یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا!
بی بی سی کی خصوصی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
27 ستمبرکی خبروں کو جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سابق وزیر اعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات کے تحت اٹک جیل سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔
بی بی سی کی خصوصی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
27 ستمبرکی خبروں کو جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
نگراں وزیراعظم نے لندن میں صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’میں بھی یہ سمجھتا ہوں کہ نو مئی کے واقعات موجودہ فوجی قیادت کے خلاف ایک بڑے منصوبے کا حصہ تھے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعات باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کی گئی کوشش تھی جس کا مقصد موجود فوجی قیادت کی اتھارٹی کو ختم (ان ڈُو) کرنا یا کمپرومائز کرنا تھا۔
سابق وزیر اعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات کے تحت اٹک جیل سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیر کے روز اس ضمن میں مختصر فیصلہ سنایا تھا جس کے بعد منگل کی صبح تحریری حکمنامہ جاری کیا گیا جس میں سابق وزیر اعظم کو اٹک جیل میں قید رکھنے کا نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔
چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے اس حوالے سے دائر کردہ درخواست کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کی تھی۔ عدالت نے اپنی تحریری فیصلے میں کہا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو اڈیالہ جیل میں وہ تمام سہولیات مہیا کی جائیں جس کے وہ حقدار ہیں۔
یاد رہے کہ عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں تین سال قید اور جرمانے کی سزا سنائے جانے کے بعد انھیں لاہور میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کر کے صوبہ پنجاب کے سرحدی ضلع اٹک کی جیل میں چار اگست کو منتقل کیا گیا تھا۔
پاکستان کی وزارت اطلاعات نے نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کے عمران خان اور پی ٹی آئی کے انتخابات میں حصہ لینے سے متعلق متنازعہ بیان پر جاری وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ پی ٹی آئی سمیت تمام جماعتیں انتخابات میں حصہ لینے کے لئے آزاد ہیں، نگران وزیراعظم کے ایسوسی ایٹڈ پریس کو دیے گئے انٹرویو میں ریمارکس کو غلط رپورٹ کیا گیا۔
وزارت اطلاعات کے جاری وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ نگران وزیراعظم کے ایسوسی ایٹڈ پریس کو دیے گئے انٹرویو میں ریمارکس کو غلط رپورٹ کیا گیا۔ نگران وزیراعظم تجویز کر رہے تھے کہ انتخابات میں حصہ لینا ایک حق ہے لیکن جرائم پر سزا قانونی طور پر جائز ہے۔ پاکستان کے آئین اور مروجہ انتخابی قوانین کے تحت تمام سیاسی جماعتوں کو عام انتخابات میں حصہ لینے کا مساوی حق حاصل ہے۔‘
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکی خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کو انٹرویو دیتے ہوئے نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا تھا کہ ملک میں شفاف انتخابات کا انعقاد سابق وزیراعظم عمران خان یا جیل کاٹنے والے پارٹی کے سینکڑوں ارکان کے بغیر بھی ہوسکتا ہے۔
اس انٹرویو میں ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جیل کاٹنے والے پی ٹی آئی ارکان توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ تحریک انصاف کے ایسے ہزاروں کارکنان جو غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہیں وہ الیکشن میں حصہ لے سکیں گے‘۔
وزارت اطلاعات کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’یہ امر افسوسناک ہے کہ انٹرویو کے ایک حصہ کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا اور یہ غلط تاثر دیا گیا کہ کسی مخصوص شخص کو عام انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘
وزارت اطلاعات نے نگران وزیراعظم کے انٹرویو کے متن کا بھی حوالہ دیا جس کے مطابق ’نگران وزیراعظم انوار الحق نے اپنے انٹرویو میں کہا تھا کہ ”ہم ذاتی انتقام نہیں لے رہے، نگران وزیراعظم نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ اس امر کو یقینی بنائیں گے کہ قانون سب سے اہم ہے، چاہے عمران خان ہو یا کوئی اور سیاستدان، ملکی قوانین کی خلاف ورزی پر قانون لاگو ہوگا۔‘
اعلامیے کے مطابق ’نگران وزیراعظم نے کہا تھا کہ شفاف انتخابات عمران خان یا ان کی پارٹی کے سینکڑوں ارکان کے بغیر ہو سکتے ہیں جو توڑ پھوڑ اور جلاﺅ گھیراﺅ سمیت دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر جیلوں میں ہیں،یہ اس تشدد کا حوالہ ہے جب مئی میں عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا‘
اعلامیے کے مطابق ’پی ٹی آئی یا پارٹی کے کسی بھی رہنما کے الیکشن لڑنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ہر شہری قانون کے سامنے برابر ہے اور قانونی الزامات کا سامنا کرنے والے کسی بھی فرد کے حوالے سے قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔‘
اعلامیے کے مطابق ’عدلیہ آزاد اور خودمختار ہے اور نگران حکومت کے پاس نہ تو عدالتوں پر اثر انداز ہونے کا کوئی اختیار ہے نہ ارادہ۔ کسی قانونی یا عدالتی فیصلے سے متاثرہ شخص کو ریلیف کے لئے اعلی عدالتی فورم سے رجوع کا آئینی حق حاصل ہے۔‘
وزارت اطلاعات کے مطابق’ نگران حکومت آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے لئے پرعزم ہے۔ نگران حکومت انتخابات کے انعقاد کے لئے آئینی اور قانونی ڈھانچے کی حمایت کرے گی، اور یقینی بنائے گی کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان اور آزاد عدلیہ کے تمام احکامات اور ہدایات پر مکمل عمل درآمد ہو۔‘
لاہور ہائیکورٹ نے فوج کے ایک حاضر سروس بریگیڈیئر کی اہلیہ کی جانب سے اپنے شوہر کی بازیابی سے متعلق درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے کیس کو نمٹا دیا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کے جج جسٹس جواد حسن نے اپنے فیصلے میں تحریر کیا کہ اس کیس کی سماعت کے دوران وزارت دفاع نے تسلیم کیا ہے کہ بریگیڈئیر سبحان اختر فوج کی تحویل میں ہیں اس لیے یہ حبس بیجا میں رکھنے کا کیس نہیں بنتا۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عدالت حبس بیجا کی درخواست صرف اس وقت دیکھ سکتی ہے جب کسی کو غیر قانونی حراست میں رکھا گیا ہو۔ منگل کی صبح لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ نے اس کیس میں فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
یہ فیصلہ سامنے آنے کے بعد درخواست گزار کے وکیل کرنل ریٹائرڈ انعام نے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کو چیلنج کریں گے۔
یاد رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے اس کیس کی گذشتہ سماعت پر وزارت دفاع کو حکم دیا تھا کہ وہ 26 ستمبر کو بریگیڈئیر سبحان اختر کو عدالت میں پیش کریں۔ عدالت نے یہ حکم ان کی اہلیہ عمیرا سلیم کی طرف سے اپنے خاوند کی بازیابی سے متعلق دائر درخواست کی سماعت کے دوران دیا تھا۔
بریگیڈئیر سبحان اختر ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کوئٹہ میں ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے اور ان کی اہلیہ کی جانب سے دائر درخواست کے مطابق انھیں رواں سال جون میں کوئٹہ سے حراست میں لیا گیا تھا۔
درخواست گزار نے عدالت کے روبرو مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ اس وقت 28 ملٹری پولیس یونٹ کی تحویل میں ہیں۔ منگل کے روز اس درخواست کی سماعت ہوئی تو وزارت دفاع کی جانب سے کچھ دستاویزات عدالت میں جمع کروائی گئیں جن میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کی جانب سے اس درخواست میں حقائق کو تور مورڑ کر پیش کیا گیا۔
اس جواب میں کہا گیا ہےکہ درخواست گزار کا مقصد فوج کو بدنام کرنا ہے اور درخواست میں غیر ضروری الزامات لگائے گئے ہیں۔ وزارت دفاع کی جانب سے جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ حاضر سروس بریگیڈیئر سنجیدہ نوعیت کے جرائم میں ملوث تھے جس کا کمانڈنگ افسر نے نوٹس لیا اور انھیں باقاعدہ طور پر گرفتار کر لیا گیا۔
اس جواب میں کہا گیا ہے کہ ملزم کی گرفتاری آرمی ایکٹ کے سکیشن 73کے تحت ہوئی اور تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے ہیں لہذا بریگیڈئیر سبحان احتر کو حبس بیجا میں رکھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس جواب میں عدالت سے اس درخواست کو مسترد کرنے کی استدعا کی گئی ہے اور ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ چونکہ بریگیڈییر سبحان اختر کی تعیناتی کوئٹہ میں تھی اور ان کی گرفتاری بھی وہیں سے ہوئی اس لیے متعقلہ عدالت بلوچستان ہائیکورٹ بنتی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم سے عدالت نے استفسار کیا کہ جب وزارت دفاع نے تسلیم کیا ہے کہ بریگیڈیئر سبحان اختر فوج کی تحویل میں ہیں تو آئین کے مطابق عدالت فوج کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی۔
درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ آئین کا آرٹیکل 10 اے فیئر ٹرائل کے بارے میں ہے اور انھوں نے سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کہیں پر بھی کوئی غیر قانونی کام ہو رہا ہو تو ہائیکورٹ کو مداخلت کا اختیار ہے۔
انھوں نے کہا کہ ان کی مؤکلہ کے شوہر رواں برس جون سے راولپنڈی میں ہیں اور ان کی موکلہ کی دو روز پہلے ان کے شوہر سے ملاقات کروائی گئی تھی۔ کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم نے کہا کہ بریگیڈیئر سبحان اختر نے اپنی اہلیہ کو بتایا ہے کہ ان کو ابھی تک چارج شیٹ نہیں کیا گیا جبکہ آرمی ایکٹ میں یہ واضح ہے کہ اگر کسی حاضر سروس فوجی اہلکار کو گرفتار کیا جائے تو 48 گھنٹوں میں انھیں چارج شیٹ کرنا ضروری ہوتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل ملک صدیق اعوان نے عدالت کو بتایا تھا کہ برگیڈیئر سبحان اختر کے خلاف ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے علاوہ ملٹری ایکٹ کی بھی خلاف ورزی میں ملوث ہیں جس کی وجہ سے انھیں حراست میں لیا گیا۔
عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر بریگیڈیئر کے خلاف کوئی الزامات ہیں تو اس بارے میں تحریری طور پر عدالت میں آگاہ کریں، محض زبانی دعوؤں کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
اسلام آباد میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔
نئے نوٹیفکیشن کے مطابق موٹر سائیکل سواروں کو ہیلمیٹ نہ پہننے اور تیز رفتاری پر1000روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا جبکہ ون وہیلنگ کرنے پر موٹر سائیکل سوار 5000 جرمنہ ادا کریں گے۔
نوٹیفیکیشن کےمطابق تیز رفتاری پر موٹر کار کو 1500 روپے،پی ایس وی وہیکل کو 2000 جبکہ ایچ ٹی وی وہیکل کو 2500 روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
اعلامیے کے طابق کالے شیشوں کے استعمال پر 1500روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ کرنے پر2000 روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ کم عمر ڈرائیور کو 2500 روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا جبکہ غیر قانونی پارکنگ پر1000روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
نوٹیفیکیشن کے مطابق بغیر ڈرائیونگ لائسنس موٹر سائیکل چلانے پر 1000روپے، موٹر کار چلانے پر2000 روپے،ایچ ٹی وی اور پی ایس وی وہیکل پر 8000 روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں کمی کا رجحان منگل کے روز بھی جاری رہا جب ایک ڈالر کی قیمت 1.06 روپے کمی کے بعد 289.80 روپے کی سطح سے نیچے آگئی۔
انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت میں مسلسل 16 دن سے کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے اور اب تک اس کی قیمت میں 17.30روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قیمت میں ایک روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی اور اس کی قیمت 292 روپے کی سطح تک گر گئی۔
گذشتہ 16 روز میں اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں 41 روپے تک کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
یاد رہے کہ پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں گذشتہ دو ہفتوں سے ہونے والی کمی کی وجہ ملک میں ڈالر کی سمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف وفاقی حکومت کی جانب سے کیا جانا والا ایکشن ہے۔
جب ایک جانب افغانستان کی جانب ڈالر کی سمگلنگ کی روک تھام کی گئی تو دوسری جانب ایکسچینج کمپنیوں میں ڈالر کی خرید وفروخت پر حکومت نے نگرانی سخت کرنے کے اقدامات اٹھائے۔
پاکستان میں کرنسی کی گرے مارکیٹ کے خلاف بھی کارروائی کی گئی اور اس سلسلے میں پشاور کی غیر قانونی ایکسچینج مارکیٹ کے خلاف کاروائی کی گئی جہاں سے ڈالر افغانستان سمگل ہو رہا تھا۔
تجزیہ کار محمد سہیل کے مطابق قلیل مدت میں ڈالر کی قیمت میں مزید کمی ہو سکتی ہے تاہم طویل مدت میں اس کی قیمت میں کمی زرمبادلہ ذخائر میں بہتری اور نومبر میں آئی ایم ایف پروگرام کے جائزے سے منسلک ہے۔
سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کی حراست کے خلاف دائر درخواست پر لاہور ہائی کورٹ نے آر پی او راولپنڈی کو حکم دیا ہے کہ شیخ رشید اور ان کے ساتھ گرفتار دو دیگر افراد سے متعلق ایک ہفتے میں عدالت کو آگاہ کیا جائے۔
شیخ رشید کی حراست کے خلاف لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کے جسٹس صداقت علی خان نے سماعت کی جس میں آر پی او راولپنڈی سید خرم علی عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔
شیخ رشید کی جانب سے ایڈووکیٹ سردار عبدالرازق خان عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ شیخ رشید کو راولپنڈی پولیس نے گرفتار کیا ہے ہمارے پاس شواہد موجود ہیں۔
عدالت نے آر پی اور سے استفسار کیا کہ ’آر پی او صاحب بتائیں شیخ رشید سے متعلق کیا پیش رفت ہے۔‘
جس پر انھوں نے عدالت کو بتایا کہ’ شیخ رشید ہمارے پاس نہیں اور جہاں سے انھیں گرفتار کیا گیا وہ بھی ہماری حدود نہیں۔‘
عدالت نے آر پی او سے استفسار کیا کہ کیا آپ لکھ کر دینے کو تیار ہیں شیخ رشید آپ کے پاس نہیں؟
عدالت نے کہا کہ اگر کل شیخ رشید راولپنڈی سے برآمد ہوئے تو آپ کے خلاف کیس چلے گا۔
آر پی او راولپنڈی نے عدالت سے ایک ہفتے کا وقت مانگ لیا۔
عدالت نے ان کی استدعا منظور کرتے ہوئے کہا کہ ایک ہفتے کے اندر شیخ رشید اور ان کے ساتھ گرفتار دو دیگر اشخاص سے متعلق عدالت کا آگاہ کیا جائے۔
عدالت نے آر پی او کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’امید ہے آپ شیخ رشید سے متعلق کوئی اچھی پیش رفت سے عدالت کو آگاہ کریں گے۔‘
عدالت نے آر پی او راولپنڈی کو پیر 2 اکتوبر تک کا وقت دے کر سماعت ملتوی کردی۔
سپریم کورٹ میں فیض آباد دھرنا کیس میں 28 ستمبر کو ہونے والی سماعت سے قبل ہی انٹیلیجنس بیورو نے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست واپس لے لی ہے۔
سپریم کورٹ میں انٹیلیجنس بیورو کے ڈائریکٹر جنرل اسد اللہ خان نے متفرق درخواست دائر کی جس میں مؤقف اپنایا گیا کہ ان کا ادارہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی واپس لینا چاہتا ہے۔
واضح رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے تحریک لبیک پاکستان کی طرف سے فیض آباد دھرنے سے متعلق اپنے فیصلے میں خفیہ اداروں جن میں فوج کے انٹر سروسز انٹیلیجنس، ملٹری انٹیلیجنس اور سویلین خفیہ ادارے انٹیلیجنس بیورو کے بارے میں لکھا ہے کہ انھیں اظہار رائے کی آزادی کو نہیں دبانا چاہیے۔
اس فیصلے میں کہا گیا ہے کہ انٹیلیجنس ایجنسیوں کا کردار تو یہ ہونا چاہیے کہ وہ ایسے عناصر پر نظررکھیں جو ملکی سلامتی کے لیے خطرہ ہوں اور جو ملک میں تشدد کو ہوا دے رہے ہوں۔
اس فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مثبت اور مطلوبہ نتائج اس وقت ہی حاصل ہو سکتے ہیں جب یہ خفیہ ایجنسیاں آئین میں دیے گئے اختیارات کے مطابق کام کریں۔
اس فیصلے میں انٹیلیجنس بیورو کا ذکر اس حوالے سے بھی کیا گیا ہے کہ فیض آباد دھرنے سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے انٹیلیجنس بیورو کی رپورٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’ٹی ایل پی کی قیادت مظاہرین کو چارج رکھنے کے لیے اشتعال انگیز تقاریر کر رہی ہے اور تحریک لبیک کی قیادت اس صورتحال کو آئندہ ہونے والے عام انتخابات کے لیے استعمال میں لانا چاہتی ہے۔‘
دوسری جانب سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کے وکیل نے بھی کیس میں 28 ستمبر کی سماعت کا التوا مانگ لیا۔
دوسری جانب درخواست گزار شیخ رشید کے وکیل امان اللہ کنرانی نے مقدمہ ملتوی کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی جس میں موقف اپنایا گیا کہ ایڈووکیٹ امان اللہ کنرانی بلوچستان کے نگراں وزیر قانون بن چکے ہیں۔
درخواست کے مطابق ’امان اللہ کنرانی شیخ رشید کے وکیل کی حیثیت سے پیش نہیں ہوسکتے۔ ایڈووکیٹ کا موکل شیخ رشید سے رابطہ نہیں ہو پا رہا۔ استدعا ہے مقدمہ کی 28 ستمبر کی سماعت ملتوی کردی جائے۔‘
یاد رہے کہ فیض آباد دھرنے سے متعلق از خود نوٹس پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف وزارت دفاع کے علاوہ سابق حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف، عوامی مسلم لیگ، ایم کیو ایم اور پاکستان مسلم لیگ (ض) کے سربراہ اعجاز الحق نے بھی نظرثانی کی اپیلیں دائر کر رکھی ہیں۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے فیصلے میں ان سیاسی جماعتوں کے بارے میں ابزرویشن دی تھی۔
نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی گرفتاری پر دیے جانے والے اپنے بیان سے متعلق وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ بات خوش آئند ہے کہ نواز شریف پاکستان کی سیاست میں واپس آنا چاہتے ہیں تاہم میرے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر سیاسی رنگ دیا گیا ہے۔‘
سرفراز بگٹی نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا کہ ’نگران حکومت کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں، اپنے مینڈیٹ کے مطابق کام کریں گے۔‘
واضح رہے کہ سرفراز بگٹی نے اے آر وائے نیوز کے پرگرام میں اینکر کے سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ’اگر عدالت سے نواز شریف کو ضمانت نہیں ملتی تو ہمیں انھیں گرفتار کرنا ہوگا۔‘
نگران وزیر داخلہ نے مزید کہا تھا کہ ’ماضی میں بھی ایک بار ان کو معلوم تھا کہ انھیں گرفتار ہونا ہے لیکن وہ اپنی بیٹی کے ہمراہ وطن واپس آگئے تھے۔‘
ان کے اس بیان کی مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا اللہ اور مریم اورنگزیب نے شدید مذمت کی ہے۔
نگران وزیر داخلہ کے اس بیان کے سامنے آنے کے بعد سابق وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا کہ ’سرفراز بگٹی صاحب جتنا سیاسی قد ہے اُتنی بات کریں۔ نواز شریف نے ائیرپورٹ سے کہاں جانا ہے یہ نہ آپ کا مسئلہ ہے اور نہ آپ کا فیصلہ،اپنی فورس اور تیاری عوام کو تحفظ اور امن فراہم کرنے کے لئے استعمال کریں۔‘
دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر اور سابق وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ خاں نے نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کے بیان کو’حد سے تجاوز‘ قرار دیا اور کہا کہ ’سرفراز بگٹی صاحب بین دینے سے پہلے وزیرِ داخلہ شیخ رشید کا انجام دیکھ لیں۔ سرفراز بگٹی نواز شریف کے بارے میں بیان بازی سے اپنا قد بڑھانے کی کوشش نہ کریں۔‘
رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ ’ نواز شریف جیلوں اور فورس کا سامنا کرچکے ہیں، نواز شریف کی فکر چھوڑیں اپنے کام پر توجہ دیں۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ نواز شریف نے ائیرپورٹ سے 21 اکتوبر کو کہاں جانا ہے یہ وزیرِ داخلہ وفاق کا فیصلہ نہیں ہوگا یہ عوام کا فیصلہ ہو گا۔‘
لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ نے حاضر سروس برگیڈئیر سبحان اختر کو عدالتی حکم کے باوجود پیش نہ کرنے اور ان کی فوج کی تحویل سے متعلق درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کے جج جسٹس جواد حسن نے گزشتہ سماعت پر وزارت دفاع کو حکم دیا تھا کہ وہ 26 ستمبر کو برگیڈئیر سبحان اختر کو عدالت میں پیش کریں۔
عدالت نے یہ حکم ان کی اہلیہ عمیرا سلیم کی طرف سے اپنے خاوند کی بازیابی کے لیے دائر درخواست کی سماعت کے دوران دیا تھا۔
برگیڈئیر سبحان اختر ڈیفنس ہاوسنگ اتھارٹی کوئٹہ میں ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے اور لاہور ہائی کورٹ میں ان کی بازیابی کے لیے دائر کی گئی درخواست کے مطابق انھیں رواں سال جون کو کوئٹہ سے حراست میں لیا گیا تھا۔
درخواست گزار کے مطابق اس وقت وہ 28 ملٹری پولیس یونٹ کی تحویل میں ہیں۔
منگل کے روز اس درخواست کی سماعت ہوئی تو وزارت دفاع کی جانب سے کچھ دستاویزات عدالت میں جمع کروائی گئیں جن میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کی جانب سے اس درخواست میں حقائق کو تور مورڑ کر پیش کیا گیا۔
اس جواب میں کہا گیا ہےکہ درخواست گزار کا مقصد مدعا عیلہ یعنی فوج کو بدنام کرنا ہے اور درخواست میں غیر ضروری الزامات لگائے گئے ہیں۔
وزارت دفاع کی جانب سے جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ حاضر سروس برگیڈیئر سنجیدہ نوعیت کے جرائم میں ملوث تھا جس کا کمانڈنگ افسر نے نوٹس لیا اور انھیں گرفتار کر لیا گیا۔
اس جواب میں کہا گیا ہے کہ ملزم کی گرفتاری آرمی ایکٹ کے سکیشن 73کے تحت ہوئی اور تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے اس لیے برگیڈئیر سبحان احتر کو حبس بے جا میں رکھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
اس جواب میں عدالت سے اس درخواست کو مسترد کرنے کی استدعا کی گئی ہے اور ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ چونکہ برگیڈییر سبحان اختر کی تعیناتی کوئٹہ میں تھی اور ان کی گرفتاری بھی وہیں سے ہوئی اس لیے متعقلہ عدالت بلوچستان ہائی کورٹ بنتی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم سے عدالت نے استفسار کیا کہ جب وزارت دفاع نے تسلیم کیا ہے کہ برگیڈیئر سبحان اختر فوج کی تحویل میں ہیں تو آئین کے مطابق عدالت فوج کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی۔
درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ آئین کا آرٹیکل 10 اے فیئر ٹرائل کے بارے میں ہے اور انھوں نے سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کہیں پر بھی کوئی غیر قانونی کام ہو رہا ہو تو ہائیکورٹ کو مداخلت کا اختیار ہے۔
انھوں نے کہا کہ ان کی موکلہ کے شوہر رواں برس جون سے راولپنڈی میں ہیں اور ان کی موکلہ کی دو روز پہلے ان کے شوہر سے ملاقات کروائی گئی ہے۔
کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم نے کہا کہ برگیڈیئر سبحان اختر نے اپنی اہلیہ کو بتایا ہے کہ ان کو ابھی تک چارج شیٹ نہیں کیا گیا جبکہ آرمی ایکٹ میں یہ واضح ہے کہ اگر کسی حاضر سروس فوجی اہلکار کو گرفتار کیا جائے تو 48 گھنٹوں میں انھیں چارج شیٹ کرنا ضروری ہوتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل ملک صدیق اعوان نے عدالت کو بتایا تھا کہ برگیڈیئر سبحان اختر کے خلاف ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے علاوہ ملٹری ایکٹ کی بھی خلاف ورزی میں ملوث ہیں جس کی وجہ سے انھیں حراست میں لیا گیا۔
عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر برگیڈیئر اختر سبحان کے خلاف کوئی الزامات ہیں تو اس بارے میں تحریری طور پر عدالت میں آگاہ کریں، محض زبانی دعووں کی کوئی حثیت نہیں ہے۔
درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ اگر ان کی موکلہ کے شوہر کے خلاف ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے تو بار ثبوت اس ادارے پر عائد ہوتا ہے جس ادارے کی وہ حراست میں ہیں۔
انھوں نے کہا کہ آرمی ایکٹ کا سیکشن 74کے مطابق اگر کسی حاضر سروس اہلکار یا افسر کو بغیر چارجز کے گرفتار کیا گیا اور گرفتار کرنے کے بعد 8 دن تک اس کا ٹرائل شروع نہیں ہوا تو آرمی ایکٹ کے سیکشن 51 کے تحت ٹرائل شروع نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو اٹک جیل میں قید رکھنے کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے دیا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو اٹک سے اڈیالہ جیل منتقل کرنے کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست منظور کرتے ہوئے گذشتہ روز یہ حکم دیا تھا۔
عدالت نے اپنی تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو جیل میں وہ تمام سہولیات مہیا کی جائیں جس کے وہ حقدار ہیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے بھائی رازق سنجرانی کو سرکاری گھر کی غیر قانونی الاٹمنٹ کے خلاف مقدمے کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے بھائی رازق سنجرانی کو سرکاری گھر کی غیر قانونی الاٹمنٹ کے خلاف مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
رازق سنجرانی کی تعیناتی اور گھر کی الاٹمنٹ کیسے ہوئی؟ عدالت نے وزارت ہاؤسنگ، پیٹرولیم اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔
سماعت میں رازق سنجرانی کے وکیل کا کہنا ہے کہ ان کے مؤکل نے الاٹ کیا گیا گھر سرنڈر کر دیا ہے۔ جس پر جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا کے اُنھیں اب گھر سرنڈر کرنے کا خیال کیسے آیا ہے؟
سماعت کے دوران جسٹس بابر ستار نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے نمائندے سے استفسار کیا کہ رازق سنجرانی کی تعیناتی کا ریکارڈ دکھائیں، کنٹریکٹ کیا ہے۔
اس پر نمائندہ وزارت پیٹرولیم نہ کہا کہ آغازِ حقوقِ بلوچستان کے تحت رازق سنجرانی کی تعیناتی ہوئی، جبکہ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سینڈک میٹلز کمپنی نے رازق سنجرانی کو ریگولرائز کر دیا تھا۔
جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیے کہ رازق سنجرانی 2008 میں تین سال کے لیے سینڈک میٹلز کے ڈائریکٹر تعینات ہوئے؟ اس کے بعد ان کی کوئی توسیع ہوئی؟ جو بھی ریکارڈ ہے وہ جمع کروا دیں۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی سفارش پر رازق سنجرانی کی تعیناتی ہوئی تھی۔ جس پر عدالت نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے افسر کو حکم دیا کہ رازق سنجرانی کی تعیناتی کی سمری پڑھیں۔
جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیے کہ جو سمری بھیجی گئی اس پر وزیراعظم اور کیا کرتا؟ سنہ 2008 میں تین سالہ تعیناتی ہوئی اب تو 2023 چل رہا ہے۔ ہم نے اس لیے ریکارڈ منگوایا تھا کہ معلوم ہو کس قانون کے تحت انھیں گھر ملا۔ جسٹس بابر ستار نے کہا کہ وزارت ہاؤسنگ حکام بتائیں یہ سارا خرچہ کون دے رہا ہے؟
وزارت ہاؤسنگ کے نمائندے نے بتایا کہ وزارت ہاؤسنگ کمپنی کو تین ماہ بعد ادائیگی کے لیے وؤچر دیتی ہے۔
اس پر جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیے کہ یہاں سیکرٹری گھروں کے لیے دھکے کھا رہے ہیں اور آپ وؤچر ایشو کر رہے ہیں؟ جسٹس بابر ستار کا کہنا تھا کہ عدالت دوسرا نوٹس جاری کر رہی ہے توہین عدالت کی کارروائی شروع کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ اِس کیس سے نظر آ رہا ہے کہ اندر اور کیا کچھ ہو رہا ہے۔ یہ ایک کمپنی ہے، وزیراعظم، وزیراعلیٰ اور وزیر کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔
انھوں نے ریمارکس دیے کہ یہ معاملہ عدالت کے سامنے نہیں لیکن عدالت اپنی آنکھیں بند نہیں کر سکتی۔
اس پر رازق سنجرانی کے وکیل نے استدعا کی کہ ہمیں گھر خالی کرنے کے لیے کچھ مزید وقت دے دیا جائے۔ جس پر جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیے کہ سمجھنے کی کوشش کریں، آپ کے لیے بہتر یہی ہو گا کہ جلد از جلد وہ گھر خالی کر دیں۔
سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے خلاف سائفر گمشدگی کیس میں خصوصی عدالت نے عمران خان اور شاہ محمود کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع کر دی۔
سپیشل سیکریٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت کے جج ابو الحسنات نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف اٹک جیل میں سائفر گمشدگی کیس کی سماعت کی۔
اس سماعت میں چیئرمین پی ٹی آئی کی 10 رکنی لیگل ٹیم میں شامل لطیف کھوسہ، نعیم پنجھوتہ، بیرسٹر سلمان صفدر اور عمیر نیازی عدالت میں پیش ہوئے۔
خصوصی عدالت کے جج ابو الحسنات نے 10 اکتوبر تک عمران خان کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع کرتے ہوئے ایف آئی اے کو آئندہ سماعت پر اس مقدمے کا چالان پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
مقدمے کے سماعت کے بعد ایف آئی اے کی ٹیم جیل سے روانہ ہو گئی ہے۔ سماعت سے قبل سابق وزیر اعظم عمران خان کی حاضری لگوائی گئی۔ سماعت کے بعد کمرہ عدالت میں ہی بیرسٹر سلمان صفدر اور عمیر نیازی نے چئیرمین تحریک انصاف سے ملاقات کی۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو سائفر گمشدگی کیس میں جوڈیشل کمپلیکس میں پیش کیا گیا جہاں عدالتی عملے نے ان کی حاضری لگائی۔
بعد ازاں عدالت نے شاہ محمود قریشی کے بھی جوڈیشل ریمانڈ میں 10 اکتوبر تک توسیع کردی۔
اس موقع پر شاہ محمود قریشی کی کمرۂ عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معلوم نہیں برف پگھلی ہے یا نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جو بےگناہ ہے اسے رہائی ملنی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ 40 سال سیاست کی،39 سال تک ایک پرچہ نہیں ہوا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ایک سال میں کورٹ کچہری دیکھ لی اور مجھے دہشت گرد بھی بنا دیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت شفاف انتخابات وقت کی ضرورت اور واحد حل ہیں۔ اگر شفاف انتخابات نہ ہوئے تو ملک کا ناقابلِ تلافی نقصان ہو گا، عوام کا موجودہ جمہوری نظام سے اعتبار اٹھ جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سنہ 1971 میں پاکستان کو ٹوٹتے دیکھا ہے، آج اپنی آنکھوں سے ملک کو ڈوبتے دیکھا رہا ہوں۔
یاد رہے کہ شاہ محمود قریشی راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ انتخابات میں جانے کے لیے مسلم لیگ ن کا بیانیہ واضح ہے اور وہ پاکستان کو پھر سے 24 ویں معیشت بنانا ہے۔
لندن میں ن لیگ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ میاں نواز شریف کی واپسی کے حوالے سے قانونی و لوجسٹکل مشاورت مکمل کر لی گئی ہے۔ اور رواں ہفتے بدھ کے دن میں واپس پاکستان جا رہا ہوں۔
انھوں نے کہا انتحابات میں مسلم لیگ نے کے بیانیے سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ ’ن لیگ کا بیانیہ بڑا واضع ہے پاکستان کو واپس 24ویں معثیت بنانا ہے، اگر عوام نے موقع دیا تو نواز شریف کی قیادت میں پاکستان واپس ترقی کرے گا۔‘
انھوں نے کہا کہ جب نواز شریف کی حکومت تھی تو ملک میں مہنگائی دو فیصد تھی۔ اور اس وقت میں دنیا نے پیش گوئی کی تھی کہ پاکستانی معیشت 2030 تک دنیا کی 30 بڑی معیشتوں میں ہو گی اور اب ہم بڑے واضح ہے کہ اگر قوم نے موقع دیا تو ملک کی معیشت کو 42ویں سے بہتر کر کے 24ویں معیشت اور پھر جی 20 میں لے کر آئیں گے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پی ڈی ایم کی حکومت سنبھالنے سے پہلے پاکستان کا ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ سو فیصد تھا،بین الاقوامی اور کچھ اندرونی قوتیں پاکستان کو سری لنکا بنانا چاہتی تھی ،ہماری جنگ پاکستان کو بچانے کی تھی۔
یاد رہے کہ مسلم لیگ ن کی جانب سے 21 اکتوبر کو نواز شریف کی وطن واپسی کا اعلان کر رکھا ہے اور یہ بھی اعلان کیا جاچکا ہے کہ نواز شریف آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ ن جانب سے وزیراعظم کے امیدوار ہوں گے۔
وفاقی وزارت قانون نے سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے خلاف سائفر گمشدگی کیس میں آج (منگل) ہونے والی سماعت اٹک جیل میں کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
سائفر کیس کی خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین آج سماعت اٹک جیل میں سماعت کریں گے۔
وزارت قانون کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکشن میں کہا گیا ہے کہ وزارت کو سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اس کیس کی سماعت اٹک جیل ہی میں کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔
یاد رہے کہ پیر کی صبح اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو اٹک جیل سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل منتقل کرنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد یہ اطلاعات زیر گردش تھیں کہ سابق وزیر اعظم کو اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔
تاہم اٹک جیل کی انتظامیہ نے ان اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان بدستور اٹک جیل ہی میں مقید ہیں۔
جیل حکام کا مزید کہنا تھا کہ انھیں اس ضمن میں ابھی تک کوئی تحریری حکمنامہ موصول نہیں ہوا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو اٹک جیل سے اڈیالہ جیل منتقل کرنے کی تردید کردی گئی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس میں زیر حراست عمران خان کو اڈیالہ جیل منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔
عمران خان کے وکیل نعیم پنجوتھا نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے اور انھیں سابق وزیر اعظم کی سہولیات مہیا کر دی گئیں ہیں۔
تاہم اڈیالہ جیل حکام نے چئیرمین پی ٹی آئی کو اڈیالہ جیل منتقل کرنے کی خبر کی تردید کی ہے اور کہا کہ ہے کہ عمران خان کو تاحال اڈیالہ جیل منتقل نہیں کیا گیا۔
پاکستان کی سیاسی صورتحال پر بی بی سی اردو کے خصوصی لائیو پیج میں خوش آمدید۔
25 ستمبر تک کی خبروں کے لیےاس لنک پر کلک کریں۔