آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس، ’حکومت نے سمارٹ فون پر عائد بھاری ٹیکسز پر مارچ تک نظرثانی کی یقین دہانی کرا دی‘

حکومت نے منگل کو سمارٹ فون پر بھاری ٹیکسز پر نظرثانی کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ رکن قومی اسمبلی علی قاسم گیلانی کے مطابق یہ یقین دہانی منگل کو نوید قمر کی سربراہی میں ہونے والے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی، وزارت خزانہ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے حکام سمیت حکومتی وزرا کی طرف سے بھی کرائی گئی ہے۔

خلاصہ

  • اڈیالہ جیل کے باہر پی ٹی آئی کے احتجاج کے پیش نظر پولیس نے دایگل اور گورکھپور میں دکانیں اور تعلیمی ادارے بند کروا دیے
  • آئی ایم ایف، کے ایگزیکٹیو بورڈ نے پاکستان کے لیے ایک ارب 20 کروڑ ڈالر مالیت کی قسط کی منظوری دے دی ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان نے معاشی اصلاحات کے لیے تمام شرائط پوری کی ہیں۔
  • آئی ایم ایف کی جانب سے قسط کی منظوری کے بعد پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی
  • کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے درمیان جھڑپوں میں تیزی، ہلاکتوں میں اضافہ
  • خیبر پختونخوا میں 9 مئی کے مقدمات کی واپسی کے لیے پراسیکیوٹرز کی تعیناتی شروع

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    10 دسمبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

  2. حکومت نے سمارٹ فون پر عائد بھاری ٹیکسز پر مارچ تک نظرثانی کی یقین دہانی کرائی ہے: رکن قومی اسمبلی علی قاسم گیلانی

    وفاقی حکومت نے منگل کو سمارٹ فون پر بھاری ٹیکسز پر نظرثانی کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ یہ یقین دہانی منگل کو نوید قمر کی سربراہی میں ہونے والے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی، وزارت خزانہ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے حکام سمیت حکومتی وزرا کی طرف سے بھی کرائی گئی ہے۔

    قومی اسمبلی کی خزانہ کمیٹی کے اجلاس میں درآمد شدہ موبائل فونز پر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے ٹیکس عائد کیے جانے سے متعلق معاملہ زیر غور آیا۔

    رکن قومی اسمبلی قاسم گیلانی طرف سے اٹھائے گئے نکتے پر پی ٹی اے کے چیئرمین میجر جنرل ریٹائرڈ حفیظ الرحمان نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی اس تجویز پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ سمارٹ فون پر موجودہ ٹیکس پالیسی میں تبدیلی کی ضرورت ہے کیونکہ اب ٹیکنالوجی کے اس دور میں یہ فونز لگژری نہیں بلکہ ضرورت بن کر رہ گئے ہیں۔

    علی قاسم کے مطابق چیئرمین پی ٹی اے نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر بھی اس پالیسی کے خلاف ہیں اور حالیہ دنوں میں انھوں نے خود اپنے ایک فون کے لیے ایک لاکھ 33 ہزار کا ٹیکس دیا ہے۔

    علی قاسم گیلانی کے مطابق چیئرمین کمیٹی سید نوید قمر نے بھی اس بات پر زور دیا کہ ’سمارٹ فونز اب لگژری آئٹم نہیں ضرورت کی چیز بن گیا ہے۔ یہ والا موقف اب نہیں چل سکتا کہ آئی ایم ایف پروگرام میں ہیں۔

    نوید قمر نے مزید کہا کہ ’ایف بی آر گاڑیوں کے بعد موبائل فونز پر بے تحاشہ ٹیکس لے رہی ہے۔ کیا اس ملک میں بڑی گاڑی یا موبائل فون رکھنا گناہ ہے۔ موبائل فون کوئی لگثرری آئٹم نہیں بلکہ ہر کسی کی ضرورت ہے۔‘

    اجلاس میں موبائل فونز پر ٹیکسز کے معاملے پر بحث

    پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں قاسم گیلانی نے بتایا کہ بیرون ملک سے لائے گئے موبائل فونز پر بھاری ٹیکسز عوام کو مشکلات میں ڈال رہے ہیں اور صارفین کو گرے مارکیٹ کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ چھ سال پرانا آئی فون 12 بھی تقریباً 75 ہزار روپے کے ٹیکس کے تحت آتا ہے۔

    علی قاسم گیلانی نے کمیٹی کو بتایا کہ ’آئی فون 6 پر 35 ہزار ٹیکس اور آئی فون 12 کی درآمد پر ایک لاکھ روپے ٹیکس ہے۔ لوگ سمارٹ فونز پر کانٹنٹ بنا کر ویڈیوز ڈال رہے ہیں اور ای کامرس کر رہے ہیں۔

    ان کے مطابق ’لوگ دو دو فون استعمال کر رہے ہیں، ایک نان پی ٹی اے ہوتا ہے۔ موبائل فونز پر ٹیکس ریٹ کم کرنے سے لوگ فائلر بنیں گے۔ اس سے رجسٹریشن میں بھی اضافہ ہو گا۔ موبائل فونز پر نو، نو لاکھ روپے بھی ٹیکس ہے۔ ٹیکس زیادہ ہونے سے فری لانسرز بھی متاثر ہو رہے ہیں۔‘

    علی قاسم گیلانی نے بی بی سی اردو کے اعظم خان کو بتایا کہ پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں موبائل فونز پر عائد ٹیکسز کے حوالے سے اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب چیئرمین پی ٹی اے نے اراکین کی اس تجویز سے اتفاق کر لیا کہ سمارٹ فونز پر عائد ٹیکسز کی پالیسی پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ان کے ساتھی اراکین اور چیئرمین پی ٹی اے کے علاوہ وزیر مملکت برائے خزانہ بلال کیانی، چیئرمین ایف بی آر اور سیکریٹری خزانہ نے بھی اس معاملے پر مثبت رویہ اختیار کیا۔

    اجلاس میں پی ٹی اے نے وضاحت کی کہ یہ ٹیکسز اس کے دائرہ اختیار میں نہیں بلکہ ایف بی آر کے تحت ہیں۔

    علی قاسم گیلانی کے مطابق فیصلہ کیا گیا کہ ایف بی آر، وزارت خزانہ میں قائم ’ٹیکس پالیسی آفس‘ اور پی ٹی اے مل کر ان ٹیکسز کا تفصیلی جائزہ لیں گے اور مارچ تک سمارٹ فونز پر ٹیکسز سے متعلق نئی پالیسی متعارف کرائی جائے گی۔

    حکومت نے یہ معاملہ حل کروانے کی یقین دہانی کرائی ہے: قاسم گیلانی

    قاسم گیلانی نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے کچھ عرصہ قبل سمارٹ فونز پر بھاری ٹیکسز کے خلاف قرارداد تیار کی تھی اور اس پر تمام ہی جماعتوں کے اراکین کے دستخط بھی حاصل کر لیے تھے۔ ان کے مطابق ’حکومت نے سپیکر قومی اسمبلی اور وزیر خزانہ کے ذریعے مجھے پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما نوید قمر کے ذریعے یہ پیغام بھیجا کہ میں اپنی یہ قرارداد واپس لے لوں اور اس کے بدلے میں حکومت نے یہ یقین دہانی کرائی کہ اس معاملے کو نوید قمر کی سربراہی میں پارلیمانی کمیٹی سے حل کروا لیتے ہیں۔‘

    ان کے مطابق مقصد عوامی مفاد کا تحفظ تھا لہٰذا انھوں نے حکومت کی یہ پیشکش تسلیم کر لی اور اب سرکاری حکام اور وزرا کا بھی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں مثبت رویہ دیکھنے میں آیا اور سب مل کر اس معاملے کو حل کرنے پر رضامند ہو گئے ہیں۔

    قاسم گیلانی کے مطابق وزارت خزانہ اور حکام نے یہ ضرور کہا کہ مقامی پیداوار اور صنعت کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سمارٹ فونز پر بھاری ٹیکسز عائد کیے گئے تھے۔ تاہم اب اس پالیسی پر نظرثانی کی جائے گی۔

    ان کے مطابق چیئرمین پی ٹی اے نے کہا کہ یہ نظرثانی اس وجہ سے بھی ضروری ہے کہ اب پاکستان 5 جی سپیکٹرم کی طرف بڑھ رہا ہے اور اس وقت ملک میں صرف دو فیصد ہی موبائل ایسے ہیں جن پر یہ سہولت حاصل کی جا سکتی ہے۔

    علی قاسم گیلانی نے کہا کہ ’مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ اس معاملے پر دونوں اجلاسوں کی کارروائی کو باقاعدہ منٹس یعنی کارروائی کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔‘

  3. پشاور: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی سینیٹر خرم ذیشان کے گھر آمد، فائرنگ واقعے کی مذمت

    پشاور میں سینیٹر خرم ذیشان کے گھر پر فائرنگ کے واقعے کے بعد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی ان کی رہائش گاہ پہنچے اور واقعے کی شدید مذمت کی۔

    وزیراعلیٰ نے سینیٹر خرم ذیشان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا اور انھیں مکمل تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے۔ انھوں نے کہا کہ پولیس کو ملزمان کی جلد گرفتاری کا حکم دیا گیا ہے۔ صوبائی حکومت کے ترجمان سہیل آفریدی کے مطابق وزیراعلیٰ نے زخمی ہونے والے فرد کی جلد صحتیابی کے لیے دعا بھی کی۔

  4. عمران خان کے ذاتی معالج کے علاوہ کسی سرکاری ہسپتال کے معائنے کو نہیں مانیں گے: سلمان اکرم راجا

    پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ عمران خان کا معائنہ جب تک ان کے ذاتی معالج نہیں کرتے تو ہم سرکاری ہسپتال کے ڈاکٹروں کی رپورٹ کو درست تسلیم نہیں کرتے۔

    راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کے رستے میں ایک پولیس چیک پوسٹ پر عمران خان کی بہنوں اور کارکنان کی موجودگی میں انھوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’جس وقت تک عمران خان کے اپنے معالج جب تک معائنہ نہیں کریں گے ہم کسی رپورٹ کو نہیں مانیں گے۔

    خیال رہے کہ اس وقت عمران خان کی بہنیں اور پی ٹی آئی کے کارکنان اڈیالہ جیل سے رستے پر ایک پولیس ناکے پر دھرنا دے کر بیٹھے ہوئے ہیں اور عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر احتجاج کر رہے ہیں۔

    سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ’یہ لاقانونیت کا دور ہے اور عدالتی فیصلوں پر بھی عمل نہیں ہو رہا ہے۔‘ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’احتجاج کیسا ہو فیصلہ محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کریں گے۔ تاہم مزاحمت آئین و قانون کے مطابق ہو گی۔

    واضح رہے کہ منگل کے روز عدالت نے عمران خان سے ان کے اہل خانہ اور وکلا سے ملاقات کی اجازت دے رکھی ہے۔ تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ جیل مینؤیل کے مطابق ہی ملاقات کرائی جا سکتی ہے اور عمران خان کی بہنوں کی طرف سے سیاسی پیغام رسانی کی وجہ سے ان ملاقاتوں کے سلسلے کو ختم کیا گیا ہے۔

  5. وسائل کی کمی کو صوبے میں امن کے قیام میں رکاوٹ نہیں بننے دیا جائے گا: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    پشاور میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی زیر صدارت کاؤنٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے میں امن و امان کی صورتحال اور سی ٹی ڈی کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔

    اجلاس میں سی ٹی ڈی کے 186 ڈیٹیکٹیوز کو مستقل بنیادوں پر 638 فیلڈ آپریٹرز میں تبدیل کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ یہ فیلڈ آپریٹرز سائبر پیٹرولنگ، انٹیلیجنس، سرویلنس اور فیلڈ آپریشنز انجام دیں گے۔ وزیراعلیٰ نے پشاور میں نئے سی ٹی ڈی ریجنل ہیڈکوارٹرز کے قیام کی بھی اصولی منظوری دی۔

    اجلاس میں 21 اضلاع میں سی ٹی ڈی دفاتر کی تعمیر کے منجمد ترقیاتی منصوبے کو بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ بریفنگ کے مطابق ضلعی سطح پر سی ٹی ڈی کی توسیع کے لیے چار ارب 30 کروڑ روپے جبکہ گاڑیوں، اسلحہ اور جدید آلات کی فراہمی کے لیے سات ارب 77 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی ہے۔

    سی ٹی ڈی اصلاحات، انفراسٹرکچر اور بھرتیوں پر عملدرآمد کے لیے ٹائم لائنز مقرر کی گئی ہیں۔ صوبائی حکام نے یقین دہانی کرائی کہ تمام تعمیراتی منصوبوں میں سیفٹی پروٹوکولز پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔

    وزیر اعلیٰ سہیل افریدی نے کہا کہ حکومت امن و امان کے قیام کے لیے پوری سنجیدگی سے کام کر رہی ہے اور وسائل کی کمی کو صوبے میں امن کے قیام میں رکاوٹ نہیں بننے دیا جائے گا۔

  6. ’ایک بڑے ادارے‘ سے لڑائی بالکل نہیں ہونی چاہیے، عمران خان سے ملاقاتوں سے بہتری آ سکتی ہے: بیرسٹر گوہر

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ ایسے ہیں لوگ جو چاہتے ہیں کہ ’ایک بڑا ادارہ اور کچھ سیاسی لوگ آپس میں لڑ پڑیں۔‘

    وہ منگل کے روز عمران خان سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل جانے کی کوشش کر رہے تھے مگر پولیس نے انھیں رستے میں ہی روک لیا۔

    پی ٹی آئی کارکنان کی موجودگی میں بیرسٹر گوہر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم یہاں عدالت کے حکم پر ملاقاتوں کے لیے آتے ہیں کیونکہ عدالتوں نے عمران خان کے اہل خانہ اور وکلا کو ان ملاقاتوں کی اجازت دے رکھی ہے مگر یہاں ملاقات سے روکا ہوا ہے۔‘

    بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ’ملاقاتیں ہوں گی تو حالات میں بہتر ہو سکتی ہے۔‘ انھوں نے کسی ادارے یا شخصیت کا نام لیے بغیر کہا کہ ’یہ گذارش ہے کہ جب عمران خان اور بشریٰ بی بی سے ملاقاتیں ہوں گی تو حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔‘

    بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ’حالات کشیدہ ہو رہے ہیں، یہ ملک مزید ایسی کشیدگی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔‘ انھوں نے کہا کہ ’سیاست میں دشمنی نہیں ہوتی اور ایک دوسرے کو غلط الفاظ سے نہیں پکارتے۔‘ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ’وہ لوگ جو نہیں چاہتے کہ ملک میں جمہوریت چلے اور وہ لوگ چاہتے ہیں کہ ایک بڑے ادارہ اور کچھ سیاسی لوگ آپس میں لڑ پڑیں۔، ایسا بالکل نہیں ہونا چاہیے۔

  7. معیشت ڈنڈے کے زور پر نہیں چلتی، ن لیگ کے برعکس ڈی سینٹرلائزیشن کے ذریعے معاشی نظام کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں: بلاول بھٹو

    چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ’معیشت ڈنڈے کے زور پر نہیں چلتی‘ اور پیپلز پارٹی بزنس کمیونٹی کو سہولیات فراہم کرنے کی حامی ہے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف بھی تاجر برادری کے لیے مثبت سوچ رکھتے ہیں، ہمارا اور ان کا فرق یہ ہے کہ ہم ڈی سینٹرلائزیشن کے ذریعے معاشی نظام کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں جبکہ ن لیگ سینٹر کو زیادہ ترجیح دیتی ہے۔

    اسلام آباد میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) میں تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ تاجر برادری ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور پیپلز پارٹی کا تاجروں کے ساتھ تاریخی تعلق رہا ہے، تاہم اکثر تاریخ کو غلط انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ تاجر برادری کی تجاویز کا خیرمقدم کیا جائے گا اور مسائل کے حل کے لیے ہر سطح پر تعاون فراہم کیا جائے گا۔ سی پیک کے حوالے سے بلاول بھٹو نے کہا کہ اس منصوبے کی بنیاد پیپلز پارٹی نے رکھی تھی جبکہ بطور وزیر خارجہ انھوں نے چین کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط کیے۔

    چیئرمین پیپلز پارٹی نے دعویٰ کیا کہ یورپ کے ساتھ تجارت بڑھانے کی کوششوں کے نتیجے میں پاکستان کی یورپ کو برآمدات میں 60 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

    ٹیکس کے نظام پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد صوبوں نے سیلز ٹیکس آن سروسز کی وصولی بہتر کی، سندھ نے سب سے زیادہ ٹیکس جمع کیا جبکہ دیگر صوبے بھی وفاق سے بہتر رہے۔

    انھوں نے کہا کہ ٹیکس نظام میں موجود 30 کھرب روپے کی لیکج ختم کرنا ضروری ہے اور ملک میں ٹیکس نیٹ میں اضافہ ناگزیر ہے۔

    توانائی کے شعبے پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے قومی گرڈ میں سستی بجلی کے منصوبے دیے جبکہ پارٹی کے منشور میں غریب طبقے کو 200 یونٹ تک مفت بجلی دینا شامل ہے۔

    بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ اگر صوبے ٹیکس کے ہدف سے کم رہیں تو وفاق ان کے فنڈز کم کرے، لیکن بہتر کارکردگی پر صوبوں کو مزید وسائل فراہم کیے جائیں۔

  8. اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری کے خلاف مبینہ جعلی ڈگری کا مقدمہ قابل سماعت قرار, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ایل ایل بی ڈگری سے متعلق درخواست کو قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت، صدرِ مملکت، جوڈیشل کمیشن، پارلیمانی کمیٹی برائے ججز تقرر، ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اور کراچی یونیورسٹی کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

    یہ سماعت چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد اعظم خان پر مشتمل ڈویژن بینچ نے کی۔ درخواست گزار میاں داؤد ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اور ایچ ای سی اور کراچی یونیورسٹی کے تحریری جوابات داخل کروائے۔

    دوران سماعت درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین کے آرٹیکل 193 کے تحت ہائیکورٹ کے جج کے لیے وکیل ہونا لازمی ہے۔ ان کے مطابق کراچی یونیورسٹی کے کنٹرولر امتحانات نے تصدیق کی ہے کہ جاری کردہ لیٹر درست ہے اور اس میں کہا گیا ہے کہ جسٹس جہانگیری کی ڈگری جعلی ہے۔

    درخواست گزار نے مزید کہا کہ ’ہم نے ایک اخبار کی خبر کی بنیاد پر کو وارنٹو پٹیشن دائر کی ہے‘ اور اب بارِ ثبوت جج پر ہے کہ وہ اپنی ڈگری کو اصل ثابت کریں۔

    اسلام آباد بار کے وکیل احمد حسن نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار اس کیس میں متاثرہ فریق نہیں ہیں اور اگر ڈگری کے حوالے سے کوئی مسئلہ ہے تو اسے بار کونسل میں لے جانا چاہیے۔ ان کے مطابق وکالت کے بعد جسٹس جہانگیری کو جوڈیشل کمیشن نے جج تعینات کیا تھا اور ڈگری کے معاملات کا فیصلہ بار کونسل کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔

    اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار نے بھی کیس کو قابلِ سماعت قرار دینے کی مخالفت کی اور کہا کہ یہ معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ بار کونسل کے رکن راجہ علیم عباسی نے عدالت کے سامنے کہا کہ ’آرٹیکل 209 کی موجودگی میں اس طرح کے رجحانات عدلیہ کی آزادی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔‘

  9. پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان تعاون کے معاہدوں اور یادداشتوں پر دستخط

    اسلام آباد میں منگل کو وزیراعظم ہاؤس میں ایک اہم تقریب کے دوران پاکستان اور انڈونیشیا نے دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے لیے متعدد معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے۔ اس موقع پر انڈونیشیا کے صدر پرابووو سوبیانتو اور وزیراعظم شہباز شریف بھی موجود تھے اور دونوں رہنماؤں نے معاہدوں کے تبادلے کا مشاہدہ کیا۔

    تقریب میں دونوں ممالک کے وزرا نے مختلف شعبوں میں تعاون سے متعلق دستاویزات کا تبادلہ کیا۔ اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں پاکستان کے ہائر ایجوکیشن کمیشن اور انڈونیشیا کی وزارتِ تعلیم و سائنس کے درمیان ڈگریوں اور سرٹیفیکیٹس کی باہمی شناخت کا معاہدہ ہوا۔ اسی سلسلے میں ’انڈونیشیئن ایڈ سکالرشپ پروگرام‘ کے تحت طلبہ کے لیے سہولتیں فراہم کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

    حلال تجارت اور سرٹیفیکیشن کے شعبے میں تعاون کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے، جبکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز) کے فروغ کے لیے بھی ایم او یو پر اتفاق ہوا۔

    اس کے علاوہ آرکائیوز میں تعاون، منشیات کی سمگلنگ کی روک تھام اور صحت کے شعبے میں شراکت داری کے لیے بھی معاہدے کیے گئے۔

    صدر پرابووو سوبیانتو اور وزیراعظم شہباز شریف کی موجودگی میں تقریب کے دوران دونوں ممالک کے وزرا نے دستخط شدہ معاہدوں اور یادداشتوں کا تبادلہ کیا۔

    حکومتی نمائندوں کا کہنا ہے کہ یہ معاہدے پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

    وزیر اعظم شہباز شریف سے انڈونیشیا کے صدر پرابووو سوبیانتو کی ملاقات

    وزیراعظم محمد شہبازشریف نے انڈونیشیا کے صدر پرابووو سوبیانتو کا وزیر اعظم ہاؤس اسلام آباد میں استقبال کیا۔ صدر پرابووو سوبیانتو کو وزیراعظم ہاؤس آمد پر گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔

    دونوں رہنمائوں کے درمیان دو طرفہ ملاقات ہوئی جس کے بعد اعلیٰ سطح وفود کی سطح پر اجلاس منعقد ہوا۔ ملاقات میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، کابینہ کے وزرا اور اعلیٰ حکام شامل تھے۔

    دونوں رہنماؤں نے انڈونیشیا اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا اور باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں بشمول سیاسی و سفارتی مصروفیات، اقتصادی اور تجارتی تعلقات، دفاع اور سلامتی، صحت، تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی، زراعت اور ماحولیاتی تعاون کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔

    دونوں فریقوں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔

    دو طرفہ تجارت کے حوالے سے پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے، دونوں فریقین نے دو طرفہ تجارت کے حجم کو مزید بڑھانے کے لیے انڈونیشیا-پاکستان ترجیحی تجارتی معاہدے (IP-PTA) پر نظرثانی کرنے پر اتفاق کیا، جس کی مالیت تقریباً چار بلین امریکی ڈالر ہے۔

    مزید برآں تجارتی عدم توازن کو دور کرنے کی کوششیں شروع کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

    دونوں رہنماؤں نے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل اور انڈونیشیا کے خودمختار دولت فنڈ کے درمیان بہتر تعاون کے ذریعے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔

    صحت کے شعبے میں تعاون بڑھانے میں انڈونیشیا کی دلچسپی کا ذکر کرتے ہوئے، وزیراعظم نے طبی ماہرین کے تبادلے، طبی قابلیت کی باہمی شناخت اور خصوصی تربیت کی پیشکش کے ذریعے تعاون کو بڑھانے کے طریقے تلاش کرنے پر اتفاق کیا۔

    دونوں رہنماؤں نے کشمیر اور غزہ کی صورتحال سمیت علاقائی اور عالمی مسائل پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

    وزیراعظم نے انڈونیشیا کے صدر اور ان کے ہمراہ آنے والے وفد کے اعزاز میں ظہرانے کا بھی اہتمام کیا۔ یہ دورہ پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات میں ایک تاریخی سنگ میل ہے۔

  10. عمران خان کی بہنوں اور کارکنان کو پولیس نے اڈیالہ جیل جانے سے روک دیا

    راولپنڈی اڈیالہ جیل بانی پی ٹی ائی کی بہنوں نے گورکھپور ناکے پر روکے جانے کے خلاف احتجاج شروع کر دیا ہے۔

    پولیس نے جیل جانے والے راستے پر رکاوٹیں کھڑی کر کے بھاری نفری تعینات کر دی۔ کارکنان اور پولیس آمنے سامنے آگئے اور پی ٹی آئی کارکنان نے نعرے بازی شروع کر دی۔

    اس ناکے پر کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ ’میں آگئی ہوں تمام تر ناکے توڑ کر آؤ مجھے کر لو گرفتار، یہ غیرقانونی کام کرتے ہیں ہم قانونی کام کریں تو پابندی عائد کر دی جاتی ہے، ہمیں تو ڈاکٹر لانے کی اڈیالہ جیل میں اجازت نہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’عمران خان کا سرکاری ڈاکٹر معائنہ کرتے ہیں اور مخصوص سرکاری رپورٹس جاری کی جاتی ہیں۔ علیمہ خان نے کہا کہ ’ساری دنیا کو پتا ہے نواز شریف کو اڈیالہ میں تو ہر وقت اپنا ڈاکٹر ساتھ رکھنے کی اجازات تھی۔‘

    علیمہ خان نے کہا کہ ’عمران خان سے ملاقات نہ ہوئی تو یہیں احتجاج بھی کریں گے اور دھرنا بھی دیں گے۔‘

    واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور ان کی ملاقاتوں پر پابندی کے باعث اہل خانہ اور کارکنان کئی بار احتجاج کر چکے ہیں۔ پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ عمران خان کو بنیادی سہولتیں فراہم نہیں کی جا رہیں، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ تمام سہولتیں قانون کے مطابق دی جا رہی ہیں۔

  11. سرینگر میں چینی شہری گرفتار: ’پوری دنیا گھومنا چاہتا ہوں، علم نہیں تھا کہ کشمیر یا لداخ جانے کی اجازت نہیں‘, ریاض مسرور، بی بی سی اُردو، سرینگر

    انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں پیر کے روز پولیس نے ایک چینی شہری کو ویزا ضابطوں کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔

    اس گرفتاری کے فوراََ بعد پولیس نے کئی ہوٹلوں اور لاجز پر چھاپے مارے اور ایسے ہوٹل مالکان کے خلاف مقدمے درج کیے جنھوں نے غیر ملکی سیاحوں کی لازمی اطلاع پولیس کو نہیں دی تھی۔

    پولیس نے بتایا کہ 29 سالہ چینی شہری کے فون کی فرانزک جانچ سے معلوم ہوا کہ انھوں نے بعض حساس سکیورٹی تنصیبات اور آرٹیکل 370 کے بارے میں معلومات لینے کے لیے گوگل کا سہارا لیا۔

    پولیس کے مطابق فون کی مزید باریکی سے جانچ ہو رہی ہے۔

    واضح رہے کہ کشمیر کو نیم خود مختاری دینے والے انڈین آئین کے آرٹیکل 370 کو سنہ 2019 میں منسوخ کر کے کشمیر کو مرکز کے زیر انتظام بنایا گیا اور لداخ کو اس سے الگ کر کے اسے بھی مرکز کے زیرانتظام خطہ قرار دیا گیا تھا۔

    اس معاملے کی تفتیش کرنے والی پولیس ٹیم کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ چینی شہری کو ویزا انڈیا کے واراناسی، آگرہ، نئی دلی، جے پور، سرناتھ اور خوشی نگر میں چند بودھ مقدس مقامات پر جانے کے لیے دیا گیا تھا لیکن وہ 19 نومبر کو نئی دلّی سے براہ راست لداخ گئے اور اس سفر کے دوران انھوں نے ’فارن رجسٹریشن آفس‘ میں لازمی اندراج بھی نہیں کروایا۔

    پولیس کے مطابق وہ لداخ سے سرینگر پہنچے اور ایک غیر رجسٹرڈ گیسٹ ہاوس میں مقیم رہے۔

    چینی شہری نے پولیس کو بتایا ہے کہ وہ نو سال تک امریکہ میں بھی مقیم رہ چکے ہیں جس کے دوران انھوں نے بوسٹن یونیورسٹی میں علم طبعیات (فزکس) کی ڈگری بھی حاصل کر لی۔

    انھوں نے پولیس کو بیان میں مزید کہا کہ ’میں پوری دنیا گھومنا چاہتا ہوں، مجھے علم نہیں تھا کہ مجھے کشمیر یا لداخ جانے کی اجازت نہیں۔‘

    سرینگر میں قیام کے دوران انھوں نے یہاں کے مغل باغات اور جھیل ڈل کی سیر بھی کی۔

    پولیس کی تحویل میں چینی شہری کے پاسپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے امریکہ، نیوزی لینڈ، برازیل، فِجی اور ہانگ کانگ کا سفر بھی کیا۔

    پولیس اور دیگر تحقیقاتی ایجنسیاں چینی شہری کے سرحدی خطے لداخ میں زنسکر قصبہ کے دورے کی کئی زاویوں سے جانچ کر رہی ہیں۔

    واضح رہے کہ لداخ چینی سرحد اور سیاچن کی وجہ سے انڈیا کے لیے تزویراتی اہمیت رکھتا ہے۔ سنہ 2020 میں انڈیا اور چین کا دیرینہ سرحدی تنازعہ شدید ہو گیا تھا جب چینی اور انڈین افواج کے درمیان یہاں جھڑپ ہوئی تھی۔

  12. انڈیا کو امریکہ میں چاول ڈمپ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی: ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انڈیا کو امریکہ کی مارکیٹ میں چاول ڈمپ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    پیر کے روز صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں امریکی کاشتکاروں اور زراعت کے شعبے سے منسلک افراد کے نمائندوں سے ملاقات کی۔

    وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ایک ویڈیو میں کینیڈی رائس مل سے منسلک میرل کینیڈی کو صدر ٹرمپ کو بتاتے سنا جا سکتا ہے کہ ان کا ماننا ہے کہ کچھ ممالک امریکی مارکیٹ میں چاول ڈمپ کر رہے ہیں اور اس سے جنوبی امریکہ کے کاشتکار بہت متاثر ہو رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ یہاں بات صرف قیمتوں کی نہیں۔

    اس پر ٹرمپ نے سوال کیا کہ وہ کونسے ممالک ہیں جو اس عمل میں شامل ہیں۔ اس پر میرل کینیڈی نے بتایا کہ انڈیا اور تھائی لینڈ امریکہ میں چاول ڈمپ کر رہے ہیں جبکہ چین یہی کام پورٹو ریکو میں کر رہا ہے جو کبھی امریکہ کے کاشتکاروں کے لیے سب سے بڑی منڈی ہو اکرتا تھا۔

    ڈمپنگ سے مراد کسی بھی ملک کی جانب سے کسی دوسرے ملک میں انتہائی کم قیمت پر کوئی مصنوعات فروخت کرنا تاکہ اس پراڈکٹ کا زیادہ سے زیادہ مارکیٹ شیئر حاصل کیا جا سکے۔

    میرل کینیڈی کا کہنا تھا کہ درآمدی ٹیرف عائد کرنے سے کام بن رہا ہے لیکن ہمیں ٹیرف میں مزید اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔

    اس موقع پر امریکی صدر نے اپنے وزیرِ تجارت سکاٹ بیسنٹ سے پوچھا کہ انڈیا کو اس بات کی اجازت کیوں دی جا رہی ہے؟ انھیں تو اس [چاول کی برآمد] پر ٹیرف ادا کرنا ہوتا ہے، کیا انھیں چاول پر کوئی چھوٹ حاصل ہے؟

    وزیرِ تجارت کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہے اور انڈیا کے ساتھ تجارتی معاہدے پر ابھی کام جاری ہے۔

    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انڈیا کو چاول کی ڈمپنگ نہیں کرنی چاہیے، انھیں ایسا نہیں کرنے دیا جا سکتا۔

  13. پی ٹی آئی سینیٹر خرم ذیشان کی رہائش گاہ پر نامعلوم مسلح افراد کا حملہ، ملازم زخمی, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور

    صوبائی دارالحکومت پشاور میں پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر خرم ذیشان ایڈووکیٹ کی رہائش گاہ پر رات گئے نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص زخمی ہوا ہے۔

    پولیس کے مطابق یہ واقعہ رات ڈھائی بجے کے لگ بھگ پیش آیا ہے جب چار سے پانچ گاڑیوں میں سوار مسلح افراد نے خرم ذیشان کی رہائش گاہ میں داخل ہونے کی کوشش کی اور اس دوران فائرنگ کی۔

    پولیس کے مطابق شدید فائرنگ کے نتیجے میں مکان میں کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور اسے نقصان پہنچا۔

    جس وقت یہ حملہ ہوا اُس وقت سینیٹر خرم ذیشان گھر پر موجود نہیں تھے۔

    پشاور کے پولیس افسر فرحان خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ حملہ آور کون تھے تاہم اس بارے میں رپورٹ درج کر لی گئی ہے اور تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

    سینیٹر خرم ذیشان نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ اُن کے سسر کا مکان ہے جہاں وہ اُن کے ساتھ رہائش پزیر ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ اس واقعے کی ایف آئی آر اُن کے کزن کی مدعیت میں درج کروائی گئی ہے۔ واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پانچ گاڑیوں میں لگ بھگ 20 سے 25 افراد آئے تھے اور ان کی فائرنگ سے ان کے ایک ملازم کو کمر میں گولی لگی ہے جس سے وہ شدید زخمی ہوا ہے۔

    پولیس کے مطابق خرم ذیشان پشاور کے بڑے رہائشی علاقے حیات آباد کے فیز 2 کے ایک مکان میں رہائش پزیر ہیں۔خرم ذیشان اکتوبر 2025 میں سینیٹ کی خالی نشست پر پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار تھے۔ یہ نشست شبلی فراز کو عدالت کی جانب سے نااہل قرار دیے جانے کی بعد خالی ہوئی تھی اور خرم زیشان اس الیکشن میں کامیاب قرار پائے تھے۔

    خرم ذیشان گذشتہ چند روز سے سوشل میڈیا پر سخت بیانات جاری کر رہے تھے جس پر سینیٹر فیصل واوڈا نے ایک ٹی وی پروگرام میں اُن کی کڑی تنقید کی تھی۔ اس کے بعد سوشل میڈیا پر خرم ذیشان نے بھی فیصل واوڈا کے بیانات پر ردعمل دیا تھا۔

    خرم ذیشان پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں اور پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ ایک عرصے سے وابستہ ہیں۔ وہ 9 مئی اور 10 مئی کے مقدمات میں گرفتار پی ٹی آئی کے متعدد افراد کے لیے عدالتوں میں بطور وکیل پیش ہو چکے ہیں۔

    ماضی میں وہ جوڈیشری سے بھی وابستہ رہے ہیں اور سنہ 2003 -4 میں وہ سول جج کے عہدے پر تعینات رہے ہیں۔ اس کے بعد وہ باہر ملک چلے گئے تھے اور واپسی پر انھوں سیاست میں حصہ لیا اور پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ وابستہ ہو گئے۔

    یہ حملہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں ایک بڑے رہائشی علاقے میں ہوا ہے جہاں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت قائم ہے۔

    اس بارے میں صوبائی حکومت کے ترجمان شفیع جان سے رابطہ کی کوشش کی اور انھیں میسج بھی بھیجا لیکن انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا ہے تاہم ’ایکس‘ پر پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر نے لکھا ہے کہ ’سینیٹر خرم ذیشان کے پشاور گھر پر مسلح افراد کا حملہ انتہائی بزدلانہ حرکت ہے۔ جب سچ بولنے والوں کے گھروں کو نشانہ بنایا جائے، سمجھ لو ظالم کانپ رہے ہیں۔۔۔‘

  14. ڈونلڈ ٹرمپ نے اینویڈیا کو چین کو جدید اے آئی چپس برآمد کرنے کی اجازت دے دی

    امریکہ کے صدر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ کمپیوٹر چپس بنانے والی امریکی کمپنی اینویڈیا (Nvidia) کو اپنی جدید ایچ 200 (H200) چپ چین میں ’منظور شدہ صارفین‘ فروخت کرنے کی اجازت دیں گے۔

    پیر کے روز امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ’ہم قومی سلامتی کا تحفظ کریں گے، امریکہ میں ملازمتیں پیدا کریں گے، اور اے آئی (مصنوعی ذہانت) کے میدان میں امریکی برتری برقرار رکھیں گے۔‘

    امریکی صدر کا یہ فیصلہ اے ایم ڈی جیسی دیگر کمپیوٹر چپ بنانے والی کمپنیوں پر بھی لاگو ہو گا۔ یاد رہے کہ اینویڈیا کے سربراہ جینسن ہوانگ نے اس منظوری کے لیے بڑے پیمانے پر لابنگ کی تھی اور اس سلسلے میں گذشتہ ہفتے واشنگٹن کا دورہ بھی کیا تھا۔

    دنیا کی سب سے بڑی کمپنی اور معروف چپ فرم اینویڈیا گذشتہ کچھ عرصے سے امریکہ اور چین کے درمیان ہونے والی رسہ کشی سے کافی متاثر ہوئی ہے۔ امریکی حکام کی جانب سے کمپنی پر بیجنگ کو اپنی جدید ترین چپس فروخت کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

    صدر ٹرمپ نے جولائی میں اینویڈیا پر چین کو چپ فروخت کرنے پر پابندی اٹھا لی تھی تاہم انھوں نے مطالبہ کیا تھا کہ کمپنی چین سے ہونے والی اپنی آمدنی کا 15 فیصد امریکی حکومت کو ادا کرے۔

    اس کے بعد بیجنگ نے مبینہ طور پر اپنی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حکم دیا کہ وہ چینی مارکیٹ میں استعمال کے لیے تیار کردہ اینویڈیا کی چپس خریدنا بند کر دیں۔

    اینویڈیا کا ایچ 200 چپ اس کے جدید ترین اے آئی سیمی کنڈکٹر بلیک ویل چپ سے ایک درجہ کمتر ہے۔

  15. اڈیالہ جیل کے باہر پی ٹی آئی کا ممکنہ احتجاج، حکام کا دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر فوری گرفتاری کا فیصلہ

    پاکستان کے شہر راولپنڈی میں حکام نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر فوری کارروائی اور گرفتاری کا فیصلہ کیا ہے۔

    یاد رہے کہ آج اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان سے ملاقات کا دن ہے اور اس موقع پر پی ٹی آئی نے اپنے ممبرانِ اسمبلی، عہدیداران اور کارکنان کو جیل کے باہر پہنچنے کی ہدایت کی ہے۔

    پی ٹی آئی پنجاب کی چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ ملک نے پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایم این ایز، ایم پی ایز، تنظیمی عہدیداران، ورکرز اور وکلا کو دوپہر دو بجے اڈیالہ جیل پہنچنے کی کال دی ہے۔

    بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق، اڈیالہ جیل انے والے راستوں پر سکیورٹی اہلکاروں کی اضافی نفری تعینات ہے جبکہ داگل اور گورکھپور کے مقام پر مارکیٹیں، دکانیں، پٹرول پمپس اور تعلیمی ادارے بند کروا دیے گئے ہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر فوری کارروائی کے لیے واٹر کینن اڈیالہ جیل کے باہر پہنچا دی گئی ہے۔

    اس کے علاہ گورکھپور اور داگل کے مقام پر جیل کی جانب جانے والی مرکزی شاہراہ اڈیالہ روڈ کو بند کر دیا گیا ہے۔

    ایس ایس پی آپریشنز طارق ملک کا کہنا ہے کہ کسی کو قانون توڑنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    خیال رہے کہ اڈیالہ جیل میں قید پی ٹی آئی کے بانی اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی منگل اور جمعرات کے روز ان کے وکلا، گھر کے افراد اور دیگر سے ملاقات کروائی جاتی ہے۔

    گذشتہ ہفتے تقریباً ایک مہینے کے تعطل کے بعد سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی ان کی بہن عظمیٰ خان سے ملاقات کروائی گئی تھی۔ ملاقات کے بعد صحافیوں سے مختصر بات کرتے ہوئے عظمیٰ خان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی ’صحت الحمد اللہ ٹھیک ہے، مگر وہ بہت غصے میں تھے اور کہہ رہے تھے کہ انھیں ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘

    اس ہی روز وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کی بہن سے ان کی ملاقات اس شرط پر کروائی گئی تھی کہ ’وہ بعد میں پریس کانفرنس نہیں کریں گے۔‘

    بعد ازاں جمعرات کے روز وفاقی وزیرِ اطلاعات عطااللہ تارڑ نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی جیل میں ملاقاتیں جیل مینیویل کے مطابق کروائی جاتی ہیں اور عظمی خان سمیت جن افراد نے ان قواعد کی خلاف ورزی کی ہے ان کی ملاقاتیں روک دی گئی ہیں۔

  16. آئی ایم ایف کی جانب سے قسط کی منظوری کے بعد پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں منگل کے روز تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا اور مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر انڈیکس ایک ہزار پوائنٹس اضافے کے بعد ایک لاکھ 68 ہزار 537 پوائنٹس کی سطح تک پہنچ گیا۔

    مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت انداز میں ہوا اور حصص کی خریداری کا رجحان غالب نظر آیا۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق، مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے سرمایہ کاری میں دلچسپی دیکھنے میں آئی جس کی وجہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے پاکستان کے لیے ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی قسط کی منظوری ہے جو جلد پاکستان کو مل جائے گی۔

    تجزیہ کار جبران سرفراز نے بی بی سی کو بتایا کہ آئی ایم ایف کی جانب سے قسط کی منظوری کا مارکیٹ میں کاروبار پر مثبت اثر ہوا ہے جس کی وجہ سے حصص کی خریداری کے رجحان کو فروغ ملا۔

    انھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کی قسط کی منظوری کے علاوہ جلد سٹیٹ بینک کی جانب سے مانیٹری پالیسی اجلاس کا انعقاد ہونے جا رہا ہے جس میں شرح سود میں کسی تبدیلی کا امکان نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے بھی مارکیٹ میں مثبت رجحان پیدا ہوا ہے۔

  17. کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے درمیان جھڑپوں میں تیزی، ہلاکتوں میں اضافہ

    کمبوڈیا کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ تھائی لینڈ کی افواج کی جانب سے منگل کی رات سرحدی صوبے بنٹے مینچے میں فائرنگ کے نتیجے میں مزید دو شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ دونوں افراد قومی شاہراہ پر سفر کر رہے تھے۔

    اس سے قبل کمبوڈیا کے وزیر اطلاعات نیتھ فیاکترا نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ پیر کو تھائی فورسز کی گولہ باری کے نتیجے میں چار کمبوڈیائی شہری ہلاک ہوئے تھے۔

    گذشتہ روز تھائی لینڈ نے دعویٰ کیا تھا کہ کمبوڈیا کی جانب سے فائرنگ کے نتیجے میں اس کا ایک فوجی ہلاک اور چار دیگر زخمی ہوئے تھے۔

    دونوں ملکوں کے مابین جھڑپوں کے باعث کمبوڈیا کے سرحدی علاقوں میں ہزاروں افراد نے رات پناہ گاہوں میں گزاری۔

    دونوں فریقین نے ایک دوسرے پر جارحیت کا الزام لگا رہے ہیں۔

    تھائی لینڈ کا کہنا ہے کہ اس کے فوجیوں نے کمبوڈیا کی جانب سے تھائی لینڈ کے صوبہ اوبن رتچاتھانی میں فائرنگ کا جواب دیا تھا جبکہ ’متعدد علاقوں میں فوجی اہداف‘ پر فضائی حملے بھی کیے تھے۔

    کمبوڈیا کا دعویٰ ہے کہ جارحیت کا آغاز تھائی افواج نے کیا تھا۔

  18. سعودی عرب اور قطر کے درمیان تیز رفتار ٹرین سروس کی تعمیر کا معاہدہ، ٹرین سروس چھ سال میں مکمل ہونے کا امکان

    سعودی عرب اور قطر نے دونوں ملکوں کے مابین تیز رفتار ٹرین سروس شروع کرنے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت آئندہ چھ برسوں میں دونوں ممالک کو بذریعہ جدید ریل ایک دوسرے سے ملایا جائے گا۔

    سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کا کہنا ہے کہ اس معاہدے پر دارلحکومت ریاض میں دستخط ہوئے اور اس تقریب میں سعودی عرب کے ولیِ عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حماد بھی موجود تھے۔

    اس معاہدے کے تحت سعودی عرب کے دارلحکومت ریاض کو قطر کے دارلحکومت دوحہ سے ملانے کے لیے 785 کلو میٹر طویل ریلوے لائن بنائی جائے گی۔

    یہ ریلوے لائن سعودی عرب کے شہر دمام سے ہوتی ہوئی کنگ سلمان انٹرنیشنل ایئر پورٹ کو قطر کے حماد انٹرنیشنل ائیر پورٹ سے منسلک کرے گی۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ اس ٹرین سروس سے دونوں ممالک کے مابین سفری سہولیات بہتر ہوں گے اور 300 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والے ٹرین سے دونوں دارلحکومتوں کے مابین سفر کے دورانیے میں دو گھنٹے کمی آئی گی۔

    ایس پی اے کے مطابق قطر اور سعودی عرب کے مابین اس ہائی سپیڈ ٹرین سے سالانہ ایک کروڑ مسافر سفر کریں گے اور اس منصونے سے 30 ہزار افراد کے لیے ملازمت کے مواقع پیدا ہوں گے۔

    ریلوے لائن منصوبہ مکمل ہونے پر دونوں ممالک کی معشیت کو اس سے تقریباً 115 ارب ریال کا فائدہ ہو گا۔

    حکام کا کہنا ہے کہ معیار اور حفاظت کے اعلیٰ ترین بین الاقوامی معیارات کے مطابق تعمیر ہونے والی اس ریلوے لائن میں جدید ترین ریلوے ٹیکنالوجیز کو استعمال کیا جائے گا اور اُمید ہے کہ یہ منصوبہ آئندہ چھ سال میں مکمل ہو جائے گا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ منصوبہ علاقائی ترقی کے لیے اہم ترین سٹریٹجک منصوبوں میں سے ہے کیونکہ جدید ترین ریلوے نیٹ ورک خلیج تعاون کونسل میں شامل ممالک کے روابط کو مزید مستحکم اور مضبوط بناتا ہے۔

  19. آئی ایم ایف کی پاکستان کے لیے ایک ارب 20 کروڑ ڈالر مالیت کی قسط کی منظوری

    بین الاقوامی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے ایک ارب 20 کروڑ ڈالر مالیت کی قسط کی منظوری دی ہے۔ فنڈ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے معاشی اصلاحات کے حصول کے لیے شرائط پوری کیں ہیں۔

    سوامورکو واشنگٹن میں آئی ایم ایف بورڈ نے پاکستان کے لیے قسط کی ادائیگی کی منظوری دی۔

    آئی ایم ایف کے سات ارب ڈالر کے مالیاتی پیکچ کے تحت سے پاکستان کو اس حالیہ منظوری کے بعد فوری ایک ارب ڈالر ملیں گے جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے آئی ایم ایف کے ریزیلینس اینڈ سسٹینبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) کے تحت پاکستان کو 20 کروڑ ڈالر ملیں گے۔

    آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ملک میں آنے والے سیلاب کے باوجود بھی پروگرام پر سختی سے عمل درآمد کیا اور ملک میں استحکام برقرار رکھتے ہوئے مالیاتی پوزیشن بہتر کی ہے۔

    آئی ایم ایف کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ملک میں آنے والے حالیہ سیلاب کے بعد پاکستان کو قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے ماحولیاتی اصلاحات پر تیزی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ حکام آئی ایم ایف کے آر ایس ایف پروگرام کے تحت اس سلسلے میں ریفارمز کر رہے ہیں۔

    آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اب تک پاکستان کو اب تک تین ارب تیس کروڑ ڈالر مل چکے ہیں۔

    ستمبر 2024 میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے پاکستان کے لیے سات ارب ڈالر کے قرض پروگرام کی منظوری تھی۔ اس منظوری کے بعد پاکستان کو فوری طور پر 1.1 ارب ڈالر کی پہلی قسط ملی تھی جبکہ بقیہ لگ بھگ 5.9 ارب ڈالرز آئندہ تین سال میں پاکستان کو مختلف اقساط میں دیے جائیں گے۔

    آئی ایم ایف نے اپنے اعلامیے میں کہا ہے کہ ’عالمی سطح پر بے یقینی کی صورتحال کے دوران میکرو اکنامک استحکام برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان سختی سے پالسیز پر عمل کرے جبکہ معاشی شرح نمو بہتر کرنے کے لیے نجی شعبے کی ترقی کے لیے اصلاحات کرنے کی ضرورت ہے۔

    آئی ایم ایف نے زور دیا ہے کہ حکومت سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر کر کے نجکاری کے عمل کو تیزکرے اور توانائی کے شعبے کو بہتر بنانے کے لیے اصلاحات کرے۔

  20. نابالغ بیٹے کو گاڑی چلانے کی اجازت دینے پر والد کو تین سالہ قید کی سزا، آگاہی مہم چلانے کا بھی حکم, ریاض مسرور، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر

    سرینگر کے سپیشل موبائل مجسٹریٹ شبیر احمد ملک نے ایک شخص کو اپنے نابالغ بیٹے کو گاڑی چلانے کی اجازت دینے پر تین سال کی قید اور 25 ہزار روپے کے نقد جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

    سرینگر کے رہائشی مشتاق احمد کے خلاف اپنی نوعیت کا یہ پہلا فیصلہ سناتے ہوئے مجسٹریٹ نے کہا کہ انھیں جیل میں قیام کے دوران صاف ستھرا برتاؤ کرنے اور پُرامن رہنے کی ضمانت کے طور پر دو لاکھ روپے کا سکیورٹی بانڈ بھی دینا ہوگا۔

    جج نے جب مشتاق احمد سے پوچھا کہ ’کیا یہ واقعی حقیقت ہے کہ آپ نے 18 سال سے کم عمر کے اپنے بیٹے کو گاڑی چلانے کی اجازت دی؟‘ تو انھوں نے عدالت میں اقبال جرم کر لیا۔

    عدالت نے معاملہ صرف اس مقدمے تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کی اس عدالت نے نابالغوں کو ڈرائیونگ سے باز رکھنے کے لیے سکولوں میں بیداری مہم چلانے کا بھی حکم دیا ہے۔

    مفصل فیصلے میں عدالت نے کہا کہ گذشتہ پانچ برس کے دوران سڑک پر ہونے والے حادثات میں پورے انڈیا میں 8 لاکھ 10 ہزار 913 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ فیصلے کے مطابق ان حادثوں میں اکثریت ایسے حادثوں کی ہے جن میں ڈرائیورز کم عمر تھے۔

    مجسٹریٹ نے کہا کہ ’روڈ سیفٹی کو صرف قانون کے ڈر سے نافذ کرنا ممکن نہیں ہے۔ احتیاط سماج کے اندر سے ایک تحریک کی صورت میں اُبھرنی چاہیے۔ اس لیے محکمہ تعلیم کے سربراہ کو حکم دیا جاتا ہے کہ اس فیصلے کی کاپیاں سبھی سکولوں میں تقسیم کروا کے وہاں باقاعدہ بیداری مہم چلائیں۔‘

    کشمیر میں دِیت کا قانون نہیں ہے اور سڑک حادثوں یا ٹریفک ضابطوں کی خلاف ورزی کے لیے ’موٹر ویکلز ایکٹ‘ نافذ ہے جس کے سیکشن 199A اٹھارہ سال سے کم عمر کے کسی بھی شخص کا کوئی بھی گاڑی چلانا قانوناََ جرم ہے۔

    عدالت نے مشتاق احمد کے کیس کا حوالہ دے کر کہا ’مشتاق کے بیٹے نے ضرور خلاف ورزی کی ہے، لیکن کوئی حادثہ نہیں ہوا اور اس کا کوئی پولیس ریکارڈ بھی نہیں ہے، لہٰذا اسے صرف انتباہ کر کے سزا سے مستثنیٰ رکھا جائے گا۔‘

    فیصلے میں تمام والدین اور گاڑیوں کے مالکان کو ہدایت دی ہے کہ اگر وہ نابالغ یا بغیر لائسنس کے اپنے اقربا کو گاڑی دیتے ہیں، تو انھیں اس کے لیے بنیادی قصوروار مانا جائے گا۔

    واضح رہے کشمیر میں گذشتہ دہائی کے دوران سڑکوں کا پھیلاؤ اور گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ ہونے سے سڑک حادثوں میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔ عدالت نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ گذشتہ پانچ برسوں کے دوران ہر سال اوسطاََ ڈیڑھ سے پونے دو لاکھ افراد سڑک حادثوں میں مارے گئے۔

    ’جب آپ نابالغ بچے کے ہاتھ میں گاڑی دیتے ہیں تو وہ سکولوں، ہسپتالوں اور دوسری بھیڑ باڑ والی جگہوں پر بے تحاشا رفتار سے گاڑی چلاتا ہے۔ اور اعدادوشمار سے بھی ثابت ہے سڑک حادثوں میں اضافہ مائنر ڈرائیونگ کی وبا سے ہی ہوا ہے۔ اس وبا کو ختم کرنا ہوگا۔‘

    سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اسی مدّت کے دوران کشمیر میں تقریباََ پانچ ہزار افراد سڑک حادثوں میں مارے گئے۔ صرف 2023 میں سڑک حادثوں کی وجہ سے 893 ہلاکتیں ہوئیں اور 40 ہزار زخمی ہوگئے۔

    واضح رہے کہ گذشتہ برس پولیس نے ایک مہم چلائی تھی جس میں پیٹرول سٹیشنوں سے کہا گیا تھا وہ نابالغ ڈرائیورز کو ایندھن فراہم نہ کریں، لیکن یہ مہم چند روز میں ہی ختم ہوگئی۔

    تاہم مشتاق احمد کے معاملے میں سپیشل موبائل مجسٹریٹ کا فیصلہ اپنی نوعیت کا پہلا فیصلہ ہے۔ انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے سبھی خطوں میں 22 لاکھ 66 ہزار چھوٹی اور بڑی گاڑیاں رجسٹر ہیں اور دشوار گزار پہاڑی راستوں پر سڑکوں کی ابتر حالت کے باعث گذشتہ برسوں میں سڑک حادثوں میں اضافہ ہوا ہے۔

    عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ پالیسی سازی اور قانون کا نفاذ حکومت کا کام ہے ’لیکن لوگوں کو بھی اپنی ذمہ داری کو سمجھنا ہوگا اور نابالغ لڑکے اور لڑکیوں کو گاڑی چلانے سے روکنا ہوگا۔ اٹھارہ سال کی عمر کے بعد ہی بچوں کی باقاعدہ تربیت کی جائے اور لائسنس ملنے کے بعد ہی انھیں گاڑی چلانے کی اجازت دی جائے۔‘