پہلگام حملہ: ’انڈیا یقینی بنا رہا ہے کہ پاکستان کو پانی کا ایک قطرہ نہ مل سکے‘، انڈین وزیر آبی وسائل

انڈیا کے وزیر برائے آبی وسائل سی آر پاٹیل نے کہا ہے کہ ’انڈین حکومت ایسی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے جس سے اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ پاکستان کو ایک قطرہ پانی نہ مل سکے۔‘

خلاصہ

  • روسی صدر پوتن اور امریکی صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو ویٹکوف کے درمیان تین گھنٹوں تک جاری رہنے والی ملاقات ختم ہو گئی ہے۔
  • پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ انڈیا کی جانب سے اشتعال انگیزی کا امکان ہے اور ہم کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
  • یوکرین کے دارالحکومت کیئو کے میئر کا کہنا ہے کہ ماسکو کے ساتھ امن معاہدے کو یقینی بنانے کے لیے ملک کو عارضی طور پر اپنا کچھ علاقہ چھوڑنا پڑ سکتا ہے۔
  • روسی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ماسکو میں کار بم دھماکے میں روسی فوج کے اعلیٰ عہدے پر فائز جنرل یاروسلاو موسکالک ہلاک ہو گئے ہیں۔
  • پہلگام حملے کے بعد انڈین اقدامات کے جواب میں اب پاکستان نے بھی انڈیا سے دو طرفہ معاہدے معطل کرنے، فضائی حدود اور سرحد بند کرنے کے علاوہ تجارت کا عمل معطل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس کے حصے کا پانی روکا گیا تو اسے جنگ کی کارروائی سمجھا جائے گا۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, انڈیا یقینی بنا رہا ہے کہ پاکستان کو پانی کا ایک قطرہ نہ مل سکے: انڈین وزیر آبی وسائل, شکیل اختر، بی بی سی اردو دلی

    Patil

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    انڈیا کے وزیر برائے آبی وسائل سی آر پاٹیل نے کہا ہے کہ ’انڈین حکومت ایسی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے جس سے اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ پاکستان کو ایک قطرہ پانی نہ مل سکے۔‘

    پہلگام حملے کے بعد انڈیا اور پاکستان کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور انڈیا کی جانب سے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے پر عملدرآمد کو معطل کرنے سے سلسلے میں انڈیا میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد آبی وسائل کے وزیر سی آر پاٹل نے کہا کہ ’انڈین وزیر اعظم مودی نے اس سلسلے میں کئی ہدایات جاری کی تھیں اور یہ اجلاس اسی پر عملدرآمد پر غور کرنے کے لیے ہوا تھا۔‘

    وزیر آبی وسائل پاٹیل کا اس بارے میں مزید کہنا تھا کہ ’اس کے لیے مختصر، درمانی اور طویل مدت کے تین مرحلے کی حکمت عملی وضع کی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے انڈیا سے ایک قطرہ پانی بھی پاکستان نہ جا سکے۔‘

    اس اجلاس کی صدارت انڈیا کے وزیر داخلہ امت شاہ نے کی تھی اور اس اجلاس میں انڈین وزیر خارجہ بھی شریک تھے۔ اجلاس میں امت شاہ نے ان اقدامات کے موثر نفاذ کے لیے کئی تجاویز پیش کیں۔

  2. بریکنگ, ’مودی سن لو، دریائے سندھ سے ہمارا پانی بہے گا یا پھر آپ کا خون‘: بلاول بھٹو

    Bilawal Bhutto

    ،تصویر کا ذریعہPPP Media

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ ’دریائے سندھ پر انڈیا نے ایک اور حملہ کرنے کی کوشش کی ہے میں کہنا چاہوں گا کہ دریائے سندھ ہمارا ہے اور یہ ہمارا رہے گا، اس دریا سے ہمارا پانی بہے گا یا ان کا خون بہے گا۔‘

    سکھر میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دریائے سندھ پر ایک اور حملہ ہوا ہے، اس دفعہ انڈیا کی طرف سے سندھو پر حملہ ہوا ہے، انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں دہشتگردی کا واقعہ ہوا تھا، جس کا الزام نئی دہلی نے پاکستان پر لگایا۔

    انھوں نے کہا کہ انڈیا کے وزیر اعظم مودی نے اپنی کمزوریاں چھپانے کے لیے جھوٹے الزامات لگائے، جس کے بعد انڈیا نے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا اعلان کر دیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ انڈیا کو کہنا چاہوں گا کہ دریائے سندھ ہمارا ہے اور یہ ہمارا رہے گا، اس دریا سے ہمارا پانی بہے گا یا ان کا خون بہے گا، ایسا نہیں ہوسکتا کہ ایک دن فیصلہ کرے کہ آپ سندھ طاس معاہدے کو نہیں مانتے، نہ بین الاقوامی سطح پر یہ مانا جائے گا، نہ پاکستان کے عوام یہ مانیں گے۔

    چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ جیسے ہم نے پاکستان کے شہروں اور گلیوں میں دریائے سندھ پر آواز اٹھائی اور وفاقی حکومت کو قائل کیا کہ وہ نئی نہریں نہیں بنائے گی، ویسے ہی جدوجہد کریں گے، پاکستان کے عوام بہادر لوگ ہیں، ہم انڈیا کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے، سرحد پر ہماری افواج آپ کو منہ توڑ جواب دیں گی۔

    چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ تمام صوبے مانیں گے تو نہریں بنیں گی، یہ بات ہو چکی ہے کہ یہ حکومت پاکستان کی پالیسی ہے کہ آپ کی مرضی کے بغیر کوئی نئی کینالز نہیں بنیں گی۔

    انھوں نے کہا کہ یہ پُرامن جمہوری جدوجہد کی کامیابی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل میں باہمی رضامندی کے بغیر دریائے سندھ سے کوئی نہر نہیں بنے گی۔

  3. پشین میں سی ٹی ڈی کی کارروائی میں نو شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ, محمد کاظم، بی بی سی کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع پشین میں سی ٹی ڈی نے ایک کارروائی کرتے ہوئے اس میں نو شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    سرکاری حکام کے مطابق یہ افراد شدت پسند تھے جو کہ سی ٹی ڈی کے ساتھ مقابلے میں مارے گئے لیکن تاحال آزاد ذرائع سے ان افراد کے مقابلے میں مارے جانے کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

    میڈیا کو سرکاری حکام کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق یہ تمام افراد پشین میں بوستان کے قریب خانی بابا کے علاقے میں مارے گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان کے ٹھکانے سے اسلحہ و گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا ہے۔

    ان تمام افراد کی لاشوں کو سول ہسپتال کوئٹہ کے مردہ خانے میں منتقل کیا گیا ہے تاحال ان افراد کی شناخت نہیں ہوئی ہے۔

    دریں اثنا وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے خانی بابا پشین میں سی ٹی ڈی کی کارروائی پر اظہارِ اطمینان اظہار کیا کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ خفیہ معلومات پر مبنی آپریشن سے ایک بڑا سانحہ ہونے سے روکا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک سرگرم رہیں گے اور امن دشمنوں کے عزائم کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔س

  4. بلوچ یکجہتی کمیٹی اور بی این پی کا کارکنوں کی رہائی تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان, محمد کاظم، بی بی سی کوئٹہ

    بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف بلوچستان نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام گوادر میں احتجاجی جلسہ منعقد کیا گیاجبکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام دس سے زائد شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔

    بی این پی کے زیر اہتمام جمعہ کی شام گوادر میں ملاّ فاضل چوک پر جلسہ منعقد ہوا جس میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ جلسے کے شرکاء سے پارٹی کے صدر سردار اخترمینگل اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے بی وائی سی کے رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاری کی مذمت کی۔

    مقررین کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں ان گرفتاریوں اور مبینہ جبر کا مقصد لوگوں کو ان کی جدوجہد سے دستبردار کرنا ہے لیکن بلوچستان کے لوگوں کو نہ پہلے ان کی جدوجہد سے دستبردار کروایا جاسکا اور نہ ہی آئندہ ان کو دستبردار کروایا جاسکے گا۔

    سرداراخترمینگل نے کہا کہ بی وائی سی کی خواتین رہنماؤں اور کارکنوں کی رہائی تک ان کا احتجاج جاری رہے گا۔

    بلوچ یکجہتی کمیٹی کی کال پر مستونگ ، نوشکی ، پنجگور، تربت ، چاغی سمیت دس سے زائد شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے ۔ان مظاہروں میں خواتین نے بھی شرکت کی ۔

    مظاہرین نے ڈاکٹر ماہ رنگ اور بی وائی سی کے تمام گرفتار رہنماؤں اور کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

    ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی بہن اور وکیل کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے دیگر گرفتار رہنماؤں نے ہدہ جیل میں بطور احتجاج بھوک ہڑتال شروع کی ہے۔

    دوسری جانب بلوچستان ہائیکورٹ نے بلوچ یکجہتی کمیٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے 96 رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف ایک آئینی درخواست پر نوٹس جاری کیا ہے۔

  5. صدر پوتن اور ویٹکوف کے درمیان ملاقات: روس اور یوکرین میں براہ راست مذاکرات کے امکان پر بات چیت

    پوتن، ویٹکوف

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    روسی صدر پوتن اور امریکی صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو ویٹکوف کے درمیان تین گھنٹوں تک جاری رہنے والی ملاقات ختم ہو گئی ہے۔

    صدر پوتن کے معاون یوری اوشاکوف جو اس ملاقات میں شامل تھے کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات تعمیری رہی۔

    ان کا کہنا ہے کہ دیگر معاملات کے علاوہ دونوں رہنماؤں نے یوکرین اور روس کے درمیان براہ راست مذاکرات کے امکان پر بات چیت کی۔

    اوشاکوف کا کہنا ان مذاکرات نے روس اور امریکہ کو نہ صرف یوکرین کے معاملے بلکہ دیگر معاملات پر بھی ایک دوسرے کے مؤقف کے قریب لایا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ روس اور امریکہ کے درمیان مختلف سطحوں پر نتیجہ خیز بات چیت جاری رہے گی۔

  6. کوئٹہ کے علاقے مارگٹ میں بم حملے میں چار سکیورٹی اہلکار ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع کوئٹہ کے علاقے مارگٹ میں بم کے ایک دھماکے میں کم از کم چارسکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے۔

    ضلعی انتظامیہ کے ایک سینیئر آفسر نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس واقعے میں تین اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    کوئٹہ پولیس کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا کہ نامعلوم افراد نے کوئٹہ شہر سے اندازاً 25 کلومیٹر دور مارگٹ میں ڈیگاری کراس کے علاقے میں دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ یہ دھماکہ خیز مواد اس وقت پھٹ گیا جب سکیورٹی فورسز کی ایک گاڑی وہاں سے گزررہی تھی۔

    ان کا کہنا تھا کہ دھماکے میں گاڑی میں سوار کم از کم چار اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوگئے۔

    خیال رہے کہ مارگٹ کوئٹہ شہر کے مشرق میں واقع ہے، اس علاقے میں بڑی تعداد میں کوئلے کی کانیں ہیں۔ کوئلہ کانوں میں کام کرنے والے کان کنوں کے تحفظ کے لیے اس علاقے میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی بڑی تعداد بھی تعینات ہے۔

    ماضی میں اس علاقے میں بم حملوں اور اس نوعیت کے دیگر سنگین واقعات کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے قبول کی جاتی رہی ہے۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بلوچستان میں بدامنی کا یہ دوسرا بڑا واقعہ ہے۔

    گذشتہ روز بلوچستان کے ضلع قلات میں بم دھماکے کے ایک واقعے میں دو خواتین سمیت تین شہری ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے تھے۔

  7. پہلگام حملہ: اشتعال انگیزی کا امکان ہے، ہم کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں، خواجہ آصف

    KHAWAJA ASIF

    پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ امید ہے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان صورتحال اشتعال انگیزی کی جانب نہیں جائے گی تاہم اس کا امکان ہے اور ہم کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پہلے سے تیار ہیں۔

    انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں حملے کے بعد انڈین اقدامات اور پاکستان کے ردعمل کے حوالے سے بی بی سی نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ ہم بس اسی کا جواب دے رہے ہیں جو انڈیا نے پچھلے 24 گھنٹوں کے درمیان کیا ہے۔

    ’ہمیں اس پر جواب دینا ہو گا اسی انداز اور زبان میں۔‘

    پاکستانی فوج ممکنہ اشتعال یا لڑائی سے نمٹنے کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے؟

    اس سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہم پہلے ہی تیار ہیں ہمیں تیاری کی ضرورت نہیں، ہم کسی بھی قسم کے واقعے سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔‘

    تاہم پاکستانی وزیر دفاع نے انڈین پولیس کی جانب سے پہلگام حملے میں مبینہ طور پر دو پاکستانیوں کے ملوث ہونے کے نوٹسز کے بارے میں کہا کہ ہمارے علم میں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔

    انڈیا کا الزام ہے کہ پاکستان کشمیر میں مسلح عکسریت پسند گروہوں کو مسلح کر رہا ہے یا انھیں مالی معاونت دے رہا ہے۔

    اس نکتے پر بات کرتے ہوئے پاکستانی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ انڈیا میں پاکستان کی جانب سے دراندازی ناممکن ہے۔ کیونکہ دونوں ممالک کی سرحد پر سینکڑوں یا ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں فوجی کھڑے ہیں۔

    پاکستانی سرزمین پر موجود عسکریت پسند گروپوں جنھوں نے ماضی میں کشمیر میں حملے کیے کے بارے میں پاکستانی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ وہ غیر ضروری ہیں، ماضی کی بات ہیں۔

    انڈیا کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو ختم کرنے کے اعلان کو پاکستانی وزیر دفاع نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ یہ معاہدہ زندہ رہے۔

    ’یہ معاہدہ ایک کامیاب معاہدہ ہے، ہم اس کے لیے ورلڈ بینک کے پاس جائیں گے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ پانی کا حصول ہمارا حق ہے اور انڈیا نے اس کو معاہدے میں تسلیم کیا ہے۔

  8. ماسکو کے ساتھ امن معاہدے کے لیے ملک کو عارضی طور پر اپنا کچھ علاقہ چھوڑنا پڑ سکتا ہے: یوکرینی میئر

    یوکرین میئر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یوکرین کے دارالحکومت کیئو کے میئر کا کہنا ہے کہ ماسکو کے ساتھ امن معاہدے کو یقینی بنانے کے لیے ملک کو عارضی طور پر اپنا کچھ علاقہ چھوڑنا پڑ سکتا ہے۔

    یہ پہلا موقع ہے جب یوکرین کے کسی اعلیٰ عہدیدار اس قسم کے خیال کو ظاہر کیا ہے۔

    انھوں نے بی بی سی ریڈیو 4 کی اینا فوسٹر کو بتایا کہ 'ایک منظر نامہ یہ ہے کہ علاقہ چھوڑ دیا جائے۔‘

    تاہم وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’یہ منصفانہ نہیں ہے، لیکن امن کے لیے، عارضی امن کے لیے، شاید یہ ایک حل ہو سکتا ہے۔‘

    خیال رہے کہ یوکرین پر امریکہ اور کریملن کی جانب سے غیر معمولی دباؤ ہے کہ وہ اپنے وسیع معدنی ذخائر کی کان کنی کے لیے زمین کی مراعات اور حقوق کو قبول کرے۔

    اس ہفتے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اس دباؤ میں اضافہ کرتے ہوئے علاقائی حدود پر بات کی تھی۔

    یاد رہے کہ کیف کے میئر اور زیلنسکی سیاسی مخالفین ہیں۔ میئر نے بار بار صدر اور ان کی ٹیم پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ان کے اختیارات کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

  9. ماسکو کار بم دھماکے میں روسی جنرل ہلاک ہو گئے

    روسی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ماسکو میں کار بم دھماکے میں روسی فوج کے اعلیٰ عہدے پر فائز جنرل یاروسلاو موسکالک ہلاک ہو گئے ہیں۔

    وہ روس کے مرکزی آپریشنل ڈیپارٹمنٹ کے نائب سربراہ تھے۔

    انھوں نے سنہ 2015 میں یوکرین کے ساتھ پیرس میں ہونے والے مذاکرات کی قیادت کی تھی۔

    خیال رہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد یہ پہلا موقع نہیں جب روسی فوجی حکام میں سے کسی کو نشانہ بنایا گیا ہو لیکن ماسکو میں کسی کو ٹارگٹ کر کے حملہ کیے جانے کے کم ہی واقعات سامنے آئے ہیں۔

    17 دسمبر 2024 کوجنرل ایگور کیریلوف جو روس میں تابکاری، کیمیائی اور حیاتیاتی تحفظ کے دستوں کے سربراہ تھے کو ماسکو میں ان کے اپارٹمنٹ کے باہر الیکٹرک سکوٹر میں چھپائے گئے بم کے ذریعے نشانہ بنایا گیا تھا۔

    اس سے چند روز قبل ایک معروف روسی میزائل سائنسدان میخائل شٹسکی کو ماسکو کے قریب ایک جنگل میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

  10. ارشد ندیم کو مدعو کرنے پر انڈیا میں نفرت انگیز رویوں کا سامنا کرنا پڑا: نیرج چوپڑا

    نیرج چوپڑا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا کے جیولن سٹار نیرج چوپڑا نے کہا ہے کہ انھیں اپنے پاکستانی حریف ارشد ندیم کو اپنے نام سے منسوب ایک ٹورنامنٹ میں مدعو کرنے پر نفرت انگیز رویے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    ایکس پر پیغام میں نیرج نے کہا کہ انھوں نے اگلے ماہ بنگور میں منعقد ہونے والے ’نیرج چوپڑا کلاسک‘ جیولن ٹورنامنٹ میں اولمپیک گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم کو پہلگام میں حملے سے دو روز قبل مدعو کیا تھا۔

    انھوں نے کہا کہ ’میں کم بولتا ہوں مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں کسی غلط چیز پر آواز نہیں اٹھاؤں گا، خاص کر جب کوئی میری محب الوطنی اور میرے خاندان کی عزت و احترام پر سوال اٹھائے۔‘

    جمعرات کی شام کو جاری شرکا کی حتمی فہرست سے ارشد ندیم نام غائب تھا۔ واضح نہیں کہ یہ اقدام پہلگام حملے کے تناظر میں لیا گیا ہے۔

    نیرج نے کہا کہ ارشد ندیم کو مدعو کرنے کے ان کے فیصلے پر انڈیا میں کافی بحث ہو رہی ہے اور کئی لوگوں نے ان کے خاندان کے خلاف بد زبانی کی ہے۔

    اپنے موقف کو واضح کرتے ہوئے انھوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ایک بیان پوسٹ کیا جس میں کہا کہ یہ دعوت نامہ پہلگام میں حملے سے قبل دیا گیا تھا۔

    انھوں نے کہا کہ ’میں نے ارشد کو جو دعوت نامہ دیا تھا وہ ایک کھلاڑی کا دوسرے کھلاڑی کے لیے تھا۔ اس سے زیادہ نہیں، اس سے کم نہیں۔‘

    انھوں نے لکھا کہ ’گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران ہونے والے واقعات کے بعد ’نیرج چوپڑا کلاسک‘ میں ارشد کی موجودگی کا کوئی سوال ہی نہیں۔‘

    نیرج چوپڑا کلاسک کیا ہے؟

    نیرج چوپڑا کلاسک ایونٹ پہلے ہریانہ میں ہونا تھا۔ لیکن اب یہ تقریب 24 مئی سے بنگلورو میں منعقد ہونے والی ہے۔

    اس کی معلومات نیرج چوپڑا نے گذشتہ ہفتے دی تھی۔ اس سے قبل ارشد ندیم کا نام ان لوگوں میں شامل تھا لیکن اب 24 اپریل کو جاری ہونے والی فہرست میں ارشد کا نام نہیں تھا۔

    اخبار انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق نیرج چوپڑا کلاسک میں شرکت کرنے والے کھلاڑیوں کے نام درج ذیل ہیں:

    • اینڈرسن پیٹرز، گریناڈا
    • تھامس روہلر، جرمنی
    • جولیس یگو، کینیا
    • کرٹس تھامسن، امریکہ
    • جینکی ڈائن، جاپان
    • لوئیز دا سلوا، برازیل
    • رمیش، سری لنکا
  11. مبینہ طور پاکستان میں حراست میں لیے گئے انڈین بی ایس ایف اہلکار کے والدین کی بیٹے کی بحفاظت واپسی کی اپیل, پربھاکر منی تیواری، کولکتہ سے بی بی سی ہندی کے لیے

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہSanjay Das

    ،تصویر کا کیپشناہلکار کے اہلخانہ

    پاکستان میں رینجرز کی جانب سے مبینہ طور پر حراست میں لیے جانے والے انڈین بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے اہلکار پرنم کمار ساؤ کے والد انڈین حکومت سے اپنے بیٹے کی بحفاظت واپسی کو یقینی بنانے کی اپیل کی ہے۔

    یاد رہے کہ انڈیا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے یہ دعوی کیا تھا کہ پاکستانی رینجرز نے بی ایس ایف کے اہلکار کو اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ غلطی سے پنجاب میں سرحد عبور کر کے پاکستانی علاقے میں داخل ہوا۔

    انڈیا حکام کا کہنا ہے کہ اِس وقت اس اہلکار کی رہائی کے لیے انڈین اور پاکستانی فورسز میں مذاکرات جاری ہیں۔

    حراست میں لیے گئے اہلکار کی اہلیہ نے بھی مرکزی اور ریاستی حکومتوں سے اپنے شوہر کی محفوظ اور فوری واپسی کی اپیل کی ہے۔

    پرنم کمار ساؤ کے والد کے مطابق اُن کا بیٹا گذشتہ ماہ چھٹی پر گھر آیا تھا اور چھٹی گزارنے کے بعد 31 مارچ کو وہ ڈیوٹی پر واپس چلا گیا تھا۔

    پرنم کی اہلیہ نے بتایا کہ پہلگام کے واقعے کے بعد ان کی اپنے شوہر سے فون پر بات ہوئی تھی۔ مگر بدھ کی رات ان کے شوہر کے ایک دوست نے انھیں فون پر مطلع کیا کہ وہ پاکستان رینجرز کی تحویل میں ہے۔

    اہلکار کی والدہ کا کہنا تھا کہ انھوں نے بدھ کی رات اپنے بیٹے کو کال کی لیکن کوئی جواب نہیں آیا اور پھر رات گئے انھیں بی ایس ایف کے ایک سینیئر افسر نے فون پر اس واقعے کے بارے میں بتایا۔

    مرکزی وزیر سکانتا مجمدار نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس اکاؤنٹ پر لکھا کہ ’ایک بہادر بی ایس ایف جوان کو پاکستانی رینجرز نے حراست میں لے لیا ہے۔ آج میں نے ان کے اہلخانہ سے بات کی اور انھیں یقین دلایا کہ وہ تنہا نہیں ہیں۔ حکومت ہند ان کے ساتھ کھڑی ہے۔‘

  12. پاکستان کی مسلح افواج منھ توڑ جواب دینے کے لیے تیار ہیں: سینیٹ میں قرارداد منظور

    سینیٹ

    پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ نے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں سیاحوں پر حملے سے متعلق انڈین الزامات مسترد کیے ہیں۔

    سینیٹ میں متفقہ طور پر منظور کی گئی اس قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پاکستان دہشتگردی کی ہر شکل میں بھرپور مذمت کرتا ہے اور بے گناہ شہریوں کا قتل پاکستان کے اصولوں کے منافی ہے۔

    پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی اس قرارداد میں سندھ طاس معاہدے کی معطلی کی مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ ’پاکستان اپنی خودمختاری اور سالمیت کے خلاف کسی بھی اقدام پر بھرپور اور موثر جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔‘

    قرارداد میں کہا گیا ہے کہ انڈیا کی آبی جارحیت یا فوجی مہم جوئی کی صورت میں منھ توڑ جواب دیا جائے گا۔ ’قومی خودمختاری پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔‘

    اس قرارداد میں الزام لگایا گیا کہ انڈیا پاکستان سمیت مختلف ممالک میں دہشتگردی اور ٹارگٹ کلنگ کی کارروائیوں میں ملوث ہے۔ پاکستان نے اس پر انڈیا کو جوابدہ ٹھہرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

    قرارداد کی منظوری کے بعد نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پانی 24 کروڑ پاکستانیوں کی لائف لائن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انڈیا نے براہ راست پاکستان کا نام نہیں لیا اور ایسے کوئی شواہد نہیں کہ پاکستان کو اس حملے سے لنک کیا جاتا۔ ان کا کہنا تھا کہ انڈیا نے پاکستان کے خلاف اقدام کیے یعنی بلواسطہ طور پر پاکستان پر الزام لگایا ہے۔

    اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ مستقبل کی جنگیں پانی پر ہوں گی۔ ان کے مطابق اعتراضات کے باوجود دونوں ممالک سندھ طاس معاہدے کا احترام کرتے ہیں مگر اسے ختم کرنا اقدام جنگ سمجھا جائے گا۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’ہم نے خبردار کیا ہے کہ ہم بھی باہمی معاہدے ختم کر دیں گے۔‘ اس سے متعلق انھوں نے شملہ معاہدے کا ذکر کیا۔

  13. انڈیا کے یکطرفہ رویے سے علاقائی امن کو نقصان پہنچ سکتا ہے: پاکستانی دفتر خارجہ

    پاکستان کے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ انڈیا کے ’یکطرفہ رویے سے علاقائی امن و استحکام کو نقصان کا اندیشہ ہے۔‘

    اسلام آباد میں ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے اپنی پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ اگر انڈیا نے پانی روکا تو بھرپور جواب دیا جائے گا جبکہ اسے ’اقدام جنگ سمجھا جائے گا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی انڈیا کا ’غیر ذمہ دارانہ اقدام ہے۔‘

    ’انڈیا نے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل کیا۔ اس یکطرفہ رویے سے علاقائی امن و استحکام کو نقصان کا اندیشہ ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج ملکی سلامتی اور دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔

    پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ واہگہ بارڈر پر ہر قسم کا آمدورفت بند ہے، پاکستان کی فضائی حدود انڈین پروازوں کے لیے بند ہے جبکہ سارک سکیم کے تحت انڈیا شہریوں کے لیے تمام ویزے بھی معطل کر دیے گئے ہیں۔ تاہم سکھ یاتریوں کو اس اقدام سے مستثنیٰ ہوں گے۔

    خیال رہے کہ پہلگام حملے کے بعد انڈیا نے پاکستانی شہریوں کے ویزے معطل کیے تھے جبکہ سندھ طاس معاہدے پر عملدرآمد روکنے کا اعلان کیا تھا۔

  14. انڈین آرمی چیف کی سرینگر آمد، خطے میں امن و امان اور سکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دی جائے گی

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈین آرمی چیف جنرل اوپیندر دویدی پہلگام حملے کے تناظر میں صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے جمعہ کی صبح انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر پہنچے ہیں۔

    22 اپریل کو انڈیا کے سیاحتی مقام پر ہونے والے عسکریت پسندوں کے حملے میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں زیادہ تر سیاح تھے۔

    انڈیا کے سرکاری خبر رساں ادارے پرس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) کے مطابق ’شمالی کمان کے فوجی کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ایم وی سچندر کمار بھی آرمی چیف کے ہمراہ کشمیر پہنچے ہیں۔‘

    پی ٹی آئی کے مطابق ’انڈین آرمی چیف جموں و کشمیر میں سلامتی کی صورتحال کا جامع جائزہ لیں گے جبکہ فوج کے اعلیٰ کمانڈر انھیں سکیورٹی صورتحال اور منگل کو ہونے والے پہلگام حملے کے بعد اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کریں گے۔‘

  15. پاکستان اور انڈیا زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں: اقوام متحدہ

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس
    ،تصویر کا کیپشناقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان موجودہ صورتحال پر تشویش ظاہر کی ہے

    اقوام متحدہ نے پاکستان اور انڈیا سے ’زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ‘ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ترجمان سٹیفن ڈویارک نے کہا کہ سیکریٹری جنرل نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دونوں حکومتوں سے ’براہ راست رابطہ نہیں کیا۔‘ لیکن انھوں نے ’تشویش کے ساتھ صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔‘

    جمعرات کی ایک نیوز کانفرنس کے دوران اقوام متحدہ پہلگام میں حملے کی مذمت کر چکا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ دونوں ملکوں کو ’زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور یہ یقینی بنانا چاہیے کہ صورتحال مزید خراب نہ ہو۔‘

    ’ہمارا خیال ہے کہ معنی خیز باہمی روابط کے ذریعے پاکستان اور انڈیا کے درمیان کسی بھی مسئلے کو پُرامن طریقے سے حل کیا جا سکا ہے۔‘

    ’امریکہ تیزی سے بدلتی صورتحال کی نگرانی کر رہا ہے‘

    پاکستان اور انڈیا کے درمیان حالیہ تناؤ کا تذکرہ امریکی محکمۂ خارجہ کی پریس بریفنگ کے دوران بھی ہوا۔ ایک صحافی نے سوال پوچھا کہ کیا امریکہ سمجھتا ہے کہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں حملے کا ممکنہ ذمہ دار پاکستان ہے اور کیا دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تناؤ کم کرنے کے لیے امریکہ کوئی کردار ادا کر رہا ہے۔

    اس پر امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے اپنے ابتدائیے کا حوالہ دیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ پہلگام میں ’دہشتگردوں کے حملے پر صدر ٹرمپ اور سیکریٹری روبو نے واضح کیا ہے کہ امریکہ انڈیا کے ساتھ کھڑا ہے اور دہشتگردی کے تمام اقدام کی مذمت کرتا ہے۔‘

    ٹیمی بروس نے کہا کہ امریکہ ’تیزی سے بدلتی صورتحال کی نگرانی کر رہا ہے۔‘

    ’ہم کشمیر یا جموں کی حیثیت پر کوئی پوزیشن نہیں لے رہے۔ ہم آج اس بارے میں اتنا ہی کہہ سکتی ہوں۔‘

    جب ترجمان سے پوچھا گیا کہ اپنے پہلے دور صدارت میں ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور انڈیا کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی تھی تو کیا اس بار وہ دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ میں کمی کے لیے کوئی اقدام اٹھائیں گے تو اس پر ٹیمی بروس نے کہا کہ میں بارے میں تبصرہ نہیں کروں گی، جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے۔۔۔ صدر، سیکریٹری اور نائب سیکریٹری نے کچھ باتیں کہی ہیں۔ انھوں نے اپنی پوزیشن واضح کی ہے۔‘

  16. غزہ پر اسرائیلی بمباری میں کم از کم 50 افراد ہلاک، متعدد زخمی

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    غزہ کی پٹی میں جمعرات کے روز اسرائیلی حملوں میں کم از کم 50 فلسطینی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

    غزہ کے شمالی علاقے جبالیہ کے بازار میں ایک پولیس سٹیشن پر میزائل حملے کے نتیجے میں نو افراد ہلاک ہو گئے۔

    اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) نے کہا ہے کہ انھوں نے جبالیہ میں حماس اور اس کے اتحادی فلسطینی اسلامی جہاد کے ’کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر‘ کو نشانہ بنایا جسے حملوں کی منصوبہ بندی کے لئے استعمال کیا جا رہا تھا۔‘

    بعد ازاں حماس کے زیر انتظام سول ڈیفنس ایجنسی نے کہا کہ ’جبالیہ کے علاقے ارد حلوا میں ایک گھر پر بم باری کے نتیجے میں مزید 12 افراد ہلاک ہوئے جبکہ مزید 29 افراد کے ہلاک ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔‘

    جمعرات کو جنوبی غزہ کے دورے کے دوران آئی ڈی ایف کے چیف آف سٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے فوجیوں سے کہا کہ ’ہم اپنا آپریشنل دباؤ جاری رکھیں گے اور ضرورت کے مطابق حماس پر اپنی گرفت مضبوط کریں گے اور اگر ہمیں یرغمالیوں کی واپسی میں پیش رفت نظر نہیں آتی تو ہم فیصلہ کن نتیجے تک پہنچنے تک اپنی سرگرمیوں کو مزید شدید اور اہم آپریشن میں توسیع کریں گے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’حماس اس جنگ کو شروع کرنے کی ذمہ دار ہے حماس اب بھی یرغمالیوں کو بے رحمی سے یرغمال بنا رہی ہے اور غزہ میں آبادی کی سنگین صورتحال کی ذمہ دار ہے۔‘

    بعد ازاں آئی ڈی ایف نے جبالیہ کے شمال مغرب میں واقع دو علاقوں کے رہائشیوں کو فوری طور پر علاقہ خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔

    دوسری جانب جمعرات کو ایک اور واقع میں آئی ڈی ایف نے اعتراف کیا کہ اسرائیلی ٹینکوں کی گولہ باری میں اقوام متحدہ کے لئے کام کرنے والے بلغاریہ کے ایک اہلکار کو ہلاک اور پانچ دیگر افراد زخمی ہوئے۔

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تاہم آئی ڈی ایف نے ابتدائی طور پر وسطی غزہ کے قصبے دیر البلاح میں اقوام متحدہ کے گیسٹ ہاؤس پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا تھا۔

    غزہ کی حماس کے زیر انتظام وزارت صحت نے جمعرات کی صبح کہا کہ دو ماہ سے جاری جنگ بندی کے خاتمے کے بعد 18 مارچ کو اسرائیل کی جانب سے غزہ پر دوبارہ حملے شروع کرنے کے بعد سے اب تک کم از کم 1978 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

  17. ایران کے پاس صرف دو آپشنز ہیں جن میں سے ایک انتہائی خطرناک ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے دوران ’انتہائی سنجیدہ ملاقاتیں‘ ہوئی ہیں۔

    امریکی کی جانب سے یہ بیان 24 مئی کو ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے سفیر سٹیو وٹٹیکر کے درمیان مذاکرات کے تیسرے دور سے دو دن قبل سامنے آیا ہے۔

    ناروے کے وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات کے موقع پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم ایران کے ساتھ بہت اچھا کام کر رہے ہیں اور بہتری کی اُمید رکھتے ہیں۔‘

    انھوں نے ایک بار پھر کہا کہ ’ایران کے پاس صرف دو آپشنز یا راستے ہیں جن میں سے ایک بالکل بھی اچھا آپشن نہیں ہے۔‘

    ٹرمپ کے مطابق ’ہم (ایران کے ساتھ معاہدے کے بعد) بہت اچھا فیصلہ کرسکتے ہیں اور بہت ساری زندگیاں بچائی جاسکتی ہیں۔‘

    امریکی وزیر خارجہ مارک روبیو نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ایک حالیہ پریس کانفرنس کے موقع پر کہا کہ ’اس وقت تمام عالمی رہنماؤں میں سے کسی نے بھی جنگ کو روکنے کے لئے ٹرمپ کی طرح محنت نہیں کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اب ایران سے بات کر رہے ہیں یا روس اور یوکرین کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں تاکہ امن قائم کیا جا سکے۔‘

    واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے سات سال قبل جوہری معاہدے سے دستبرداری اختیار کی تھی اور ایران پر دوبارہ سے جوہری پابندیاں عائد کردی تھیں۔ اب ایک مرتبہ پھر انھوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر کوئی نیا معاہدہ نہ ہوا تو وہ ایران پر حملہ کریں گے۔

  18. کیئو پر روسی میزائل حملہ: ’نہ تو یہ مناسب وقت تھا اور نہ ہی ضروری‘ ڈونلڈ ٹرمپ

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ کیئو پر مہلک روسی حملوں سے ’خوش نہیں‘ ہیں اور صدر ولادیمیر پوتن کو ’ایسا نہیں کرنا‘ چاہئے، تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ آیا روس کے خلاف مزید کوئی کارروائی یا کسی بھی قسم کی پابندی لگائی جا سکتی ہے یا نہیں۔

    جمعرات کی شب یوکرین کے دارالحکومت کیئو پر ہونے والے روسی حملوں میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔

    امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے لیے فریقوں پر ’بہت زیادہ دباؤ‘ ڈال رہے ہیں۔

    یہ دونوں ممالک کے درمیان امن معاہدے کو آگے بڑھانے کی کوششوں میں تازہ ترین رکاوٹ ہے، جس کے بارے میں بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے گزشتہ سال اپنی انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ وہ دونوں مُمالک کے درمیان امن معاہدہ کروانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

    روسی صدر ولادیمیر پوتن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ٹرمپ نے ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’یہ سب ضروری نہیں تھا اور نہ ہی یہ کوئی مناسب وقت ہے، ولادیمیر، رک جائیں!‘

    یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب یوکرین اور صدر ولادیمیر زیلنسکی پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ امن معاہدے کے حصے کے طور پر اپنی ہی سرزمین پر روسی قبضے کو قبول کریں۔

    جمعرات کے روز ٹرمپ ناروے کے وزیر اعظم جونس گاہر سٹرے کے ہمراہ وائٹ ہاؤس میں موجود تھے جہاں اُن کا کہنا تھا کہ ’ہماری ہمدردی کسی ایک کے لیے بھی نہیں ہے ہمیں فکر بس جانوں کے ضیاع کی ہے۔‘

    اگرچہ انھوں نے پوتن سے مایوسی کا اعتراف کیا ٹرمپ نے کہا کہ وہ ’یہ دیکھنے کے لئے ایک ہفتہ انتظار کریں گے کہ آیا ہمارے پاس کوئی معاہدہ ہے، لیکن اگر بم دھماکے ختم نہیں ہوتے تو ’حالات مختلف ہوں گے۔‘

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    واضح رہے کہ 24 اپریل کی شب یوکرین کے دارالحکومت کیئو میں روسی میزائل اور ڈرون حملے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور بچوں سمیت 80 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

    کیئو کے میئر ویتالی کلٹسکو نے اس حملے کے بعد کہا تھا کہ ’ڈرون کا ملبہ گرنے سے متعدد مقامات پر آگ لگ گئی اور خدشہ ہے کہ لوگ رہائشی عمارت کے ملبے تلے دب گئے ہیں۔‘

    میئر نے بتایا تھا کہ ’شمال مشرقی شہر خرکیف میں بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں جن میں کم از کم دو افراد زخمی ہوئے۔‘

    ان حملوں کے بعد یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی جو کہ جنوبی افریقہ دورے پر گئے ہوئے تھے اپنا دورہ مختصر کر کے وطن واپس لوٹنے کا اشارہ دیا تھا۔

  19. اسلام آباد کے ڈپلومیٹک انکلیو میں انڈین سفارتخانے کے باہر احتجاج، پولیس کی بھاری نفری تعینات

    INDIA

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشناسلام آباد کے ڈپلومیٹک انکلیو میں مذہبی و سیاسی جماعت کے کارکنوں کا احتجاج

    جمعرات کو اسلام آباد کے ڈپلومیٹک انکلیو میں انڈیا کے سفارتخانے کے باہر احتجاج ہوا۔ اس احتجاج میں ایک مذہبی و سیاسی جماعت کے کارکنوں نے بھی شرکت کی۔

    ان مظاہرین نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے اور وہ پہلگام حملے کے بعد پاکستان کے خلاف انڈین اقدامات کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے۔ ان مظاہرین نے انڈین وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔

    ISLAMABAD

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنڈپلومیٹک انکلیو ریڈ زون میں ہے جہاں عمومی طور پر کسی کو بغیر اجازت جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ تاہم جمعرات کو مظاہرین اس انکلیو کے اندر داخل ہوئے اور پھر انھوں نے احتجاج بھی کیا۔

    اس احتجاج کے موقع پر سکیورٹی ہائی الرٹ تھی اور تمام سینئر پولیس افسران ڈپلومیٹک انکلیو میں موجود رہے۔

    ڈپلومیٹک انکلیو ریڈ زون میں ہے جہاں عمومی طور پر کسی کو بغیر اجازت جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ تاہم جمعرات کو مظاہرین اس انکلیو کے اندر داخل ہوئے اور پھر انھوں نے احتجاج بھی کیا۔

    مقامی میڈیا میں ان مظاہرین کو سول سوسائٹی کے نمائندے کہا گیا ہے جبکہ سپیشل برانچ نے بتایا کہ انڈین ہائی کمیشن کے باہر عام شہری مظاہرہ کر رہے ہیں۔

  20. بلوچستان کے ضلع قلات میں بم دھماکہ، کم ازکم تین افراد ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع قلات میں بم دھماکے ایک واقعے میں کم ازکم تین افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے ہیں۔

    قلات میں سرکاری حکام نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ہلاک ہونے والے افراد ایک پک اپ گاڑی میں سوار تھے۔

    قلات میں لیویز فورس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ پک اپ گاڑی قلات شہر سے امیری کے علاقے کی جانب جا رہی تھی۔ انھوں نے بتایا کہ جب یہ گاڑی قلات سے جنوب مشرق میں اندازاً 25 کلومیٹر کے فاصلے پر پہنچی تو یہ کچی سڑک پر نامعلوم افراد کی جانب سے نصب کیے جانے والے دھماکہ خیز مواد سے ٹکرا گَئی۔

    ان کا کہنا تھا کہ دھماکہ شدید ہونے کے باعث اس کے حصے بخرے ہوگئے جبکہ اس کے بعض حصّوں میں آگ بھی لگ گئی۔

    انھوں نے بتایا کہ دھماکے میں دو خواتین سمیت کم ازکم تین افراد ہلاک جبکہ پانچ زخمی ہوگئے۔ ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں کو پہلے طبّی امداد کی فراہمی کے لیے ٹیچنگ ہسپتال قلات منتقل کیا گیا جبکہ بعد میں ان کو علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کیا گیا۔

    اہلکار کے مطابق زخمیوں میں سے ایک کی حالت جھلسنے کی وجہ سے تشویشناک ہے۔

    حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند کا کہنا ہے کہ قلات کے علاقے کپوتو میں نجی گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی۔ ایک بیان میں انھوں نے بتایا کہ لیویز فورس نے موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں میں جے یو آئی کے وارڈ کونسلر عبداللہ بھی شامل ہیں۔

    ترجمان نے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں تحقیقات کی جارہی ہیں۔ بلوچستان میں 24 گھنٹوں کے دوران تشدد کا یہ دوسرا بڑا واقعہ تھا۔

    گذشتہ روز قلات سے متصل ضلع مستونگ کے علاقے تیری میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے لیویز فورس کے دو اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والے دونوں اہلکار پولیو ٹیم کی سیکورٹی پر مامور تھے۔