آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ٹی ایل پی کا احتجاج، کارکنان کی ’بڑی تعداد‘ اسلام آباد میں موجود: ’انتہا پسندانہ منفی سیاست کی پاکستان میں اجازت نہیں‘، حکومت

تحریکِ لبیک پاکستان کا کہنا ہے کہ 10 اکتوبر کو اسلام آباد میں ’لبیک یا اقصیٰ ملین مارچ‘ کے لیے کارکنان کی ’بڑی تعداد‘ وفاقی دارالحکومت میں موجود ہے تاہم ان کی جماعت احتجاج سے قبل حکومت سے ’مذاکرات‘ کے لیے تیار ہے۔ دوسری جانب، حکومت کا کہنا ہے کہ انتہا پسندانہ منفی سیاست کی پاکستان میں اجازت نہیں ہے۔

خلاصہ

  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ 'اسرائیل اور حماس دونوں نے ہمارے امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر دستخط کر دیے ہیں۔'
  • پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان کی ہدایات پرمکمل عمل ہو گا جبکہ وزیر اعلیٰ کا استعفی ایک آئینی مسئلہ ہے اس لیے وہ قوائد کے مطابق ہو گا۔
  • فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی زیرصدارت کورکمانڈر کانفرنس نے انڈیا کی قیادت کی جانب سے اشتعال انگیز بیانات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ پاکستان کی فوج ہر خطرے کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
  • سکیورٹی فورسز کی جانب سے اورکزئی میں دہشت گردوں کے خلاف ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 19 دہشت گردوں جبکہ سیکورٹی فورسز کے 11 اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔
  • برطانیہ کے وزیراعظم کیئر سٹارمر نے کہا ہے کہ برطانیہ انڈیا کے لیے ویزا کے قواعد اور قوانین میں نرمی نہیں کرے گا۔

لائیو کوریج

  1. کابل میں دھماکے کی آواز سنی گئی، ابھی تک کسی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی: ذبیح اللہ مجاہد

    افغان طالبان کے ایک ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے تصدیق کی ہے کہ کابل شہر میں دھماکے کی آواز سنی گئی ہے۔ ان کے مطابق اس حوالے سے ابھی تحقیقات جاری ہیں تاہم ابھی تک کسی نقصان کے بارے میں اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

    ایکس پر اپنے بیان میں انھوں نے عوام سے کہا کہ وہ پریشان نہ ہو۔

  2. یرغمالیوں کو پیر یا منگل کو رہا کر دیا جائے گا: ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں کابینہ کے اجلاس میں بات کرتے ہوَئے کہا ہے کہ ہم نے غزہ میں جنگ ختم کروا دی ہے اور بہت بڑے پیمانے پر امن قائم کر دیا ہے۔

    ’میرے خیال میں یہ دیرپا امن ہو گا، اور امید ہے کہ ہمیشہ رہے گا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں یرغمالیوں کو پیر یا منگل کے روز رہا کر دیا جائے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش ہو گی کہ وہ یرغمالیوں کی رہائی کے موقع پر وہاں موجود ہوں۔

    غزہ کے متقبل کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ خطے کے دیگر امیر ممالک آہستہ آہستہ غزہ کی تعمیر نو کریں گے۔

    امریکی صدر کا کہنا تھا کہ جون میں ایرانی جوہری تنصیبات پر کیا جانے والا حملہ بہت اہم تھا اور اب ایران نے بتایا ہے کہ وہ امن قائم کرنے کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں۔

    ’اور انھوں نے یہ بات مانی ہے کہ وہ اس ڈیل کے حق میں ہیں، ان کے خیال میں یہ بہت اچھی چیز ہے۔‘

    ڈونلڈ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ کام کریں گے۔

  3. گوادر میں پانی کی قلت، بلوچستان حکومت کا ٹینکروں کے ذریعے میرانی ڈیم سے پانی فراہم کرنے کا فیصلہ

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی حکومت نے ساحلی شہر گوادر میں پانی کی شدید قلت کے پیش نظر واٹر ایمرجنسی نافذ کر دی ہے جبکہ پانی کی فراہمی پر عائد تمام ٹیکس معطل کر دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ صوبائی حکومت نے گوادر شہر کی پانی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ٹینکروں کے ذریعے میرانی ڈیم سے پانی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    یہ فیصلے جمعرات کو وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت کوئٹہ میں ایک اجلاس میں لیے گئے۔

    حکومت کی جانب سے جاری ایک اعلامیے کے مطابق، اجلاس میں گوادر میں پانی کی قلت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور حکام نے اب تک اپنائی گئی حکمت عملی پر بریفنگ دی۔

    وزیر اعلیٰ بلوچستان نے حکام کی جانب سے سست روی برتنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مقامی افسران کو ہدایت کی کہ اگر یہ اقدامات فوری نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئے تو وہ چیف سیکرٹری کے ہمراہ گوادر میں کیمپ لگا کر ذاتی طور پر پانی کی فراہمی کے امور کی نگرانی کریں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جب صوبائی حکومت کی جانب سے حسب ضرورت مالی وسائل کی منظوری دی جا چکی ہے تو بحران کے خاتمے میں غیر معمولی پیش رفت کیوں سامنے نہیں آئی؟

    وزیرِ اعلیٰ کا مزید کہنا تھا کہ جن افسران میں فیصلہ سازی اور بحران سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں وہ رضاکارانہ طور پر عہدہ چھوڑ دیں تاکہ یہ ذمہ داریاں ایسے افسران کو تفویض کی جاسکیں جو بہتر طور پر اس سے نمٹنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔

    گوادر میں حالیہ پانی کی قلت وجہ کیا بنی؟

    گوادر میں پانی کی قلت کا مسئلہ طویل عرصے سے ہے تاہم پورٹ کی تعمیر اور آبادی میں اضافے کی وجہ سے پانی کی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔

    گوادر میں پانی کا انحصار شہر کے گردونواح میں تعمیر کیے گئے ڈیموں پر ہے لیکن بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے ڈیموں میں پانی ختم ہو گیا ہے۔

    سمندری پانی کو صاف کرنے کے لیے لگایا گیا ایک پلانٹ خراب ہوگیا ہے جبکہ باقی پلانٹ شہر کی ضرورت کو پورا نہیں کررہے ہیں۔

    سابقہ حکومت میں بھی پانی کی قلت کا مسئلہ پیدا ہوگیا تھا جس کے بعد شہر کو ٹینکروں کے زریعے پانی فراہم کیا گیا تھا۔

    گوادر میں محکمہ پبلک انجنیئرنگ کی خصوصی آڈٹ رپورٹ کے مطابق، سابق حکومت میں ٹینکروں کے زریعے گوادر کو پانی کی فراہمی پر 3 ارب روپے سے زائد خرچ ہوئے تھے۔

    اب حکومت نے گوادر کے گردونواح میں ڈیموں میں پانی خشک ہونے کے باعث گوادر شہر کی پانی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ٹینکروں کے ذریعے پانی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ٹینکروں کے ذریعے ضلع کیچ میں واقع میرانی ڈیم سے پانی فراہم کیا جائے گا جس کا فاصلہ گوادر سے سو کلومیٹر سے زیادہ ہے۔

  4. حکومت اور فوج کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا، شدت پسندوں کو پناہ گاہیں فراہم کرنے والوں کو نتائج بھگتنا پڑیں گے: خواجہ آصف

    پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ حکومت اور فوج کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے اور شدت پسندوں کو پناہ گاہیں فراہم کرنے والوں کو اب نتائج بھگتنا پڑیں گے۔

    خیبر پختونخوا کے ضلع اورکزئی میں شدت پسندوں کے خلاف ایک کارروائی کے دوران فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کا تذکرہ کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اب وقت آگیا ہے وفاقی اور صوبائی تمام حکومتوں کو یک زبان ہو کر فوج کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔

    جمعرات کے روز پارلیمان میں خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ایک تجویز یہ کہ اگلے ایک دو روز میں ایک وفد کابل بھیجا جائے اور افغان حکمرانوں کو بتایا جائے کہ یہ اب ناقابلِ بداشت ہو گیا ہے۔‘

    یاد رہے کہ گزشتہ روز پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا تھا کہ سات اور آٹھ اکتوبر کی درمیانی شب اورکزئی میں ہونے والے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران 19 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا تھا جبکہ اس آپریشن میں فوج کے ایک لیفٹیننٹ کرنل اور ایک میجر سمیت 11 اہلکار بھی مارے گئے تھے۔

    وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ ہمیں مل کر ان لوگوں جواب دینا ہوگا جو ان شدت پسندوں کو پناہ دیتے ہیں چاہے وہ پاکستان میں ہوں یا افغانستان میں۔

    ’اگر کسی گاؤں یا پناہ گاہ سے نکل کر شدت پسند ہمارے فوجی قافلے پر حملہ آور ہوں [گے] تو ہو سکتا ہے کہ اس کے جواب میں [دیے جانے والے ردِ عمل کے نتیجے میں] عام افراد کا نقصان بھی ہو۔‘

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ جہاں ان کی پناہ گاہیں ہوں گی وہاں کے لوگوں کو بھی بھگتنا پڑے گا، اور جو لوگ انھیں پناہ گاہیں مہیا کرتے ہیں ان کو بھی بھگتنا پڑے گا۔

    ’بہت ہو چکا، پاکستان کی حکومت اور فوج کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں کچھ لوگ اب بھی ان شدت پسندوں کی مذمت کرنے سے کتراتے ہیں، ’یہ قابلِ قبول نہیں۔‘

    ’یا تو آپ اُن کے ساتھ ہیں یا پمارے ساتھ۔۔ دہشتگردوں کے لیے کسی بھی قسم کی نرمی برداشت نہیں کی جائے گی۔‘

    وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ تین سال قبل افغانستان گئے تھے تو اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی اور دیگر بھی ان کے ساتھ تھے۔ انھوں نے دعویٰ کیا ’ہم نے ان [افغان حکام] سے برملا کہا کہ آپ کے ملک سے ہمارے ملک کے کم از کم دو صوبوں میں دہشتگردی ہو رہی ہے۔‘

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ انھوں نے افغان حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ہاں موجود چھ، سات ہزار افراد کو کنٹرول کریں اور ان کی پناہ گاہوں کو بند کریں۔

    ’انھوں [افغان حکام] نے کہا کہ آپ ہمیں 10 ارب روپے دے دیں تو ہم ان کو اپنے مغربی صوبوں میں لے جا کر بسا دیں گے۔ ہم انھیں یہاں سے منتقل کر دیں گے اور آپ کی سرحد کے نزدیک ان کی پناہ گاہیں ختم ہو جائیں گی۔‘

    وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ افغان حکام اس بات کی ضمانت دینے کے تیار نہیں تھے کہ یہ افراد واپس نہیں آئیں گے اور اس لیے اس بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا۔

  5. تحریکِ لبیک پاکستان کا احتجاج: لاہور کی تازہ صورتحال, عمر دراز ننگیانہ، بی بی سی اردو، لاہور

    تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے ’لبیک یا اقصیٰ ملین مارچ‘ کے نام سے 10 اکتوبر کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار عمر دراز ننگیانہ کا کہنا ہے کہ ٹی ایل پی کے مرکز کے اطراف اس وقت پولیس اور رینجرز کی بہت بھاری نفری موجود ہے۔

    ان کے مطابق، یتیم خانہ چوک پر واقع ٹی ایل پی کے مرکز کی طرف جانے والے راستے کنٹینرز لگا کر اور ٹرک کھڑے کر کے بند کر دیے گئے ہیں۔

    ’یہ کام مختلف لیئرز میں کیا گیا ہے، مطلب کہ ایک مقام پر رکاوٹ لگائی گئی، پھر اس کے تھورا آگے ایک اور رکاوٹ ہے، پھر اس کے آگے ایک اور۔ مرکز کی ظرف آنے اور جانے والی تمام سڑکوں پر ایسا کیا گیا ہے۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ پولیس مرکز سے تھوڑے فاصلے پر تعینات ہے اور ٹی ایل پی کے کارکن راستے میں ڈنڈے وغیر لے کر کھڑے ہیں۔ تاہم ابھی تک پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔

    ’نفری یہاں پر تعینات ہے، راستے بند ہیں اور کارکنان اندر ہیں۔۔۔۔ لیکن یہاں پر ایسا لگ رہا ہے کہ انتظامیہ انھیں مکمل طور پر روکنے کے لیے تیار ہے۔‘

  6. ٹی ایل پی کے احتجاج پر حکومتی مؤقف: ’انتہا پسندانہ منفی سیاست کی پاکستان میں اجازت نہیں‘

    وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے متوقع احتجاجی مارچ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اس طرح کی انتہاپسندانہ منفی سیاست کی پاکستان میں اجازت نہیں ہے، احتجاج تو دور کی بات ہے۔‘

    جمعرات کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے طلال چوہدری نے دعویٰ کیا کہ اسلام آباد اور پنجاب میں گرفتار کیے جانے والے افراد سے ڈنڈے، شیشے کی گولیاں، آنسو گیس کے شیل اور فیس ماسک برآمد ہوئے ہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ گرفتار ہونے والے یہ افراد ٹی ایل پی کے کارکنان اور عہدیدار ہیں۔

    خیال رہے ٹی ایل پی 10 اکتوبر کو راولپنڈی سے اسلام آباد میں واقع امریکی سفارتخانے تک اجتجاجی مارچ کی کال دے رکھی ہے۔

    طلال چوہدری نے مزید کہا کہ ان کی حکومت نے پُرامن احتجاج کی ہمیشہ اجازت دی ہے لیکن قواعد و ضوابط کے دائرے میں رہتے ہوئے۔

    ’ٹی ایل پی نے کہاں اجازت مانگی؟ قواعد و ضوابط پورا کرنے کی کب یقین دہانی کروائی ہے؟ ان کے سربراہ کی اشتعال انگیز تقاریر کرتے ہیں۔‘

    ’ان کی اشتعال انگیز تقاریر سوشل میڈیا پر موجود ہیں۔‘

  7. سہیل آفریدی کو وزیرِ اعلیٰ لگانے کا مقصد دہشتگردوں کو خیبر پختونخوا میں فری ہینڈ دینا ہے: وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا الزام

    پاکستان کے وفاقی وزیرِ اطلاعات عطااللہ تارڑ نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کا سہیل آفریدی کو وزیرِ اعلیٰ نامزد کرنے کا مقصد دہشتگردوں کو خیبر پختونخوا میں فری ہینڈ دینا ہے۔

    گذشتہ روز خیبر پختونخوا کے وزیرِاعلیٰ نے گورنر خیبر پختونخوا کے نام اپنے استعفے میں لکھا کہ وہ اپنے قائد اور بانی چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان کے حکم کے احترام میں وزارتِ اعلیٰ کے عہدے سے مستعفی ہو رہے ہیں۔

    جمعرات کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے پی ٹی آئی کا انتشاری ٹولہ دہشتگردوں کا سہولت کار ہے اور آج خیبر پختونخوا کی سیاست بھی اسی چیز کے ارد گرد گھوم رہی ہے۔

    انھوں دعویٰ کیا کہ گذشتہ روز مستعفی ہونے والے خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سے علی امین گنڈا پور سے رنجش یہ تھی کہ وہ ٹھیک طرح سے دہشتگردوں کی سہولت کاری نہیں کر پا رہے اور اُس حد تک یہ مشن پورا نہیں کر سکے جس کی پی ٹی آئی کے بانی کو امید تھی۔

    عطا اللہ تارڑ نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا کے نامزد وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی مجرمانہ ذہنیت کے حامل ہیں اور ان پر متعدد مقدمات بھی درج ہیں۔ تاہم انھوں نے سہیل آفریدی پر درج مقدمات کے بارے میں تفصیل فراہم نہیں کیں۔

    وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ ’خیبر پختونخوا کی حکومت اور تحریکِ انصاف کو واضح کر دوں کہ پاکستان کی سکیورٹی پالیسی اسلام آباد میں بنتی ہے اور اور بنتی رہے گی، پاکستان کی سکیورٹی پالیسی کابل میں نہیں بنے گی۔‘

  8. کارکنان اور قیادت کی ’بڑی تعداد‘ اسلام آباد میں موجود، احتجاج کا لائحہ عمل طے کر رہے ہیں: ٹی ایل پی

    تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کل کے احتجاج سے قبل حکومت سے ’مذاکرات‘ کے لیے تیار ہے۔

    جمعرات کو لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ٹی ایل پی کے رہنما علامہ فاروق الحسن کا کہنا تھا کہ ’ہمارے کارکنان اور قیادت کی بڑی تعداد اسلام آباد میں موجود ہے، اب ہمیں کب نکلنا ہے اور کیا کرنا ہے یہ لائحہ عمل میڈیا کے ساتھ شیئر کر دیا جائے گا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے راولپنڈی سے اسلام آباد میں واقع امریکی سفارتخانے تک مارچ کا اعلان 15 روز قبل کیا تھا اور وہ ’آج بھی بات چیت اور مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے۔‘

  9. پاکستان تحریکِ لبیک کا احتجاج: راولپنڈی میں 11 اکتوبر تک دفعہ 144 نافذ

    راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ نے شہر میں 11 اکتوبر تک دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔

    ڈپٹی کمشنر راولپنڈی حسن وقار چیمہ کے دفتر سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ شہر میں 11 اکتوبر تک ہر قسم کے احتجاج، دھرنے، جلسے جلوس اور ریلیوں پر پابندی عائد رہے گی۔

    نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ دفعہ 144 کا نفاذ چار روز کے لیے کیا گیا ہے۔ اس دوران شہر میں لاؤڈ سپیکر کے استعمال پر بھی پابندی عائد رہے گی۔

    ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری نوٹیفلیشن میں کہا گیا ہے موجودہ صورتحال میں حساس اور اہم تنصیبات کے قریب پر تشدد کاروائیوں کا خدشہ ہے۔

    خیال رہے کہ مذہبی جماعت تحریکِ لبیک پاکستان نے ’لبیک یا اقصیٰ ملین مارچ‘ کے نام سے 10 اکتوبر کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔

    ممکنہ احتجاج کے پیشِ نظر وفاقی پولیس اور اسلام آباد انتظامیہ نے مظاہرین سے نمٹنے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں اور شہر کے تمام داخلی راستوں کو بند کرنے کے لیے کنٹینرز پہنچا دیے گئے ہیں۔

    ضلعی انتظامیہ کے مطابق، ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور صرف متعلقہ افراد کے لیے مارگلہ روڈ کھولا جائے گا۔

  10. فرانس کا غزہ کے مستقبل پر بات چیت کے لیے سربراہی اجلاس کا اعلان

    فرانس کا کہنا ہے کہ اگر جنگ بندی پر عمل درآمد ہو جاتا ہے تو وہ جمعرات کے روز پیرس میں غزہ کے مستقبل کے متعلق بات چیت کے لیے عرب اور یورپی ممالک کے ایک اجلاس کی میزبانی کرے گا۔

    اس اجلاس میں مصر، اردن، سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کے وزرا کے ساتھ ساتھ برطانیہ، اٹلی، جرمنی، سپین، ترکی اور یورپی یونین کے نمائندے بھی شرکت کریں گے۔ تاہم اسرائیل اس اجلاس کا حصہ نہیں ہو۔

    فرانس کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس اجلاس سے امن منصوبے پر عمل درآمد کرنے میں مدد ملے گی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سے اجتماعی ذمہ داری اور آنے والے دنوں میں کام کرنے کے فریم ورک کو ترتیب دینے میں مدد ملے گی۔

    اسرائیل کے وزیر خارجہ گیڈون سار کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات اسرائیل کے پیٹھ پیچھے بلائی جا رہی ہے۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ ایسی حکومتوں کو اسرائیل کے معاملات پر بات چیت کے لیے دعوت دینا جو کھلم کھلا اسرائیل مخالف ہیں اشتعال انگیز ہے۔

  11. تحریک لبیک کا اسلام آباد میں احتجاج: انتظامیہ کا ریڈ زون سیل کرنے کا فیصلہ، شہر کے داخلی راستے بند کرنے کی تیاری

    پاکستان کی مذہبی جماعت تحریکِ لبیک پاکستان کی جانب سے ’لبیک یا اقصیٰ ملین مارچ‘ کے نام سے 10 اکتوبر کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں احتجاج کی کال کے پیشِ نظر ضلعی انتظامیہ نے شہر کے داخلی راستے بند کرنے کی تیاری کر لی۔

    ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار کے مطابق، وفاقی پولیس اور انتظامیہ نے مظاہرین سے نمٹنے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں اور شہر کے تمام داخلی راستوں کو بند کرنے کے لیے کنٹینرز پہنچا دیے گئے ہیں۔

    ضلعی انتظامیہ کے مطابق، ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور صرف متعلقہ افراد کے لیے مارگلہ روڈ کھولا جائے گا۔

    اس کے علاوہ، فیض آباد ڈبل روڈ، ترنول اور گولڑہ موڑ کے علاقوں میں سڑک کے دونوں اطراف کنٹینرز رکھ دیے گئے ہیں۔

    دوسری جانب، پولیس نے تحریک لبیک کارکنان کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ بھی شروع کر دیا ہے۔

    ضلعی انتظامیہ کے اہلکار کے مطابق، متعدد کارکنان کو حراست میں لے کر مختلف تھانوں سمیت سی آئی اے سینٹر میں بند کر دیا گیا ہے۔

  12. نوابشاہ: پولیس کی فائرنگ سے سات سالہ بچی کے قتل میں ملوث مبینہ ملزم ہلاک

    پاکستان کے صوبہ سندھ کے وسطی ضلع نوابشاہ کے شہر سکرنڈ میں پولیس کی فائرنگ سے ایک مشتبہ ملزم ہلاک ہوگیا ہے۔

    پولیس کا دعویٰ ہے کہ گذشتہ رات فائرنگ سے ہلاک ہونے والا شخص اپنی سات سالہ بھانجی کے قتل میں ملوث تھا۔

    یاد رہے کہ دو روز قبل سکرنڈ میں ایک سات سالہ بچی کی لاش ملی تھی جس کے کان اور بازو کٹے ہوئے تھے۔ اس واقعے کے خلاف بچی کے والدین سمیت اس کی برادری کے دیگر افراد نے احتجاج کیا تھا۔

    ایس ایس پی شبیر سیٹھار کے مطابق، بچی کے قتل کی تحقیقات کے لیے پولیس کی ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی تھی جس نے سی سی ٹی وی اور جیو فینسنگ کی مدد سے ملزم کا سراغ لگایا۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ جب پولیس ملزم کو گرفتار کرنے پہنچی تو ملزم نے پولیس کو دیکھتے ہی فائرنگ شروع کر دی۔ ایس ایس پی شبیر سیٹھار کا کہنا ہے کہ اس پر پولیس نے جوابی کارروائی کی اور مقابلے کے دوران ملزم مارا گیا۔

    ایچ ایس ایچ او اکبر چنا کا کہنا ہے کہ ملزم قتل ہونے والی بچی کا ماموں تھا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ جب پولیس اس کے تعاقب میں اصغر کالونی پہنچی تو ملزم نے پولیس سے بچنے کے لیے فائرنگ کی اور جوابی فائرنگ میں ہلاک ہو گیا۔

    دوسری جانب شمالی سندھ کے ضلع کشمور کے شہر کرمپور میں ایک استاد کے خلاف 10 سالہ طالبہ کا ریپ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    سات اکتوبر کو درج کی گئی ایف آئی آر میں بچی کے والد نے موقف اختیار کیا ہے کہ ان کی بیٹی سکول گئی تھی، چھٹی کے بعد دیگر بچے واپس آگئے لیکن وہ نہیں آئی۔

    ان کا کہنا ہے کہ انھیں دوسرے بچوں نے بتایا کہ صرف ایک ٹیچر کبیر بجارانی سکول آیا تھا جبکہ دیگر اساتذہ غیر حاضر تھے جس کے بعد وہ اسکول روانہ ہوئے تو اسکول کی ایک کمرے سے چیخوں کی آوازیں سنائی دیں۔

    بچی کے والد کا کہنا ہے کہ کبیر بچی کا ریپ کر رہا تھا اور انھیں دیکھ کر وہاں سے فرار ہو گیا۔

  13. تحریکِ لبیک کا اسلام آباد میں احتجاج کا اعلان: جڑواں شہروں میں سکیورٹی ہائی الرٹ

    پاکستان میں مذہبی جماعت تحریکِ لبیک پاکستان کی جانب سے ’لبیک یا اقصیٰ ملین مارچ‘ کے نام سے 10 اکتوبر کو وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں احتجاج کی کال دی گئی تھی جس کے بعد جڑواں شہروں میں سکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔

    تحریک لبیک پاکستان کا اسلام اباد میں احتجاج کے اعلان کے بعد وفاقی پولیس کی تمام نفری کو حاضری یقینی بنانے کا ہدایت جاری کر دی گئیں ہیں۔ اسی کے ساتھ تمام اعلیٰ افسران کا آپریشن ڈویژن میں تعینات فورس کو الرٹ رہنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔

    اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے اسلام آباد کے مختلف تھانوں کی حدود میں مزہبی جماعت کے کارکنان کے خلاف کارروائی بھی عمل میں لائی گئی۔‘

    پولیس کا کہنا ہے کہ ’بعض مقامات پر کارکنان کو حراست میں لیکر تھانوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔‘

    وفاقی دارلحکومت کے ساتھ جڑواں شہر راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ نے فیض آباد کے قریب تمام ہوٹل خالی کروا لیے ہیں۔

    تاہم مجسٹریٹ کی جانب سے گزشتہ شب مختلف ہوٹلوں کو آج صبح سات بجے تک خالی کرنے کا حکم بھی دیا گیا۔ اسی کے ساتھ ساتھ ضلعی انتظامیہ نے ہوٹل مالکان کو 12 اکتوبر تک ہوٹلوں کو بند کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔

    ساتھ ہی راولپنڈی کے سی پی او خالد ہمدانی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’کسی بھی صورت میں کسی بھی شخص کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ کسی کو بھی کسی سڑک کو بلاک کرنے یا ٹریفک میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘

    ایک اہم اجلاس کے بعد سی پی او راولپنڈی کا کہنا تھا کہ ’معمولات زندگی کو متاثر کرنے والی کسی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ احتجاج کی آڑ میں پرتشدد سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور ایسے میں قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

  14. ’اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ جنگ اس معاہدے سے ختم ہو گی یا نہیں‘, ہوگو بچیگا، بی بی سی کے یروشلم میں مشرقِ وسطیٰ کے نامہ نگار کا تجزیہ

    اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی اور یرغمالیوں کے تبادلے کا معاہدہ، جو مصر میں طویل مذاکرات کے بعد طے پایا، ایک دیرینہ پیش رفت ہے جو دونوں فریقوں کو غزہ میں دو سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے قریب لے آئی ہے۔

    تاہم اس کی کوئی ضمانت نہیں کہ یہ سب واقعی ممکن ہو پائے گا۔

    ان کوششوں میں سب سے بڑا فرق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ذاتی شمولیت ہے، جنھوں نے صرف حماس ہی نہیں بلکہ اسرائیل پر بھی معاہدے کے لیے دباؤ ڈالا۔

    یہ ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے ایسے شخص کے لیے جو خود کو اس جنگ کو ختم کرنے والا رہنما دکھانا چاہتا ہے اور اس عمل سے سیاسی فائدہ بھی حاصل کرنا چاہتا ہے۔

    جو معاہدہ طے پایا ہے وہ اس منصوبے کا پہلا مرحلہ ہے جس کا اعلان صدر ٹرمپ نے گذشتہ ہفتے وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نتن یاہو کے ساتھ کیا تھا، وہی نتن یاہو جن پر ماضی میں مذاکرات کو ناکام بنانے کے الزامات لگ چکے ہیں۔

    اس بار اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نتن یاہو سے ناراض اور بے صبر دکھائی دیے اور انھوں نے وہ اثر و رسوخ استعمال کیا جو صرف امریکہ کے پاس ہے۔ اس طرح وزیرِاعظم کے پاس اس عمل میں شامل ہونے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہ رہا۔

    دوسری جانب ٹرمپ کی ’مکمل تباہی‘ کی دھمکی کے بعد حماس پر بھی شدید دباؤ تھا۔ عرب اور مسلم ممالک نے صدر کے منصوبے کی حمایت کی اور مذاکرات میں مصر، قطر اور ترکی نے نمایاں کردار ادا کیا۔

    یقیناً یہ ایک اہم لمحہ ہے لیکن اب بھی اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ غزہ کے لیے پائیدار امن معاہدہ ہو جائے گا کیونکہ کئی اہم معاملات طے ہونا باقی ہیں۔ ان میں اسرائیل کا بنیادی مطالبہ یعنی حماس کا غیر مسلح ہونا اور غزہ کی آئندہ حکومت کا منصوبہ شامل ہیں۔

  15. ’اب یہ محسوس ہو رہا ہے کہ امن قائم ہونے والا ہے‘ عالمی رہنماؤں کا معاہدے پر ردِعمل

    دنیا بھر کے رہنما حماس اور اسرائیل کے درمیان گزشتہ رات امن معائدے پر دستخط ہو جانے کے بعد سے اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں:

    فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ فرانس ’امن کے قیام میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے‘، اور انھوں نے تمام فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ’معاہدے کی شرائط پر سختی سے عمل کریں۔‘

    کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی نے کہا کہ وہ اس بات پر ’بہت پر سکون محسوس کر رہے ہیں کہ یرغمالی جلد اپنے خاندانوں سے دوبارہ مل جائیں گے۔ برسوں کی شدید تکالیف کے بعد امن بالآخر قائم ہوتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔‘

    یورپی کمیشن کی صدر اُرزولا فان ڈیر لاین نے معاہدے تک پہنچنے کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں کو سراہا ہے اور کہا ہے کہ وہ اسرائیلی حکومت اور فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے دیے گئے تعاون سے ’حوصلہ افزا‘ محسوس کر رہی ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’اب تمام فریقوں کو معاہدے کی شرائط پر مکمل طور پر عمل کرنا ہوگا۔‘

    یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے کہا کہ یہ معاہدہ ’ایک اہم پیش رفت کی علامت ہے‘ اور یہ ’تباہ کن جنگ کے خاتمے اور تمام یرغمالیوں کی رہائی کا حقیقی موقع‘ پیش کرتا ہے۔

    دوسری جانب ترکی کے صدر رجب طیب اردغان نے کہا کہ وہ اس بات پر ’انتہائی خوش‘ ہیں کہ مذاکرات کے نتیجے میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا ہے تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’ہم اپنی جدوجہد اُس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم نہیں ہو جاتی۔‘

  16. معاہدے کے پہلے مرحلے میں کیا شامل ہے اور آئندہ چند دنوں میں کیا ہوگا؟

    بدھ اور جمعرات کی درمیانی سب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ اسرائیل اور حماس نے غزہ امن معاہدے کے پہلے مرحلے پر اتفاق کر لیا ہے۔

    ٹرمپ کے مطابق اس پہلے مرحلے میں حماس کے زیرِ قبضہ تمام یرغمالیوں کی رہائی اور اسرائیلی فوجیوں کا ایک متفقہ حد یا لائن تک واپسی شامل ہے۔

    اس دوران قطر کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کچھ فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا اور دوسری جانب سے انسانی امداد غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔

    اب آئندہ چند دنوں کے متوقع مراحل کیا ہیں:

    جمعرات یعنی آج

    اسرائیلی حکومت اس منصوبے کی منظوری کے لیے ایک اہم اجلاس بلائے گی جس میں اس پر ووٹنگ ہوگی۔ اگر اسے باضابطہ منظوری مل گئی تو فوری طور پر جنگ بندی نافذ ہو جائے گی اور اسرائیلی فوج متفقہ لائن تک پیچھے ہٹ جائے گی۔

    ایک سینئر فلسطینی عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا کہ اسرائیلی انتظامیہ پہلے پانچ دنوں میں روزانہ 400 امدادی ٹرکوں کے غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دے گا۔

    جمعہ کے روز

    بی بی سی کے امریکی پارٹنر سی بی ایس نیوز سے بات کرتے ہوئے ایک سینئر وائٹ ہاؤس عہدیدار نے کہا کہ اسرائیلی فوجیوں کے پیچھے ہٹ جانے میں 24 گھنٹے سے بھی کم وقت لگ سکتا ہے۔

    اس کے بعد حماس کے لیے 72 گھنٹے کا وقت شروع ہوگا تاکہ وہ غزہ میں موجود یرغمالیوں کو رہا کرے۔

    پیر

    وائٹ ہاؤس کے عہدیدار نے سی بی ایس کو بتایا کہ توقع ہے کہ پیر تک یرغمالیوں کی رہائی شروع ہو جائے گی تاہم اس بات کا انحصار حماس پر ہے کہ وہ یہ کام پیر سے قبل بھی شروع کر سکتا ہے۔

  17. حماس اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدہ: ’اُمید ہے کہ مغوی اپنے گھر پہنچ جائیں گے اور غزہ میں امداد پہنچائی جا سکے گی‘ اقوامِ متحدہ

    حماس اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کے بعد اب یہ بات اور سوال سامنے آنے لگا ہے کہ اب آنے والے دن کیسے گزر سکتے ہیں اور اب آگے کیا ہوگا۔

    اس بارے میں ایک وائٹ ہاؤس اہلکار نے بتایا کہ اسرائیل کی کابینہ جمعرات کو امن منصوبے پر ووٹنگ کرے گی۔

    اگر اسرائیل اس کی منظوری دے دیتا ہے تو اُسے اپنی فوج کو واپس لانے کیے لیے 24 گھنٹے دیے جائیں گے۔

    اس کے بعد 72 گھنٹے کا ایک دورانیہ یا وقت شروع ہوگا کہ جس کے دوران حماس باقی مغویوں کو رہا کر سکتا ہے۔ اہلکار نے کہا کہ امریکہ توقع کرتا ہے کہ 20 مغویوں کی رہائی پیر کے روز عمل میں لائی جائے گی، اگرچہ حماس انھیں اس سے پہلے بھی رہا کر سکتا ہے۔

    تاہم امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ کہا گیا تھا کہ مغوی ’ممکنہ طور پر پیر کو رہا کیے جائیں گے۔‘

    ٹرمپ نے بدھ کو اشارہ دیا کہ وہ اس ہفتے کے آخر میں معاہدے کے حتمی مراحل کے دوران مشرق وسطیٰ کا دورہ کر سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ وہ تقریباً اسی وقت پہنچیں گے جب مغوی رہا کیے جا رہے ہوں گے۔

    دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے انسانی ہمدردی کے سربراہ ٹام فلیچر نے ایکس پر غزہ امن معاہدے کے بارے میں کہا کہ ’یہ ایک انتہائی اچھی خبر ہے۔ اُمید ہے کہ مغوی جلد اپنے گھروں میں واپس پہنچ جائیں گے اور غزہ میں متاثرین تک امداد کی رفتار میں بھی تیزی لائی جا سکے گی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہماری ٹیمیں مکمل طور پر متحرک ہیں تاکہ ٹرکوں کو بڑے پیمانے پر غزہ میں داخل کیا جا سکے اور ایسے علاقوں تک پہنچایا جا سکے کہ جہاں خوراک اور ادویات کی اشد ضرورت ہے تاکہ زندگیاں بچائی جا سکیں۔‘

    ٹام فلیچر نے مزید کہا کہ ’اقوامِ متحدہ کے کارکنوں کو ’محفوظ رسائی‘ درکار ہے جس کے بعد ہی ادارہ ان علاقوں سے روزانہ کی بنیاد پر تازہ صورتحال دُنیا تک پہنچانے کے قابل ہو سکے گا۔

  18. حماس اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدہ کے بعد مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن قائم کیا جا سکے گا: شہباز شریف

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے حماس اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ امن معاہدہ ایک تاریخی موقع ہے جس کے بعد مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن قائم کیا جا سکے گا اور غزہ میں نسل کشی کا خاتمہ ہو گا۔‘

    انھوں نے اس سارے معاملے میں امریکی صدر کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’صدر ٹرمپ کی قیادت، جو بات چیت اور مذاکرات کے پورے عمل میں موجود رہی دنیا میں امن کے قیام کے لیے ان کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔‘

    شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ ’قطر، مصر اور ترکی کے پُر عزم اور دانشمندانہ رہنماؤں کو بھی اس معاہدے کو مذاکرات کے ذریعے ممکن بنانے کی ان کی انتھک کوششوں پر خراج تحسین پیش کیا جانا چاہیے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’سب سے بڑھ کر ہمیں فلسطینی عوام کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہیے جنھوں نے بے مثال مُشکلات اور مسائل کا سامنا کیا، یہ جنگ ایک ایسا المیہ تھا کہ جو کبھی بھی دہرایا نہیں جانا چاہیے۔‘

    پاکستان کے وزیر اعظم نے اپنے بیان میں اسرائیل پر تنقید کی اور کہا کہ ’دنیا کو قابضہ کرنے والوں اور غیر قانونی بستی بسانے والوں کو جوابدہ ٹھرانا چاہیے اور ایسی مزید کارروائیوں کو روکنا چاہیے۔‘

    واضح رہے کہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کا اعلان کیا تھا کہ ’اسرائیل اور حماس دونوں نے ہمارے امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر دستخط کر دیے ہیں۔‘

    سوشل میڈیا پر اس بات کا اعلان کرتے ہوئے انھوں نے مزید لکھا تھا کہ ’اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام مغوی بہت جلد رہا کر دیے جائیں گے اور اسرائیل اپنے فوجیوں کو ایک طے شدہ حد تک واپس بلا لے گا۔ یہ ایک مضبوط، پائیدار، اور دائمی امن کی جانب پہلا قدم ہوگا۔ تمام فریقوں کے ساتھ منصفانہ سلوک کیا جائے گا۔‘

  19. بے گھر فلسطینیوں کا امن معاہدے کی خبر پر ردعمل: ’ہم غزہ کو دوبارہ تعمیر کریں گے‘

    ’غزہ کے لوگوں کو کئی دہایوں سے جنگی حالات کا سامنا ہے اور ایسے میں وہ اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی جان بچانے کے لیے یہاں سے وہاں نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں۔

    اسرائیل اور حماس کے درمیان امن معاہدے پر دستخط ہو جانے کے بعد فلسطینیوں نے ردِ عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم غزہ کو دوبارہ تعمیر کریں گے۔‘

    غزہ میں جنگ کے باعث بے گھر ہونے والے فلسطینیوں نے خبر رساں ادارے اے پی ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ امن معاہدہ انھیں پناہ گاہوں سے نکل کر اپنے گھر واپس جانے کا موقع دے گا۔

    ایمان صابر، جو خان یونس میں رہائش پذیر ہیں کہتے ہیں کہ ’میں اپنا گھر دوبارہ تعمیر کروں گا، ہم غزہ کو دوبارہ تعمیر کریں گے۔‘

    احمد شیہیبیر کہتے ہیں کہ وہ ’بے صبری سے جبہالیہ پناہ گاہ میں سے اپنے گھر واپس جانے کا انتظار کر رہے ہیں۔‘ وہ کہتے ہیں کہ ’یہ ایک بڑا دن ہے، ایک بہت بڑی خوشی کا دن ہے۔‘

    امدادی کارکُن ایاد عماوی کہتے ہیں کہ انھیں خدشہ ہے کہ اسرائیل معاہدے پر عمل کے دوران رکاوٹ ڈال سکتا ہے۔ ہمیں کسی حد تک اس معاہدے کے قائم رہنے کا یقین بھی ہے مگر اسی کے ساتھ ساتھ کُچھ خدشات بھی ہیں۔ ہمارے جذبات ملے جُلے ہیں، خوشی اور اداسی دونوں ہی اپنی جگہ موجود ہیں، اس جنگ کے دوران ہلاک ہو جانے والوں کا غم بھی ہے اور جو بچ گئے ہیں اُن کے ایک دن خوش حال ہونے کی اُمید بھی ہے۔‘

    وہ مزید کہتے ہیں کہ ’ہمیں یہاں ہر چیز ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے، خاص طور پر ذہنی صحت پر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنی زندگی کو آگے بڑھا سکیں۔‘

  20. ’یہ امن معاہدہ ایک اہم پیش رفت ہے‘, لیز ڈوسیٹ، بی بی سی کی چیف انٹرنیشنل نامہ نگار کا تجزیہ

    یہ سب سے بڑھ کر ایک ایسا لمحہ ہے کہ جس کے بارے میں ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ انسانیت جیت گئی ہے۔ ابتدائی طور پر سامنے آنے والے تفصیلات یہ بتا رہی ہیں کہ غزہ کی سڑکوں پر رات کی تاریکی میں بھی خوشی کی ایک کرن پھوٹ پڑی، دوسری جانب تل ابیب کے ہوسٹیجز سکوائر میں رقص اور جشن مناتے یرغمالیوں کے اہلِ خانہ دیکھائی دیے۔

    اگر جمعرات کو سب کچھ منصوبے کے مطابق ہو جائے تو آخری اسرائیلی مغوی بھی جلد گھر واپس آئیں گے اور اسی طرح سیکڑوں فلسطینی قیدی بھی رہا ہو جائیں گے۔ غزہ میں بندوقوں، گولیوں اور توپ خانے کی گھن گرج سب کُچھ ختم اور بس خاموشی ہو جائے گی، قحط کے شکار فلسطینیوں تک مزید امداد پہنچے گی اور فلسطینی اس خوف کے بغیر زندگی گزار سکیں گے کہ یہ ان کا آخری دن ہو سکتا ہے۔

    آج اس لمحے کا احساس ملا جلا سا ہے۔ کچھ اس سب پر تنقید بھی کر رہے ہیں کہ یہ معاہدہ اس سے زیادہ مختلف نہیں جو سابق امریکی صدر بائیڈن نے گزشتہ مئی میں پیش کیا تھا۔ ایک خدشہ یہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ معاہدہ ٹوٹ سکتا ہے مگر ایسا ہونا نہیں چاہیے، جیسا کہ دہائیوں میں اسرائیل فلسطین معاہدوں کے ساتھ ہوتا چلا آیا ہے۔

    لیکن یہ ایک اہم پیش رفت ضرور ہے۔

    اور صرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہی یہ کر سکتے تھے۔ یہ طویل عرصے سے کہا جا رہا تھا کہ صرف امریکی صدر اور کمانڈر ان چیف ہی اپنے سیاسی اتحادیوں اور ذاتی دوستوں کی مدد سے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو پر اتنا دباؤ ڈال سکتے تھے کہ یہ معاہدہ آخرکار ممکن ہو سکے۔ ان کا عرب رہنماؤں اور ترکی کے ساتھ مضبوط تعاون بھی حماس کو اس مقام تک لے آیا۔

    یہ صرف شروعات ہے اختتام نہیں۔ یہ ایک جنگ بندی کا معاہدہ ہے مکمل امن معاہدہ نہیں۔ حماس کے ہتھیاروں، غزہ میں حکومت اور اسرائیل کی فوجی موجودگی کے دائرہ کار جیسے بڑے مسائل پر ابھی بھی کئی رکاوٹیں دیکھائی دے رہی ہیں جن کے بارے میں بات کرنا اور انھیں دور کرنا باقی ہے۔ لیکن یہ ایک خوشی اور جشن منانے کا لمحہ ضرور ہے۔