پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ حکومت اور فوج کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے اور شدت پسندوں کو پناہ گاہیں فراہم کرنے والوں کو اب نتائج بھگتنا پڑیں گے۔
خیبر پختونخوا کے ضلع اورکزئی میں شدت پسندوں کے خلاف ایک کارروائی کے دوران فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کا تذکرہ کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اب وقت آگیا ہے وفاقی اور صوبائی تمام حکومتوں کو یک زبان ہو کر فوج کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔
جمعرات کے روز پارلیمان میں خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ایک تجویز یہ کہ اگلے ایک دو روز میں ایک وفد کابل بھیجا جائے اور افغان حکمرانوں کو بتایا جائے کہ یہ اب ناقابلِ بداشت ہو گیا ہے۔‘
یاد رہے کہ گزشتہ روز پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا تھا کہ سات اور آٹھ اکتوبر کی درمیانی شب اورکزئی میں ہونے والے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران 19 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا تھا جبکہ اس آپریشن میں فوج کے ایک لیفٹیننٹ کرنل اور ایک میجر سمیت 11 اہلکار بھی مارے گئے تھے۔
وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ ہمیں مل کر ان لوگوں جواب دینا ہوگا جو ان شدت پسندوں کو پناہ دیتے ہیں چاہے وہ پاکستان میں ہوں یا افغانستان میں۔
’اگر کسی گاؤں یا پناہ گاہ سے نکل کر شدت پسند ہمارے فوجی قافلے پر حملہ آور ہوں [گے] تو ہو سکتا ہے کہ اس کے جواب میں [دیے جانے والے ردِ عمل کے نتیجے میں] عام افراد کا نقصان بھی ہو۔‘
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ جہاں ان کی پناہ گاہیں ہوں گی وہاں کے لوگوں کو بھی بھگتنا پڑے گا، اور جو لوگ انھیں پناہ گاہیں مہیا کرتے ہیں ان کو بھی بھگتنا پڑے گا۔
’بہت ہو چکا، پاکستان کی حکومت اور فوج کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں کچھ لوگ اب بھی ان شدت پسندوں کی مذمت کرنے سے کتراتے ہیں، ’یہ قابلِ قبول نہیں۔‘
’یا تو آپ اُن کے ساتھ ہیں یا پمارے ساتھ۔۔ دہشتگردوں کے لیے کسی بھی قسم کی نرمی برداشت نہیں کی جائے گی۔‘
وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ تین سال قبل افغانستان گئے تھے تو اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی اور دیگر بھی ان کے ساتھ تھے۔ انھوں نے دعویٰ کیا ’ہم نے ان [افغان حکام] سے برملا کہا کہ آپ کے ملک سے ہمارے ملک کے کم از کم دو صوبوں میں دہشتگردی ہو رہی ہے۔‘
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ انھوں نے افغان حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ہاں موجود چھ، سات ہزار افراد کو کنٹرول کریں اور ان کی پناہ گاہوں کو بند کریں۔
’انھوں [افغان حکام] نے کہا کہ آپ ہمیں 10 ارب روپے دے دیں تو ہم ان کو اپنے مغربی صوبوں میں لے جا کر بسا دیں گے۔ ہم انھیں یہاں سے منتقل کر دیں گے اور آپ کی سرحد کے نزدیک ان کی پناہ گاہیں ختم ہو جائیں گی۔‘
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ افغان حکام اس بات کی ضمانت دینے کے تیار نہیں تھے کہ یہ افراد واپس نہیں آئیں گے اور اس لیے اس بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا۔