لائیو, ایران کے خلاف جنگ میں امریکی بحریہ کی جانب سے انڈین بندرگاہیں استعمال کرنے کی خبر بے بنیاد ہے: انڈیا

انڈین وزارت خارجہ کے فیکٹ چیک اکاؤنٹ پر اس دعوے کو فیک نیوز قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ امریکا کے ایک چینل ’ون امریکہ نیوز نیٹ ورک‘ پر یہ دعویٰ کہ امریکی بحریہ اس کی بندرگاہیں استعمال کر رہی ہے، غلط اور جعلی ہے۔

خلاصہ

  • قطر کا تہران سے حملے روکنے کا مطالبہ: 'ایران اپنے پڑوسیوں کو ایسی جنگ میں گھسیٹ رہا ہے جس سے ان کا تعلق نہیں'
  • اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ایرانی دارالحکومت تہران پر حملوں کا ایک اور سلسلہ شروع کر دیا ہے
  • سپین کی امریکہ کو فوجی اڈے دینے کے دعوے کی تردید: 'جنگ کے متعلق ہمارا موقف تبدیل نہیں ہوا'
  • امریکہ کا 20 سے زائد ایرانی جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
  • امریکی اور اسرائیلی حملوں کا جواب دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا: ایرانی صدر کا خلیجی ممالک کو پیغام

لائیو کوریج

  1. ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ انڈین بندرگاہیں استعمال نہیں کر رہا: انڈیا کی وضاحت

    انڈیا نے ان دعووں کو مسترد کر دیا ہے کہ امریکی بحریہ ایران کے خلاف جنگ میں اس کی بندرگاہیں استعمال کر رہی ہے۔

    انڈین وزارت خارجہ کے فیکٹ چیک اکاؤنٹ پر اس دعوے کو فیک نیوز قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ امریکا کے ایک چینل ’ون امریکہ نیوز نیٹ ورک‘ پر یہ دعویٰ کہ امریکی بحریہ اس کی بندرگاہیں استعمال کر رہی ہے، غلط اور جعلی ہے۔

    انڈین وزارت خارجہ کے فیکٹ چیک اکاؤنٹ نے یہ بھی لکھا کہ ’ہم آپ کو ایسے بے بنیاد اور من گھڑت تبصروں کے بارے میں خبردار کرتے ہیں۔‘

    واضح رہے کہ ’ون امریکہ نیوز نیٹ ورک‘ پر ایک سابق امریکی فوجی عہدیدار اور سابق سیکرٹری دفاع کے مشیر نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی جنگی جہاز ایرانی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے انڈین بحری تنصیبات کو استعمال کر رہے ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  2. دوحہ میں امریکی سفارتخانے کے قریب رہائش پذیر افراد کا انخلا شروع, سمیر ہاشمی، بی بی سی نامہ نگار

    قطر کی وزارت داخلہ کے مطابق اس نے احتیاطی اقدام کے طور پر دوحہ میں امریکی سفارتخانے کے قریب رہنے والے شہریوں کو وہاں سے نکالنا شروع کر دیا ہے۔

    وزارت نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ ضروری حفاظتی اقدامات کے تحت ان کے لیے مناسب رہائش فراہم کی گئی ہے۔

    قطر کی جانب سے یہ اقدام سعودی عرب اور کویت میں امریکی سفارت خانوں اور دبئی میں امریکی قونصل خانے پر رواں ہفتے ڈرون حملوں کے بعد سامنے آیا ہے۔

    اس ہفتے امریکی محکمہ خارجہ نے امریکی شہریوں کو فوری طور پر مشرق وسطیٰ چھوڑنے کا انتباہ جاری کیا تھا یہاں تک کہ خطے سے کئی پروازیں بھی منسوخ یا معطل کر دی گئی تھیں۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ 28 فروری سے اب تک تقریباً 17,500 شہری مشرق وسطیٰ سے واپس اپنے ملک آ چکے ہیں۔

  3. افغانستان اور پاکستان کے درمیان جھڑپیں: ترکی اور روس کی ثالثی کی پیشکش، چینی سفیر کی افغان وزیرِ خارجہ سے ملاقات

    جھڑپیں

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنشام کے وقت گولہ باری اور دھماکوں کے باعث سرحد کے قریب رہنے والوں کے گھروں کو براہِ راست خطرہ لاحق ہے

    افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحدی جھڑپوں کو ایک ہفتہ گزر چکا ہے اور اس دوران دونوں جانب سے شدید جانی و مالی نقصان کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

    بی بی سی پشتو کے مطابق گزشتہ شب بھی مشرقی اور جنوب مشرقی افغانستان کے صوبے ننگرہار اور پکتیا جبکہ جنوبی قندھار اور زابل میں درۂ خیبر لائن کے قریب طالبان اور پاکستانی افواج کے درمیان شدید لڑائی کی اطلاعات موصول ہوئیں۔

    جہاں سرحد کے دونوں اطراف رہنے والوں میں شدید بے یقینی اور خوف دیکھا جا رہا ہے وہیں روس، ترکی اور چین نے دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کی پیشکش بھی کی ہے۔

    یاد رہے کہ پاکستان نے گذشتہ ہفتے میں جمعے کو افغانستان کے دارالحکومت کابل سمیت پاک افغان سرحد کے قریب واقع مرکزی شہروں قندھار اور پکتیا میں فضائی حملے کیے تھے۔

    حکام نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے ان مقامات پر دفاعی اہداف کو نشانہ بنایا تاہم دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والی حالیہ کشیدگی کے دوران پہلی مرتبہ پاکستان نے کابل اور قندھار جیسے بڑے شہروں کو نشانہ بنایا۔

    دوسری جانب پاکستان میں ’جوابی کارروائیوں‘ سے متعلق افغان وزارت دفاع کے بیان میں ڈیورنڈ لائن کے اطراف پاکستانی چوکیوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

    پاکستان اور افغانستان میں طالبان حکومت کی فورسز کے درمیان جھڑپیں جمعرات اور جمعے کی درمیانی رات شروع ہوئی تھیں اور دونوں ممالک کے سرحدی علاقوں میں تاحال کشیدگی پائی جا رہی ہے۔

    افغان وزارتِ دفاع وزارت نے دعویٰ کیا کہ لڑائی کے آغاز سے اب تک متعدد شہری ہلاک ہوئے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

    دوسری جانب پاکستانی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے ان اعداد و شمار کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان انتہائی محتاط رہ کر صرف دہشت گردوں اور ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا ہے اور کسی شہری علاقے کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔‘

    ترک صدر رجب طیب اردوغان نے پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہANADOLU AGENCY

    ،تصویر کا کیپشنترکی نے کابل اور اسلام آباد کے درمیان جنگ بندی کے لیے اپنی کوششیں بڑھانےکی پیشکش کی ہے

    روس کی ثالثی کی پیشکش

    ماسکو میں افغان سفارتخانے کے مطابق روس کے خصوصی نمائندے برائے افغانستان ضمیر کابلوف نے طالبان حکومت کے سفیر گل حسن سے ملاقات میں کہا کہ روس افغانستان اور پاکستان کے درمیان مسائل حل کرنے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

    روس نے ایک بار پھر زور دیا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان جاری تنازع کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔

    ملاقات میں طالبان سفیر نے الزام عائد کیا کہ ’جھوٹی میڈیا رپورٹس افغانستان کی حقیقت سکے برعکس معلومات پھیلا رہی ہیں‘ تاہم انھوں نے اس بارے میں مزید وضاحت نہیں کی۔

    یاد رہے کہ روس واحد ملک ہے جس نے طالبان حکومت کو تسلیم کیا ہے۔

    ترکی کی کابل اور اسلام آباد کے درمیان جنگ بندی کے لیے کوشش کی پیشکش

    دوسری جانب ترک صدر رجب طیب اردوغان نے پاکستانی وزیرِاعظم شہباز شریف سے ٹیلی فون پر گفتگو میں کہا کہ ترکی افغانستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی قائم کرنے میں مدد کے لیے تیار ہے۔

    بی بی سی پشتو کے مطابق ترک وزیر اعظم نے زور دیا کہ سفارت کاری کی طرف واپسی اور جنگ بندی کا دوبارہ آغاز خطے میں تشدد کو کم کرنے اور استحکام قائم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ ترکی اس سے قبل بھی افغانستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کے نفاذ کے لیے ثالث اور سہولت کار کا کردار ادا کر چکا ہے تاہم ترکی، قطر اور سعودی عرب کی کوششوں کے باوجود اب تک دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کو مکمل ختم نہیں کیا جا سکا۔

    چینی سفیر اور امیر متقی کی ملاقات

    ،تصویر کا ذریعہTaliban Government

    چینی سفیر اور امیر متقی کی ملاقات

    طالبان حکومت کی وزارتِ خارجہ کے مطابق کابل میں چین کے سفیر ژاؤ شِنگ نے افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی سے ملاقات کی ہے جس میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان جاری تنازع پر اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے۔

    بیان کے مطابق امیر خان متقی نے زور دیا کہ افغانستان ایسے تعلقات چاہتا ہے جو باہمی احترام، داخلی معاملات میں عدم مداخلت اور اچھے ہمسایہ تعلقات پر مبنی ہوں۔

    چینی سفیر نے موجودہ صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ کچھ بیرونی عناصر خطے کے استحکام اور ترقی کے خلاف کام کر رہے ہیں تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ عناصر کون ہیں یا ان کا مقصد کیا ہے۔

    انھوں نے امید ظاہر کی کہ خطے کے ممالک زیادہ ہم آہنگی اور تعاون کے ذریعے ان منفی اثرات کو روک سکتے ہیں۔

    پاکستانی فوج

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ’بہت مشکل حالات میں روزہ افطار کرتے ہیں‘

    بی بی سی پشتو کے مطابق پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں رہائشیوں نے بتایا ہے کہ شام کے وقت گولہ باری اور دھماکوں کے باعث ان کے گھروں کو براہِ راست خطرہ لاحق ہے۔

    درۂ خیبر لائن کے قریب رہنے والے کئی خاندانوں نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ وہ بھاری گولہ باری اور دھماکوں کے باعث اپنے گھروں کو چھوڑنے پر غور کر رہے ہیں۔

    خیبر پختونخوا کے کچھ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ سرحدی افواج کے درمیان جھڑپیں شام کے وقت شروع ہوتی ہیں، جس سے ان کے گھروں کو براہِ راست خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ یہ جھڑپیں اکثر سورج غروب ہونے کے وقت ہوتی ہیں،جب خاندان رمضان میں روزہ افطار کر رہے ہوتے ہیں۔

    لنڈی کوتل کے رہائشی فرید خان شنواری نے روئٹرز کو بتایا ’دن کے وقت مکمل خاموشی ہوتی ہے، لیکن جیسے ہی ہم افطار کے لیے بیٹھتے ہیں، دونوں جانب سے توپوں کی گولہ باری شروع ہو جاتی ہے۔ ہم بہت مشکل حالات میں روزہ افطار کرتے ہیں کیونکہ کبھی نہیں معلوم ہوتا کہ گولہ کب گھر پر آ گرے گا۔‘

    سرحد کے دوسری جانب بھی اسی طرح کی کہانیاں سامنے آ رہی ہیں، جہاں لڑائی کے باعث خاندان اپنے گھروں سے نکلنے پر مجبور ہیں۔ سینکڑوں افراد صحرائی علاقوں میں خیموں کے نیچے مقیم ہیں جبکہ بعض کے پاس کوئی پناہ گاہ نہیں ہے۔

    اقوامِ متحدہ کے ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق تقریباً 20 ہزار خاندان اپنے گھروں سے بے دخل ہو گئے ہیں جبکہ خوراک کی ہنگامی تقسیم معطل ہونے سے ایک لاکھ ساٹھ ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں۔

  4. ایران نے اسرائیل پر میزائل داغ دیے: اسرائیلی فوج

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ایران نے جمعرات کی صبح متعدد میزائل اسرائیل کی جانب داغے ہیں۔

    اے ایف پی کے مطابق اسرائیل کی ایمرجنسی سروس نے بتایا ہے کہ ان میزائلوں سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    اے ایف پی کے صحافیوں نے اس سے قبل یروشلم میں دھماکوں کی آوازیں سنی تھیں۔

  5. امریکہ اور کرد گروہوں کے درمیان بات چیت کی بازگشت: ایران، عراق، شام اور ترکی میں بسنے والی اس قوم کی تاریخ کیا ہے؟

    کرد

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    متعدد بین الاقوامی میڈیا اداروں نے حالیہ کشیدگی کے دوران یہ خبر دی ہے کہ امریکہ نے ایران جنگ کے تناظر میں عراق کے کردستان خطے کے بااثر افراد اور مختلف کرد گروہوں سے بات چیت کی ہے۔

    یہ رپورٹس حالیہ دنوں میں امریکہ کی جانب سے ایران میں زمینی افواج بھیجنے کے امکان کے بارے میں ہونے والی بحث کے درمیان شائع ہوئی ہیں۔

    ایک ایسا موضوع جسے امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے ’احمقانہ‘ قرار دیا لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس امکان کو یکسر مسترد نہیں کیا۔

    صدر ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ انھیں زمینی دستے بھیجنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں۔ ’میں دوسرے صدور کی طرح یہ نہیں کہہ رہا کہ کوئی زمینی فوج نہیں بھیجی جائے گی لیکن اگر ضرورت پڑی تو انھیں استعمال کیا جا سکتا ہے۔‘

    وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے ایک پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ ’صدر نے مشرق وسطیٰ میں شراکت داروں، اتحادیوں اور علاقائی رہنماؤں سے متعدد ملاقاتیں کی ہیں۔ انھوں نے شمالی عراق میں ہمارے پاس موجود اڈے کے بارے میں کرد رہنماؤں سے بھی بات کی لیکن کوئی بھی ایسی رپورٹ کہ صدر نے کسی منصوبے پر اتفاق کیا، مکمل طور پر غلط ہے۔‘

    دوسری جانب خبر رساں ادارے روئٹرز نے تین ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ایرانی کرد مسلح گروپ حالیہ دنوں میں امریکہ کے ساتھ اس بات پر بات چیت کر رہے ہیں کہ آیا عراقی کردستان سے ایران پر حملہ کرنے کے لیے زمینی کارروائی کی منصوبہ بندی کی جا سکتی ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایرانی سرحدی پٹی اور عراقی کردستان کے علاقے میں موجود ایران کے مخالف کرد گروپوں کے اتحاد نے اس بات پر زور دیا ہے کہ انھیں اس طرح کے حملے کے لیے ’امریکی فوج اور انٹیلیجنس مدد‘ کی ضرورت ہے جبکہ ’ہتھیاروں کی فراہمی اور سی آئی اے کے کردار‘ جیسے آپشنز پر بھی بات چیت کی گئی۔

    ایران کی مخالفت کرنے والی کرد جماعتوں کے ایک رہنما نے بی بی سی عربی کے نامہ نگار فراس کلیانی کو بتایا کہ ان کی پارٹی عراقی کردستان سے اپنی افواج کو ’مناسب وقت پر‘ ایران منتقل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

    اسرائیلی صحافی بارک راوید نے میں آکسیوکس میں رپورٹ کیا کہ ’ڈونلڈ ٹرمپ نے عراق میں دو اہم کرد رہنماؤں مسعود بارزانی (کردستان ڈیموکریٹک پارٹی) اور بفیل طالبانی (جلال طالبانی کے بیٹے اور کردستان یونین کے رہنما) سے فون پر بات کی۔

    باخبر ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے آکسیوکس نے لکھا کہ یہ رابطے کردوں کے ساتھ مزید ہم آہنگی پیدا کرنے اور جنگ کی پیشرفت کے دوران ان کے ممکنہ کردار کا جائزہ لینے کی کوششوں کے طور پر کیے گئے تھے۔

    آکسیوکس نے یہ اطلاع بھی دی کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو حالیہ مہینوں میں کردوں کے ساتھ واشنگٹن کے تعلقات مضبوط بنانے کے خیال کی حمایت کرتے ہیں۔

    اسی دوران امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے کئی موجودہ اور سابق امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ میں اس بات پر بات چیت جاری ہے کہ آیا امریکی سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی (سی آئی اے) کو ایران کے مخالف کچھ کرد گروہوں کو مسلح کرنے کے لیے مداخلت کرنی چاہیے۔

    سی این این کے ذرائع کے مطابق یہ منصوبہ ابھی زیر غور ہے اور امریکی حکومت کے اندر اس حوالے سے کوئی اتفاق رائے نہیں۔

    کُرد: شام، ترکی، عراق اور ایران میں بسنے والی اس قوم کی تاریخ کیا ہے؟

    ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ بابل و نینوا کے میدانوں میں اور پہاڑوں پر رہنے والے قدیم ترین لوگ ہیں۔ یہ علاقے اب جنوبی ترکی، شمال مشرقی شام، شمالی عراق، شمال مغربی ایران اور جنوب مغربی آرمینیا کہلاتے ہیں۔

    لیکن کردوں کی سب سے زیادہ تعداد ایران، عراق اور ترکی کے متصل علاقوں میں رہتی ہے اور اس کے بعد کردوں کی بڑی تعداد شام کے شمال مشرقی علاقے میں آباد ہے اور ان علاقوں کو عموماً کردستان کہا جاتا ہے۔

    کردستان کے ہر ملک میں اس کے اپنے منفرد معنی ہیں۔ ایران میں کرد علاقوں پر مشتمل ایک صوبے کا نام ہی کردستان ہے، جبکہ عراق میں کردوں کے علاقے کو کرد خود مختار خطہ (کردستان ریجنل گورنمنٹ) کہا جاتا ہے لیکن آئینی لحاظ سے یہ عراق کا ایک صوبہ ہے۔

    انسائیکلو پیڈیا بریٹینیکا کے مطابق اس کے علاوہ کردوں کی ایک اچھی خاصی تعداد ایران کے شمال مشرقی صوبے خُراسان میں بھی آباد ہے۔

    عراق کے کردوں پر صدام حسین کے دور میں بد ترین مظالم ڈھائے گئے۔ صدام حسین پر کردوں کی نسل کُشی کرنے کے الزامات عائد کیے گئے۔ اسی دورِ حکومت میں کردوں پر 80 کی دہائی میں کیمیائی ہتھیار بھی پھینکے گئی جس سے ہزاروں کرد شہری ہلاک ہوئے۔

    اور جب ایران کے شمال مغرب کے سرحدی علاقوں میں رہنے والے کردوں نے سنہ 1946 میں ایک آزاد کردستان بنانے کی کوشش کی تو انھیں اس وقت کی ایرانی حکومت نے سختی سے کچل دیا۔

  6. پینٹاگون نے کویت حملے میں ہلاک ہونے والے مزید دو فوجیوں کی شناخت بھی ظاہر کر دی

    امریکی فوجی

    ،تصویر کا ذریعہUS Army Reserve Command

    ،تصویر کا کیپشنمیجر جیفری او برائن سنہ 2012 میں امریکی فوج میں بھرتی ہوئے تھے

    امریکی فوج نے ایران کے ساتھ جاری جنگ میں ہلاک ہونے والے مزید دو امریکی فوجیوں کی شناخت بھی ظاہر کر دی ہے۔

    امریکی فوج کے مطابق کویت میں ایک فوجی تنصیب پر اتوار کو ایرانی حملے میں چھ فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

    امریکی فوج کے مطابق ایران کے ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے پانچویں فوجی کا نام میجر جیفری او برائن تھا جو سنہ 2012 میں امریکی فوج میں بھرتی ہوئے۔ وہ ڈیلاس کاؤنٹی آئیووا کے رہائشی تھے تاہم سنہ 2019 میں ان کی کویت میں تعیناتی ہوئی تھی۔

    دوسری جانب پینٹاگون نے ابھی اعلان کیا ہے کہ خیال کیا جا رہا ہے کہ کویت پر حملے میں مارے جانے والے چھٹے فوجی 54 سالہ رابرٹ ایم مرزان تھے، جن کا تعلق امریکی ریاست کیلیفورنیا سے تھا۔ رابرٹ ایم مرزان کی تصویر ابھی تک جاری نہیں کی گئی۔

    واضح رہے کہ امریکہ نے منگل کے روز ایران کے ساتھ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ہلاک ہونے والے چار امریکی فوجیوں کی شناخت ظاہر کی تھی، یہ فوجی امریکی آرمی ریزرو کے 103ویں سسٹینمنٹ کمانڈ (ڈیس موئنز، آئیووا) سے تعلق رکھتے تھے۔

    ان میں 35 برس کے کیپٹن کوڈی اے خورک تھے جن کا تعلق ونٹر ہیون فلوریڈا سے تعلق تھا۔ 42 برس کے سارجنٹ فرسٹ کلاس نوح ایل ٹیٹجینز کا تعلق بیلویو، نیبراسکا سے تھا۔ 39 برس کے سارجنٹ فرسٹ کلاس نکول ایم امور وائٹ بیئر لیک، منی سوٹا کے رہائشی تھے۔ 20 برس کے سارجنٹ ڈیکلن جے کوڈی ویسٹ ڈیس موئنز، آئیووا سے تعلق رکھتے تھے۔

    امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے پیر کو کہا تھا کہ کویت میں ایک امریکی بنکر کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب ایران کا جوابی حملہ فضائی دفاعی نظام سے بچ نکلا۔

    امریکی فوج کے مطابق ایران کے خلاف اسرائیل کے ساتھ مل کر کارروائی شروع کرنے کے بعد اب تک صرف یہی چھ ہلاکتیں باضابطہ طور پر تصدیق شدہ ہیں۔

  7. کویت کے ساحل پر آئل ٹینکر میں دھماکہ

    برطانوی میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کا کہنا ہے کہ کویت کے ساحل کے قریب ایک ٹینکر میں ’بڑا دھماکہ‘ ہوا، جس سے تیل پھیل گیا ہے۔

    میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کے مطابق اس دھماکے کے بعد کارگو ٹینک سے نکلنے والا تیل پانی میں موجود ہے، جس کے ماحولیاتی اثرات ہو سکتے ہیں، آگ لگنے کی کوئی اطلاع نہیں جبکہ عملہ محفوظ ہے۔‘

  8. ایران پر حملہ: امریکی سینیٹ میں کانگریس سے منظوری لینے کی قرارداد مسترد

    امریکی سینیٹ

    ،تصویر کا ذریعہUS Senate

    امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹ ارکان کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران میں فوجی کارروائیوں کا حکم دینے کی طاقت پر قدغن لگانے کی کوشش ناکام ہو گئی ہے۔

    امریکی سینیٹ میں کانگریس سے منظوری لینے کی قرارداد مسترد کر دی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ اگر یہ قرارداد کامیاب ہو جاتی تو امریکی افواج کو اس وقت تک اس تنازع سے دور رہنا پڑتا جب تک امریکی کانگریس اس آپریشن کی منظوری نہیں دے دیتی۔

    سینیٹرز کی اکثریت نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی حمایت کی۔ 100 رکنی سینیٹ میں قرارداد 47 کے مقابلے میں 53 ووٹوں سے مسترد کی گئی۔

    ڈیموکریٹ ارکان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے کانگریس کو نظر انداز کیا اور اور جنگ شروع کرنے کی کوئی ٹھوس وجہ نہیں بتائی۔

  9. یوکرین کی خلیجی ممالک کو ایرانی ڈرونز کے خلاف دفاع میں مدد کی پیشکش

    زیلنسکی

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ یوکرین اپنے ماہرین کو خلیجی ممالک میں تعینات کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے تاکہ اتحادیوں کو ایرانی ڈرونز اور میزائلوں کے خلاف دفاع میں مدد فراہم کی جا سکے۔

    زیلنسکی کا کہنا ہے کہ انھوں نے گذشتہ دو روز میں متحدہ عرب امارات، قطر، اردن اور بحرین کے ہم منصبوں سے بات کی ہے۔

    یوکرینی صدر کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے وزرا اور کمانڈروں کے ساتھ مشرق وسطیٰ کے تنازع پر مشاورت کے بعد انھیں یوکرین کے دفاع پر سمجھوتہ کیے بغیر اتحادیوں کی مدد کے لیے آپشن تیار کرنے کا کہا ہے۔

    ایکس پر جاری ایک بیان میں صدر زیلنسکی نے کہا: ’یوکرین زندگیوں کے تحفظ اور حالات کو مستحکم کرنے میں مدد کر سکتا ہے...‘

  10. سعودی عرب کا تین کروز میزائل مار گرانے کا دعویٰ

    سعودی عرب کے حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے تین کروز میزائل مار گرائے ہیں۔

    سعودی عرب کی وزارت دفاع کی جانب سے جمعرات کے روز علی الصبح جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’تین کروز میزائلوں کو الخرج شہر کے باہر گرا کر تباہ کر کیا گیا ہے۔‘

    اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ترجمان نے بتایا تھا کہ روبیو نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود سے فون پر بات کی ہے۔

    ترجمان ٹومی پگوٹ کے مطابق، ’سیکریٹری نے ریاض میں امریکی سفارت خانے پر حملے پر سعودی عرب کے ردعمل پر وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کیا۔‘

    ترجمان کا کہنا ہے کہ گفتگو کے دوران، روبیو اور سعودی وزیر خارجہ نے ’ایرانی حکومت کی جانب سے علاقائی استحکام کو لاحق خطرات کے ساتھ ساتھ خطے میں ہونے والی دیگر پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔‘

  11. قطر کا تہران سے حملے روکنے کا مطالبہ: ’ایران اپنے پڑوسیوں کو ایسی جنگ میں گھسیٹ رہا ہے جس سے ان کا تعلق نہیں‘

    قطر ایران

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے اور تہران کی جانب سے جوابی کارروائیوں کے آغاز کے بعد قطر کے وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے پہلی مرتبہ اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کو فون کیا ہے۔

    28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے آغاز کے بعد، ایران نے اپنے پڑوسی عرب ممالک پر سینکڑوں میزائل اور ڈرون فائر کیے ہیں جس پر عرب ممالک تہران سے کافی ناراض ہیں۔

    ایران نے اب تک متحدہ عرب امارات، قطر اور عمان سمیت خلیجی ریاستوں میں امریکی فوجی اڈوں اور شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچوں کو نشانہ بنایا ہے۔

    قطری وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، الثانی نے عراقچی کے اس دعوے کو ’صاف الفاظ میں مسترد‘ کیا کہ حالیہ دنوں میں ایران کی جانب سے ہونے والے حملوں کا نشانہ امریکی مفادات تھے نہ کہ قطر کی ریاست۔

    انھوں نے الزام لگایا کہ ایران ’اپنے پڑوسیوں کو نقصان پہنچا رہا ہے اور انھیں ایک ایسی جنگ میں گھسیٹنے کی کوشش کر رہا ہے جس سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے‘۔

    قطری وزیرِ خارجہ نے ایران سے حملے ’فوری طور پر روکنے‘ کا مطالبہ کیا ہے۔

    بدھ کے روز ایکس پر جاری اپنے ایک پیغام میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ہمسایہ خلیجی ممالک سے کہا تھا کہ ایران کے پاس امریکی اور اسرائیلی حملوں کا جواب دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔

  12. تہران پر ’حملوں کا ایک نیا سلسلہ‘ شروع کر دیا ہے، اسرائیلی فوج

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ایرانی دارالحکومت تہران پر حملوں کا ایک اور سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

    اسرائیل کی دفاعی افواج کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’آئی ڈی ایف نے پورے تہران میں ایرانی حکومت سے تعلق رکھنے والے فوجی انفراسٹرکچر کو نشانہ بناتے ہوئے حملوں کی ایک نئی لہر کا آغاز کر دیا ہے۔‘

    ان حملوں کے اہداف کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، اس کے صحافیوں نے بدھ کی رات دارالحکومت میں ایک زور دار دھماکے کی آواز سنی ہے۔

    اس سے قبل، اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ اس کی فضائیہ نے مشرقی تہران کے ایک کمپاؤنڈ پر ’وسیع پیمانے پر حملہ‘ مکمل کر لیا ہے جس میں کمانڈ سینٹرز اور داخلی سکیورٹی اہلکار موجود تھے۔

  13. سپین کی امریکہ کو فوجی اڈے دینے کے دعوے کی تردید: ’جنگ کے متعلق ہمارا موقف تبدیل نہیں ہوا‘

    سپین

    ،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock

    سپین کے وزیر خارجہ ہوزے مینوئل الباریز کا کہنا ہے کہ ایران جنگ کے متعلق ان کی حکومت کے موقف میں کوئی تبدیل نہیں آئی ہے۔

    اس سے قبل وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے واشنگٹن میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ سپین نے امریکی فوج کے ساتھ تعاون پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔

    ید رہے کہ سپین نے امریکہ کو ایران کے خلاف جاری حملوں کے لیے اپنا فوجی اڈہ استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد گذشتہ صدر ٹرمپ نے سپین کے ساتھ تمام تجارت کو روکنے کی دھمکی دی تھی۔

    الباریز نے ایک ہسپانوی ریڈیو چینل کو بتایا: ’مشرق وسطی میں جنگ، ایران پر بمباری اور ہمارے اڈوں کے استعمال کے متعلق ہسپانوی حکومت کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا ہے کہ ہمارا 'جنگ کی مخالفت' کا موقف واضح اور دوٹوک ہے۔

  14. امریکہ اور اسرائیل نے بڑی حد تک ایران کی فوجی صلاحیتیں تباہ کر دی ہیں, پال ایڈیمز، سفارتی نامہ نگار

    امریکی طیارہ

    ،تصویر کا ذریعہU.S. Navy via Getty Images

    اسرائیل اور امریکہ کے حملے کے بعد ایران کے جانب سے شدید ابتدائی ردعمل نے بہت سے سوالات کھڑے کر دیے تھے۔

    کیا امریکہ کے اتحادی اپنا دفاع جاری رکھ سکیں گے؟ کیا ان کے مہنگے فضائی دفاع نظام سستے ڈرونز کے پے در پے حملوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟

    تاہم اب بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ خدشات کم ہو گئے ہیں۔

    امریکیوں کا کہنا ہے کہ سنیچر کے روز کے مقابلے میں ایران کی جانب سے داغے جانے والے بیلسٹک میزائلوں کی تعداد میں 86 فیصد کمی آئی ہے جبکہ ڈرون حملوں کی تعداد میں 73 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

    امریکہ اور اسرائیل نے ایران کی بہت سی صلاحیتوں کو تباہ کر دیا ہے، حالانکہ مغربی حکام تسلیم کرتے ہیں کہ یہ عین ممکن ہے کہ پاسدارانِ انقلاب نے طویل عرصے تک لڑائی جاری رکھنے کے لیے کچھ ہتھیار سنبھال کر رکھے ہوں۔

    فضا میں بالادستی حاصل کرنے کے بعد، اسرائیلی اور امریکی جیٹ طیارے اب ایرانی حدود میں بلا کسی روک ٹوک کے پرواز کرنے کے لیے آزاد ہیں۔

    اس کا مطلب ہے کہ اب انھیں محفوظ فاصلے سے فائر کیے گئے انتہائی مہنگے میزائل کی ضرورت نہیں رہی اور وہ اب سستے جی پی ایس گائیڈڈ بموں کے اپنے وسیع ذخیرے کو استعمال کر سکتے ہیں۔

  15. ٹرمپ کی تنقید کے بعد سپین امریکی فوج کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے: وائٹ ہاؤس

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ سپین نے اب امریکی فوج کے ساتھ تعاون پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔

    یاد رہے کہ سپین نے امریکہ کو ایران کے خلاف جاری حملوں کے لیے اپنا فوجی اڈہ استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بعد گذشتہ صدر ٹرمپ نے سپین کے ساتھ تمام تجارت کو روکنے کی دھمکی دی تھی۔

    تاہم اب لیویٹ کا کہنا ہے کہ سپین کو ٹرمپ کا واضح پیغام مل چکا ہے۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ امریکی صدر کو توقع ہے کہ تمام یورپی اتحادی اس آپریشن میں تعاون کریں گے۔

  16. ایرانی رہنماؤں کو امریکہ کے خلاف اپنے جرائم کی قیمت خون سے ادا کرنی پڑ رہی ہے: وائٹ ہاؤس

    کیرولین لیویٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران نے خود اس پرتشدد راستے کا انتخاب کیا ہے اور وہ اس کے نتائج بھگت رہے ہیں۔

    بدھ کے روز وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے واشنگٹن ڈی سی میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ایرانی رہنماؤں کو امریکہ کے خلاف اپنے ’جرائم کی قیمت خون سے ادا کرنی پڑ رہی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ماضی کے امریکی صدور ایران کے خلاف بہت کمزور تھے لیکن ڈونلڈ ٹرمپ ’مین آف ایکشن‘ ہیں۔

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کا کہنا ہے کہ ایران میں امریکی کارروائیوں کا مقصد تہران کے ’جوہری عزائم کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا‘ ہے۔

    لیویٹ کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ امن اور سفارت کاری کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ ایران نے ’تشدد اور تباہی کا یہ راستہ چنا اور وہ اس کے نتائج بھگت رہے ہیں۔‘

  17. عراق میں بجلی کا مکمل بریک ڈاؤن، امریکی سفارتخانے کی اپنے شہریوں کو ملک سے نکل جانے کی ہدایت

    عراق کی وزارت بجلی کا کہنا ہے کہ پورا ملک بجلی کی مکمل بندش سے متاثر ہے۔

    عراقی نیوز ایجنسی (آئی این اے) کے مطابق، وزارت کا کہنا ہے کہ ملک کے ’تمام صوبوں میں پاور گرڈ مکمل طور پر بند ہو گئے ہیں۔‘

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، وزارت بجلی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بلیک آؤٹ کی وجہ جاننے کے لیے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

    دوسری جانب، بغداد میں واقع امریکی سفارت خانے نے عراق میں موجود تمام امریکی شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ جتنی جلدی محفوظ طریقے سے عراق سے نکل سکیں، نکل جائیں۔

    سفارتخانے کا کہنا ہے کہ جب تک حالات ’روانگی کے لیے محفوظ نہ ہوں‘ اس وقت تک وہ کسی محفوظ جگہ پناہ لے لیں۔

  18. تہران میں امریکی اور اسرائیلی حملوں میں پاسداران انقلاب کے ہیڈکوارٹر سمیت متعدد عمارتوں کو شدید نقصان، نئی سیٹلائیٹ تصاویر جاری, بی بی سی ویریفائی

    پاسدارانِ انقلاب
    ،تصویر کا کیپشنپاسدارانِ انقلاب کے ہیڈکوارٹر کی 27 فروری کو لی گئی تصویر۔

    بی بی سی ویریفائی نے تہران کی سیٹلائٹ تصویروں کا جائزہ لیا ہے جس میں ایرانی دارالحکومت میں اہم عمارتوں کو بڑے پیمانے پر پہنچنے والے نقصانات کو دیکھا جا سکتا ہے۔

    یہ تصاویر انٹیلیجنس فرم وینٹر نے لی ہیں۔ ان تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سرکاری تنصیبات جیسے کہ وزارتِ انٹیلیجنس اور صدارتی کمپلیکس پر حملے کیے گئے ہیں، اور ان عمارتوں سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دے رہے ہیں۔

    شہر کے شمال میں واقع پاسداران انقلاب کے ہیڈکوارٹر کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے جہاں کئی عمارتیں یا تو تباہ ہو گئی ہیں یا انھیں نقصان پہنچا ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب کے ہیڈکوارٹر
    ،تصویر کا کیپشنپاسدارانِ انقلاب کے ہیڈکوارٹر کی 3 مارچ کو لی گئی تصویر۔

    حکومتی اور فوجی مقامات کے ساتھ ساتھ، تصویروں میں شمالی تہران میں گاندھی ہسپتال کے آس پاس ہونے والے نقصانات کو بھی دکھایا گیا ہے، جہاں ایک گڑھا دکھائی دے رہا ہے جبکہ ایک بڑا ٹرانسمیشن ٹاور بھی گرا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔

    سوموار کے روز ہم نے اس ویڈیو کی تصدیق کی تھی جس میں ہسپتال سے بچوں کو بظاہر نکالتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ عمارت کے سامنے کے حصے کو کافی نقصان پہنچا ہے۔

    تہران کا گاندھی ہسپتال
    ،تصویر کا کیپشنتہران کا گاندھی ہسپتال
  19. ایران نے اسرائیل کی جانب مزید میزائل داغے ہیں، اسرائیلی فوج

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ایران کی طرف سے اسرائیل پر مزید میزائل داغے جانے کا پتہ لگایا ہے۔

    اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جن لوگوں کو پناہ گاہوں میں جانے کی ہدایات موصول ہوں، وہ اس پر عمل کریں اور اور جب تک کہ انھیں اجات نہ دی جائے، باہر نہ نکلیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دفاعی نظام میزائلوں کو روکنے کے لیے فعال ہیں۔

  20. لبنانی وزارتِ صحت کی اب تک اسرائیلی حملوں میں 72 افراد کی ہلاکت کی تصدیق

    لبنان

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    لبنان کی وزارت صحت کی جانب سے جاری تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق، سوموار سے اب تک لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 72 ہو گئی ہے، جبکہ 437 زخمی ہوئے ہیں۔

    دارالحکومت بیروت میں آج اسرائیلی فضائی حملوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں، جبکہ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں رہنے والوں سے فوری طور پر اپنے گھر چھوڑ کر شمال کی جانب نقل مکانی کا کہا ہے۔

    تازہ ترین کشیدگی اس وقت سامنے آئی جب حزب اللہ نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں اور اس کے نتیجے میں ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے جواب میں اسرائیل پر راکٹ اور ڈرون داغے۔

    اسرائیلی فوج نے اس کے بعد سے لبنان پر فضائی حملے شروع کر دیے ہیں اور لبنان کے جنوب میں فوج داخل کردی ہے، جس سے دسیوں ہزار لبنانی شہری نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔