
جے پور فیسٹیول کا افتتاح جمعرات کی صبح ہوا
بھارتی ریاست راجستھان کے دارالحکومت جے پور کے سالانہ ادبی میلے میں پاکستانی مصنفین کی موجودگی کے سبب سخت سکیورٹی کا انتظام کیا گیا ہے۔
بھارتی جنتا پارٹی اور اس کی اتحادی سخت گیر ہندو جماعتیں اس ادبی میلے میں پاکستانی ادیبوں کی شرکت کے خلاف ہیں اور انہوں نے میلے میں پاکستانی مصنفین کی شرکت پر احتجاج بھی کیا ہے۔
جمعرات کی صبح فیسٹیول کا افتتاح ریاست کے وزیراعلیٰ گہلوت سنگھ اور گورنر مارگریٹ الوا نے کیا۔
اس کے افتتاحی دن کو ہی پاکستانی ادبیوں کو خطاب کی دعوت دی گئي۔ خطاب کرنے والوں میں جمیل احمد، امینہ سیّد اور مشرف علی فاروقی شامل تھے۔
آغاز میں پاکستانی مصنف محمد حنیف کو بھی سیشن سے خطاب کرنا تھا لیکن وہ حاضر نہیں ہوئے اور اس کی وجوہات واضح نہیں ہیں۔
اس فیسٹیول کے منتظمین نے سکیورٹی فراہم کرنے اور دیگر انتظامات کے لیے ریاستی حکومت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ کسی بھی طرح کے مظاہروں سے دباؤ میں نہیں آئیں گے۔
" ہم سب کا ایک موقف ہے۔ ہم سب ذہنی یا کسی بھی طرح کی دہشتگردی کے خلاف ہیں۔ ہم کسی کے دباؤ میں نہیں آئیں گے اور اس موقع پر حکومت نے جس طرح سے ہماری مدد کی ہے ہم اس کے شکر گزار ہیں۔"
فیسٹیول کے کنوینر سنجے رائے
فیسٹیول کے کنوینر سنجے رائے نے کہا ’ہم سب کا ایک موقف ہے۔ ہم سب ذہنی یا کسی بھی طرح کی دہشتگردی کے خلاف ہیں۔ ہم کسی کے دباؤ میں نہیں آئیں گے اور اس موقع پر حکومت نے جس طرح سے ہماری مدد کی ہے ہم اس کے شکر گزار ہیں۔‘
اس ماہ کے اوائل میں کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر بھارت اور پاکستانی فوج کے درمیان فائرنگ اور ہلاکتوں کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگي کے سبب دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات پہلے جیسے نہیں رہے۔
بھارت میں اس کے خلاف سخت رد عمل سامنے آیا اوربھارتی حکومت نے بھی سخت موقف اختیار کیا جس کے بعد سب سے پہلے پاکستان کے ہاکی کھلاڑیوں کو واپس بھیجا گيا۔
اس کے بعد پاکستانی فنکاروں کے شوز منسوخ ہونے لگے اور ان کے ڈراموں کے پروگرام اور فنکاروں کو بھی واپس بھیج دیا گيا۔
اسی تناظر میں ادبی میلے میں پاکستانی ادیبوں کی شرکت کے خلاف بھی احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے تھے۔






























