
سیدگيلانی کے مطابق اس دورہ سے کچھ حاصل نہیں ہوگا
پاکستان اور بھارت کے ساتھ دوطرفہ سطح پر بات چیت کے حامی کشمیری علیٰحدگی پسندوں کا ایک وفد پاکستان دورے کے لیے اسلام آباد روانہ ہوچکا ہے۔
گزشتہ بیس برسوں سے تو یہ دورے ایک معمول بنے ہوئے تھے لیکن اس بار حریت کانفرنس کے ایک دھڑے کے سربراہ میر واعظ عمرفاروق نے دورے سے قبل عوامی حلقوں سے مشاورت بھی کی۔
مشاورت کی ان نشستوں میں سول سوسائٹی کے نمائندوں اور تاجروں نے حریت کانفرنس پر کھل کر تنقید کی ہے۔
ان ملاقاتوں کے دوران شرکا نے حریت کانفرنس پر درپردہ سیاست کرنے کا الزام عائد کیا۔
صحافی طارق علی نے بھی ایسے ہی ایک اجلاس میں شرکت کی۔ ان کا کہنا ہے کہ حریت کانفرنس نے اس دورے کے اصل ایجنڈے کی وضاحت نہیں کی ہے۔
وہ کہتے ہیں ’یہ خوش آئند ہے کہ حریت کانفرنس کو بیس سال بعد لوگوں سے پوچھنے کا خیال آیا لیکن ہمیں معلوم نہیں کہ یہ لوگ پاکستان سے کس ایجنڈے پر بات کرنا چاہتے ہیں‘۔
اکثر مبصرین کا خیال ہے کہ حریت کانفرنس (میرواعظ گروپ) دراصل بھارتی نگرانی میں ہونے والے انتخابات میں شرکت پر آمادہ ہے اور اسی پالیسی پر پاکستانی حمایت حاصل کرنے کے لیے اسلام آباد میں لابیئنگ کی جا رہی ہے۔
میر واعظ اگرچہ اس بارے میں محتاط ردعمل ظاہر کرتے ہیں لیکن وہ بھارت سے آزادی کے نعروں کو اب تحریک کے لیے کافی نہیں سمجھتے۔
میر واعظ نے نئی دلّی روانگی سے قبل بی بی سی کو بتایا، ’مسئلہ کشمیر پر تو ہمارا موقف واضح ہے لیکن بجلی، قدرتی وسائل اور نوجوانوں کا مستقبل ایسے معاملات ہیں جن پر حریت کانفرنس خاموش نہیں رہ سکتی‘۔
"حریت کانفرنس اور پاکستان کوئی فیصلہ تھوپ سکتے ہیں۔ حریت کانفرنس میں وہ دم نہیں کہ وہ پاکستان سے کہہ دے کہ وہ کشمیر پر اپنی پالیسی واضح کرے۔ پاکستان کے وزیرداخلہ تو بھارت کو خوش کرنے کے لیے اپنا جنم دن تاج محل میں منانا چاہتے ہیں، وہ لوگ ہماری قربانیوں کو بھول چکے ہیں۔"
واضح رہے کہ دو درجن سے زائد علیٰحدگی پسند گروپوں نے اُنیس سو ترانوے میں ایک اتحادی فورم قائم کیا تھا جس کا نام کل جماعتی حریت کانفرنس رکھا گیا۔ میر واعظ عمر فاروق سولہ سال کی عمر میں ہی اس فورم کے بانی سربراہ بنے۔ دس سال تک متحد رہنے کے بعد حریت کانفرنس دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔
بھارت کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات اور انتخابات کے بائیکاٹ کے حوالے سے سید علی گیلانی نے میراعظ اور ان کے حامیوں پر تنقید کی اور اپنی علیٰحدہ حریت کانفرنس بنائی۔ سید علی گیلانی کو بھی پاکستانی حکومت نے اسلام آباد آنے کی دعوت دی ہے تاہم انہیں حکومت نے پاسپورٹ فراہم نہیں کیا۔
وہ اس دورے کو ایک فضول مشق کہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے ’ان حضرات (میرواعظ گروپ) کے لیے اب پاکستان گھر کا آنگن ہے۔ یہ تو ہر سال جاتے ہیں۔ آج تک ان دوروں سے کوئی نتیجہ نہیں نکلا اور آج بھی صورتحال مختلف نہیں ہوگی‘۔
عوامی مشاورت کے دوران میراعظ گروپ کو کئی حلقوں نے ہدف تنقید بنایا۔ تاجروں کی ایک انجمن کے صدر شکیل قلندر نے کہا ’عام تاثر ہے کہ کچھ علیحدگی پسندوں کے حکومت کے ساتھ مراسم ہیں۔ یہ لوگ خود پولیس کو کہتے ہیں کہ ہمیں گھر میں نظربند رکھیے‘۔
ستاسی ارکان پر مشتمل بھارت نواز اسمبلی کے ممبر عبدالرشید سمجھتے ہیں کہ ابھی کشمیر میں حالات اس قدر ٹھیک نہیں ہوئے کہ ہند نواز سیاست ایک مقبول نظریہ بن جائے ’لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ حریت کانفرنس اور پاکستان کوئی فیصلہ تھوپ سکتے ہیں۔ حریت کانفرنس میں وہ دم نہیں کہ وہ پاکستان سے کہہ دے کہ وہ کشمیر پر اپنی پالیسی واضح کرے۔ پاکستان کے وزیرداخلہ تو بھارت کو خوش کرنے کے لیے اپنا جنم دن تاج محل میں منانا چاہتے ہیں، وہ لوگ ہماری قربانیوں کو بھول چکے ہیں‘۔
ایک ایسے وقت جب کشمیر میں مسلح تشدد میں کمی آگئی ہے اور ہند نواز سیاست مقامی مباحث کا حصہ بن چکی ہے، میر واعظ کا دورۂ پاکستان ان کے سیاسی نظریات کے لیے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔






























