کبھی ایسا ہوا ہے کہ آپ کسی سے اظہارِ محبت کرنا چاہتے ہوں اور ہمت نہ پڑے؟ آپ کا مسئلہ حل ہوا۔ اب پودے آپ کے لیے یہ کام کرسکتے ہیں۔ جاپان کی دو کھلونے بنانے والی کمپنیوں نے ایسے پودے بنائے ہیں جن کے بڑے ہونے پر ان پر آپ کا پیغام کِھل کر سامنے آجاتا ہے۔ یہ پودا آپ کسی کو تحفتاً پیش کرسکتے ہیں۔ ابتدائی طور پر اس میں چھ پیغام موجود ہیں جن میں ’خوش قسمتی تمہارا مقدر ہو‘ اور ’مجھے تم سے محبت ہے‘ شامل ہیں۔ یہ پیغامات پودے کو پانی میں ڈالتے ہی اس کے کِھلنے سے سامنے آجاتے ہیں۔ ان کمپنیوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک نئی طرح کا کارڈ ہے جو آپ اپنے پیاروں کو بھیج سکتے ہیں۔ آپ یہ پیغام کسے بھیجیں گے اور وہ پیغام کیا ہوگا؟ ہمیں لکھ بھیجیے | آپ کا پیغام |  |
خبیب کاظمی، دوحہ: محبت، خاموشی بھی، چیخ بھی، نغمہ بھی، نعرہ بھی، یہ ایک مضمون ہے کتنے عنوانوں سے وابسطہ۔ نورین نواز، سرگودھا: رابعدہ تمہیں بہت بڑی غلط فہمی ہوئی ہے، میں کبھی آپس سے جھوٹ نہیں بلونا چاہتی تھی۔ عدنان محمد، لندن: اسامہ بن لادن کہاں ہیں۔۔۔۔ محمد اقبال عباسی، کویت: الفاظ نہیں ہیں، کون کہہ سکتا ہے کہ میں تم سے پیار کرتا ہوں۔ عثمان جمیل، پاکستان: میں کسی سے پیار نہیں کرتا۔ عبدالقدوس: اس زمانے میں اب کون پودے بڑا ہونے کا انتظار کرے، وہ بھی ایک لائن کا پیغام پڑھنے کے لئے۔۔۔۔ ایم حیدری، ٹورانٹو: بش کِنگ اب عراق کی جان چھوڑ دو یا یار۔۔۔۔ تمیم خان، کویت: آئی لو یو۔ یہ پیغام پڑھ کر پھاڑ دینا کہیں ابا جان کے ہاتھ نہ لگ جائے۔۔۔۔ فیصل صدیقی، ابوظہبی: آئی لو یو۔۔۔ ویری مچ۔۔۔ مقبول چنا، یوکے: میں آپ سے تیس سال سے محبت کرتا ہوں اور کرتا رہوں گا، مجھے اللہ میں امید ہے کہ ہم ملیں گے ضرور۔۔۔۔ رومن خان، ٹیکسس: لو اِز لائیف سید محمد عمران، جرمنی: مجھے تم سے محبت ہے، اگر تمہیں نہیں تو پلیز یہ پودا اپنے کسی دوست کو دیدو۔ جبران حسنین، کراچی: میرا پلانٹ تمہیں بتا گیا، تمہیں دیکھ کر میرا دل میری جان، میرا چین گیا۔ خاور مجید، لندن: اپنی بیوی کے نام: میں تمہارا ہوں، ہمیشہ سے عاصم علی، لاہور: کاش تم اتنی باتونی ہونے کے بجائے اس پودے کی طرح بغیر بولے اظہار محبت کرسکتیں۔ فہد سعدی، دوبئی: تمہارے مرتے دم تک پیار کریں گے، شاید ایک دن یہ پیار کا اظہار کریں گے، تمہیں ہو یا نہ ہو لیکن ہم مرتے دم تک آپ کا انتظار کریں گے۔ سجاد کاتھیا، پاکستان: محبتیں پیغامات کی محتاج نہیں۔ راضی رحمان، امریکہ: پیار کے لئے پیغامات کی ضرورت نہیں، بغیر الفاظ کہے دوسرا شخص سمجھنے اور سننے لگتا ہے۔ فرحان خان، حیدرآباد دکن: کاش یہ پودا بہت پہلے ایجاد ہوا ہوتا، تو شاید میں اپنی محبت کا اظہار کرچکا ہوتا اور وہ میری دلہن بن کر میرے آنگن میں چاندنی پھیلائے ہوتی اور میری زندگی میں اندھیرا نہ ہوتا۔ کاش یہ پودا پہلے ایجاد ہوا ہوتا۔ فرحان، کراچی: مجھ کو نہیں پتہ کہ میں نے تم سے کب سے پیار کرنے لگا۔ نوید نقوی، کراچی: مجھے تم سے محبت تھی، شاید ہے بھی اور رہےگی بھی۔۔۔۔ احسن شیخ، پاکستان: کاش میں تم سے بتاسکتا کہ میں تمہیں کتنا پیار کرتا ہوں۔۔۔ ہارون عباس، لاہور: مسئلہ ہے کہ ہم پیغام لکھ تودیں لیکن اور لوگ بھی پڑھ لیں گے! کچھ پیغامات محسوس کیے جاتے ہیں، نثر نہیں کیے جاتے۔ نامعلوم: میں اپنی ساس کو یہ میسج بھیجوں گی: اب پچھتاوے کیا ہو۔۔۔۔ |