دوسری جماعت کا قاعدہ

آخری وقت اشاعت:  اتوار 16 دسمبر 2012 ,‭ 15:49 GMT 20:49 PST
فائل فوٹو، کتاب

انیس سو انہتر میں دوسری جماعت کے قاعدے میں ایک باب کا عنوان تھا پاکستانی بچے۔

اللہ رکھیو سندھ کے ایک گاؤں میں رہتا ہے۔وہ صبح سویرے اٹھتا ہے۔ اپنے ابا کے ساتھ کھیت پر جاتا ہے۔فصل بونے اور کاٹنے میں ابا کی مدد کرتا ہے۔اپنی امی کے ساتھ چارا جمع کرتا ہے۔دادی کی دوا لاتا ہے۔ ماں باپ کا کہنا مانتا ہے ۔اللہ رکھیو اپنے ابا اماں اور بہن بھائیوں کی آنکھ کا تارا ہے۔

(اللہ رکھیو سکول کب جاتا ہے۔اس کی کوئی تفصیل نہیں۔)

محمد جمن بلوچ بچہ ہے۔ وہ صبح سویرے اٹھتا ہے۔ اپنے ابا کے ساتھ بکریاں اور دنبے چراتا ہے۔ان کا دودھ دوہنے میں مدد کرتا ہے۔ اس کی اماں اس دودھ سے لسی بناتی اور مکھن نکالتی ہے۔ محمد جمن دوپہر کو ابا کے لیے گھر سےکھانا لے کر جاتا ہے۔ محمد جمن شام کو اپنی بھیڑ بکریوں کے لیے چارا تیار کرتا ہے۔ ماں باپ اسے ڈھیر ساری دعائیں دیتے ہیں۔ محمد جمن پورے خاندان کی آنکھوں کا تارا ہے

(محمد جمن پڑھتا کب ہے، کھیل کود کا وقت کب نکالتا ہے، اس کی کوئی تفصیل نہیں۔)

بہزاد خان صوبہ سرحد کے ایک گاؤں میں رہتا ہے۔اس کا گھر پہاڑ کے دامن میں ہے۔صبح سویرے اٹھتا ہے۔اپنے ابا کے ساتھ نماز ادا کرتا ہے۔ ناشتہ کرنے کے بعد قاری صاحب سے سپارہ پڑھتا ہے۔ بہزاد کو کھیل کود کا بہت شوق ہے۔وہ غلیل سے پرندوں کا شکار کرتا ہے۔اس کا نشانہ بہت پکا ہے۔ بہزاد گھر کے کاموں میں اپنے ابا امی کا ہاتھ بھی بٹاتا ہے اور بہن بھائیوں کا بھی خیال رکھتا ہے ۔

( بہزاد خان سکول جاتا ہے یا نہیں۔کوئی ذکر نہیں۔)

شہید اللہ بہت ہونہار بچہ ہے ۔وہ مشرقی پاکستان میں دریائے برہم پترا میں اپنے خاندان کے ساتھ ایک کشتی پر رہتا ہے۔شہیداللہ کا باپ مچھیرا ہے ۔ شہیداللہ بھی اپنے باپ کی طرح بہت اچھا تیراک ہے۔چاول اور مچھلی شوق سے کھاتا ہے اور کشتی نما گھر کو صاف ستھرا رکھنے میں اپنی امی کی مدد کرتا ہے اور اپنے بہن بھائیوں کا بہت خیال رکھتا ہے۔

( شہید اللہ پڑھتا لکھتا کب ہے؟ اس کا کوئی ذکر نہیں۔)

محمد اسلم پنجاب کے ایک گاؤں میں رہتا ہے۔وہ بہت ہونہار بچہ ہے۔اس کا دل پڑھائی میں خوب لگتا ہے۔اساتذہ محمد اسلم سے خوش رہتے ہیں۔ سکول سے آنے کے بعد وہ کام کاج میں اپنے ابا اور امی کا ہاتھ بٹاتا ہے۔ شام کو سپارہ پڑھنے کے بعد وہ بچوں کے ساتھ کھیل کود میں حصہ لیتا ہے اور کسرت بھی کرتا ہے۔ محمد اسلم کے ابو امی اس سے بہت خوش ہیں کیونکہ محمد اسلم فرماں بردار بچہ ہے اور اپنے بہن بھائیوں کا بھی بہت خیال رکھتا ہے۔

( کم ازکم محمد اسلم سکول ضرور جاتا ہے۔)

کم ازکم محمد اسلم سکول ضرور جاتا ہے

جب پاکستانی بچوں کا تعارف پڑھ کر یہ تیسری جماعت کا طالبِ علم سکول سے گھر آتا تھا ۔محلے میں کھیلتا تھا، اپنے دوستوں کے گھر جاتا تھا تو وہ وہ باتیں سنتا تھا جو سکول میں نہیں بتائی جاتیں۔

جیسے سندھی کام چور ہوتے ہیں، وہ وفادار ملازم نہیں ہوتے، ان کی زبان پر اعتبار نہیں کرنا چاہیے۔

بلوچوں کی داڑھی دیکھ کر خوف آتا ہے۔بلوچ شہروں میں رہنا پسند نہیں کرتے، بات بات پر قتل کر دیتے ہیں، ڈاکے بھی ڈالتے ہیں۔نماز روزے سے خاص تعلق نہیں۔

پٹھان اگرچہ نماز روزے کے پابند مگر گنوار، ضدی، لڑاکا اور بےوقوف ہوتے ہیں۔بات بات پر بندوق نکال لیتے ہیں۔

بنگالی وفادار نہیں ہوتے ، وہ دبلے پتلے کالے ہوتے ہیں کیونکہ صرف چاول اور مچھلی پر گذارہ کرتے ہیں اور گائے کا گوشت ہضم نہیں کر سکتے۔ان کی عادات و اطوار اور زبان پر ہندوؤں کا بہت اثر ہے۔وہ شلوار قمیض پہننا پسند نہیں کرتے اور دھوتی کرتے میں خوش رہتے ہیں۔بنگالی بہت جذباتی ہوتے ہیں اور اچھے دوست نہیں بن سکتے۔

اور جب پاکستانی بچوں کا تعارف پڑھ کر یہ تیسری جماعت کا طالبِ علم سکول سے گھر آتا تھا، محلے میں کھیلتا تھا، اپنے دوستوں کے گھر جاتا تھا تو وہ وہ باتیں سنتا تھا جو سکول میں نہیں بتائی جاتیں۔

جیسے سندھی کام چور ہوتے ہیں، وہ وفادار ملازم نہیں ہوتے، ان کی زبان پر اعتبار نہیں کرنا چاہیے۔

بلوچوں کی داڑھی دیکھ کر خوف آتا ہے۔ بلوچ شہروں میں رہنا پسند نہیں کرتے، بات بات پر قتل کر دیتے ہیں، ڈاکے بھی ڈالتے ہیں۔نماز روزے سے خاص تعلق نہیں۔

پٹھان اگرچہ نماز روزے کے پابند مگر گنوار، ضدی، لڑاکا اور بےوقوف ہوتے ہیں۔ بات بات پر بندوق نکال لیتے ہیں۔

بنگالی وفادار نہیں ہوتے ، وہ دبلے پتلے کالے ہوتے ہیں کیونکہ صرف چاول اور مچھلی پر گذارا کرتے ہیں اور گائے کا گوشت ہضم نہیں کر سکتے۔ان کی عادات و اطوار اور زبان پر ہندوؤں کا بہت اثر ہے۔ وہ شلوار قمیض پہننا پسند نہیں کرتے اور دھوتی کرتے میں خوش رہتے ہیں۔ بنگالی بہت جذباتی ہوتے ہیں اور اچھے دوست نہیں بن سکتے۔

آج انیس سو انہتر کی دوسری جماعت کا یہی طالبِ علم سولہ دسمبر سن دو ہزار بارہ میں بیٹھا سوچ رہا ہے کہ پاکستان کا یہ حال شاید مغربی پاکستان ٹیکسٹ بک بورڈ سے منظور شدہ دوسری جماعت کے اس قاعدے کی وجہ سے ہوا ہے۔ جو نہ صرف اس بچے نے بلکہ اس سے پہلے مغربی پاکستان کے لاکھوں بچوں نے پڑھا ہوگا اور پھر اپنے اپنے گھروں اور محلوں میں وہ وہ باتیں متواتر سنی ہوں گی جنہوں نے ان کے ذہنوں کو شعوری و لاشعوری انداز میں ہائی جیک کیا ہوگا۔اور پھر ان میں سے ہزاروں بچے جرنیل، بیورو کریٹ اور سیاستداں بنے ہوں گے، اور پھر۔۔۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>