آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ایرانی رہبر اعلیٰ کا حسن نصر اللہ کے ’خون کا بدلہ‘ لینے کا اعادہ، اسرائیل نے حساب برابر کر دیا: نیتن یاہو

حزب اللہ نے ایک بیان میں اپنے سربراہ حسن نصراللہ کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔ ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے حسن نصر اللہ کی ہلاکت پر پانچ روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حزب اللہ کے سربراہ کے ’خون کا بدلہ لیا جائے گا۔‘ دوسری جانب اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے حسن نصر اللہ کی موت کو ’تاریخی اقدام‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے ’حساب برابر کر دیا۔‘

خلاصہ

  • حزب اللہ نے تصدیق کی ہے کہ اس کے سربراہ حسن نصر اللہ ہلاک ہو گئے ہیں۔
  • اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حسن نصر اللہ کی ہلاکت جمعے کو بیروت میں کیے گئے ایک فضائی حملے میں ہوئی۔
  • ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے حزب اللہ کے سربراہ کے 'خون کا بدلہ' لینے کا اعادہ کیا ہے۔
  • اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ حسن نصر اللہ کی موت کے بعد حساب برابر ہو گیا۔
  • عراق کے وزیر اعظم نے حسن نصر اللہ کی ہلاکت پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    29 ستمبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

  2. بریکنگ, اسرائیل نے حساب برابر کر دیا: نیتن یاہو

    اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کی موت کو ’تاریخی اقدام‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے حساب برابر کر دیا۔

    امریکہ میں اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے بعد اسرائیل واپسی پر نیتن یاہو نے کہا کہ ’اسرائیل اپنے دشمنوں پر حملے جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔‘

    نیتن یاہو نے یہ بھی کہا کہ ’اسرائیلی مقاصد کو پورا کرنے کے لیے حسن نصر اللہ پر حملہ ضروری تھا۔‘

  3. حسن نصراللہ کی موت بہت سے متاثرین کے لیے ’انصاف پر مبنی اقدام‘ ہے: امریکی صدر جو بائیڈن

    امریکی صدر جو بائیڈن نے حسن نصراللہ کی موت کو بہت سے متاثرین کے لیے ’انصاف پر مبنی اقدام‘ قرار دیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ان متاثرین میں ’ہزاروں امریکی، اسرائیلی اور لبنان کے شہری شامل ہیں۔‘

    بائیڈن نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ ’حزب اللہ، حماس، حوثیوں اور کسی بھی ایرانی حمایت یافتہ دہشت گرد گروپ‘ کے خلاف اپنے دفاع کے لیے اسرائیل کے حق کی ’مکمل حمایت‘ کرتا ہے۔

    امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ انھوں نے پینٹاگون کو ہدایت کی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی دستوں کی دفاعی پوزیشن کو بڑھایا جائے تاکہ ’جارحیت کو روکا جا سکے۔‘

  4. بریکنگ, ایرانی رہبر اعلیٰ : ’حسن نصر اللہ کے خون کا بدلہ لیا جائے گا‘

    ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے حسن نصر اللہ کی ہلاکت پر پانچ روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

    انھوں نے کہا ہے کہ حزب اللہ کے سربراہ کے ’خون کا بدلہ لیا جائے گا۔‘

  5. یمن سے داغے جانے والے میزائل کو ناکارہ بنا دیا: اسرائیلی فوج

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے یمن سے داغے جانے والے میزائل کو ناکارہ بنا دیا ہے۔

    ایکس پر ایک ٹویٹ میں اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے میزائل کو اسرائیلی حدود سے باہر روک دیا۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق زوردار آوازیں سنی گئی ہیں۔

  6. ’کاش وہ ہم سب کو مار دیتے لیکن حسن نصر اللہ کو زندہ رہنے دیتے‘, کیرین ٹوربے، بی بی سی نامہ نگار، بیروت

    حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کی اسرائیلی حملے میں ہلاکت کے بعد ان کے بہت سے حمایتی ان کی موت کا صدمہ برداشت نہیں کر سکے۔

    کچھ لوگ یہ خبر سنتے ہی نیچے گر پڑے، کچھ نے چیخنا اور بعض نے روتے ہوئے ادھر ادھر بھاگنا شروع کر دیا۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایک خاتون نے کہا کہ ’کاش وہ (اسرائیل) ہم سب کو مار دیتے لیکن انھیں (حسن نصر اللہ) زندہ رہنے دیتے۔‘

    نصر اللہ کی موت کا صدمہ بڑا ہے کیونکہ ان کے سپورٹرز کے لیے وہ صرف ایک رہنما نہیں بلکہ مثالی شخصیت تھے۔

  7. عراق کا حسن نصر اللہ کی ہلاکت پر تین روزہ سوگ کا اعلان: ’اسرائیل نے تمام حدیں پار کر دی ہیں‘

    عراق کے وزیر اعظم ہاؤس نے حسن نصر اللہ کی ہلاکت پر تین روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے ’تمام حدیں پار کر دی ہیں۔‘

    دوسری جانب ایران کی وزات داخلہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ یہ حملہ ’جنگی جرم‘ تھا جس کے لیے اسرائیل اور امریکہ، دونوں کا احتساب ہونا ضروری ہے۔

    یمن میں حوثی تحریک نے بھی حسن نصر اللہ کی موت پر سوگ کا اعلان کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ حزب اللہ کے لیے ان کی ’حمایت مزید بڑھے گی۔‘

  8. بریکنگ, ایران کے پاسدران انقلاب کی قدس فورس کے سینیئر کمانڈر بیروت میں اسرائیلی حملے میں ہلاک

    ایرانی حکام کے مطابق پاسدران انقلاب کی قدس فورس کے سینیئر کمانڈر عباس نیلفروشن گذشتہ روز بیروت میں ہونے والے اسرائیلی حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

    پاسداران انقلاب اسلامی کا قیام 1979 میں ایرانی انقلاب کے بعد نئے اسلامی نظام کے دفاع کے لیے عمل میں آیا تھا۔

    پاسداران انقلاب ایک ریاستی فوجی، سیاسی اور اقتصادی قوت ہے جو ایران میں وہاں کی اسلامی حکومت کو درپیش خطرات کا مقابلہ اور بیرون ملک اس کی طاقت کا مظاہرہ کرتی ہے۔

    پاسداران انقلاب کی سب سے مشہور غیر ملکی شاخ قدس فورس ہے۔ یہ ادارہ مشرق وسطیٰ میں مسلح گروہوں بشمول لبنان میں قائم حزب اللہ، عراق میں شیعہ ملیشیا اور شامی حکومت کی وفادار فورسز کو ہتھیار، رقم اور تربیت فراہم کرتا ہے۔

  9. اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس کی کامیابی اور ایران کی خاموشی, جیار گول، بی بی سی

    حسن نصراللہ کو ہلاک کر کے اسرائیل نو دن کے اندر حزب اللہ گروپ کی قیادت اور اعلیٰ ترین فوجی کمانڈروں کا خاتمہ کرنے میں کامیاب ہو گیا۔

    ایک مخصوص وقت اور جگہ پر متحرک اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے حزب اللہ کے اندر سے ٹھوس معلومات کی ضرورت ہوتی ہے۔

    اس گروہ کے پیجرز اور واکی ٹاکیز کے دھماکے میں اس گروہ کے درمیانی اور نچلے درجے کے کمانڈروں کی بڑی تعداد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔

    فوجی کامیابی سے پہلے اسرائیل کے پچھلے نو دنوں کے حملے ایک انٹیلی جنس کامیابی ہیں۔ حزب اللہ کے رہنماؤں کے قتل نے اسرائیل کی خفیہ ایجنسیوں بالخصوص موساد کی افسانوی حیثیت کو حقیقت کے قریب کر دیا ہے۔

    ایران کی حکومت اور خطے میں اس کے پراکسی گروپس کے رہنما عموماً اسرائیل کو دھمکیاں دیتے تھے یا اسرائیل کے حملوں کے بعد اسے راکٹ اور ڈرون حملوں کا نشانہ بناتے تھے لیکن اب وہ خاموش ہیں۔

    آج ایرانی حکومت کے رہنما نے حزب اللہ کی طاقت کے بارے میں بات کی لیکن حزب اللہ سے کسی انتقام یا براہِ راست مدد کا ذکر نہیں کیا، علی خامنہ ای نے اسلامی ممالک کو اسرائیل کے خلاف متحد ہونے کو کہا۔

  10. اسرائیل، حزب اللہ کشیدگی: گذشتہ چند گھنٹوں میں کیا ہوا؟

    حزب اللہ نے اپنے سربراہ حسن نصراللہ کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔ آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ گذشتہ چند گھنٹوں میں کیا واقعات رونما ہوئے ہیں۔

    • جمعے کو اسرائیل نے بیروت میں فضائی حملے کیے تھے اور اس وقت یہ اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں کہ ان کارروائیوں کا ہدف حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ تھے۔
    • سنیچر کی صبح بھی لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں کا سلسلہ جاری رہا اور ہمارے نمائندوں نے بھی تصدیق کی ہے کہ انھوں نے بیروت کے جنوبی علاقوں سے دھواں اُٹھتا ہوا دیکھا ہے۔
    • دوسری جانب حزب اللہ نے بھی اسرائیل پر راکٹس داغے جس کی تصدیق اسرائیلی فوج نے بھی کی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان میزائلوں کو تباہ کر دیا گیا تھا۔
    • آج صبح ہمیں یہ بھی معلوم ہوا کہ گذشتہ رات بیروت کے جنوبی علاقوں میں لوگ اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے تھے اور سڑکوں یا اپنی گاڑیوں میں سو رہے تھے۔
    • پاکستانی وقت کے مطابق آج دوپہر ایک بجے اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے حزب اللہ کے ضاحیہ میں واقع ہیڈکوارٹر پر حملے میں حسن نصراللہ اور دیگر سینیئر کمانڈروں کو ہلاک کر دیا ہے۔
    • حزب اللہ نے حسن نصر اللہ کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔
    • حزب اللہ نے اپنے بیان میں حسن نصراللہ کو ’شہید‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اسرائیل کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھیں گے۔
    • لبنان کی وزارتِ ٹرانسپورٹ نے ایک ایرانی ہوائی جہاز کو لبنان یں داخلے سے روک دیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین نے جہاز کمپنیوں کو کہا ہے کہ وہ اگلے ماہ تک لبنانی اور اسرائیلی فضائی حدود کا استعمال نہ کریں۔
  11. حزب اللہ نے حسن نصراللہ کی ہلاکت کی تصدیق کر دی

    حزب اللہ نے چند لمحوں پہلے اپنے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ اس کے سربراہ حسن نصراللہ ہلاک ہوگئے ہیں۔

    اس سے قبل اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ سمیت لبنانی تنظیم کے متعدد کمانڈر جنوبی لبنان میں ایک اسرائیلی حملے میں مارے گئے ہیں۔

    ٹیلی گرام پر حزب اللہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان پڑھ کر بظاہر ایسا لگتا ہے جیسے یہ تصدیق کی جا رہی ہو کہ حسن نصراللہ بیروت میں اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کی موت (کی خبر) ’جنوبی مضافاتی علاقے میں مکارانہ صیہونی کارروائی‘ کے بعد سامنے آئی ہے۔

    حزب اللہ کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف لڑائی اور ’غزہ، فلسطین، لبنان اور اس کے ثابت قدم اور معزز عوام کا دفاع‘ اور حمایت جاری رکھے گی۔

  12. شمالی وزیرستان میں ماڑی پٹرولیم کے ہیلی کاپٹر کو حادثہ، چھ افراد ہلاک, فرحت جاوید، بی بی سی اردو

    سنیچر کے روز شمالی وزیرستان کے علاقے شیوا میں نجی کمپنی ماڑی پٹرولیم کے ایم آئی 8 ہیلی کاپٹر کو حاثہ پیش آیا ہے جس میں چھ افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دو سکیورٹی ذرائع نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ حادثے میں آٹھ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    پاکستان سول ایویشن اتھارٹی (سی اے اے) کے مطابق ہیلی کاپٹر میں عملے کے چھ افراد کے علاوہ ایک سیفٹی افسر اور چودہ مسافر سوار تھے۔

    دوسری جانب کمپنی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہیلی کاپٹر ماڑی پٹرولیم کے افراد کو لے کر شیوا بلاک جارہا تھا جب حادثہ پیش آیا۔ اس علاقے میں ماڑی پٹرولیم کے تیل اور گیس کے کنویں ہیں جہاں کمپنی کام کر رہی ہے۔

    ترجمان کا کہنا ہے کہ حادثہ ہیلی کاپٹر کا انجن فیل ہونے کے باعث پیش آیا۔

    وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے ہیلی کاپٹر حادثے میں چھ افراد کی ہلاکت پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو زخمیوں کو بروقت طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کردی ہے۔

    کمپنی کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج اور دیگر ادارے جائے حادثہ پر امدادی کاروائیوں میں مصروف ہیں اور زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔

    سی اے اے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہیلی کاپٹر سنیچر کے روز گیارہ بجکر پندرہ منٹ پر آسلام آباد سے شیوا کے لیے روانہ ہوا۔ بیان کے مطابق ایک بجکر پندرہ منٹ پر ہیلی کاپٹر نے شیوا سے بنوں کے لیے اڑان بھری لیکن انجن میں خرابی کے باعث ہیلی کاپٹر نے شیوا میں ہی ہنگامی لینڈنگ کی کوشش کی۔

    بیان میں بتایا گیا ہے کہ ہنگامی لینڈنگ کے دوران ہیلی کاپٹر کا ٹیل روٹر زمین سے ٹکرایا اور وہ الٹ گیا۔

    کمپنی کے مطابق حادثے میں استعمال ہونے والا ایم آئی 8 ہیلی کاپٹر روسی ساختہ ڈبل انجن ہیلی کاپٹر ہے جو عام طور پر ٹرانسپورٹ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

    سی اے اے کا کہنا ہے کہ ماڑی پٹرولیم ہیلی کاپٹر کو تیل اور گیس دریافت کے لیے دور افتادہ علاقوں تک پہنچنے کے لئے استعمال کررہی تھی۔

    سول ایویشن کا کہنا ہے کہ ہیلی کاپٹر پرنسلی جیٹ کمپنی نے ایک روسی کمپنی پی اے این ایچ ہیلی کاپٹرز سے ویٹ لیز پر لیا تھا جس کے لیے چھ ماہ کا (اے او سی) جاری کیا گیا تھا۔

    سی اے اے کے مطابق ویٹ لیز کی معیاد 28 ستمبر 2024 کو پوری ہورہی تھی۔ معاہدے کے مطابق ہیلی کاپٹر کی دیکھ بھال اور عملے کی ٹریننگ روسی کمپنی کے ذمہ تھی۔

    سی اے اے کا مزید کہنا ہے کہ بیورو آف سیفٹی انویسٹیگیشن حادثہ کی مزید تحقیقات کرے گا۔

  13. کیا مشرقِ وسطیٰ میں ایک وسیع جنگ ناگزیر ہے؟, فرینگ گارڈنر، نمائندہ برائے سکیورٹی امور

    کیا مشرقِ وسطیٰ میں کوئی وسیع جنگ اب ناگزیر ہوگئی ہے؟ اس کا جواب نفی میں ہے لیکن گذشتہ 24 گھنٹوں میں اس کے امکانات ضرور ڈرامائی طور پر بڑھ گئے ہیں۔

    یہی وجہ ہے کہ امریکہ سمیت 12 ممالک نے لبنان میں 21 روزہ جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں درجہ حرارت کو کم کیا جا سکے اور اس تنازع کو پورے خطے میں بڑھنے سے روکا جاسکے۔

    لیکن واضح طور پر اسرائیل اب یہ فیصلہ کر چکا ہے کہ حزب اللہ اب اس کی رسائی میں ہے اور وہ ہر قیمت پر اس کا فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔

    اب یہاں ایک اہم سوال یہ ہے کہ اس صورتحال میں ایران کیا کرے گا؟

    ایران کو اب یہ خطرہ ہے کہ خطے میں اس کے ایک اہم اتحادی کو منظم طریقے سے نقصان پہنچایا جا رہا ہے اور اب حزب اللہ کے میزائلوں کے ذخیرے کو بھی خطرات لاحق ہیں۔

    گذشتہ ایک ہفتے میں حزب اللہ کے متعدد میزائل اور ان کے لانچنگ پیڈز تباہ کیے جا چکے ہیں اور ان کو چلانے والے متعدد افراد بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ لیکن اب بھی حزب اللہ کے پاس ایسے میزائل موجود ہیں جو کہ تل ابیب سمیت دیگر اسرائیلی شہروں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    لیکن حزب اللہ اور ایران دونوں کو معلوم ہے کہ اگر انھوں نے یہ میزائل اسرائیلی شہروں پر فائر کیے تو دو باتیں ہو سکتی ہیں: اسرائیل خود ایران کے خلاف شدید جوابی حملہ کرے گا اور اس کے بعد قریب ہی تعینات امریکی بحری جنگی جہاز بھی اس تنازع کا حصہ بن سکتے ہیں جن پر کروز میزائل بھی نصب ہیں۔

    زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ ہمیں اب اس تنازع میں عراق، شام اور یمن میں موجود ایران کے حمایت یافتہ عسکری گروہ مزید متحرک نظر آئیں گے۔

    دوسری جانب سفارتکار پوری کوشش کریں گے کہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکا جائے۔ لیکن فی الحال ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل حزب اللہ کے خاتمے اور اپنے لوگوں کو محفوظ رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔

  14. حسن نصراللہ کی ہلاکت کے اسرائیلی دعوے کے بعد ایرانی رہبرِ اعلیٰ کا بیان: ’تمام مزاحمتی تنظیمیں حزب اللہ کے ساتھ ہیں‘

    حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کی ہلاکت کے اسرائیلی دعوے کے بعد اپنے پہلے بیان میں ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے تمام مسلمانوں سے لبنان کی عوام اور حزب اللہ کی مدد کرنے کی اپیل کی ہے۔

    سنیچر کو جاری ایک بیان میں ایرانی رہبرِ اعلیٰ نے اسرائیل پر ’نہتے لوگوں کے قتل‘ کا الزام عائد کیا ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل نے ’غزہ میں اپنی ایک سالہ مجرمانہ جنگ سے کچھ نہیں سیکھا اور وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ خواتین، بچوں اور عام شہریوں کے اجتماعی قتل سے مزاحمتی تنظیم کی طاقت پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور نہ ہی اسے تباہ کیا جا سکتا ہے۔‘

    تاہم آیت اللہ علی خامنہ ای کے پیغام میں حسن نصر اللہ یا ان کی اسرائیلی حملے میں ہلاکت کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

    خیال رہے اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ اور تنظیم کے دیگر کمانڈروں کو ایک ’ٹارگیٹڈ حملے‘ میں ہلاک کر دیا ہے۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق اس کی جانب سے حملہ جنوبی بیروت کے علاقے ضاحیہ میں حزب اللی کے ہیڈکوارٹر پر گیا گیا تھا۔

    اپنے بیان میں ایرانی رہبرِ اعلیٰ کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیلی افواج ’لبنانی حزب اللہ کی بنیاد کو بڑا نقصان پہنچانے کے لیے ابھی بہت چھوٹی ہیں۔‘

    ’خطے میں تمام مزاحمتی تنظیمیں حزب اللہ کے ساتھ ہیں اور اس کی حمایت کرتی ہیں۔‘

  15. اسرائیل کے مطابق حسن نصراللہ کو لبنان کے کس علاقے میں ہلاک کیا گیا ہے؟

    اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ اور دیگر کمانڈروں کو ایک ’ٹارگیٹڈ حملے‘ میں ہلاک کر دیا ہے۔

    ایک بیان میں اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ اس حملے میں حسن نصر اللہ کے ساتھ حزب اللہ کے جنوبی محاذ کے کمانڈر علی کراکی اور دیگر کمانڈر بھی مارے گئے ہیں۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق اس کی جانب سے حملہ جنوبی بیروت کے علاقے ضاحیہ میں حزب اللی کے ہیڈکوارٹر پر گیا گیا تھا۔

    بی بی سی کی جانب سے بنائے گئے نقشے میں اس مقام کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں اسرائیلی فوج کے مطابق حسن نصر اللہ کو ہلاک کیا گیا ہے۔

  16. امریکہ کو جنوبی بیروت میں اسرائیلی حملے کی پیشگی اطلاع نہیں تھی: پینٹاگون

    امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کا کہنا ہے کہ اسے جنوبی بیروت کے علاقے ضاحیہ میں اسرائیلی حملے کی پیشگی اطلاع نہیں تھی۔

    خیال رہے اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے جنوبی بیروت میں حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ سمیت گروپ کے متعدد کمانڈروں کو ہلاک کیا ہے۔

    حزب اللہ کی جانب سے ان اطلاعات پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب امریکی صدر جو بائیڈن نے امریکہ سفارتخانوں کو احکامات جاری کیے ہیں کہ وہ خطے میں اپنی حفاظت کے لیے تمام ضروری اور مناسب اقدامات اُٹھائیں۔

  17. حسن نصراللہ کی ہلاکت: تمام نگاہیں ایرانی ردِ عمل پر ہوں گی, فرینگ گارڈنر، نمائندہ برائے سکیورٹی امور

    اسرائیلی فوج کی جانب سے حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کو نشانہ بنانے سے مہینوں سے جاری کشیدگی میں بڑا اضافہ ہوگا اور یہ لبنانی تنظیم کے حامی ایران کو بھی اشتعال دلانے کی بڑی کوشش ہے۔

    اب تک ایران اسرائیل اور حزب اللہ کے تنازع سے بظاہر دور رہا ہے لیکن اب اسلامی ملک کو یہ خطرہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں اس کے ایک اہم اتحادی کو منظم طریقے سے نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔

    خیال رہے اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے جنوبی لبنان میں حسن نصراللہ سمیت حزب اللہ کے متعدد سینیئر کمانڈروں کو ہلاک کیا ہے۔ تاہم لبنانی تنظیم کی جانب سے ان اطلاعات پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔

    حسن نصراللہ سنہ 1992 سے حزب اللہ کی سربراہی کر رہے تھے اور انھوں نے اپنی تنظیم میں وفادار کمانڈروں کی تعیناتی کی، جنھوں نے حزب اللہ کو ایک مقامی تنظیم سے بڑی غیر ریاستی طاقت میں تبدیل کر دیا۔

    پاسدارانِ انقلاب کی مدد سے حسن نصراللہ کی تنظیم نے میزائلوں کا ایک بڑا ذخیرہ جمع کیا جو آج بھی کہیں زیرِ زمین موجود ہے۔

    لیکن حسن نصراللہ کی غیرموجودگی اور حالیہ دنوں میں حزب اللہ کے سینیئر کمانڈروں کی ہلاکت کے سبب لبنانی تنظیم کی ساکھ اور صلاحیتوں دونوں کو نقصان پہنچا ہے۔

    اب یقیناً انتقام لینے کے مطالبے سامنے آئیں گے اور تمام نگاہیں انتظار کریں گی کہ حسن نصراللہ کی ہلاکت پر ایران کیا ردِعمل دے گا۔

  18. بریکنگ, اسرائیلی فوج کا حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

    آئی ڈی ایف کے ایکس اکاؤنٹ پر شیئر کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’حسن نصراللہ اب دنیا کو دہشت زدہ نہیں کر سکیں گے۔‘

    یہ بیان بیروت میں رات گئے ہونے والے حملوں کے سلسلے کے بعد جاری کیا گیا ہے جن کے بارے میں اسرائیل کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں نصراللہ اور حزب اللہ کے دیگر کمانڈروں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

    اسرائیلی فوج کے ایک بیان کے مطابق، کل، حملوں کے نتیجے میں جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے میزائل یونٹ کے کمانڈر، اس کے نائب، اور پارٹی کے کئی دیگر رہنما، یعنی محمد علی اسماعیل اور ان کے نائب حسین احمد اسماعیل کی ہلاکت ہوئی تھی۔

    آئی ڈی ایف کے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ہرزی ہلوی نے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا ہے۔

    پیغام بالکل واضح ہے کہ جو کوئی بھی اسرائیلی شہریوں کے لیے خطرہ ہے ہم جانتے ہیں کہ انھیں شمال، جنوب یا اس سے بھی آگے کیسے پکڑا جائے۔

    آئی ڈی ایف کے چیف آف سٹاف لیفٹیننٹ جنرل ہرزی ہلوی نے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا ہے۔

    پیغام بالکل واضح ہے کہ جو کوئی بھی اسرائیلی شہریوں کے لیے خطرہ ہے ہم جانتے ہیں کہ انھیں شمال، جنوب یا اس سے بھی آگے کیسے پکڑا جائے۔

    یہ ویڈیو کلپ آئی ڈی ایف کے سوشل پلیٹ فارمز پر اس بیان کے فورا بعد پوسٹ کیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

    یہ ویڈیو کلپ آئی ڈی ایف کے سوشل پلیٹ فارمز پر اس بیان کے فورا بعد پوسٹ کیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

  19. بریکنگ, اسرائیلی فوج کے لبنانی علاقے البقاع پر ’وسیع پیمانے پر‘ حملے

    اسرائیلی فوج کی جانب سے کچھ اپ ڈیٹس موصول ہوئی ہیں جن میں یہ بھی شامل ہے کہ فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے وادی البقاع میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر ’بڑے پیمانے پر حملے‘ کیے ہیں۔

    کچھ دیر قبل اطلاعات ملی تھیں کہ آئی ڈی ایف شمال مشرقی لبنان میں حزب اللہ کے مضبوط گڑھ پر حملے کر رہی ہے۔

    اسرائیلی فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ہتھیاروں کا ذخیرہ، فوجی عمارتیں اور اسرائیل کو نشانہ بنانے والے لانچرز ان اہداف میں شامل ہیں اور آئی ڈی ایف لبنانی علاقے میں حملے جاری رکھے گا۔

    اس سے قبل آئی ڈی ایف کی جانب سے جاری کردہ ایک اپ ڈیٹ میں کہا گیا تھا کہ شمالی اسرائیل میں انتباہ کے بعد لبنان سے داغے گئے پانچ راکٹوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ان میں سے کچھ راکٹوں کو روکا گیا تھا۔

  20. تازہ اسرائیلی حملوں کے بعد پیدا ہونے والے دو سوال جن کے جواب ابھی باقی ہیں, ہیوگو بچیگا، مشرق وسطیٰ کے نامہ نگار

    بیروت میں گذشتہ کئی گھنٹوں تک اسرائیلی فوج نے جنوبی بیروت میں حزب اللہ کے مضبوط گڑھ دحیہ پر فضائی حملے کیے۔

    شہریوں کو نقل مکانی کی وارننگ دینے کے بعد فوج نے کہا کہ اس نے ہتھیاروں کی تیاری کی تنصیبات اور اسلحے کے گوداموں سمیت ان مقامات کو نشانہ بنایا جو شہری رہائش گاہوں کے نیچے تھے۔

    بیروت کے وسطی علاقے میں ہزاروں افراد اپنے گھروں سے صرف بیگز لے کر نکل سکے اور سڑکوں اور چوراہوں پر جمع ہو گئے ہیں۔

    یہ حملے اس تنازعے میں شہر پر اسرائیل کے سب سے طاقتور فضائی حملوں کے بعد کیے گئے تھے جس میں بظاہر حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اب تک حملے میں ان کی ہلاک یا بچ جانے سے متعلق کوئی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

    کئی عمارتیں منہدم ہو گئی ہیں اور امدادی کارکن رات بھر ملبے کی تلاش میں مصروف رہے۔

    اس سے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان تشدد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جس کے غیر متوقع نتائج برآمد ہوں گے۔

    تقریبا ایک سال سے یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ خطے میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف ایسی کوئی بھی کارروائی وسیع تر علاقائی تنازع کو جنم دے سکتی ہے۔

    حزب اللہ کئی دنوں تک بڑے پیمانے پر فضائی حملوں اور ہلاکتوں کے بعد بری طرح کمزور ہو گئی ہے لیکن وہ اب بھی ایک مضبوط قوت ہے جس کے پاس میزائلوں کا وسیع ذخیرہ ہے جو اسرائیل کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے اور مشکل میں ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    اس نے ابھی تک ان ہتھیاروں کو استعمال نہیں کیا ہے اور شایدوہ جوابی کارروائی کی نوعیت کے طے کر رہے ہیں۔

    آج صبح دو ایسے سوالات ہیں جن کا جواب نہیں مل سکا ہے ایک کیا حسن نصراللہ اب بھی زندہ ہیں اور کیا مشرق وسطیٰ جنگ کی لپیٹ میں آ جائے گا؟