![]() | |
![]() سونار بانگلہ سے تعارف
ساٹھ کی دہائی تک ہماری فوجی حکمتِ عملی کا مرکزی نقطہ یہ تھا کہ "مشرقی پاکستان کا دفاع مغربی پاکستان سے کیا جائے گا"۔ اِسی لیے وہاں صرف علامتی طور پر ایک یا ڈیڑھ بریگیڈ فورس رکھی ہوئی تھی۔ چٹاگانگ میں اِیسٹ بنگال رائفلز کا ایک ٹریننگ سنٹر تھا۔ یہ نفری دفاعی طور پر بالکل غیرمؤثر تھی۔ میں یہ تسلیم نہیں کرتا کہ ناکافی دفاعی قوت کے باعث مشرقی پاکستان میں احساسِ عدم تحفظ پیدا ہوا۔ 1964 میںایوب خان نے مِس فاطمہ جناح کے خلاف صدارتی الیکشن لڑا تو میں ڈھاکہ کی سب ڈویثرن مانک گنج میں الیکشن ڈیوٹی کر رہا تھا۔ مشرقی پاکستان میں علیحدگی کی لہر آنےکی اصل وجہ مشرقی پاکستان کے سیاسی فیصلوں کو نظرانداز کرنا تھا۔ عام تاثر یہ تھا کہ مغربی پاکستانی فوجی بنگالیوں کو اپنے سے گھٹیا انسان سمجھتے تھے۔مثلاً یہ کہ ان کا قد چھوٹا ہے اور وہ عام طور پر غریب ہیں۔ہمارے پاس نوکری ہے اور رہن سہن قدرے بہتر ہے۔ شاید اس وجہ سے فوجی بنگالیوں کو کوئی علیحدہ مخلوق سمجھتے تھے۔ بنگالی ثقافت کو اپنانے یا ان کی زبان سیکھنے کا شوق بھی کم کم ہی تھا۔ کچھـ گنے چنے افسروں نے بنگالی عورتوں سے شادیاں کر رکھی تھیں لیکن عام میل جول کی سطح اپنایت کے درجے سے بہت نیچے تھی۔ 1968 میں اگرتلہ سازش کیس سامنے آیا۔ اِس کیس میں جو باتیں الزامات کے طور پر پیش کی جا رہی تھیں وہ تو فوجی میسوں میں روز مرہ کے مذاق تھے۔ مثلاً میرے ہم مرتبہ فوجی افسروں میں یہ مذاق عام تھا کہ اگر مشرقی پاکستان علیحدہ ہو جاۓ تو سب کی ترقیاں ہو جایئں گی۔ سو جب شام کو ڈرِنک کرنے بیٹھتے تو ایک دُوسرے کو ہلکے پھلکے انداز میں "جنرل " یا "بریگیڈیر " کہا جاتا تھا۔ جب اگرتلہ کیس کے بریفنگ افسر جنرل اعوان نے یہ غیر سنجیدہ گفتگُو بطور الزام پیش کی تو مُجھے بڑی کوفت ہوئی اور میں نے کہا کہ یہ سب تو مذاق تھا اور اِسے سازش سمجھنا تو بہت مضحکہ خیز بات ہے۔ شیخ مجیب الرحمٰن کو بھارت نواز ثابت کرنے کے لیے اُس پر طرح طرح کے لیبل لگائے جاتے تھے۔ مجیب الرحمٰن کی سیاست ہنگامہ آرائی کے گرد گھومتی تھی۔ عوامی لیگ کے رہنما مِسٹر سُہروردی کی موت کے بعد وہ پارٹی لیڈر بن گیا تھا۔ وہ ایک مقبول لیڈر تھا جو کبھی حکومت کا حصہ نہیں بنا۔ پھر اس نے 1966 میں چھـ نکات پیش کئے جن کے گرد 70 کا الیکشن لڑا گیا۔ عوامی لیگ کے خِلاف زبردست پراپیگنڈہ جاری تھا۔ بہت کم لوگ یہ سیاسی شعور رکھتے تھے کہ بنگال میں ایکشن نہیں ہونا چاہئیے۔ عام آدمی یہی سمجھتا تھا کہ علیحدگی کی لہر ختم ہونی چاہئے۔ یہ صورتِ حال ملک کے خلا ف بغاوت اورہندوستانی سازش ہے۔ عام لوگوں میں یہ تاثر تھا کہ بنگالی محبِ وطن نہیں ہیں۔ یہاں ایک عجیب تضاد شروع ہوا۔ یحیٰی خان نے ایک لیگل فریم ورک آرڈر بنایا جس میں ایسی باتیں تھیں کہ ’’مُلک کے خلاف کوئی بات نہیں کی جائے گی، آئین اور وفاق کے خلاف کچھـ نہیں کہا جائے گا،، وغیرہ۔ مجیب الرحمٰن کے چھـ نکات اس کے بالکل اُلٹ تھے جِن کے مطابق کرنسی اور خارجی امور کو چھوڑ کر باقی تمام اختیارات صوبوں کے پاس ہونا تھے اور پاکستان کے دونوں حصوں میں علیحدہ علیحدہ دارالحکومت بننا تھے۔ مجیب کی مقبولیت کو روکنے کے لیے عجیب عجیب اقدامات کیے جا رہے تھے۔ ڈھاکہ میں اُس وقت دارالحکومت ثانی زیرِ تعمیر تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ وفاقی حکومت کا کچھـ حصہ ڈھاکہ منتقل کر دیا جائے۔لیکن اس انتظام کی تفصیلات پر کبھی کسی نے غور نہیں کیا تھا۔ فوجی آمریت میں ساری طاقت ایک شخص میں مرکوز ہو جاتی ہے۔ وہ شخص مغربی پاکستان میں تھا اور ایک ایسی فوج کا سربراہ تھا جس میں اکثریت مغربی پاکستان والوں کی تھی۔ یہ تضاد تو پہلے دن سے تھا۔ اس کو دارالحکومت ثانی بنا کر کیسے دور کیا جاسکتا تھا ؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ^^واپس اوپر | |||