غزہ میں سمندر کنارے واقع کیفے پر اسرائیلی حملے میں 20 فلسطینی ہلاک: ریسکیو کارکنان، عینی شاہدین

مقامی کارکنان کی جانب سے شیئر کی جانے والی ویڈیوز میں وہ لمحہ بھی دیکھا جا سکتا ہے جب اطلاعات کے مطابق ایک اسرائیلی طیارے نے اس علاقے پر میزائل فائر کیا۔ دھماکے کے بعد منظرِ عام پر آنے والی ویڈیوز میں زمین پر لاشیں دیکھی جا سکتی ہیں۔

خلاصہ

  • امریکہ اگر مذاکرات کا دوبارہ آغاز چاہتا ہے تو اسے ایران پر مزید حملوں کے امکان کو مسترد کرنا ہو گا: نائب ایرانی وزیر خارجہ
  • پاکستان میں مون سون بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث 50 سے زیادہ ہلاکتیں، آئندہ 24 گھنٹوں میں ملک کے مختلف حصوں میں مزید بارشوں کی پیشگوئی
  • امریکی ریاست ایڈاہو میں آگ بجھانے میں مصروف فائر فائٹرز پر فائرنگ، دو افراد ہلاک
  • صوبہ خیبرپختونخوا کے علاقے میرعلی میں ہوئے خودکش حملے میں سکیورٹی فورسز کے 13 اہلکار ہلاک جبکہ 14 شدت پسند مارے گئے: آئی ایس پی آر
  • ایران کی جوہری تنصیبات مکمل تباہ نہیں ہوئیں، تہران چند ماہ میں دوبارہ یورینیم افزودہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے: سربراہ آئی اے ای اے

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    یکم جولائی کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

  2. ایران میں ’غداروں اور کرائے کے فوجیوں‘ کے خلاف تحقیقات کے لیے نئی برانچز کا قیام, بی بی سی فارسی

    ایران کی عدلیہ نے ’غداروں اور کرائے کے فوجیوں‘ کے خلاف تحقیقات کے لیے خصوصی تحقیقاتی برانچز تشکیل دے دی ہیں۔

    پیر کو ایران کی عدلیہ کے ترجمان اصغر جہانگیر نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ نئی برانچز کے قیام کے لیے ملک بھر میں تمام جوڈیشل دفاتر کو پیغامات بھیج دیے گئے ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’سائبر سپیس کی نگرانی‘ اور ’دشمنوں کے ساتھ کام کرنے والے (سوشل میڈیا) اکاؤنٹس سے نمٹنا‘ بھی ان خصوصی برانچز کی ذمہ داریوں میں شامل ہوگا۔

    گذشتہ روز مبینہ جاسوسوں کی سزائیں بڑھانے کے لیے ایک نئے منصوبے کی تفصیلات بھی منظرِ عام پر آئی تھیں۔

    ایران کی پارلیمنٹ میں منظور کی جانے والی ایک قرارداد کے مطابق اسرائیل یا کسی اور دشمن ریاست کے لیے ’جاسوسی کرنا اور عسکری سرگرمیاں سرانجام دینا دنیا میں کرپشن کی ایک مثال ہے۔‘

  3. غزہ میں سمندر کنارے واقع کیفے پر اسرائیلی حملے میں 20 فلسطینی ہلاک: ریسکیو کارکنان، عینی شاہدین, رشدی ابوالوف اور ویرا ڈیویز، بی بی سی نیوز

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    مغربی غزہ میں سمندر کنارے واقع ایک کیفے پر اسرائیلی فضائی حملے میں کم از کم 20 فلسطینی ہلاک ہو گئے ہیں۔

    طبی کارکنان اور عینی شاہدین کے مطابق انسانی حقوق کے کارکنان، صحافیوں اور مقامی رہائشیوں میں مقبول اس کیفے پر حملہ پیر کو ہوا۔

    غزہ میں حماس کے زیرِ انتظام محکمہ برائے شہری دفاع کے ترجمان کے مطابق ریسکیو ٹیموں نے البقہ کیفے سے 20 لاشوں اور درجنوں زخمیوں کو نکال لیا ہے۔ یہ کیفے خیموں کی مدد سے بنایا گیا ہے اور سمندر کے کنارے واقع ہے۔

    ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ حملے کے باعث وہاں ایک بڑا گڑھا پڑ گیا ہے اور ریسکیو کارکنان اب بھی وہاں لوگوں کو تلاش کر رہے ہیں۔

    مقامی پروڈکشن کمپنی سے منسلک کیمرامین عزیز االعفیفی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں انٹرنیٹ استعمال کرنے کیفے جا رہا تھا اور ابھی وہاں سے چند ہی میٹر دور تھا جب زوردار دھماکہ ہوا۔‘

    ’میں کیفے کی طرف دوڑا۔ میرے ساتھی اور جن لوگوں سے میں روز ملاقات کرتا ہوں وہ وہاں موجود تھے۔ وہ ایک خوفناک منظر تھا، ہر طرف لاشیں، خون اور چیخیں تھیں۔‘

    مقامی کارکنان کی جانب سے شیئر کی جانے والی ویڈیوز میں وہ لمحہ بھی دیکھا جا سکتا ہے جب اطلاعات کے مطابق ایک اسرائیلی طیارے نے اس علاقے پر میزائل فائر کیا۔ دھماکے کے بعد منظرِ عام پر آنے والی ویڈیوز میں زمین پر لاشیں دیکھی جا سکتی ہیں۔

    البقہ کیفے صحافیوں اور مقامی کارکنان میں بہت مقبول تھا کیونکہ انھیں وہاں انٹرنیٹ تک رسائی، بیٹھنے اور کام کرنے کی جگہ میسر تھی۔

    اسرائیلی فوج نے اس حملے کے حوالے سے تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

  4. بنگلہ دیش میں خاتون پر جنسی تشدد کی ویڈیو پھیلنے کے بعد ملک بھر میں اجتجاجی مظاہرے, بی بی سی بنگلہ

    بنگلہ دیش

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بنگلہ دیش میں ایک خاتون پر جنسی تشدد کی ویڈیو انٹرنیٹ پر شیئر ہونے کے بعد ملک بھر میں غم و غصہ پھیل گیا ہے۔

    مقامی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جنسی تشدد کا شکار ہونے والی خاتون کا کہنا تھا کہ گذشتہ جمعرات کو ان کے والد کے گھر پر ان کا ریپ کیا گیا ہے۔ شیئر کی جانے والی ویڈیو کلپ میں متعدد افراد کو جائے وقوعہ پر دیکھا جا سکتا ہے۔

    پولیس نے جنسی تشدد د کے الزام میں مبینہ ریپسٹ سمیت پانچ افراد کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس مقدمے کی ’انتہائی سنجیدگی‘ کے ساتھ تحقیقات کر رہے ہیں۔

    اس ویڈیو کے گردش کرنے کے بعد گذشتہ ویک اینڈ پر ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے تھے۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی متعدد تنظیموں نے ریپ میں ملوث افراد کے لیے سخت سزاؤں کا مطالبہ کیا ہے۔

    پولیس کے مطابق خاتون بنگلہ دیش کے ضلع کومیلا میں اپنے والد کے گھر آئی تھیں جہاں ایک پڑوسی نے گھر میں گھس کر ان پر جنسی تشدد کیا۔

    ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والی خاتون نے متعدد مقامی میڈیا آؤٹ لیس کو انٹرویو دیے ہیں اور الزام عائد کیا ہے کہ ملزم ’غلط ارادوں کے ساتھ گھر میں داخل ہوا اور اس نے ان پر تشدد کیا۔‘

    پولیس نے متشبہ شخص کی شناخت فزور علی کے نام سے کی ہے اور کہا ہے کہ عوام کے تشدد کے باعث اسے ہسپتال میں داخل کروایا گیا ہے۔

    پولیس کے مطابق تشدد کے باعث ملزم کے ہاتھوں اور پاؤں میں زخم آئے ہیں جس کے سبب اسے اتوار کو عدالت میں نہیں پیش کیا جا سکا۔

  5. امریکی اور اسرائیلی بموں کا نشانہ بننے والے ایران کے فردو جوہری مرکز پر تعیمراتی کام جاری, کیلین ڈیولن اور بینیڈکٹ گرمن، بی بی سی ویریفائی

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہFile photo - Getty Images

    میکسر ٹیکنالوجیز کی جانب سے لی گئی سیٹلائٹ تصاویر میں ایران کے فردو جوہری مرکز پر بھاری مشینری کو کام کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    فردو ان جوہری مقامات میں سے ایک ہے جسے امریکہ نے نشانہ بنایا تھا۔

    29 جون کو لی گئی سیٹلائٹ تصاویر میں ایک ایکسکاویٹر اور کرین کو ایک نئی تعمیر شدہ سڑک کے قریب دیکھا جا سکتا ہے جو کہ وہیں واقع ہے جہاں امریکہ نے بنکر بسٹر بم گرائے تھے۔ اس مقام سے تھوڑا آگے ہی ایک بلڈوزر اور ایک ٹرک کو بھی ان تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے۔

    ان تصاویر میں کچھ گاڑیوں کو بھی اس مقام کے داخلی راستے اور مشرق کی طرف واقع اس عمارت کے پاس دیکھا جا سکتا ہے جسے امریکی اور اسرائیلی حملوں میں نقصان پہنچا تھا۔

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہMaxar Technologies

    جوہری ہتھیاروں پر ریسرچ کرنے والے ڈیوڈ البرائٹ نے سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر کا تجزیہ کیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ یہاں جاری تعمیراتی کاموں کے دوران گڑھوں کو بھرا جا رہا ہے، نقصانات کا معائنہ کیا جا رہا ہے اور ریڈیولوجیکل نمونے لیے جا رہے ہیں۔

    خیال رہے فردو اور دیگر جوہری مقامات پر امریکی حملوں کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ انھوں نے ایران کی جوہری تنصیبات کا ’خاتمہ‘ کر دیا ہے۔

    دوسری جانب جمعے کو انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے کہا تھا کہ ایران یورینیم کی افزودگی کا عمل ’کچھ مہینوں میں‘ بحال کر سکتا ہے۔

  6. مناسب فضائی دفاعی نظام کی عدم موجودگی میں اسرائیلی طیاروں کو روکنا ممکن نہیں تھا: عراقی وزیرِ اعظم, نفیسہ کوهنورد، بی بی سی فارسی

    محمد شیاع السودانی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    عراق کے وزیرِ اعظم محمد شیاع السودانی کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف اسرائیلی حملوں کو روکنا ان کے ملک کے لیے ممکن نہیں تھا کیونکہ ان کے پاس مناسب فضائی دفاعی نظام نہیں تھا۔

    بی بی سی فارسی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اسرائیلی لڑاکا طیاروں کو ایران پر حملہ کرنے سے اس لیے نہیں روک پائے کیونکہ ہمارے پاس مناسب فضائی نظام نہیں تھا۔‘

    عراقی وزیرِ اعظم کا مزید کہنا تھا کہ ’جنگ کی ابتدا سے 48 گھنٹوں قبل سکیورٹی، سیاسی اور میڈیا کے اندازے بھی یہی تھے کہ عسکری ایکشن یقینی ہے۔ ہم اس وقت اپنے دوستوں، اتحادیوں اور عراق کے پڑوسیوں کو (اسرائیلی) جارحیت کے خطرے سے آگاہ کر رہے تھے۔‘

    جب محمد شیاع السودانی سے پوچھا گیا کہ عراق نے اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی کو روکنے کے لیے کیا اقدامات لیے تو ان کا کہنا تھا کہ: ’عراق کی فضائی حدود کی خلاف ورزی دراصل ایک ریاست کی خودمختاری کی خلاف ورزی تھی جو کہ اقوامِ متحدہ کا رُکن ہے، یہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور عالمی معاہدوں کی بھی خلاف ورزی تھی۔ یہ عراقی فوج، سکیورٹی اور ملک کے عوام کے لیے بھی ایک خطرہ ہے۔‘

    جب اب ان سے پوچھا گیا کہ اسرائیلی حملے کے دوران عراق کے فضائی دفاعی نظام کو کیوں متحرک نہیں کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’بدقسمتی سے ماضی میں پیدا ہونے والی پیچیدگیوں، ملک میں بین الاقوامی اتحادی افواج کی موجودگی اور پچھلی حکومتوں کی ناکامیوں کے سبب ہمارے پاس فضائی دفاعی نظام نہیں تھا۔‘

    ’ہمارے پاس (اسرائیلی) خلاف ورزیوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالجی سے آراستہ مناسب دفاعی نظام نہیں تھا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ عراق اپنے فضائی دفاع نظام کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

  7. انڈیا کی ریاست تلنگانا میں کیمیکل فیکٹری میں دھماکہ، 20 افراد زخمی

    تلنگانا

    ،تصویر کا ذریعہUGC

    انڈیا کی ریاست تلنگانا میں ایک فیکٹری میں دھماکے کے نتیجے میں 20 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

    حادثہ ریاست کے دارالحکومت حیدرآباد کے نزدیک پاشامیلارم انڈسٹریل زون میں واقع ایک کیمیکل فیکٹری کا ری ایکٹر پھٹنے سے پیش آیا۔ دھماکے کے بعد فیکٹری میں آگ بھرک اٹھی ہے۔ ری ایکٹر کے پھٹنے کے بعد علاقے کیمیکل کی بو پھیل گئی ہے۔

    مقامی میڈیا کے مطابق اس حادثے میں چھ افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔ تاہم حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ممبر اسمبلی ماہیپال ریڈی کا کہنا ہے کہ فی الحال اموات کی تصدیق نہیں کی جا سکتی ہے۔

    بی بی سی اس حادثے میں ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

    فائر بریگیڈ کا عملہ تاحال آگ بھجانے کی کوشش کر رہا ہے۔

    دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس کے نتیجے میں ایک عمارت مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے جبکہ آس پاس کی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

  8. چین ایران سے خام تیل کی درآمد کے بارے میں کیوں خاموش ہے؟, بی بی سی مانیٹرنگ

    چین کی تیل کی درآمدات

    ،تصویر کا ذریعہCCTV

    رواں ماہ اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازع کے آغاز کے بعد سے تہران اور بیجنگ کے تعلقات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

    اس بڑھتی ہوئی دلچسپی کی ایک وجہ یہ ہے کہ چین ممکنہ طور پر ایران کے تیل کے سب سے بڑے خریداروں میں سے ایک ہے۔

    امریکہ کا دعویٰ ہے کہ چینی خریدار ’ایرانی حکومت کے لیے بنیادی اقتصادی لائف لائن‘ کی حیثیت رکھتے ہیں۔

    ایک طرف جہاں مغربی میڈیا یہ دعوے کرتا آیا ہے کہ 90 فیصد ایرانی خام تیل چین خریدتا ہے وہیں چینی میڈیا اس معاملے پر تقریباً خاموش ہے۔

    چین دنیا کا سب سے زیادہ تیل درآمد کرنے والا ملک ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق، چین کی تیل کی کل درآمدات کا 10 سے 15 فیصد ایران سے آتا ہے۔ حال ہی میں شائع ہونے والی روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ کل درآمدات کا 13.6 فیصد ہے۔

    ایرانی تیل کی درآمد کے بارے میں چینی حکام کا موقف

    سرکاری طور پر چین ایران سے تیل درآمد نہیں کرتا۔

    بیجنگ ایرانی تیل پر عائد پابندیوں کو واشنگٹن کی جانب سے ’غیر قانونی یکطرفہ پابندیاں‘ قرار دے کر مسترد کرتا آیا ہے۔

    چینی کسٹمز کے اعداد و شمار میں مبینہ طور پر جولائی 2022 سے ایران سے تیل کی درآمدات کا باضابطہ ریکارڈ موجود نہیں ہے۔

    2024 میں بلومبرگ پر شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق زیادہ تر ایرانی تیل کو ملائیشیا سے آئے والے خام تیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ خبر کے مطابق، پرانے تیل کے ٹینکروں پر مبنی ’شیڈو فلیٹ‘ کی مدد سے ایرانی خام تیل کو شمالی چین میں نجی ریفائنریوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔

    رپورٹ میں اس تجارت پر نظر رکھنے والے ایک ماہر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ یہ خفیہ تجارت بیجنگ کو ایرانی تیل خریدنے کے دعوے کی تردید کرنے کے قابل بناتی ہے۔

    آبنائے ہرمز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنآبنائے ہرمز میں کھڑے تیل کے ٹینکروں کی ایک فائل فوٹو

    چین کی وزارت خارجہ ایرانی تیل کے حوالے سے سوالات کے جواب نہیں دیتی ہے۔

    چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان سے 25 جون کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس مبہم بیان کے بارے میں پوچھا گیا کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد چین ایرانی تیل کی ’خریداری جاری رکھ سکتا ہے‘۔ اس سوال کے جواب میں چینی ترجمان گو جیاکون نے محض یہ کہا کہ بیجنگ اپنے قومی مفادات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے توانائی کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات کرے گا۔

    27 جون کو یہ پوچھے جانے پر کہ کیا چین نے ٹرمپ کے بیان کے بعد اب ایرانی تیل ’درآمد کرنا‘ شروع کر دیا ہے، تو انھوں ایک بار پھر ’قومی مفادات‘ کے متعلق بیان دہرایا۔

    چینی سرکاری میڈیا کا کیا کہنا ہے؟

    اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد اہم چینی سرکاری ذرائع ابلاغ پر ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی اور تیل کی قیمتوں کے متعلق کافی بحث دیکھنے میں آئی لیکن رپورٹنگ چین پر پڑنے والے اثرات کے بجائے عالمی اقتصادی اثرات یا ایران پر پڑنے والے اثرات کے متعلق تھی۔

    چینی سرکاری میڈیا کی رپورٹنگ میں بارہا اس بات کا حوالہ دیا گیا کہ دنیا کا 20 فیصد تیل آبنائے سے گزرتا ہے لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ اس میں سے کتنا تیل چین جاتا ہے۔

    چینی سرکاری ذرائع ابلاغ میں ایرانی تیل کی درآمد سے متعلق واحد حوالہ ریاست سے وابستہ دی پیپر کی ایک رپورٹ میں سامنے آیا۔ اس رپورٹ میں ایک مغربی ماہر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ چین ایران سے ’بڑی مقدار میں‘ تیل درآمد کرتا ہے۔

    جب چین تجارت کا حوالہ دیتا ہے تو وہ خاص طور پر ایران سے تجارت کے بارے میں بات کرنے کے بجائے ’خلیجی ممالک‘ یا ’خلیجی‘ خطے سے درآمدات کی بات کرتا ہے۔

    اسی طرح جہاں چین پر پڑنے اثرات کا حوالہ دیا جاتا ہے تو اس کے ساتھ ساتھ اکثر جاپان، جنوبی کوریا اور انڈیا یا ’علاقائی معیشتوں‘ کا بھی حوالہ دیا جاتا ہے۔

    قوم پرست گلوبل ٹائمز کا کہنا تھا کہ مغربی مبصرین آبنائے ہرمز کی ممکنہ ناکہ بندی سے چین کی توانائی کی سلامتی کو لاحق خطرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    گلوبل ٹائمز نے دلیل دی کہ چین پہلے ہی اپنی درآمدات کو متنوع بنا چکا ہے اور ذخائر میں اضافہ کر چکا ہے۔

    بین الاقوامی سطح کے چینی سرکاری نشریاتی ادارے سی جی ٹی این نے تیل کے مستقبل اور ہرمز کی اہمیت کے بارے میں کئی مضمون شائع کیے لیکن ان میں سے کسی میں بھی واضح طور پر چین کا ذکر نہیں کیا گیا۔

    شاید سب سے براہ راست جواب ممتاز مبصر اور تعلیمی ماہر جن کینرونگ کی طرف سے آیا جو ریاست سے وابستہ پلیٹ فارم گوانچا پر لکھتے ہیں۔

    ایران میں حکومت کی ممکنہ تبدیلی کے تناظر میں بات کرتے ہوئے انھوں نے لکھا کہ جو بھی اقتدار میں آئے، ایران کو اب بھی ’کھانے کے لیے پیسہ کمانا ہے، اور تیل ہمیں بیچنا پڑے گا۔‘

    انھوں نے لکھا کہ اگر سچ کہا جائے تو ایران کے تیل کا حقیقی خریدار اب اصل میں چین ہے۔

    چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گو جیاکون

    ،تصویر کا ذریعہfmprc.gov.cn

    ،تصویر کا کیپشنچینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گو جیاکون

    ’شیڈو فلیٹ‘ اور نجی ریفائنریز

    زیادہ تر مغربی میڈیا کی توجہ پرانے تیل کے ٹینکروں پر مبنی ’شیڈو فلیٹ‘ پر مرکوز رہی ہے جو جنوبی چین میں چھوٹے پیمانے پر چلنے والی ریفائنریوں تک تیل لے جاتے ہیں۔

    لیکن 13 سے 25 جون کے درمیان چینی سرکاری میڈیا پر چھپنے والے مضامین میں ’شیڈو فلیٹ‘ یا ان نجی ریفائنریوں کا کوئی حوالہ نہیں ملتا۔

    تاہم یہ اصطلاح 17 جون کو ریاستی نشریاتی ادارے چائنا سنٹرل ٹیلی ویژن (سی سی ٹی وی) پر اقتصادی پینل کے ایک مباحثے میں سامنے آئی۔

    سی سی ٹی وی کے مبصر لیو جی نے کہا کہ ایرانی برآمدات کی اکثریت اس کے شیڈو فلیٹ سے گزرتی ہے۔ تاہم انھوں نے چین کا ذکر نہیں کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کے بند ہونے کی صورت میں ایشیائی ممالک جاپان، جنوبی کوریا، چین اور انڈیا بری طرح متاثر ہوں گے۔ تاہم انھوں نے تب بھی یہ نہیں کہا کہ ایسا ایرانی تیل کی سپلائی میں کمی کی وجہ سے ہوگا۔

    شی جنپنگ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چین کا ایران میں 400 ارب ڈالرز سرمایہ کاری کا معاہدہ

    بین الاقوامی میڈیا میں اکثر 2021 کے اس معاہدے کا حوالہ دیا جاتا ہے جس کے تحت چین مبینہ طور پر رعایتی تیل کے بدلے میں 25 سالوں میں ایران میں 400 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کرے گا۔

    بیجنگ اس بارے میں بھی تفصیلات دینے سے گریزاں رہا ہے۔

    2021 میں اس سرمایہ کاری کے متعلق پوچھے جانے پر، وزارت خارجہ اور ایران میں چینی سفیر دونوں نے اس بات کی تردید کی کہ اس ڈیل میں کوئی ’مخصوص معاہدے‘ شامل ہیں۔

    اس کے بجائے، انھوں نے اسے ’میکرو فریم ورک‘ قرار دیا۔ چینی سفیر کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ ’توانائی، انفراسٹرکچر، صنعت اور ٹیکنالوجی‘ پر مرکوز ہے۔

    اس معاہدے کے دستاویز تک کبھی بھی آن لائن رسائی نہیں دی گئی ہے۔

    پچھلے دو ہفتوں میں جب توقع کی جاسکتی تھی کہ چینی میڈیا اس طرح کے کسی تاریخی معاہدے کا حوالہ دے گا تب بھی سرکاری میڈیا پر اس کا کوئی ذکر نہیں ہوا۔ صرف گوانچا پر ریاست سے وابستہ چند بلاگز میں اس بارے میں لکھا گیا۔

    ان میں سب سے نمایاں بلاگ جن کینرونگ کا تھا جنھوں نے لکھا کہ حال میں اس معاہدے کو آن لائن بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔ انھوں نے اسے ایک حقیقی معاہدے کی جگہ ’صرف ایک یادداشت‘ کے طور پر قرار دے کر اس کی اہمیت کو کم کرکے دکھانے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ چین نے ابھی تک ’حقیقی سرمایہ کاری‘ نہیں کی ہے۔

  9. ’انتہائی امیر لوگوں‘ کا ایک گروپ ٹک ٹاک خریدنے کے لیے تیار ہے: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ٹک ٹاک ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ’انتہائی امیر لوگوں‘ کا ایک گروہ ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم ٹک ٹاک خریدنے کے لیے تیار ہے۔

    امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ وہ تقریباً دو ہفتے میں اس بارے میں بتائیں گے۔

    ٹک ٹاک کی فروخت کے لیے چین کی حکومت کی منظوری درکار ہے۔ تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں صدر شی جن پنگ اس کی منظوری دے دیں گے۔

    یاد رہے کہ گذشتہ سال اپریل میں امریکی کانگریس نے ایک قانون منظور کیا تھا جس کے تحت ٹک ٹاک کو امریکہ میں صرف اس صورت میں کام کرنے اجازت ہوگی اگر وہ اسے فروخت کر دے۔

    امریکی قانون سازوں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ایپ یا اس کی مالک کمپنی بائیٹ ڈانس امریکی صارفین کا ڈیٹا چینی حکومت کے حوالے کر سکتی ہے۔ تاہم ٹک ٹاک اس کی تردید کرتا آیا ہے۔

    یہ قانون رواں سال 19 جنوری کو نافذ ہونا تھا، لیکن ٹرمپ نے بار بار اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اس کے نفاذ میں تاخیر کی۔

    اب بائیٹ ڈانس کے پاس ٹک ٹاک کو بیچنے کے لیے 17 ستمبر تک کا وقت ہے۔

    رواں سال اپریل میں ٹک ٹاک کو فروخت کرنے کی کوشش اس وقت ناکام ہو گئی جب وائٹ ہاؤس اور چین کے درمیان ٹرمپ کی جانب سے لگائے گئے محصولات کو لے کر تنازع پیدا ہو گیا تھا۔

    تاحال یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ نے جس خریدار کا ذکر کیا ہے یہ وہی ہیں جو تین ماہ قبل ٹک ٹاک کو خریدنے والے تھے۔

  10. امریکی ریاست ایڈاہو میں آگ بجھانے میں مصروف فائر فائٹرز پر فائرنگ، دو افراد ہلاک

    ایڈاہو

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی ریاست ایڈاہو کے شہر کیہ ڈالن میں آگ بجھانے کی کوششوں میں مصروف فائر فائٹرز پر فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور ایک زخمی ہو گئے ہیں۔

    کوٹینائی کاؤنٹی کے ایمرجنسی مینجمنٹ کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس کو کینفیلڈ پہاڑی پر ایک شخص کی لاش ملی ہے، بیان میں کہا گیا ہے کہ لاش کے نزدیک ایک بندوق بھی پڑی ہوئی ملی ہے۔

    اس سے قبل کوٹینائی کاؤنٹی کے شیرف رابرٹ نورس کا کہنا ہے کہ انھیں حتمی طور پر نہیں معلوم کہ کتنے حملہ آور موجود ہیں تاہم کم از کم ایک شوٹر سنائپر رائفل کی مدد سے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو نشانہ بنا رہا تھا۔

    امریکہ میں بی بی سی کے شراکت دار نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ حملہ آور کے پاس بھاری رائفل ہے اور وہ پہاڑوں میں چھپا ہوا تھا۔

    سی بی ایس کے مطابق، جدید ہیٹ سیکنگ ٹیکنالوجی سے لیس ہیلی کاپٹرز نے بھی حملہ آور کی تلاش میں حصہ لیا۔

    انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف فائر فائٹرز (ُائی اے ایف ایف) کا کہنا ہے کہ ایڈاہو میں آگ بجھانے والے عملے پر اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ آگ بھجانے کی کوششوں میں مصروف تھے۔

    آئ اے ایف ایف کا کہنا ہے کہ اس حملے کے نتیجے میں دو فائر فائٹرز ہلاک جبکہ ایک زخمی ہے جس کی سرجری ہو رہی ہے۔

  11. امریکہ اگر دوبارہ مذاکرات کرنا چاہتا ہے تو اسے ایران پر مزید حملوں کے امکان کو مسترد کرنا ہو گا: نائب ایرانی وزیر خارجہ

    ایرانی نائب وزیرِ خارجہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے نائب وزیرِ خارجہ مجید تخت روانچی کا کہنا ہے کہ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے سے قبل امریکہ کو ایران پر مزید کسی بھی حملے کا امکان خارج کرنا ہوگا۔

    مجید تخت روانچی نے بی بی سی کو بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ثالثوں کی وساطت سے ایران کو بتایا ہے کہ وہ دوبارہ مذاکرات شروع کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تاہم امریکی انتظامیہ نے اس ’انتہائی اہم سوال‘ کے بارے میں اپنی پوزیشن واضح نہیں کی ہے کہ کہیں مذاکرات کے دوران دوبارہ تو حملے نہیں کیے جائیں گے۔

    13 جون کو شروع ہونے والے اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں مسقط میں امریکہ اور ایران کے درمیان بلاواسطہ مذاکرات کا چھٹا دور رک گیا تھا۔

    بالآخر 22 جون کو امریکہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری اس فوجی تنازع میں اس وقت براہِ راست شامل ہو گیا جب اس نے ایران کی تین جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

    تخت روانچی کا کہنا تھا کہ ایران پرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودہ کرنے کی صلاحیت برقرار رکھنے پر ’اصرار‘ کرے گا۔ انھوں نے ان الزامات کو مسترد کیا کہ ایران خفیہ طور پر جوہری بم بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

    ایرانی نائب وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے مذاکرات کے دوبارہ آغاز کے لیے کوئی تاریخ طے نہیں ہوئی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ انھیں اندازہ نہیں کہ مذاکرات کے ایجنڈے میں کیا شامل ہوگا۔

    خیال رہے کہ صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات رواں ہفتے دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایران کو اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے لیے ضروری تحقیقی پروگرام کے لیے ’جوہری مواد تک رسائی سے انکار‘ کر دیا گیا ہے۔

    نائب وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ اس بارے میں بات ہو سکتی ہے کہ ایران کو کس حد تک یورینیم افزودہ کر سکتا ہے۔ ’مگر یہ کہنا کہ آپ کو [یورینیم] افزودہ نہیں کرنی چاہیے، آپ کے پاس صفر افزودگی ہونی چاہیے، اور اگر آپ اس سے اتفاق نہیں کریں گے تو ہم آپ پر بمباری کریں گے - یہ جنگل کا قانون ہے۔‘

  12. وزیراعظم شہباز شریف کی سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار سے ان کے گھر پر ملاقات

    @GovtofPakistan

    ،تصویر کا ذریعہ@GovtofPakistan

    وزیراعظم شہباز شریف نے اتوار کو سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار سے راولپنڈی میں واقع ان کے گھر پر ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات کے بارے میں باقاعدہ سرکاری اکاؤنٹ سے سوشل میڈیا پر تصاویر بھی جاری کی گئی ہیں۔ تاہم اس ملاقات میں کیا گفتگو ہوئی اس بارے میں ابھی کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔

    چوہدری نثار گذشتہ چند برسوں سے قومی سیاست میں زیادہ فعال دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ وہ 2018 کے عام انتخابات سے کچھ عرصے قبل تک مسلم لیگ ن کے ساتھ وابستہ رہے۔ ان کی مسلم لیگ اور شریف برادران سے طویل سیاسی رفاقت رہی۔

    چوہدری نثار کو شہباز شریف کے قریبی دوستوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

    @GovtofPakistan

    ،تصویر کا ذریعہ@GovtofPakistan

    چوہدری نثار علی خان سابق وزیراعظم عمران خان کے بھی زمانہ طالبعلمی کے دوست ہیں۔ مسلم لیگ ن سے دوری اختیار کرنے کے بعد چوہدری نثار نے انتخابات ضرور لڑے مگر وہ کسی اور جماعت کا حصہ نہ بنے۔

    چوہدری نثار کا تعلق راولپنڈی کے قریب چکری کے علاقے سے ہے۔

  13. آج سے پانچ جولائی تک ملک بھر میں شدید بارشوں، سیلاب، طغیانی اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ

    سیلاب کا خطرہ

    ،تصویر کا ذریعہNational Emergencies Operation Center

    نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر کے مطابق 29 جون یعنی آج سے پانچ جولائی تک ملک بھر میں شدید مون سون بارشوں اور ممکنہ سیلاب کا خطرہ ہے۔

    کشمیر، گلگت بلتستان، اسلام آباد، پوٹھوہار، ایبٹ آباد، مانسہرہ، ہری پور، بالاکوٹ، مری اور گلیات میں موسلادھار بارش، لینڈ سلائیڈنگ اور ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

  14. بلوچستان کے ضلع دکی میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں دو شدت پسند ہلاک: آئی ایس پی آر

    بلوچستان کے ضلع دکی میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں دو شدت پسند ہلاک اور باقی دو گرفتار کرلیے گئے ہیں۔

    پاکستانی فوج کے ترجمان کے مطابق بلوچستان کے ضلع دکی میں فورسز نے خفیہ اطلاعات پر آپریشن کیا اور اس دوران انڈیا کے حمایت یافتہ ’دہشت گردوں‘ کو نشانہ بنایا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق گرفتار دہشتگردوں سے اسلحہ بھی برآمد کیا گیا جبکہ علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

    گذشتہ روز یعنی سنیچر کو پاکستان کے صوبے خیبرپختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں خود کش حملے کی کوشش میں 13 سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت ہوئی تھی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق فوج کی جوابی کارروائی میں 14 شدت پسند بھی ہلاک ہوئے۔

    فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق میر علی میں فورسز کے قافلے پر ’انڈین سپانسرڈ دہشت گردوں‘ کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا۔

    انڈیا کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے پاکستان کے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

  15. اووربلنگ کے خلاف ’اپنا میٹر، اپنی ریڈنگ‘ ایپ کا افتتاح، وزیراعظم کا پی ٹی وی کی فیس بھی ختم کرنے کا اعلان

    Shehbaz Sharif

    ،تصویر کا ذریعہPTV

    پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے توانائی کے شعبے میں شفافیت کو فروغ دینے اور اووربلنگ کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے پاور سمارٹ موبائل ایپ ’اپنا میٹر، اپنی ریڈنگ‘ کا باضابطہ افتتاح کر دیا ہے۔

    اس حوالے سے منعقدہ تقریب سے وزیراعظم نے کہا کہ اداروں کو جدید بنانا اور عوامی خدمات کو ڈیجیٹلائز کرنا حکومت کی ترجیح ہے۔ انھوں نے اس ایپ کے اجرا کو توانائی کے شعبے میں ایک ’انقلابی اصلاحات‘ کا حصہ قرار دیا ہے۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میٹر ریڈنگ کا موجودہ نظام ’میٹر ریڈر کے ہاتھوں تباہ ہو چکا تھا‘ اور یہ نئی ایپ بجلی کے صارفین کو اپنی ریڈنگ خود جمع کرانے کا اختیار دے گی، جو ایک شفاف اور مؤثر طریقہ ہے۔

    وزیراعظم نے بجلی کے بلوں سے پی ٹی وی فیس کے خاتمے کا بھی اعلان کیا ہے۔ واضح رہے کہ ملک بھر میں صارفین سے ہر ماہ 35 روپے پی ٹی وی فیس وصول کی جا رہی تھی۔

    تقریباً 4 کروڑ سے زائد صارفین سے صرف پی ٹی وی فیس کی مد میں تقریبا ڈیڑھ ارب روپے تک وصول کیے جارہے تھے۔ یہ ریلیف گھریلو، کمرشل، اور تمام کیٹگریز کے صارفین کے لیے ہوگا۔

    پاور سمارٹ ایپ کیسے کام کرتی ہے؟

    @MoWP15

    ،تصویر کا ذریعہ@MoWP15

    وزارت توانائی کے مطابق یہ فیچر بجلی صارفین کو مقررہ تاریخ پر اپنے میٹر کی تصویر لے کر ایپ پر اپ لوڈ کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے، جس کی بنیاد پر ان کا ماہانہ بل جاری کیا جائے گا۔ اس نظام کا مقصد اوور بلنگ، ریڈنگ کی غلطیوں اور ریڈنگ میں تاخیر جیسے دیرینہ مسائل کا مؤثر حل فراہم کرنا ہے۔

    وزارت کے مطابق یہ صرف ایک ٹیکنالوجی فیچر نہیں بلکہ گورننس میں ایک ٹھوس اصلاح ہے، جو صارفین کو حقیقی معنوں میں بااختیار بناتی ہے۔ اس نظام سے صارفین نہ صرف اپنے بل پر نظر رکھ سکیں گے بلکہ اب وہ ریڈنگ کے عمل کے نگہبان بھی ہوں گے۔

    ایپ میں شامل نمایاں فیچرز کے مطابق اگر صارف مقررہ دن پر ریڈنگ فراہم کر دے تو اس دن کے بعد لی گئی میٹر ریڈر کی ریڈنگ کو ترجیح نہیں دی جائے گی اور صرف صارف کی فراہم کردہ ریڈنگ ہی فیڈ کی جائے گی۔

    یہ نظام خاص طور پر اُن صارفین کے لیے فائدہ مند ہے جو حکومتی سبسڈی کے مستحق ہیں۔

    وزات توانائی کے مطابق 200 یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کا بل تقریباً 2,330 روپے ہوتا ہے لیکن صرف ایک یونٹ کے اضافے پر سبسڈی ختم ہونے کے باعث بل 8,104 روپے تک جا پہنچتا ہے۔

    اس ایپ کے ذریعے یہ یقینی بنایا جا سکے گا کہ مستحقین بروقت ریڈنگ فراہم کر کے اپنی سبسڈی سے مستفید رہیں۔

    وزرات توانائی کے دعوے کے مطابق ’اپنا میٹر، اپنی ریڈنگ‘ جیسے فیچرز بجلی کے نظام میں نہ صرف شفافیت پیدا کریں گے بلکہ صارفین کو اس حد تک بااختیار بنائیں گے کہ وہ خود اپنی بلنگ کی نگرانی کر سکیں۔

  16. جسٹس سرفراز ڈوگر اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینیئر ترین جج، صدر مملکت نے منظوری دے دی

    IHC

    پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے جسٹس سرفراز ڈوگر کو اسلام آباد ہائیکورٹ کا سینیئر ترین جج کے منصب پرفائز کر دیا ہے۔ جسٹس سرفراز ڈوگر اور دیگر ذو ججز کا تبادلہ بھی مستقل قرار دے دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ ججز کی سینیارٹی کے تعین کا معاملہ صدر مملکت کو بھیجا تھا۔

    صدر مملکت کی منظوری کے بعد اب اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کی سنیارٹی لسٹ جاری کر دی ہے۔ سنیارٹی لسٹ کے مطابق منتقل ہونے والے جسٹس سرفراز ڈوگر سینیئر ترین جج ہوں گے۔ اس فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ کے پانچ ججز نے گذشتہ روز سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی ہے۔

    واضح رہے کہ 19 جون کو سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے تین ججز کا اسلام آباد ہائی کورٹ میں تبادلہ آئینی و قانونی قرار دیتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججز کی جانب سے دائر کردہ درخواستیں مسترد کردی تھیں۔

    عدالت نے اپنے اکثریتی فیصلے میں قرار دیا کہ ججز کا تبادلہ غیر آئینی نہیں ہے۔

  17. بلوچستان کے ضلع موسی خیل میں زلزلے کے جھٹکے، سینکڑوں مکانات کو جزوی نقصان

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع موسی خیل میں اتوار کے روز آنے والے زلزلے کے باعث سینکڑوں مکانات کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے جبکہ پانچ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

    پی ڈی ایم اے بلوچستان کے مطابق، اتوار کی صبح کنگری اور ضلع موسی خیل کے دیگر علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جن کی شدت 5.3 تھی۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق، زلزلے کے باعث دو مکانات کو مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔

    ضلع موسیٰ خیل کے ڈپٹی کمشنر بلال شبیر کا کہنا ہے کہ زلزلے سے نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے تفصیلی سروے کیا جارہا ہے جس کی رپورٹ پیش کی جائے گی۔

    تاہم ابتدائی طور پر انھوں نے بتایا کہ زلزلے سے سیکڑوں مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر کے مطابق، زلزلے کی وجہ سے پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔

  18. سوات میں سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے 11 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں، دو کی تلاش تاحال جاری: ریسکیو 1122

    سوات

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ریسکیو 1122 کے سوات کے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر رفیع اللہ مروت کا کہنا ہے کہ جمعہ کے روز سوات میں سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے افراد کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔

    رفیع اللہ مروت کا کہنا ہے کہ سیلابی ریلے میں 13 افراد بہہ گئے تھے جن میں سے 11 افراد کی لاشیں نکالی جاچکی ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ دو افراد تاحال لاپتہ ہیں جن کو تلاش کیا جارہا ہے۔ رفیع اللہ مروت کے مطابق، ریسکیو 1122 کے 60 اہلکار سرچ آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔

    خیبر پختونخوا کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب سے اب تک صوبے بھر میں 19 افراد ہلاک جبکہ چھ زخمی ہو چکے ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق، مرنے والوں میں چھ مرد، پانچ خواتین اور آٹھ بچے شامل ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق، بارشوں، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب سے صوبے بھر میں 56 مکانات کو نقصان پہنچا ہے جس میں سے چھ مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔

  19. ایران کی جوہری تنصیبات مکمل تباہ نہیں ہوئیں، تہران چند ماہ میں دوبارہ یورینیم افزودہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے: سربراہ آئی اے ای اے

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی کا کہنا ہے کہ ایران چند ماہ کے اندر یورینیم کی افزودگی دوبارہ شروع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    امریکی نشریاتی ادار سی بی ایس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ ہفتے کے آخر میں ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کے نتیجے میں انھیں نقصان پہنچا تھا لیکن وہ مکمل طور پر تباہ نہیں ہوئیں۔

    اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے نگراں ادارے کے سربراہ کا بیان وائٹ ہاؤس کے اس دعوے کی نفی کرتا ہے کہ امریکی حملوں نے ایران کے جوہری پروگرام کو برسوں پیچھے دھکیل دیا ہے۔

    یاد رہے کہ ایران نے آئی اے ای اے کی جانب سے بمباری کی جگہوں کے معائنہ کی درخواست کو مسترد کر دی ہے جبکہ ایرانی پارلیمنٹ نے جوہری توانائی کے نگراں ادارے کے ساتھ تعاون معطل کرنے کا قانون منظور کر لیا ہے۔

  20. غزہ میں اسرائیلی حملوں میں 81 افراد ہلاک، اسرائیلی فوج کا حماس کے عسکری ونگ کے بانیوں میں سے ایک کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    سنیچر کے روز حماس کے زیرِ انتظام چلنے والی غزہ کی وزارتِ صحت نے دعویٰ کیا کہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں 81 افراد ہلاک جبکہ 400 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

    الشفا ہسپتال کے عملے اور عینی شاہدین نے خبر رساں ایجنسیوں کو بتایا ہے کہ غزہ شہر کے ایک سٹیڈیم کے قریب حملے میں بچوں سمیت کم از کم 11 افراد ہلاک ہو گئے۔ اس سٹیڈیم کو بے گھر افراد خیموں میں رہنے کے لیے استعمال کر رہے تھے۔

    بی بی سی کی جانب سے تصدیق شدہ فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگ اپنے ہاتھوں اور کدالوں کا استعمال کرتے ہوئے ریت سے لاشیں نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    بی بی سی نے اسرائیلی فوج سے ان کا موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا ہے۔

    اس کے علاوہ، المواسی کے علاقے میں ایک اپارٹمنٹ بلاک اور ایک خیمے پر حملوں میں چودہ افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں بچے بھی شامل ہیں۔

    غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق، سنیچر کی دوپہر کو جافا سکول کے نزدیک فضائی حملے میں پانچ بچوں سمیت آٹھ افراد ہلاک ہوئے۔ اس علاقے میں سینکڑوں بے گھر غزہ کے باشندے پناہ لیے ہوئے ہیں۔

    دوسری جانب، اسرائیلی فوج نے حماس کے عسکری ونگ کے بانیوں میں سے ایک کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا ہے۔

    سنیچر کی شام اسرائیل ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے جمعہ کے روز غزہ شہر کے صابرہ علاقے میں حماس کے عسکری ونگ کے ایک سینئر رہنما حکم محمد عیسیٰ العیسیٰ کو ہلاک کر دیا ہے۔

    آئی ڈی ایف کا دعویٰ ہے کہ حکم محمد عیسیٰ العیسیٰ حماس کے عسکری ونگ کے بانی ارکان میں سے ایک تھے اور وہ حماس کی جنرل سکیورٹی کونسل کے رکن بھی تھے۔

    اسرائیل فوج کا کہنا ہے کہ العیسیٰ نے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس کے حملے کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

    حماس کی جانب سے تاحال اس بارے میں کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔