BBC Urdu

’پہلے‘ انسانی نطفے کی تیاری کا دعوٰی

برطانوی سائنسدانوں نے تجربہ گاہ میں پہلا انسانی نطفہ تیار کرنے کا دعوٰی کیا ہے۔

ان سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ نطفے کی تیاری اور اس کی نشوونما میں چار سے چھ ہفتے کا وقت لگا۔

سائنسدانوں کے مطابق ان کی یہ دریافت نامردی کا شکار مردوں کے لیے مددگار ثابت ہوگی جبکہ دیگر ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ ابھی یہ بات تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ ایک مکمل انسانی نطفہ تیار کر لیا گیا ہے۔

سائنسی جریدے سٹیم سیلز اینڈ ڈویلپمنٹ میں اپنی تحریر میں نیو کاسل یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے سائنسدانوں کا بھی کہنا ہے کہ ابھی اس تکنیک پر مکمل عبور حاصل کرنے میں کم از کم پانچ برس لگیں گے۔

سائنسدانوں نے نطفے کی تیاری کے لیے آئی وی ایف طریقۂ علاج کے لیے عطیہ کیے جانے والے انسانی ایمبریوز سے ’سٹیم سیل لائنز‘ حاصل کیں۔ یہ سٹیم سیل ایمبریو سے اس وقت علیحدہ کیے گئے تھے جب اس کی عمر چند دن تھی اور انہیں مائع نائٹروجن کے کنستروں میں محفوظ کر لیا گیا تھا۔

اس کے بعد ان سٹیم خلیوں کو انسانی جسم کے درجۂ حرارت کے قریب لایا گیا اور انہیں ایک کیمیائی آمیزے میں ڈال دیا گیا تاکہ وہ نشوونما پا سکیں۔ ان خلیوں کی نشاندہی کے لیے سائنسدانوں نے جینیاتی نشانیاں استعمال کیں جن کی مدد سے سائنسدان ان ’جرملائن‘ سٹیم سیلز کو پہچاننے اور الگ کرنے میں کامیاب رہے۔

برطانوی سائنسدانوں کے مطابق تیار کیا گیا نطفہ مکمل طور پر بالغ اور متحرک تھا اور انہوں نے اپنی تحقیق کے ثبوت کے طور پر اس کی ویڈیو بھی تیار کی ہے۔

نیوکاسل یونیورسٹی کے پروفیسر کریم نیرنیا کے مطابق ’یہ ایک اہم قدم ہے کیونکہ یہ محققین کو نطفے کی تشکیل اور مردانہ بانجھ پن کے حوالے سے مزید تحقیق کا موقع فراہم کرے گا‘۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’ اس تحقیق کے نتیجے میں ہم بانجھ پن کا شکار جوڑوں کی مدد کر سکیں گے اور انہیں ایک ایسا بچہ دے سکیں گے جو جینیاتی طور پر ان کا اپنا ہو‘۔

تاہم یونیورسٹی آف شیفیلڈ کے سپرم بائیولوجسٹ ڈاکٹر ایلن پیسی کا کہنا ہے کہ انہیں یقین نہیں کہ تیار کیا جانے والا نطفہ مکمل طور پر نشوونما پا چکا تھا۔ ان کے مطابق ’تصاویر کا معیار زیادہ اچھا نہیں۔ یہ نطفے کی ابتدائی شکل ہے اور مزید تجزیوں سے تصدیق ہو پائے گی کہ اس سلسلے میں کیا حاصل ہوا ہے‘۔