یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے
سات مارچ کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ ’غیر مشروط سرینڈر‘ کے سوا کوئی ڈیل نہیں ہوگی جبکہ ’ایک قابل قبول رہنما کے انتخاب کے بعد ہم اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایران کو تباہی کے دہانے سے واپس لائیں گے۔‘ ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے روس کی حمایت پر پوتن کا شکریہ ادا کیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے جاری ہیں جبکہ اسرائیل نے ایران کی جانب سے میزائل داغے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔
سات مارچ کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
سی بی ایس نیوز کے پروگرام 60 منٹس کے دوران امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ سے پوچھا گیا کہ آیا روس ایران کو خطے میں امریکی فوجی پوزیشنز کے بارے میں آگاہ کر رہا ہے۔
ہیگستھ کا جواب تھا کہ امریکہ ’ہر چیز کو ٹریک کر رہا ہے‘ اور اپنے جنگی منصوبوں میں ہر چیز کو مدنظر رکھے ہوئے ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’امریکی عوام کو تسلی ہونی چاہیے کہ ان کے کمانڈر اِن چیف کو ہر چیز کا علم ہے کہ کون کس سے بات کر رہا ہے۔‘
’جو چیز نہیں ہونی چاہیے، چاہے عوامی سطح پر یا بیک چینل کے ذریعے، اس پر پوچھا جاتا ہے اور سختی سے پوچھا جاتا ہے۔‘
ہیگسیتھ نے مزید کہا کہ ’ہم کچھ لوگوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں اور یہی ہمارا کام ہے۔ اس لیے ہمیں اس کی کوئی فکر نہیں ہے۔۔۔ لیکن اس وقت صرف وہ ایرانی پریشان ہوں جنھیں لگتا ہے کہ وہ زندہ رہیں گے۔‘
آج اس سے پہلے ایک سینئر امریکی اہلکار نے سی بی ایس نیوز کو بتایا تھا کہ روس خطے میں امریکی تنصیبات کے بارے میں ایران کو خفیہ معلومات فراہم کر رہا ہے۔
کریملن کا کہنا ہے کہ صدر ولادیمیر پوتن نے ایرانی صدر سے بات کر کے تعزیت کی اور روس کے اس مؤقف کا اظہار کیا کہ لڑائی کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔
پوتن کے دفتر کے مطابق دونوں رہنماؤں نے رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock
امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ اس نے ایران میں 3000 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
سینٹ کام نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر جاری بیان میں بتایا کہ ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے دوران 43 بحری جہازوں کو تباہ کیا گیا یا انھیں نقصان پہنچایا گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ حملوں میں ان مقامات کو ترجیح دی جا رہی ہے ’جو فوری خطرہ پیدا کرتے ہیں۔ ‘ مقصد یہ ہے کہ ’ایرانی حکومت کے سکیورٹی ڈھانچے کو ختم کیا جائے۔‘
بی بی سی ویریفائی کی جانب سے سیٹلائٹ تصاویر اور ویڈیوز کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ ایرانی سکول، ہسپتال اور دیگر اہم شہری مقامات بھی امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کی زد میں آئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
وہائٹ ہاؤس میں کالج سپورٹس سے متعلق ایک اجلاس کے دوران جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران میں جاری کارروائیوں پر سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ امریکی فوج ایران کی عسکری قوت کو تباہ کرنے میں ’غیر معمولی‘ کارکردگی دکھا رہی ہے۔
انھوں نے صحافیوں سے کہا کہ ’ان کی فوج ختم ہو گئی ہے۔‘
’ان کی بحریہ ختم ہو گئی ہے۔ ان کا مواصلاتی نظام ختم ہو چکا ہے۔ ان کی دو قیادتیں ختم ہو چکی ہیں، اب وہ اپنی تیسری قیادت پر آ گئے ہیں۔ ان کی فضائیہ مکمل طور پر مٹ چکی ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ان کے پاس 32 بحری جہاز تھے۔ تمام 32 سمندر کی تہہ میں ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر امیرسعید ایروانی کا کہنا ہے کہ سنیچر سے اب تک امریکی و اسرائیلی حملوں میں 1332 شہری ہلاک ہوئے ہیں۔
نیو یارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ اعداد و شمار ایرانی ہلال احمر کے ہیں اور ان میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’ہزاروں افراد زخمی ہوئے ہیں اور یہ نمبر بڑھ رہا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ جان بوجھ کر سکول، ہسپتال اور شہری انفراسٹرکچر تباہ کیا گیا ہے۔
امریکہ نے شہری انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے کے الزامات کی تردید کی ہے مگر اس کا کہنا ہے کہ ایران میں ایک سکول پر بمباری سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔ اسرائیل نے ایران پر اپنے شہریوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا ہے۔
بی بی سی فارسی کو اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ ایرانی دارالحکومت تہران میں دوبارہ دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔
ٹیلیگرام پر جاری ایک پیغام میں اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ وہ ’تہران میں ایرانی دہشتگرد حکومت کے ڈھانچے کے خلاف وسیع پیمانے پر حملوں کا آغاز کر چکی ہے۔‘
اس سے قبل تہران میں موجود ایک نوجوان خاتون نے ہمیں بتایا کہ ’تقریباً ہر روز ہر چند گھنٹوں بعد دوبارہ حملے ہوتے ہیں۔‘
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ایران سے اسرائیل کی جانب میزائلوں کی ایک نئی لہر داغی گئی ہے۔
ٹیلیگرام پر اپنے بیان میں آئی ڈی ایف نے کہا ہے کہ ’دفاعی نظام خطرے کو روکنے کے لیے فعال ہے‘ اور متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں کے لیے ’احتیاطی ہدایات‘ جاری کی گئی ہیں۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ نے یورپی ممالک کو متنبہ کیا ہے کہ جنگ میں شریک ہونے پر وہ جائز اہداف بن سکتے ہیں۔
فرانس 24 سے بات کرتے ہوئے ماجد تخت روانچی نے کہا کہ ’اگر کوئی ملک امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جارحیت میں شریک ہوا تو وہ ایرانی جوابی کارروائی میں جائز ہدف بن جائے گا۔‘
انھوں نے کہا کہ ایرانی حکام ’اچھی نیت کے ساتھ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
روسی صدر کے دفتر کے مطابق ولادیمیر پوتن نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے فون پر بات کی ہے۔
کریملن کا کہنا ہے کہ گفتگو کے دوران پوتن نے ایران کے رہبر اعلیٰ، دیگر سرکاری اہلکاروں اور ملک کے مختلف حصوں میں ہلاک ہونے والے شہریوں کی ہلاکت پر افسوس ظاہر کیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ پوتن نے اس موقف کا اعادہ کیا کہ ’جنگ فوراً بند ہونی چاہیے‘ اور ’سفارتی حل تلاش کرنا ہوگا۔‘
صدر پزشکیان نے روس کی حمایت پر اظہارِ تشکر کیا اور ایران کی تازہ ترین پیش رفت سے متعلق تفصیلی بریفنگ بھی فراہم کی۔
کریملن کے مطابق دونوں ممالک نے آپس میں مسلسل رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
امریکی اسلحہ ساز کمپنیوں کے ساتھ ایک اجلاس کے بعد ٹرمپ کا کہنا کہ ’عمدہ‘ ہتھیاروں کی پیداوار بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے۔
انھوں نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ’ہمارے پاس درمیانے اور اعلیٰ درجے کے ہتھیاروں کی لامحدود سپلائی ہے جو کہ ہم مثلاً ایران میں استعمال کر رہے ہیں اور حال ہی میں ہم نے وینزویلا میں بھی ان کا استعمال کیا ہے۔‘
’تاہم اب ہم نے اس سطح پر آرڈرز بڑھا دیے ہیں۔‘
ٹرمپ نے اس سے قبل بھی دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ کے پاس ہتھیاروں کی ’لامحدود سپلائی‘ ہے۔
سابق امریکی میرین کرنل اور دفاعی امور کے ماہر مارک کینسین کا کہنا ہے کہ امریکہ اس رفتار کے ساتھ نچلی سطح پر لڑائی ’ہمیشہ کے لیے‘ جاری رکھ سکتا ہے۔
لیکن جنگ کے طویل ہونے سے اہداف کم ہو جاتے ہیں، یعنی مہم کی رفتار میں کمی آتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAURELIEN MORISSARD/POOL/EPA/Shutterstock
فرانس کے صدر ایمانوئل میکخواں نے لبنان میں اقوامِ متحدہ کی تنصیبات پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کی ہے۔
گھانا کی مسلح افواج کے مطابق اس حملے میں جنوبی لبنان میں اقوامِ متحدہ کے امن مشن کا حصہ گھانا کے دو فوجی شدید زخمی ہوئے ہیں۔
میکخواں کا کہنا تھا کہ ’لبنان میں اقوامِ متحدہ کی فورس جنوبی لبنان میں ایک استحکام کا اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ میں آج اس کے اہلکاروں کو نشانہ بنانے والے اس ناقابلِ قبول حملے کی سخت مذمت کرتا ہوں۔‘
فرانسیسی صدر نے شامی اور لبنانی صدور سے بات چیت کے بعد دونوں ممالک کی ’خودمختاری اور علاقائی سالمیت‘ کے احترام پر بھی زور دیا۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’عدم استحکام میں دہشت گردی کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ فرانس اس بات کو یقینی بنائے گا۔‘
لبنان کے صدر نے اپنے اتحادیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی حملوں کو روکنے کے لیے فوری مدد فراہم کریں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دہائیوں سے اسرائیل میں ایران کو ایک خطرے کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔ جہاں تک ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا سوال ہے تو اسرائیلی یہودیوں میں اس بارے میں تقریباً اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے۔
ملک بھر میں اب بھی ایئر ریڈ سائرن بجتے ہیں، جن کے باعث لوگوں کو پناہ گاہوں کی طرف جانا پڑتا ہے۔ تاہم ایرانی جوابی حملوں کی شدت میں واضح کمی آئی ہے اور زیادہ تر میزائلوں کو اسرائیلی فضائی دفاعی نظام راستے میں ہی تباہ کر دیتا ہے۔
اسی صورتحال کے تناظر میں اب ایمرجنسی پابندیوں میں نرمی کر دی گئی ہے۔
تل ابیب میں گلیاں اور دکانیں خاصی مصروف دکھائی دیتی ہیں۔ یہ ایران اور لبنان کی صورتحال سے بالکل الگ ہے۔
ملک کے اندر مخالفین کی طرف سے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے جنگ کے فیصلے پر بہت کم تنقید کی جا رہی ہے۔
اسی طرح اس بارے میں بھی کوئی بڑی بحث نظر نہیں آ رہی کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔
ذرائع نے بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس نیوز کو بتایا ہے کہ روس ایران کو امریکہ کے فوجی مقامات سے متعلق انٹیلیجنس معلومات فراہم کر رہا ہے۔
رپورٹ میں اس معاملے سے واقف تین نامعلوم ذرائع کا حوالہ دیا گیا ہے، جن میں ایک سینیئر امریکی عہدیدار بھی شامل ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اسے اس معاملے کی براہِ راست معلومات ہیں۔
اس سے قبل اخبار واشنگٹن پوسٹ نے بھی سب سے پہلے یہ رپورٹ کیا تھا کہ روس امریکہ کی پوزیشنز سے متعلق ایران کو خفیہ معلومات دے رہا ہے۔ اس رپورٹ میں بھی تین نامعلوم حکومتی اہلکاروں کا حوالہ شامل تھا۔
روسی سرکاری میڈیا نے اس سے پہلے رپورٹ کیا تھا کہ صدر ولادیمیر پوتن کے ترجمان نے کہا ہے کہ روس ’ایرانی قیادت کے ساتھ مذاکرات میں مصروف ہے۔‘
روئٹرز کے مطابق جب کریملن سے پوچھا گیا کہ کیا ماسکو تہران کی مدد کر رہا ہے تو روسی حکام نے تفصیلات بتانے سے انکار کیا۔
اسرائیلی دفاعی فورسز کا کہنا ہے کہ ایران کی طرف سے ملک پر میزائل داغے گئے ہیں۔
ایک بیان اس کے مطابق ’خطرے کو ٹالنے کے لیے دفاعی نظام فعال ہیں۔‘
’عوام تاحکم ثانی محفوظ جگہوں پر رہیں۔ محفوظ جگہ سے صرف تب نکلیں جب اس کی ہدایت دی جائے۔‘
بیان کے مطابق فونز پر بھی الرٹ جاری کیے گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے خبردار کیا ہے کہ ’اس وقت خطرہ پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔‘ انھوں نے بگڑتے ہوئے حالات کے دوران تمام فریقین سے امن کی اپیل کی ہے۔
ایکس پر جاری بیان میں انھوں نے کہا کہ ’مشرقِ وسطیٰ اور اس سے باہر ہونے والے تمام غیر قانونی حملے خطے بھر میں شہریوں کو شدید تکلیف اور نقصان پہنچا رہے ہیں۔ یہ عالمی معیشت کے لیے سنگین خطرہ بن رہے ہیں، خصوصاً ان لوگوں کے لیے جو سب سے زیادہ کمزور ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’صورتحال بے قابو ہو سکتی ہے۔ لڑائی ختم کرنے اور سنجیدہ سفارتی مذاکرات کا وقت آ چکا ہے۔ اس وقت خطرہ بہت زیادہ ہے۔‘
اقوامِ متحدہ کے انسانی امور اور ایمرجنسی ریلیف کے معاون سیکریٹری جنرل ٹام فلیچر نے بھی جنگ پر ’حیران کن حد تک بڑے مالی اخراجات‘ کی مذمت کی۔ ’سیاستدان اس بات پر فخر کرتے نظر آ رہے ہیں کہ وہ اُن لوگوں کے لیے امدادی بجٹ میں کٹوتی کر رہے ہیں جنھیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہم ٹیکنالوجی اور بے خوف قتل و غارت کے درمیان ایک بڑھتے ہوئے مہلک اتحاد کو دیکھ رہے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
ایران میں جاری جنگ کے خاتمے سے متعلق وائٹ ہاؤس اور امریکی حکومت کے مختلف حصوں کی جانب سے متضاد پیغامات سامنے آ رہے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ مہم ’چار سے چھ ہفتے تک‘ جاری رہ سکتی ہے۔
تاہم پینٹاگون کے حکام اور وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ اب تک جنگ کا دورانیہ بتانے سے گریز کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کارروائیاں اس وقت تک جاری رہ سکتی ہیں جب تک صدر یہ نہ سمجھیں کہ امریکی فوج نے اپنے اہداف حاصل کر لیے ہیں۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ وہ ایران سے ’غیر مشروط سرنڈر‘ کی توقع رکھتے ہیں۔ بظاہر اس بات پر ایران کی حکومت فی الحال، کم از کم عوامی طور پر، آمادہ نظر نہیں آتی۔
یہ بیانات امریکی انتظامیہ کی حکمت عملی کے حوالے سے مزید سوالات کو جنم دیتے ہیں۔ یعنی اس مہم کی کامیابی کیسے جانچی جائے گی اور آگے کیا ہو سکتا ہے۔
جنگ جتنی طویل ہو گی، یہ سوالات ٹرمپ کے لیے اتنے ہی سیاسی طور پر پیچیدہ ہوتے جائیں گے، خاص طور پر اس لیے کہ انھوں نے انتخابی مہم کے دوران ’ہمیشہ رہنے والی جنگیں‘ شروع نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ ان کا اشارہ بظاہر نائن الیون حملوں کے بعد شدت پسندی کے خلاف جنگ کی طرف تھا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ ’غیر مشروط سرنڈر‘ کے سوا کوئی معاہدہ قبول نہیں کریں گے۔
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ ایران کا اگلا رہنما امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ’اچھا سلوک کرے‘۔
اسرائیل
اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے خلاف حملوں کی 15ویں لہر شروع کر چکی ہے اور اس نے 50 جنگی طیاروں کی مدد سے ایک زیرِ زمین بنکر تباہ کیا ہے، جو مبینہ طور پر ایران کے سابق رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے استعمال کے لیے تیار کیا جا رہا تھا۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ آج ایران اور لبنان کی سرحد کی جانب سے اسرائیلی علاقے پر پروجیکٹائل داغے گئے ہیں۔
ایران
ایران کی وزارتِ صحت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جنگ میں 18 سال سے کم عمر کے 200 بچے اور نوجوان ہلاک ہو چکے ہیں۔
تہران کے رہائشیوں نے بی بی سی کو بتایا کہ کل رات اس بحران کی ’اب تک کی بدترین رات‘ تھی۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ’کچھ ممالک نے ثالثی کی کوششیں شروع کر دی ہیں‘۔ تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ کون سے ممالک ہیں۔
لبنان
لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق پیر سے شروع ہونے والے اسرائیلی حملوں کے بعد سے اب تک 217 افراد ہلاک اور 798 زخمی ہو چکے ہیں۔
خطے کی صورتحال
آج دوپہر عمان سے برطانوی شہریوں کو نکالنے کے لیے دوسرا برطانوی چارٹرڈ طیارہ روانہ ہو گیا ہے۔
خطے میں 20 ہزار کے قریب پروازیں منسوخ ہونے کی اطلاعات کے بعد کچھ علاقائی ایئرلائنز، جن میں اتحاد اور ایمریٹس شامل ہیں، نے محدود انداز میں پروازیں بحال کرنا شروع کر دی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیلی فوج نے لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی نواحی علاقے میں فضائی حملے کیے ہیں جن کی کچھ تصاویر اب موصول ہوئی ہیں۔
حملوں سے قبل اسرائیلی فوج نے لاکھوں افراد کو شہر کے جنوب سے نکلنے کا حکم دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیلی فوج نے بدھ کو یہ حکم جاری کیا تھا کہ جنوبی لبنان کے اسرائیلی سرحد کے قریب موجود ایک وسیع علاقے کے تمام رہائشی وہاں سے نکل جائیں۔ یہ اقدام زمینی کارروائی کے متوقع آغاز سے پہلے لیا گیا۔
حزب اللہ نے بھی خبردار کیا ہے کہ لبنان کی سرحد سے پانچ کلومیٹر کے اندر رہنے والے تمام اسرائیلی اپنے گھروں کو خالی کر دیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے کہ جنگ کی شروعات سے اب تک مشرق وسطیٰ سے قریب 24 ہزار امریکی شہری باحفاظت امریکہ واپس آ چکے ہیں۔
امریکی محکمۂ خارجہ میں عالمی تعلقات عامہ کے اسسٹنٹ سیکریٹری ڈیلن جانسن کا کہنا تھا کہ سینکڑوں امریکیوں کی واپسی کے لیے کئی پروازوں امریکہ لوٹ چکی ہیں جبکہ سکیورٹی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اضافی پروازیں آئندہ دنوں میں متوقع ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس تعداد میں وہ امریکی شہری شامل نہیں جو دیگر ملکوں میں منتقل ہوئے ہیں۔
اس سے قبل ٹرمپ نے کہا تھا کہ ہزاروں امریکی شہریوں کو خاموشی سے مشرق وسطیٰ سے نکال لیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق پیر کے روز شروع ہونے والے اسرائیلی حملوں کے بعد سے اب تک 217 افراد ہلاک اور 798 زخمی ہو چکے ہیں۔
یہ تعداد جمعرات کو رپورٹ ہونے والی 123 ہلاکتوں اور 683 زخمیوں کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔
اسرائیلی دفاعی افواج نے رات کے دوران لبنان کے دارالحکومت بیروت پر حملوں کی ایک نئی لہر شروع کی۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے حمایت یافتہ عسکریت پسند گروہ حزب اللہ کے مضبوط ٹھکانوں میں موجود انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں سے مزید تصاویر موصول ہو رہی ہیں، جہاں اسرائیلی فوج کی جانب سے کیے جانے والے فضائی حملوں کے بعد کی صورتحال دکھائی دے رہی ہے۔
ان حملوں سے پہلے اسرائیلی فوج نے شہر کے جنوبی حصے سے لاکھوں افراد کو علاقہ چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔
دوسری جانب حزب اللہ نے بھی لبنانی سرحد سے پانچ کلومیٹر کے اندر رہنے والے اسرائیلی شہریوں کو اپنے گھر چھوڑنے کی وارننگ جاری کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا ذریعہReuters