ ایک پارلیمنٹیرین نے باضمیر ہوکر انحراف کاراستہ اختیار کیا۔‘

    عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ ’ایسی توہین اراکین پارلیمنٹ اور سیاستدانوں کے لیے افسوسناک ہے، نہیں بھولنا چاہیے کہ پاکستان کو آل انڈیا مسلم لیگ کے پرچم تلے سیاستدانوں نے پاکستان حاصل کیا۔قائد اعظم محمد علی جناح نے سختی سے آئین کا راستہ اختیار کیا۔ اکثریتی فیصلے میں قانون کی بجائے غیرقانونی اصلاحات کی بھرمار ہے۔‘

    ’اکثریتی فیصلے میں صحت مند 41 بار، غیر صحت مند 5 بار، بدتمیزی 9 بار، برائی 8 بار، کینسر 8 بار، خطرہ جیسے الفاظ 4 بار استعمال ہوئے۔‘

    سپریم کورٹ کے مطابق ’صدارتی ریفرنس میں کابینہ سے منظوری یا وزیراعظم کی ایڈوائس کا کوئی حوالہ نہیں تھا۔‘

    سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں کہا ہے کہ ’آئینی دفعات کو ذاتی پسند اور اخلاقیات سے بدلنے سے گریز کرنا چاہیے۔ کوئی مخصوص جج اگر صحیح، غلط، اخلاقی یا غیر اخلاقی سمجھتا ہے تو قانونی ہے اور نہ ہی آئینی۔‘

  14. میں ذمہ داری لیتا ہوں، پختون جرگہ اب میری میزبانی میں ہوگا:علی امین گنڈا پور

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کا کہنا ہے کہ پی ٹی ایم کی کال پر بلایا جانے والا جرگہ ان کی میزبانی میں آج ہی منعقد ہوگا۔

    پی ٹی ایم کے رہنماؤں سے بات چیت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’صوبے میں ہونے والا جرگہ پوری پختون قوم کا تھا تاہم وفاقی حکومت نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے اسے روکنے کی کوشش کی۔ ‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہر اختیار استعمال کرنے کے لیے نہیں ہوتا۔ پر امن لوگوں پر شیلنگ کی گئی اور فائرنگ کی گئی جس میں چار نوجوان مارے گئے۔‘

    علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ ’ہمارے صوبے میں امن ہی ایک بڑا مطالبہ ہے۔ اپنا گھر چھوڑ کر بچوں کے ساتھ کہیں جانا آسان نہیں ہوتا کیونکہ حکومت نے کہا یہاں آپریشن ہوگا اور امن ہوگا۔ لیکن امن قائم نہیں ہوا اور ان لوگوں نے قربانی دی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے وفاقی حکومت سے اختیار مانگا ہے کہ میرے صوبے میں مداخلت نہ کریں۔ میں اس چیز کی ذمہ داری لیتا ہوں میں یہ جرگہ بھی کرواؤں گا اور یہ لوگ پر امن بھی رہیں گے۔ اور اپنے جائز مطالبات جرگے کے ذریعے پیش کریں گے۔ ‘

    انھوں نے بحثیتِ ویزر اعلیٰ یہ مطالبات حل کروانے کی ذمہ داری لی۔

    انھوں نے کہا کہ جرگہ آج یعنی جمعے سے شروع ہوگا اور وہ اس کی میزبانی جریں گے۔

    یاد رہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ نے 11 اکتوبر کو ضلع خیبر کے ایک بڑے میدان میں ’پشتون قومی جرگہ‘ یا عدالت کے انعقاد کا اعلان کر رکھا ہے۔

    اس جرگے کے بارے میں پی ٹی ایم کے قائدین کا کہنا ہے کہ تین روزہ گرینڈ جرگہ یا عدالت کے انعقاد کا مقصد بنیادی طور پر ایک ایسا فورم فراہم کرنا ہے جس میں پشتون قوم اپنے مستقبل کے لیے ایک مشترکہ لائحہ عمل کا فیصلہ خود کرے۔

    حکومت کے جانب سے تنظیم کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد تنظیم سے وابستہ افراد کی گرفتاریاں کی جا رہی ہیں جبکہ جرگہ کے پنڈال پر کریک ڈاؤن بھی کیا گیا ہے۔ بدھ کے روز پولیس کی جانب سے پی ٹی ایم کے جرگہ میں شرکت کرنے کے لیے آنے والوں پر پولیس کی جانب سے کریک ڈاؤن میں ہوائی فائرنگ اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔ جس کے نتیجہ میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

    پی ٹی ایم کے ترجمان عبدالصمد لالہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پی ٹی ایم کا مقصد صرف اور صرف پشتون علاقوں میں امن کا قیام اور پشتونوں کو ان کی مرضی کے مطابق زندگی گزرانے کا فیصلہ کرنے کا حق دینا ہے۔‘

    دوسری جانب کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے ایک بیان میں اس جرگے کی حمایت کرتے ہوئے ضلع خیبر میں پانچ روز کے لیے جنگ بندی کا اعلان بھی کیا ہے۔

    واضح رہے کہ رہے کہ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں پشتونوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم تنظیم پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) پر وفاقی حکومت کی جانب سی پابندی عائد کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ یہ تنظیم ’ریاست مخالف سرگرمیوں‘ میں ملوث ہے۔

    وفاقی حکومت نے نہ صرف پی ٹی ایم کو کالعدم قرار دیا ہے بلکہ اس تنظیم سے وابستہ افراد کے نام فورتھ شیڈول میں بھی ڈال دیے ہیں۔

    حکومت کی جانب سے تنظیم پر ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات پر پی ٹی ایم نے کہا ہے کہ وہ کبھی بھی ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث نہیں رہے ہیں۔

    ’پشتون قومی جرگہ‘ میں کیا ہونا ہے؟

    بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق ابتدائی طور پر پی ٹی ایم کی جانب سے تقریباً تین ماہ پہلے اس جرگے کا اعلان کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ اس جرگے میں پشتون اقوام، اضلاع ، سیاسی جماعتیں اور یہاں تک کہ مختلف تنظیمیں بھی شرکت کریں گی۔

    پی ٹی ایم کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق اس جرگے کے سلسلے میں ضلع خیبر میں 80 کیمپ لگائے جانے ہیں جن میں 45 کیمپس اضلاع کے لیے مختص ہوں گے جہاں ان کے نمائندے موجود ہوں گے۔ اس کے علاوہ 35 کیمپس سیاسی جماعتوں، مختلف تنظیموں اور دیگر شعبہ جات کے سربراہان کے لیے ہوں گے۔

    اس جرگے کے شیڈول کے مطابق پہلے روز ایک بڑی سکرین پر پشتونوں کے خلاف گذشتہ برسوں میں جو مبینہ کارروائیاں یا مظالم ہوئے ہیں، جنگوں سے جو نقصانات ہوئے اور اس کے علاوہ متاثرہ افراد کی کہانیاں، ویڈیوز اور دستاویزی شواہد دکھائے جائیں گے۔

    دوسرے دن بند کمرے میں بااثر شخصیات ان مسائل پر غور و فکر کریں گے اور پہلے دن جو دیکھا گیا اس پر روشنی ڈالیں گے۔ اس دن کے دوران ہر کیمپ سے ایک نمائندہ منتخب کیا جائے گا جو جرگے کے آئندہ کے لائحہ عمل پر اپنے رائے دے سکے گا۔

    تیسرے دن منتخب نمائندگان حلف اٹھائیں گے اور آئندہ کے ایجنڈے اور لائحہ عمل کو تیار کریں گے۔ اس دن کا اختتام قومی عدالت جرگہ کے نتائج اور مستقبل کے لیے بنائے گئے لائحہ عمل کے باقاعدہ اعلان سے ہوگا۔

  15. بلوچستان میں مسلح افراد کا حملہ: کوئلے کی کان میں کام کرنے والے 20 مزدور ہلاک، 7 زخمی ہو گئے, محمد کاظم، بی بی سی اردو

    بلوچستان کے ضلع دکی میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے 20 مزدور ہلاک اور سات زخمی ہو گئے ہیں۔

    مقامی حکام کے مطابق یہ حملہ گزشتہ شب دکی شہر کے قریب پولیس ایریا میں کیا گیا۔

    دکی پولیس کے ایس ایچ او ہمایوں خان ناصر نے بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد اس علاقے میں آئے اور انھوں نے مزدوروں پر فائرنگ کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے مزدوروں میں سے چار کا تعلق افغانستان جبکہ باقی کا تعلق بلوچستان کے علاقوں ژوب، قلعہ سیف اللہ، پشین، موسیٰ خیل اور کچلاک سے ہے۔

    اس حملے کی ذمہ داری تاحال کسی نے قبول نہیں کی تاہم ماضی میں اس نوعیت کے حملوں کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی جانب سے قبول کی جاتی رہی ہیں۔

    مقامی صحافی عبدالحکیم ناصر نے بتایا کہ اس واقعے کے خلاف دکی کے مرکزی چوک پر احتجاج کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر میں آج کاروباری مراکز بند ہیں۔

    واضح رہے کہ رواں برس بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مزدوروں پر حملے کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں، جن میں زیادہ تر پنجاب سے تعلق رکھنے والے مزدوروں کو نشانہ بنایا گیا۔

    حملہ دکی کے کس علاقے میں کیا گیا؟

    یہ حملہ دکی میں خیر محمد ناصر لیز علاقے میں کیا گیا جو دکی شہر سے اندازاً آٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر جنوب میں واقع ہے۔

    ایس ایچ او ہمایوں خان ناصر نے بتایا کہ اس علاقے میں گزشتہ شب نامعلوم مسلح افراد کی ایک بڑی تعداد آئی اور انھوں نے قریب سے کوئلے کی کانوں پر کام کرنے والے مزدوروں کو نشانہ بنایا۔

    ان کا کہنا تھا کہ مزدوروں پر حملے کے علاوہ مسلح افراد نے مختلف کانوں پر موجود مشینری کو بھی نذر آتش کیا۔

    ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ واقعے کے بارے میں مختلف پہلوئوں سے تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے۔

    لاشوں کو پوسٹ مارٹم جبکہ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال دکی منتقل کیا گیا۔

    دکی کہاں واقع ہے؟

    دکی بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے اندازاً 300 کلومیٹر کے فاصلے پر شمال مشرق میں واقع ہے۔ اس ضلع کی سرحدیں کوہلو سے بھی ملتی ہیں جس کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو شورش سے زیادہ متاثر ہیں۔

    اس ضلع کی آبادی کی غالب اکثریت مختلف پشتون قبائل پر مشتمل ہے۔ یہاں کوئلے کے ذخائر ہیں جن پر بڑی تعداد میں مزدور کام کرتے ہیں۔

    دکی اور اس کے نواحی علاقوں میں پہلے بھی کوئلے کی کانوں، کوئلہ لے جانے والے ٹرکوں پر حملوں کے علاوہ مزدوروں کے اغوا اور سکیورٹی فورسز پر حملوں کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔

    رواں سال مئی کے مہینے میں یہاں بارودی سرنگ کے دھماکے میں دو مزدور ہلاک اور 17 زخمی ہوئے تھے ۔

  16. مرکزی بیروت پر اسرائیلی حملے میں 22 افراد ہلاک

    لبنان کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ جمعرات کی شب مرکزی بیروت پر اسرائیلی فضائی حملے میں 22 افراد ہلاک اور 117 زخمی ہوگئے ہیں۔

    بی بی سی کے نامہ نگاروں نے دارالحکومت کے بشورہ نامی شیعہ آبادی والے علاقے میں دھماکوں کی آوازیں سنی تھیں۔ ریسکیو اہلکاروں کو ملبے تلے سے لاشیں نکالتے دیکھا جاسکتا ہے۔

    زخمیوں کو ایمبولینسز کے ذریعے امریکن یونیورسٹی ہسپتال لے جایا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے اس حملے سے قبل کوئی انتباہ جاری نہیں کیا تھا۔

    غیر مصدقہ اطلاعات ہیں کہ اس حملے میں حزب اللہ کے سابق سربراہ حسن نصر اللہ کے رشتہ دار وفيق صفا اور گروپ کے اعلیٰ سکیورٹی اہلکار کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ حزب اللہ نے تاحال اس پر تبصرہ نہیں کیا۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے تین سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ وفیق صفا زندہ ہیں اور وہ اس اسرائیلی حملے میں بچ گئے ہیں۔

    یہ بھی پڑھیے

  17. حوثی جنگجوؤں کی جانب سے دو بحری جہازوں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے

    بیروت سے دور یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی جنگوؤں کا کہنا ہے کہ انھوں نے دو بحری جہازوں کو میزائلوں اور راکٹوں سے نشانہ بنایا ہے۔

    حوثیوں کی جانب سے جن دو بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ہے اُن میں سے ایک کی شناخت امریکی آئل ٹینکر اولمپک سپرٹ کے طور پر کی گئی ہے جو بحیرہ احمر میں تھا۔

    تاہم دوسرا بحری جہاز سینٹ جان تھا جسی حوثیوں کی جانب سے بحر ہند میں نشانہ بنایا گیا۔

    نومبر سے اب تک حوثیوں نے بحیرہ احمر میں تقریبا 100 بحری جہازوں پر حملے کیے ہیں جن میں سے دو بحری جہاز ڈوب گئے تھے۔ حوثی جنگجوؤں کا کہنا ہے کہ بحری جہازوں پر اُن کے یہ حملے غزہ میں اسرائیل کی فوجی مہم کا بدلہ ہیں۔

  18. اسرائیلی افواج کا بیروت پر بغیر کسی انتباہ کے فضائی حملہ ہلاکتوں کی تعداد 22 ہو گئی

    بیروت کے وسطی علاقے میں اسرائیلی حملے کے بعد امدادی ادارے ریڈ کراس کے ارکان ملبے کو ہٹانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

    تاہم بیروت پر بغیر کسی انتباہ کی اسرائیلی افواج کی جانب سے کیے جانے والے اس فضائی حملے میں ہونے والی ہلاکتوں میں بدستور اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔

    مقامی انتظامیہ کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ اس حالیہ اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 22 تک جا پہنچی ہیں تاہم اس میں 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

  19. بریکنگ, بیروت میں حالیہ اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 18 ہو گئی

    لبنانی وزارتِ صحت کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بیروت کے وسط میں اسرائیلی فضائیہ کے حالیہ حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 18 ہو گئی ہے۔

    تاہم اس سے قبل ان حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد 11 بتائی گئی تھی۔ تاہم اب ان حملوں میں زخمیوں کی تعداد بھی 92 بتائی جا رہی ہے۔

  20. بیروت پر اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد کے مناظر

    بیروت کے وسط میں ہونے والے اسرائیلی فضائیہ کے حملے میں اب تک 11 افراد ہلاک ہو 48 زخمی ہو گئے ہیں۔

    بیروت سے اس حملے کے بعد کے چند مناظر