آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

چولستان کینال کی تعمیر کے خلاف سندھ میں احتجاجی مظاہرے

سندھ کی حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے منگل کو کراچی، حیدرآباد، لاڑکانہ اور ٹھٹہ سمیت سندھ بھر میں چولستان کینال کی تعمیر کی ۂلسف احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ پی پی پی کے سندھ کے صدر نثار کھوڑو کا کہنا ہے کہ چولستان کینال سمیت چھ کینالوں کا منصوبہ ’غیر قانونی اور غیرآئینی ہے۔‘

خلاصہ

  • وائٹ ہاؤس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایک صحافی کو غلطی سے ایک ایسے گروپ چیٹ میں شامل کر لیا گیا تھا جہاں حکام حوثیوں کے خلاف حملے کے منصوبے کے بارے میں بات چیت کر رہے تھے.
  • ترک صدر رجب طیب اردوغان نے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعت کے گرفتار میئرکی حمایت میں ہونے والا احتجاج پرتشدد تحریک میں بدل چکا ہے۔
  • کراچی اور بلوچستان کے مختلف شہروں میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ماہ رنگ بلوچ کی گرفتاری کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے تاہم پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ کی اور متعدد افراد کو حراست میں لے لیا۔
  • حکومت نے بلوچستان میں 'ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث' سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    26 مارچ کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

  2. زیلنسکی کا روس پر مذاکرات کے نتائج کے متعلق جھوٹ بولنے کا الزام

    یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روس پر مذاکرات کے نتائج کے بارے میں جھوٹ بولنے کا الزام عائد کیا ہے۔

    زیلنسکی نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ ’کریملن پھر سے جھوٹ بول رہا ہے۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’بحیرہ اسود میں جنگ بندی دراصل پابندیوں پر منحصر ہے اور انرجی سیز فائر 18 مارچ کو شروع ہو چکا ہے۔ ماسکو ہمیشہ جھوٹ بولتا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’وائٹ ہاؤس کی جانب سے شائع کردہ بیان ’بالکل واضح‘ ہے اور اب یہ دنیا اور ان سب ممالک پر منحصر ہے جو واقعی امن چاہتے ہیں کہ آیا روس کو دوبارہ جھوٹ بولنے کی اجازت دی جائے گی یا نہیں۔‘

  3. بلوچ یکجتی کمیٹی کے رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف بلوچستان بھر میں احتجاجی ریلیاں اور مظاہرے, محمد کاظم، بی بی سی کوئٹہ

    بلوچ یکجیتی کمیٹی کے رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف آج بلوچستان کے مختلف شہروں میں احتجاجی ریلیوں کے علاوہ مظاہرے کیے گئے۔

    گوادر کے سوا باقی تمام شہروں میں احتجاج بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام کیے گئے۔

    بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے بتایا کہ جن شہروں میں احتجاج کی کال دی گئی تھی ان میں تربت، خاران، نوشکی، حب، خضدار اور پنجگور شامل تھے۔

    گوادر میں ریلی اور مظاہرے کا انعقاد حق دو تحریک کی جانب سے کیا گیا۔

    ان ریلیوں اور مظاہروں میں خواتین نے بھی شرکت کی۔

    ریلیوں کے شرکا نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، سمّی بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے دیگر رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاری کی مذمت کی اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔

    دوسری جانب بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں ڈاکٹر صبیحہ بلوچ، گلزادی بلوچ اور صبغت اللہ کے علاوہ دیگر کے خلاف مزید تین ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔

    کوئٹہ میں حالیہ احتجاج کے دوران اب تک بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کے خلاف مجموعی طور پر سات ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ ان ایف آئی آرز میں قتل اور اقدام قتل کے علاوہ انسداد دہشت گردی کے مقدمات بھی شامل ہیں۔

  4. بریکنگ, روس اور یوکرین نے بحیرہ اسود میں جنگ بندی پر اتفاق کر لیا: وائٹ ہاؤس

    وائٹ ہاؤس کے مطابق روس اور یوکرین نے بحیرہ اسود میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے اور فوجی حملے روکنے پر اتفاق کر لیا ہے۔

    واشنگٹن نے یہ اعلان سعودی عرب میں امریکی حکام اور دونوں ممالک کے نمائندوں کی ملاقات کے بعد کیا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کی جانب سے بی بی سی کو بھیجے گئے بیان میں امریکہ اور یوکرین کے درمیان ریاض میں ہونے والے مذاکرات کے بارے میں کہا گیا ہے کہ:

    • امریکہ اور یوکرین نے بحیرہ اسود میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت، طاقت کے استعمال کے خاتمے اور تجارتی جہازوں کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
    • دونوں ممالک جنگی قیدیوں کے تبادلے، شہریوں قیدیوں کی رہائی اور زبردستی منتقل کیے گئے یوکرینی بچوں کی واپسی کے لیے کام جاری رکھیں گے۔
    • کیئو اور واشنگٹن نے روس اور یوکرین میں توانائی کے مراکز پر حملے روکنے کے لیے عملی اقدامات تیار کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
    • دونوں ممالک ’پائیدار اور دیرپا امن‘ کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے اور دیگر ممالک کو بھی بحری اور توانائی معاہدوں کے نفاذ میں تعاون کی دعوت دیں گے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکہ نے دونوں فریقوں کو یاد دہانی کرائی ہے کہ خونریزی بند ہونی چاہیے اور یہ کہ وہ مذاکرات کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

  5. چولستان کینال کی تعمیر کے خلاف سندھ میں احتجاجی مظاہرے

    سندھ کی حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے منگل کو کراچی، حیدرآباد، لاڑکانہ اور ٹھٹہ سمیت سندھ بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔

    یہاں یہ مطالبہ کیا گیا کہ دریائے سندھ پر چولستان کینال کی تعمیر روکی جائے۔

    سندھ کے صوبائی صدر نثار کا کہنا تھا کہ چولستان کینال سمیت چھ کینالوں کا منصوبہ ’غیر قانونی اور غیرآئینی ہے۔‘

    ’دو صوبوں کے درمیان پانی تنازعہ کے حل کے لیے سی سی آئی کا اجلاس طلب کرکے متنازعہ کینال منصوبے کو ختم کیا جائے۔‘

    ان کے مطابق چولستان کینال منصوبہ ’کالاباغ ڈیم سے بھی زیادہ خطرناک ہے جس سے سندھ بنجر بن جائے گا۔‘

    نثار کھوڑو نے کینال منصوبے کے خلاف دوسرے مرحلے میں سندھ بھر میں تحصیل سطح پر احتجاجی دھرنے اور مظاہروں کا اعلان کیا اور کہا کہ 4 اپریل کے بعد چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری ڈویژن سطح پر احتجاجی جلسے کریں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’یہ احتجاج اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک وفاقی حکومت چولستان کینال سمیت 6 کینالوں کے منصوبے سے دستبرداری کا اعلان نہیں کرتی سینیٹر۔‘

    وقار مہدی کا کہنا تھا کہ ’سب سے پہلے پی پی نے ان کینالز کی مخالفت کی۔ یہ معاملہ سی سی آئی میں لے گئی، اس کے بعد صدر آصف علی زرداری نے اپنے خطاب میں اس کی مخالفت کی۔‘

  6. احمد نورانی کے بھائیوں کی بازیابی کی درخواست پر عدالتی حکمنامہ: ’آئی جی اسلام آباد 27 مارچ کو پیش ہوں اور بتائیں کیا اقدامات کیے ہیں‘

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس انعام امین منہاس نے صحافی احمد نورانی کے دو بھائیوں کی بازیابی کی درخواست پر ایک صفحے کا تحریری حکم نامہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’آئی جی 27 مارچ کو پیش ہو کر تفصیلی رپورٹ جمع کروائیں اور بتائیں کہ انھوں نے اب تک کیا اقدامات کیے ہیں۔‘

    حکم نامے کے مطابق ایس ایچ او کی جانب سے جو رپورٹ عدالت کے سامنے پیش کی تھی جو غیر تسلی بخش ہے۔

    عدالتی حکمنامے کے مطابق ’کیس کی حساسیت دیکھتے ہوئے آئی جی اسلام آباد کو طلب کر رہے ہیں۔ آئی جی اسلام آباد 27 مارچ کو ذاتی حیثیت میں پیش ہوں۔‘

  7. اسلام آباد ہائی کورٹ میں توہینِ مذہب کے مقدمات کے اندراج سے متعلق کمیشن کی تشکیل سے متعلق درخواستوں کی سماعت کا احوال, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے توہین مذہب کے مقدمات کے اندراج سے متعلق کمیشن کی تشکیل کے حوالے سے درخواستوں کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت کے سامنے معاملہ کمیشن کی تشکیل سے متعلق ہے نہ کہ کسی کے ایمان کی جانچ پڑتال کرنے اور نہ ہی یہ معاملہ ہے کہ توہین مذہب کے مقدمے میں کسی کو سزا دی جانی چاہیے یا نہیں۔

    شہزاد خان جن کی مدعیت میں توہین مذہب کے چار مقدمات درج ہو چکے ہیں کے وکیل سجاد عباسی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کمیشن کی تشکیل اس معاملے میں اس لیے نہیں ہو سکتی کیونکہ ان مقدمات میں گرفتار انصاف کے حصول کے لیے متعقلہ فورم استعمال کر رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ توہینِ مذہب کے درج مقدمات میں 30 سے زیادہ لوگوں کو سزائیں بھی سنائی جا چکی ہیں اور انھوں نے ان سزاؤں کے خلاف ہائی کورٹس میں رجوع کر رکھا ہے۔

    عدالت کو بتایا گیا ہے کہ جن افراد پر توہینِ مذہب کے مقدمات چل رہے ہیں ان میں سے 99 فیصد مسلمان، 90 فیصد طلبا اور تین مسیحی برادری کے ہیں۔

    سجاد عباسی کا کہنا تھا کہ چونکہ ملزمان اس سزا کے خلاف اپیلیں دائر کر چکے ہیں اس لیے ان کے ورثا کمیشن کی تشکیل کے لیے درخواست نہیں دے سکتے۔

    بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اگر کمیشن تشکیل دے دیا جاتا تو یہ بہتر نہ ہوتا کہ آپ یہ ساری تفصیل ان کے سامنے گوش گزار کرتے۔

    انھوں نے درخواست گزار کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر کمیشن کی تشکیل ہو جاتی تو آپ توہین مذہب کے قانون کے غلط استعمال سے متعلق سپیشل برانچ کی رپورٹ کو چیلنج کرتے اور اس کے علاوہ جو دیگر رپورٹس آئی ہوئی ہیں ان کو بھی جھٹلاتے لیکن آپ نے یہ راستہ اختیار نہیں کیا۔

    درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ توہین مذہب کا قانون بڑی واضح ہے اور 26ویں آئینی ترمیم میں بھی اس کا ذکر کیا گیا ہے جس پر جسٹس سردار اسحاق خان کا کہنا تھا کہ یہ قانون پہلے سے ہی موجود ہے اس ترمیم میں اس قانون سے متعلق کوئی بات نہیں کی گئی۔

    درخواست گزار کے وکیل کا کہنا ہے کہ کمیشن کی تشکیل دینے کے حوالے سے درخواست گزاروں نے جو مؤقف اپنایا ہے کہ ان کے پیاروں کو سوشل میڈیا پر ٹریپ کر کے توہین مذہب کے مقدمات درج کیے جا رہے ہیں جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ جن افراد کو توہینِ مذہب کے مقدمات میں گرفتار کیا گیا انھوں نے اس جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ انھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ اس کمیشن کی تشکیل کے حوالے سے درخواستیں مسترد کر دی جائیں۔

    شہزاد خان کے وکیل کے دلائل مکمل ہونے کے بعد ایک اور درخواست گزار حافظ احتشام کی درخواست پر سماعت ہو گی اور ان کی طرف سے جمعیت علمائے اسلام سے تعلق رکھنے والے سینیٹر کامران مرتضی پیش ہوں گے۔

    درخواست گزار کے وکیل کی جانب سے ریاستی اداروں کے مخالف بیانیے کا ذکر کرنے پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج نے کہا کہ ہم اس نہج پر کیوں آ گئے ہیں کہ لوگ اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے کو پسند کرتے ہیں۔

    حافظ احتشام عدالتوں میں درخواستیں دینے کے بارے میں جانے جاتے ہیں۔ ان کی مدعیت میں ان صحافیوں کے خلاف بھی مقدمات درج ہوئے تھے جو کہ ریاستی اداروں کے خلاف باتیں کرتے تھے۔

    حافظ احتشام کی مدعیت میں بھی توہین مذہب کے مقدمے میں چار مقدمات درج ہیں۔

    واضح رہے کہ توہین مذہب کے قانون کے غلط استعمال سے متعلق سپیشل برانچ کی رپورٹ میں چند وکلا کا بھی ذکر کیا گیا ہے جو لوگوں کے خلاف توہین مذہب سے متعلق غلط مقدمات درج کرواتے ہیں اور پھر ان سے مبینہ طور پر لاکھوں روپے وصول کرتے ہیں۔

    سپیشل برانچ کی رپورٹ کے علاوہ نیشنل کمیشن نے بھی توہین مذہب کے قانون کے غلط استعمال سے متعلق بھی ایک رپورٹ تیار کی ہے اور یہ رپورٹ اکتوبر 2023 سے اکتوبر 2024 کے درمیان ہونے والے توہین مذہب کے مقدمات کو سامنے رکھتے ہوئے تیار کی گئی ہے۔

    اس رپورٹ میں ان وجوہات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ کس طرح لوگوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے ٹریپ کیا جا رہا ہے اور مقدمات کے اندراج میں ایف آئی اے سائبر کرائم کے کچھ لوگ بھی مبینہ طور پر ملوث پائے گئے ہیں۔

    اس رپورٹ میں نیشنل کمیشن کے افراد ملک کی مختلف جیلوں میں جا کر ان ملزمان سے بھی ملاقاتیں کی ہیں جو توہین مذہب کے مقدمات میں قید ہیں۔

    توہین مذہب کے قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے کمیشن کی تشکیل کے لیے درخواست گزاروں نے کمیشن کی اس رپورٹ کو اپنی درخواست کا حصہ بنا لیا ہے۔

    توہین مذہب کے قانون کے تحت درج ہونے والے مقدمات میں سے 134 متاثرین نے وفاقی حکومت کو اس قانون کے استعمال سے متعلق کمیشن کی تشکیل کے لیے ایک درخواست دی تھی تاہم وفاقی حکومت نے اس بارے میں کوئی کمیشن تشکیل نہیں دیا اور 134 میں سے 101 افراد کے ورثا نے کمیشن کی تشکیل سے متعلق اسلام اباد ہائی کورٹس میں درخواستیں دائر کی تھیں۔

    وزارت داخلہ کے حکام نے ان درخواستوں کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواستوں کی سماعت کے دوران عدالت کو بتایا تھا کہ ان کی وزارت اس ضمن میں کمیشن تشکیل دینے کو تیار ہے اور چونکہ کمیشن کی تشکیل کا اختیار وفاقی کابینہ کے پاس ہے تو اس لیے عدالت نہ صرف انھیں مہلت دے بلکہ کمیشن کی تشکیل کے حوالے سے گائیڈ لائن بھی دے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزارت داخلہ کو جو گائیڈ لائن دی تھی اس کے مطابق یہ کمیشن میں سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں قائم ہو جبکہ اس کمیشن میں ایف آئی اے سائبر کرائم کے علاوہ آئی ٹی ماہر اور ایک مذہبی سکالر کو بھی شامل کیا جائے۔

    عدالت کا کہنا تھا کہ چونکہ یہ سارا معاملہ آن لائن ہو رہا ہے اس لیے کمیشن یہ طے کرے کہ توہین مذہب کا غلط استعمال نہ ہو۔

    کمیشن کی تشکیل سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران لاہور ہائی کورٹ بار اسوسی ایشن نے فریق بننے کی کوشش کی جو کہ مسترد کر دی گئی جبکہ ان درخواستوں کی سماعت کرنے والے جج کی تبدیلی کی بھی درخواست دی گئی جو کہ بھاری جرمانے کے ساتھ مسترد کر دی گئی۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس سردار اسحاق خان کے حکم پر ان درخواستوں پر عدالتی کارروائی لائیو سٹریمنگ پر دکھائی جا رہی ہے۔

  8. سمی دین بلوچ کو رہائی کے بعد کراچی میں احاطۂ عدالت سے ایم پی او کے تحت دوبارہ گرفتار کر لیا گیا, ریاض سہیل، بی بی سی اردو، کراچی

    کراچی میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما سمی دین بلوچ کو پولیس کی جانب سے نقصِ امن کے خدشے کے باعث ایم پی او کے تحت احاطۂ عدالت سے دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔ سمی دین بلوچ کو ایم پی او آرڈر کے تحت 30 روز کے لیے جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔

    اس حوالے سے سندھ حکومت نے اپنے حکم نامے میں لکھا ہے کہ سمی بلوچ سمیت پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے کیونکہ وہ عوام کو مشتعل کر رہے تھے اور ان کی وجہ سے نقصِ امن کا خطرہ تھا۔

    منگل کی صبح پولیس نے سمی دین سمیت پانچ افراد کو سینٹرل جیل میں جوڈیشل میجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا۔

    خیال رہے کہ پیر کو بلوچ یکجہتی کمیٹی اور سول سوسائٹی کراچی کے اراکین نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بیبرگ بلوچ اور دیگر کارکنوں کی حراست کے خلاف پریس کلب کے باہر احتجاج کی کال دے رکھی تھی جب سمی بلوچ اور دیگر مظاہرین کو گرفتار کیا گیا۔

    منگل کو عدالت میں جبران ناصر سمیت دیگر وکلا پیش ہوئے اور عدالت کو آگاہ کیا کہ سمی بلوچ کو بے گناہ اور غیر قانونی طور پر گرفتار کیا گیا ہے اور شہر میں دفعہ 144 کا نفاذ غلط ہے۔

    عدالت نے وکلا کے دلائل سننے کے بعد سمی دین محمد اور وہاب بلوچ سمیت پانچ افراد کو رہا کرنے کا حکم جاری کیا۔

    تاہم ان کی رہائی کے فوری بعد پولیس نے سمی کو دوبارہ حراست میں لے لیا اور بتایا کہ انھیں ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔

    پولیس کی جانب سے سمی بلوچ کو دوبارہ گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی جس پر وکلا کی جانب سے گرفتاری کی مزاحمت کی گئی اور پولیس اور وکلا کے درمیان دھکم پیل ہوئی۔ اس موقع پر عدالت نے پولیس سے ایم پی او کا آرڈر طلب کیا تھا تاہم پولیس نے آرڈر عدالت میں پیش کیا اور عدالت کو آگاہ کیا کہ وہ قانون کے مطابق ایم پی او کے آرڈر پر آرڈر نہیں کر سکتے۔

    خیال رہے کہ ایم پی او کے تحت ان افراد کو حراست میں لیا جاتا ہے یا نظر بند کیا جاتا ہے جن کے آزاد گھومنے پھرنے سے، حکومت کے مطابق، امن و عامہ کے مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔

    سمی دین کی چھوٹی بہن مہلب بلوچ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سمی دین کو غیر مشروط رہا کیا جائے اور بلوچ خواتین پر تشدد اور ظلم میں ملوث افسران اور اہلکاروں کو سزا دی جائے۔

    انھوں نے کہا کہ اگر ریاستی ظلم و ستم کا سلسلہ جاری رہا تو بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے سخت احتجاج کیا جائے گا۔

  9. ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت بی وائی سی کے رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف بلوچستان کے متعدد شہروں میں شٹرڈاؤن ہڑتال, محمد کاظم، بی بی سی کوئٹہ

    بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، سمّی دین بلوچ اور دیگر رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف پاکستان کے صوبے بلوچستان کے متعدد شہروں میں شٹرڈائون ہڑتال کی جا رہی ہے۔

    شٹرڈاؤن ہڑتال کی کال بلوچستان نیشنل پارٹی نے دی تھی۔

    بلوچستان نیشنل پارٹی کی کال کے بعد اب بلوچ آبادی والے ان شہروں میں بھی ہڑتال کی جارہی ہے جو گذشتہ دو روز سے ان گرفتاریوں کے خلاف احتجاجاً بند نہیں تھے۔ شٹرڈائون ہڑتال کے باعث ان شہروں میں بیشتر کاروباری مراکز بند ہیں۔

    بلوچستان نیشنل پارٹی کی جانب سے جمعرات کے روز بلوچستان بھر میں احتجاجی مظاہروں جبکہ 28 مارچ کو خضدار کے علاقے وڈھ سے کوئٹہ تک لانگ مارچ کا اعلان کیا گیا ہے۔

    کوئٹہ شہر میں سریاب اور مغربی بائی پاس کے بعض علاقوں میں کسی بھی احتجاج کو روکنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔

    خیال رہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے دیگر رہنماؤں کو سنیچر کو ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔

    ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی گرفتاری کے خلاف درخواست پر بلوچستان ہائی کورٹ کا نوٹس

    ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی گرفتاری کے خلاف بلوچستان ہائی کورٹ میں‎ ان کی بہن نادیہ بلوچ کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔

    درخواست گزار کے وکیل عمران بلوچ نے بتایا کہ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ بی وائی سی کی سربراہ کو کسی قانونی پروسیجر کے بغیر گرفتار کیا گیا ہے کیونکہ گرفتاری کے بعد انھیں براہ راست ہدہ جیل منتقل کر دیا گیا۔

    عمران بلوچ نے بتایا کہ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کو ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا ہے جس کے باعث اس بات کا خدشہ ہے کہ ایم پی او کے بعد مختلف تھانوں میں درج مقدمات میں ان کی گرفتاری ظاہر کر دی جائے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ درخواست میں بی وائی سی کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف درج تمام مقدمات کی تفصیلات فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ جسٹس روزی خان بڑیچ اور جسٹس شوکت رخشانی پر مشتمل بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔

    سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل اور پراسیکیوٹر جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔ عمران بلوچ نے بتایا کہ عدالت نے نوٹس جاری کرتے ہوئے حکومت کو ایک ہفتے کے اندر اندر ڈاکٹر ماہ رنگ کے خلاف درج تمام مقدمات کی تفصیل فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    عمران بلوچ کا کہنا تھا کہ ایڈووکیٹ جنرل اور پراسیکوٹر جنرل نےڈاکٹر ماہ رنگ کے خلاف مقدمات کی تفصیلات کی فراہمی کے لیے ایک ہفتے کی مہلت مانگی۔

    عدالت نے مقدمے کی سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کرتے ہوئے ڈاکٹر ماہ رنگ کے خاندان کے افراد اور وکیل کو ان سے ملاقات کی اجازت دینے کی بھی ہدایت کی ہے۔

    سریاب روڈ سے حراست میں لی جانے والی ایف ایس سی کی طالبہ رہا

    گزشتہ روز سریاب روڈ سے احتجاج کے موقع پر حراست میں لی جانے والی ایف ایس سی کی طالبہ مذلفہ قمبرانی کو رہا کردیا گیا ہے۔

    مزلفہ قمبرانی کے خاندان کے مطابق وہ ٹیوشن سینٹر سے اپنی بہن کے ہمراہ گھر آرہی تھی کہ جب انھیں ایک ڈالے میں سوار سادہ کپٹروں میں ملبوس اہلکاروں نے مبینہ طور پر حراست میں لے لیا۔ تاہم رات کو ساڑھے 12 بجے کے بعد طالبہ کو چھوڑ دیا گیا۔

  10. افغان شہریوں کے انخلا کا معاملہ: وزارتِ داخلہ نے خیبر پختونخوا حکومت سے صوبے میں موجود افغان شہریوں کی تفصیلات طلب کر لیں

    وفاقی وزارت داخلہ نے خیبر پختونخوا حکومت سے صوبے میں موجود افغان شہریوں اور ان کے انخلا کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے متعلق تفصیلات طلب کر لی ہیں۔

    وزارتِ داخلہ کی جانب سے صوبائی حکومت سے پوچھا گیا ہے کہ صوبے میں کتنی تعداد میں افغان شہری موجود ہیں اور اب تک کتنے افغان شہریوں کو واپس بھیجا جا چکا ہے۔

    صوبائی حکومت سے افغان شہریوں کے انخلا سے متعلق کیے جانے والے اقدامات کے متعلق بھی رپورٹ طلب کی گئی ہے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق 31 مارچ تک ان افغان باشندوں کو ان کے ملک واپس بھیجا جائے گا جن کے پاس افغان سیٹیزن کارڈ ہیں۔

    یہ کارڈ پاکستانی حکومت نے ان افغان شہروں کو جاری کیے تھے اور حکومت کے پاس تمام افغان شہروں کے تمام کوائف بھی موجود ہیں۔

    واضح رہے کہ اس وقت سب سے زیادہ افغان باشندے پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ہیں۔

  11. چین میں دو سال سے قید امریکی فرم کے پانچ ملازمین رہا

    چین نے امریکی کنسلٹنسی فرم منٹز گروپ کے پانچ ملازمین کو رہا کر دیا ہے۔

    ان افراد کو دو سال قبل اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب چین نے غیر ملکی کاروباروں سے منسلک کنسلٹنسی فرمز کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا تھا۔

    مارچ 2023 میں ان کی گرفتاری اس وقت عمل میں آئی جب چین نے ملک میں غیر ملکی جاسوسی کے شک میں مختلف کنسلٹنسی فرموں پر چھاپے مارے شروع کیے۔

    منٹز گروپ نے ایک بیان میں کہا ہی کہ، ’ہم چینی حکام کے شکر گزار ہیں کہ ہمارے سابق ساتھی اب دوبارہ اپنے اہل خانہ کے پاس جا سکیں گے۔

    کمپنی کا کہنا ہے کہ رہائی پانے والے پانچوں ملازمین چینی شہری ہیں۔

    ان کی رہائی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب چین کے شہر بیجنگ میں ایک بزنس فورم منعقد ہو رہا تھا جس میں ایپل کے سی ای او ٹم کک اور دوا ساز کمپنی البرٹ بولرا جیسی شخصِات شرکت کر رہی تھیں۔

    چین اپنی سست معیشت میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    فروری میں جاری ہونے والے حکومتی اعداد و شمار سے کے مطابق گزشتہ تین سالوں میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 99 فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

  12. حوثیوں کا تل ابیب کے نزدیک بین گوریون ایئر پورٹ پر بیلسٹک میزائل داغنے کا دعویٰ

    حوثی انصار اللہ گروپ کا کہنا ہے کہ اس نے اسرائیل کے بین گوریون ہوائی اڈے پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا ہے۔

    گروپ کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے منگل کی صبح ایک ٹیلی ویژن بیان میں کہا ہے کہ گروپ نے بین گوریون ایئر پورٹ پر ذوالفقار اور فلسطین نامی دو بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔

    بین گوریون ایئر پورٹ اسرائیلی شہر تل ابیب کے مضافات میں واقع ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نے سوموار کے روز یمن سے داغا جانے والا ایک میزائل مار گرایا ہے۔

    یحییٰ سریع نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ حوثی جنگجوؤں کی 24 گھنٹوں کے اندر دوسری مرتبہ بحیرہ احمر میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ہیری ٹرومین اور متعدد بحری جہازوں کے ساتھ جھڑپ ہوئی ہے۔

    روئٹرز کے مطابق، ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز پر حملے میں بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے علاوہ ڈرونز بھی استعمال کیے گئے ہیں۔

    یاد رہے کہ مارچ 15 سے امریکہ ایک بار پھر حوثیوں پر بڑے پیمانے پر حملے کر رہا ہے۔

  13. ٹرمپ انتطامیہ کی چیٹ لیک: امریکی حکام نے حوثیوں پر حملے کا منصوبہ غلطی سے صحافی کے ساتھ شیئر کر دیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قومی سلامتی کی ٹیم نے یمن میں حوثیوں پر حملے کا منصوبہ غلطی سے ایک صحافی کے ساتھ شیئر کر دیا۔

    وائٹ ہاؤس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایک صحافی کو غلطی سے ایک ایسے گروپ چیٹ میں شامل کر لیا گیا تھا جہاں امریکی حکام حوثیوں کے خلاف حملے کے منصوبے کے بارے میں بات چیت کر رہے تھے۔

    اس سے قبل دی ایٹلانٹک میگزین کے ایڈیٹر اِن چیف جیفری گولڈ برگ نے سوموار کے روز انکشاف کیا تھا کہ انھیں سگنل میسیجنگ ایپ کے ایک ایسے گروپ میں شامل کیا گیا تھا جس میں قومی سلامتی کے مشیر مائیکل والٹز اور نائب صدر جے ڈی ونس نامی اکاؤنٹ بھی شامل تھے۔

    قومی سلامتی کونسل کے ترجمان برائن ہیوس نے بی بی سی کو بتایا کہ جو میسیجز رپورٹ ہوئے ہیں وہ اصلی معلوم ہوتے ہیں اور اس بات کی تفتیش کی جارہی ہے کہ ایک غیر متعلقہ نمبر کو گروپ میں کیسے ایڈ کیا گیا۔

    ان کا کہنا ہے کہ گروپ چیٹ میں ہونے والی بات چیت سینیئر حکام کے درمیان پالیسی امور پر تبادلہ خیال تھی۔

    گروپ چیٹ میں کیا ہوا؟

    15 مارچ کو امریکہ نے یمن میں حوثیوں کے خلاف ’طاقتور اور فیصلہ کن‘ فضائی حملوں کا آغاز کیا۔

    جیفری گولڈ برگ لکھتے ہیں کہ ان حملوں سے چار روز قبل، 11 مارچ کو انھیں سگنل میسیجنگ ایپ پر ایک اکاؤنٹ کی جانب سے کنکشن کی درخواست موصول ہوئی جو بظاہر وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر مائیکل والٹز کا لگ رہا تھا۔

    سگنل ایک ایسا میسیجنگ ایپلیکیشن ہے جو دوسری چیٹ ایپس کے مقابلے میں زیادہ محفوظ تصور کی جاتی ہے جس کی وجہ سے صحافی اور امریکی حکام سگنل کو دیگر ایپلیکیشنز پر ترجیح دیتے ہیں۔

    گولڈ برگ کہتے ہیں کہ اس کے دو روز بعد انھیں ایک گروپ چیت میں شامل کیا گیا جس کا عنوان تھا ’حوثی پی سی سمال گروپ‘۔

    ان کے مطابق اس گروپ میں کئی ایسے اکاؤنٹ شامل تھے جو بظاہر کابینہ ارکان اور قومی سلامتی کے حکام کے لگ رہے تھے۔

    ان میں نائب صدر جے ڈی ونس، وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ اور سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف کے نام کے اکاؤنٹ بھی شامل تھے۔

    گولڈ برگ کا کہنا ہے کہ ان کے ہوتے ہوئے گروپ چیٹ میں فوجی حملوں کے اہداف اور اوقات کے بارے میں بات چیت ہو رہی تھی۔ اور یہ منصوبے اس وقت درست نظر آئے جب امریکہ نے یمن میں حوثیوں پر فضائی حملے کیے جو گروپ چیٹ کی تفصیلات سے میل کھاتے تھے۔

    سوموار کے روز جب ایک صحافی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اس متعلق سوال کیا تو ان کا کہنا تھا کہ انھیں اس بارے میں کچھ نہیں معلوم اور وہ پہلی بار صحافی کے منہ سے اس متعلق سن رہے ہیں۔

    حوثیوں پر حملے کے متعلق گروپ چیٹ میں کیا کہا گیا؟

    جیفری گولڈ برگ دی ایٹلانٹک کے اپنے مضمون میں لکھتے ہیں کہ پیٹ ہیگستھ نامی اکاؤنٹ نے گروپ میں ایک پیغام بھیجا جس میں حوثیوں پر ہونے والے حملوں کے اہداف، اس حملے میں استعمال ہونے والے امریکی ہتھیار اور حملوں کی ترتیب کے متعلق مکمل تفصیل شامل تھی۔

    گروپ میں بھیجے جانے والے پیغام میں بتایا گیا تھا کہ حملہ اگلے دو گھنٹوں میں ہوگا۔

    گولڈ برگ کہتے ہیں کہ اس دن وہ ایک سپر مارکیٹ کی پارکنگ میں اپنی کار میں بیٹھے یہ سوچ ہی رہے تھے کہ آیا یہ پیغامات اصلی ہیں بھی کہ نہیں جب انھوں نے سوشل میڈیا پر یمن میں دھماکوں کی خبریں دیکھیں۔

    ان کے مطابق اس کے بعد جب انھوں نے گروپ دیکھا تو وہاں مائیکل والٹز نامی اکاؤنٹ سے ایک پیغام آیا ہوا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ یہ آپریشن ایک ’بہترین کاروائی‘ تھی۔

    گولڈ برگ کا کہنا تھا کہ گروپ میں امریکی عہدیدار ایموجیز بھی شیئر کر رہے تھے۔

    ’ان کی قسمت اچھی تھی کہ وہ میرا نمبر تھا‘

    پی بی ایس نیوز سے بات کرتے ہوئے گولڈ برگ کا کہنا تھا، ’ان کی قسمت اچھی تھی کہ وہ میرا نمبر تھا جسے گروپ میں شامل کیا گیا تھا۔‘

    ان کے مطابق کم از کم یہ کسی ایسے شخص کا نمبر نہیں تھا جو حوثیوں کا حامی تھا کیونکہ وہ ایسی معلومات شیئر کر رہے تھے جس کے نتیجے میں اس آپریشن میں شامل افراد کی جان کو خطرہ ہو سکتا تھا۔

    ان کا کہنا ہے کہ وہ امریکی انتظامیہ کی اس بات سے اختلاف نہیں کرتے کہ یہ سینیئر حکام کے درمیان ہونے والی بات چیت تھی۔ لیکن ان کے مطابق یہ بات غیر اہم ہے کیونکہ یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے۔

    تاہم وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کا کہنا ہے کہ گروپ میں جنگ کا کوئی منصوبہ شیئر نہیں کیا جا رہا تھا۔

  14. استنبول میں جاری مظاہروں کے فضائی مناظر

    ڈرون فوٹیج میں استنبول کے میئر کی گرفتاری کے خلاف ہزاروں افراد کو احتجاج کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

    استنبول میں جاری احتجاج کا سلسلہ اب چھٹے روز میں داخل ہو چُکا ہے۔

    استنبول کے فضائی مناظر:

    واضح رہے کہ احتجاج کے دوران اب تک 1،100 سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے اور وقفے وقفے سے مظاہرین اور پولیس کے درمیان چھڑپوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

  15. ترکی میں مظاہروں کا سلسلہ جاری، مظاہرین کی بڑی تعداد استنبول میں جمع

    مظاہرین اس وقت بھی استنبول کی سڑکوں پر مارچ کر رہے ہیں۔ تاہم ایسے میں پولیس اور احتجاج میں شامل افراد کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

    پیر کے روز بھی پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن اور آنسو گیس کا استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

    واضح رہے کہ استنبول کے میئر اکرم امام وغلو کی گرفتاری کے خلاف پانچ دنوں سے جاری احتجاج کے دوران اب تک 1،100 سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

    استنبول میں جاری مظاہرے کی چند تصاویر:

  16. ترکی میں 1100 سے زیادہ مظاہرین گرفتار: ’شیطانی‘ مظاہروں پر اپوزیشن کا احتساب ہوگا، اردوغان

    ترک صدر رجب طیب اردوغان نے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعت کے گرفتار میئرکی حمایت میں ہونے والا احتجاج پرتشدد تحریک میں بدل چکا ہے۔

    انقرہ میں اپنے ٹی وی خطاب میں اردوغان نے کہا ہے کہ اپوزیشن کو جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔

    استنبول کے میئر اکرم امام وغلو کی گرفتاری کے خلاف پانچ دنوں کے احتجاج کے دوران 1،100 سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

    تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ترکی میں بڑی تعداد میں مظاہرین ایک بار پھر استنبول ہال کے باہر جمع ہو رہے ہیں۔

    ترک صدر رجب طیب اردوغان کے مخالف امام وغلو کو بدھ کے روز حراست میں لیا گیا تھا۔

    ترکی کی وزارت داخلہ نے اعلان کیا کہ اکرم امام وغلو کو میئر کے عہدے سے بھی معطل کر دیا گیا ہے۔ لیکن ان کی گرفتاری کے بعد ملک میں احتجاج کی لہر اٹھی۔

    سنیچر کو امام وغلو کو استنبول کی ایک عدالت میں پیش کیا گیا جہاں پراسیکیوشن نے دہشتگردی اور بدعنوانی کے الزامات میں ان کی باقاعدہ گرفتاری کی درخواست کی۔ لیکن امام وغلو خود پر عائد کردہ الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

    حالیہ احتجاجی مظاہروں کو ایک دہائی سے زیادہ عرصے میں ترکی کے سب سے بڑے احتجاجی مظاہروں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

    خیال رہے کہ ترکی کے پانچ بڑے شہروں کی قیادت ریپبلکن پیپلز پارٹی (سی ایچ پی) کے میئر کر رہے ہیں جن میں گرفتار ہونے والے استنبول کے میئر امام وغلو بھی شامل ہیں تاہم انھیں اب عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

    اپنے ٹیلی ویژن خطاب میں اردوغان نے اپوزیشن پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ شہریوں کو احتجاج پر ابھار رہی ہے۔ انھوں نے اپنے پیغام میں اپوزیشن جماعت سے کہا ہے کہ وہ یہ سب بند کریں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے ترک صدر رجب طیب اردوغان کے حوالے سے کہا ہے کہ ترکی کی مرکزی اپوزیشن جماعت املاک کو پہنچنے والے نقصان اور گذشتہ پانچ روز سے ملک میں ہونے والے شدید مظاہروں میں پولیس افسران کو پہنچنے والے ہر 'نقصان' کی ذمہ دار ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کا 'شو' بالآخر ختم ہو جائے گا اور وہ ملک کے ساتھ کی جانے والی 'شیطانی' پر شرمندگی محسوس کریں گے۔

    ترک صدر رجب طیب اردوغان کے مخالف اکرم امام وغلو کو ان کی جماعت سی ایچ پی نے2028 کے الیکشن کے لیے صدارتی امیدوار نامزد کر لیا ہے۔

    سی ایچ پی کے چیئرمین ازغر اوزیل کا کہنا ہے کہ صدارتی امیدار کا تعین کرنے کے لیے ہونے والے پرائمری انتخابات میں تقریبا ڈیڑھ کروڑ افراد نے حصہ لیا ہے۔

    تاہم اگر امام وغلو کے خلاف لگے الزامات میں سے ایک بھی ثابت ہو جاتا ہے تو وہ صدارتی انتخاب میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔

    استنبول کے میئر امام وغلو ان 100 سے زیادہ لوگوں میں شامل ہیں جنھیں بدھ سے حراست میں لیا گیا۔ ان میں معروف سیاستدان، صحافی اور کاروباری شخصیات شامل ہیں اور انھیں ایک تحقیقات کے سلسلے میں حراست میں لیا گیا تھا۔

    اپنے ٹیلی ویژن خطاب میں اردوغان نے اپوزیشن پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ شہریوں کو احتجاج پر ابھار رہی ہے۔ انھوں نے اپنے پیغام میں اپوزیشن جماعت سے کہا ہے کہ وہ یہ سب بند کریں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے ترک صدر رجب طیب اردوغان کے حوالے سے کہا ہے کہ ترکی کی مرکزی اپوزیشن جماعت املاک کو پہنچنے والے نقصان اور گذشتہ پانچ روز سے ملک میں ہونے والے شدید مظاہروں میں پولیس افسران کو پہنچنے والے ہر 'نقصان' کی ذمہ دار ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کا 'شو' بالآخر ختم ہو جائے گا اور وہ ملک کے ساتھ کی جانے والی 'شیطانی' پر شرمندگی محسوس کریں گے۔

    ترک صدر رجب طیب اردوغان کے مخالف اکرم امام وغلو کو ان کی جماعت سی ایچ پی نے2028 کے الیکشن کے لیے صدارتی امیدوار نامزد کر لیا ہے۔

    سی ایچ پی کے چیئرمین ازغر اوزیل کا کہنا ہے کہ صدارتی امیدار کا تعین کرنے کے لیے ہونے والے پرائمری انتخابات میں تقریبا ڈیڑھ کروڑ افراد نے حصہ لیا ہے۔

    تاہم اگر امام وغلو کے خلاف لگے الزامات میں سے ایک بھی ثابت ہو جاتا ہے تو وہ صدارتی انتخاب میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔

    استنبول کے میئر امام وغلو ان 100 سے زیادہ لوگوں میں شامل ہیں جنھیں بدھ سے حراست میں لیا گیا۔ ان میں معروف سیاستدان، صحافی اور کاروباری شخصیات شامل ہیں اور انھیں ایک تحقیقات کے سلسلے میں حراست میں لیا گیا تھا۔

  17. یوکرین پر روسی حملے میں ’ہلاکتوں کی تعداد 65 ہو گئی‘: حکام

    یوکرین کی پروسیکیوشن سروس کے مطابق یوکرین کے شہر سمی میں روسی میزائیل حملے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 65 ہو گئی ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں 14 بچے بھی شامل ہیں۔

    تفصیلی بیان میں بتایا گیا ہے کہ یہ حملہ مقامی وقت کے مطابق دوپہر دو بجے ہوا اور اس میں گنجان آباد علاقے کو نشانہ بنایا گیا۔

    اس حملے کے حوالے سے تحقیقات کا آغاز ہو گیا ہے۔

    یوکرین کی افواج کی جانب سے ٹیلی گرام سروس پر کہا گیا ہے کہ گذشتہ چند ہفتوں میں 140 بار جھڑپیں ہوئیں جن میں یوکرین کی تنصبات اور آبادیوں میں 74 حملے کیے گئے۔

    ملک کے شمال میں سمی اور خارکیو ریجن میں اور مشرق کی جانب دونتسک اور زیپوریزہزیا ریجن میں حملے ہوئے۔

    یوکرین کا دعویٰ ہے کہ گذشتہ دنوں لڑائی کے دوران 1289 روسی مارے گئے۔

    دوسری جانب روس کا کہنا ہے کہ اس کی افواج نے یوکرین کے 28 ڈرون حملے ناکام بنائے ہیں جبکہ یوکرین کا دعویٰ ہے کہ اس نے روس کے چار فوجی ہیلی کاپٹروں کو بیلگوروڈ ریجن میں تباہ کیا ہے، جہاں یہ ہیلی کاپٹر خفیہ مقام پر پارک کیے گئے تھے۔

  18. ’بلوچ یکجہتی کمیٹی کے گرفتار رہنماؤں میں سے کسی کو بھی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا‘

    بلوچ یکجہتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ کوئٹہ سے گرفتار ہونے والی ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بیبرگ بلوچ کوعدالتوں میں پیش نہیں کیا گیا۔

    پیر کو تحریری بیان میں بلوچ یکجہتی کمیٹی نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ کوئٹہ میں مغربی بائی پاس کے جس علاقے میں دھرنے کا اعلان کیا گیا تھا وہاں پولیس کی بھاری نفری موجود رہی جبکہ سریاب میں قمبرانی روڈ پر جمع ہونے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی۔

    بی وائی سی کی رہنما ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے دعویٰ کیا کہ پولیس کی جانب سے دھرنے میں شرکت کے لیے آنے والوں کو گرفتار کیا جارہا ہے تاہم پولیس کی جانب سے کسی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی گئی۔

    بی وائی سی کے رہنمائوں اور کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف کیچ اور دوسرے علاقوں میں احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔

    بی وائی سی کی رہنما ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ ہم نے بروری روڈ پر دھرنے کا اعلان کیا تھا لیکن ان کے بقول پولیس وہاں دھرنا دینے کے لیے نہیں چھوڑ رہی ہے اور آنے والے لوگوں کو گرفتار کررہی ہے۔ انھوں نے گرفتاریوں کے حوالے سے ویڈیوز بھی شیئر کیں تاہم بروری پولیس کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا کہ انھوں نے تاحال آج بروری کے علاقے سے کوئی گرفتاری نہیں کی ہے۔

    کوئٹہ میں سریاب کے علاقے قمبرانی روڈ پر مظاہرین دھرنے اور احتجاج کے لیے جمع ہوئے تاہم پولیس کی بھاری نفری وہاں پہنچی ۔ قمبرانی روڈ پر لوگوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کے علاوہ واٹر کینن کا استعمال کیا گیا۔

    دوسری جانب کیچ اور بلوچستان کے بعض دیگر علاقوں میں بی وائی سی کے رہنمائوں کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔

    کیچ کے ہیڈ کوارٹر تربت میں ایک ریلی نکالی گئی جس کے شرکاء نے مختلف شاہراہوں کے گشت کے علاوہ شہید فدا چوک پر دھرنا دیا۔

    تربت کے علاوہ بلیدہ میں بھی خواتین نے ایک احتجاجی ریلی نکالی۔

    کیچ سے متصل سرحدی ضلع پنجگور میں سرکاری حکام نے بتایا کہ پنجگور شہر میں بی وائی سی کے رہنمائوں کی گرفتاری کے خلاف آج تیسرے روز بھی شٹر ڈائون ہڑتال رہی۔

    'بی وائی سی کے گرفتار رہنمائوں کو عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔

    ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بی وائی سی کے گرفتار دیگر رہنمائوں کے وکیل عمران بلوچ نے بتایا کہ کوئٹہ میں جتنے لوگوں کو گرفتار کیاگیا ہے ان کو 3 ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ان کے خلاف مختلف تھانوں میں مقدمات بھی درج کیے گئے لیکن تاحال گرفتار رہنمائوں اور کارکنوں کو کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔

    انھوں نے کہا کہ چونکہ ایم پی او کے تحت 24 گھنٹوں کے اندر کسی کو عدالت میں پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی اس لیے ان کو عدالتوں میں پیش نہیں کیا جارہا ہے ۔

    تایم انھوں نے بتایا کہ ایم پی او کے تحت تمام لوگوں کی گرفتاری کو بلوچستان ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے اور اس سلسلے میں درخواست کی سماعت کل ہوگی۔

    انھوں نے تاحال مقدمات میں لوگوں کی گرفتاری کو ظاہرنہ کرنے کے اقدام کو بدنیتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے تاخیری حربے کے طور پر استعمال کیا جائے گا کیونکہ اگر کسی کو ایم پی او میں رہائی مل گئی تو ان کو رہا کرنے کی بجائے بعد میں ان کی گرفتاری دوسرے مقدمات میں کی جائے گی۔

    انھوں نے بتایا کہ ہم نے عدالتوں سے گرفتار ہونے والے بی وائی سی کے رہنما بیبرگ بلوچ کے علاوہ گرفتار ہونے والے ایک اور شخص قدرت اللہ کے ریلیز آرڈر حاصل کیئے لیکن ان کو بھی رہا نہیں کیا جارہا پے۔

  19. کراچی میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں: سندھ حکومت

    سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما سمی دین بلوچ کو دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا ہے۔

    ایک بیان میں سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید کا کہنا تھا کہ ’شہر میں تھریٹ الرٹ تھا اور کمشنر نے دفعہ 144 نافذ کیا تھا جس کی خلاف ورزی کی گئی تھی۔ اس لیے یہ گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں۔‘ جب ان سے سوال کیا گیا کہ کل پی پی نے پانی کے مسئلے پر احتجاج کا اعلان کیا ہے تو کیا اس پر بھی پابندی ہوگی تو انھوں نے کہا کہ ’یہ پابندی ہر جماعت پر ہوگی۔‘

    خیال رہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی اور سول سوسائٹی کراچی کے اراکین نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بیبرگ بلوچ اور دیگر کارکنوں کی حراست کے خلاف پریس کلب کے باہر احتجاج کی کال دے رکھی تھی۔

    تاہم پریس کلب کے باہر احتجاج کو روکنے کے لیے سکیورٹی تعینات ہے اور کراچی بھر میں دفعہ 144 نافذ ہے۔

    بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سمی بلوچ اور دیگر مظاہرین کو پریس کلب چوک سے حراست میں لیا گیا جو کہ گورنر ہاؤس کے پاس ہی ہے۔

    بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پولیس نے احتجاجی مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا، متعدد مظاہرین کو گرفتار کیا گیا۔

    ’لاٹھی چارج کے نتیجے میں متعدد خواتین اور مرد زخمی ہوئے۔ گرفتار ہونے والوں میں بلوچ یکجہتی کمیٹی رہنما لالہ وہاب، سمی دین بلوچ سمیت سول سوسائٹی ایک درجن سے زائد خواتین اور مرد شامل ہیں۔‘

    خیال رہے کہ کراچی پریس کلب کے تمام آنے جانے والے راستے بند ہیں۔ پریس کلب کے چاروں اطراف پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے اور پریس کلب کی طرف جانے والے ہر شخص کو روکنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ صحافیوں کو بھی کلب جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

  20. بلوچستان میں ’ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث‘ سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائی کا فیصلہ, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان کے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس میں ریاست مخالف پروپیگنڈے اور سرگرمیوں میں ملوث سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    صوبے کے تمام تعلیمی اداروں میں پاکستانی پرچم لہرانے اور قومی ترانہ پڑھنے کا حکم بھی دیا گیا ہے اور ریاست مخالف عناصر کو فورتھ شیڈول میں شامل کرکے ان کی منفی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

    وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت انتظامی افسران کا اعلیٰ سطحی اجلاس پیر کو کوئٹہ میں منعقد ہوا جس میں چیف سیکرٹری بلوچستان، آئی جی پولیس ،محکمہ داخلہ، ایس اینڈ جی اے ڈی، محکمہ تعلیم، محکمہ صحت، محکمہ خزانہ کے سیکرٹریز نے شرکت کی۔

    اس کے علاوہ بلوچستان کے تمام ڈویژن کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، ڈی آئی جیز اور ضلعی پولیس افسران نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔

    اجلاس کو بلوچستان میں امن و امان سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

    خیال رہے کہ بلوچستان میں جعفر ایکسپریس حملے کے بعد سکیورٹی فورسز پر شدت پسندوں کے حملوں میں مزید تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

    دوسری جانب صوبے میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے احتجاجی دھرنے میں پولیس نے کریک ڈاؤن کیا۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ریاست مخالف پروپیگنڈے اور سرگرمیوں میں ملوث سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ ’بلوچستان کے ہر تعلیمی ادارے میں قومی ترانہ پڑھا جائے گا اور پاکستان کا قومی جھنڈا لہرایا جائے گا۔‘

    تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’جن تعلیمی اداروں کے سربراہان ان احکامات کی پابندی نہیں کروا سکتے، اپنے عہدے سے دستبردار ہو جائیں۔‘

    وزیر اعلیٰ بلوچستان نے ریاست کے خلاف بیانیے میں ملوث سرکاری افسران اور ملازمین کے خلاف بھی کارروائی کرنے کا عندیہ دیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’کوئی بھی افسر حکومت کی پالیسی پر عمل درآمد نہیں کر سکتا تو رضا کارانہ طور پر عہدے سے الگ ہوجائے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’پالیسی حکومت دیتی ہے عمل درآمد فیلڈ افسران کی ذمہ داری ہے۔ انفرادی ذاتی سوچ ریاست کی پالیسی سے بالا تر نہیں۔ ہر ضلعی افسر اپنے علاقے میں ریاستی رٹ قائم کرنے کا ذمہ دار ہے۔‘

    وزیراعلیٰ نے ضلعی افسران کو تجویز دی کہ کسی بھی سیاسی پریشر سے بالا تر ہو کر تفویض کردہ آئینی ذمہ داری کو پورا کریں۔

    انھوں نے کہا کہ عوامی میل جول اور اجتماعات میں حکومتی پالیسیوں کی ترویج دیں۔

    اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ بلوچ نوجوانوں کو لاحاصل جنگ میں دھکیلا جاررہا ہے جس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کے ’ضلعی افسران مقامی سطح پر نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کریں۔ ہر سطح پر میرٹ کو فروغ دیکر نوجوانوں کا ریاست پر اعتماد بحال کرنا ہے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ بگٹی یوتھ پالیسی منظور ہوچکی۔‘

    وزیراعلیٰ نے بھتہ خور پولیس اور لیویز اہلکاروں کے خلاف بھی کارروائی کا حکم دیا۔

    ’کسی چیک پوسٹ پر بھتہ خوری نہیں چلے گی، ایسی کوئی بھی مصدقہ شکایت ملی تو متعلقہ ایس ایچ او یا رسالدار لیویز نہیں رہے گا۔ آئینی حلف کی پاسداری ضروری ہے، ریاست مخالف عناصر کے سامنے نہیں جھکنا۔‘