’ہیر رانجھا پنجاب کے شہیدوں میں سے ہیں‘

انڈیا کے نامور مورخ ایشور دیال گوڑ کا کہنا ہے کہ ہیر رانجھا کی محبت کی داستان پنجابیوں کے لیے بہت اہمیت کی حامل ہے۔ پنجابی سروس کے دلجیت امی کی پیشکش۔

ہیر رانجھا
،تصویر کا کیپشنانڈیا اور پاکستان میں شاید ہی کوئی شخص ایسا ہو جس نے ہیر رانجھا کی داستانِ محبت کے بارے میں نہ سنا ہو۔ پنجاب کی یہ داستانِ محبت بہت مقبول ہوئی اور لوک کہانیوں میں لیلیٰ مجنوں کی محبت کی طرح سچی محبت کی علامت بن گئی۔ اس داستانِ محبت کو ادب میں بھی خاطر خواہ جگہ ملی لیکن وارث شاہ کی کہانیوں میں ہیر رانجھا کا جو ذکر ملتا ہے وہ بے مثال ہے۔ انڈیا میں پنجاب یونیورسٹی کے ایک مورخ ایشور دیال گوڑ نے ہیر رانجھا سے منسلک تصاویر کی ایک نمائش کا اہتمام کیا ہے۔
ہیر رانجھا
،تصویر کا کیپشنایشور دیال گوڑ اپنی اس نمائش کو انڈیا کے مختلف علاقوں تک لے جا رہے ہیں۔ اس نمائش میں ہیر رانجھا سے متعلق قلمی نسخے، کتابیں، پینٹنگز، پوسٹرز اور تصاویر شامل ہیں۔ یہاں ایک تصویر میں ہیر اور رانجھا کو پیش کیا گیا ہے جو شاید کسی پرانی کتاب کا سرورق ہے۔
ہیر رانجھا
،تصویر کا کیپشنہیر رانجھا کی کہانی پنجابی ادب کا ایک اہم حصہ ہے۔ اسے عام طور پر منظوم انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ یہ پنجابی کے مین سٹریم ادب کے ساتھ صوفی ادب اور لوک کہانیوں میں بھی رچی بسی ہے۔ ہیر رانجھا کی کہانی عشق و محبت کی مثال خیال کی جاتی ہے۔
ہیر رانجھا
،تصویر کا کیپشنہیر رانجھا کے پیار کی کہانی قصہ گوئی کی روایت کا حصہ ہے جسے لوگ نسل در نسل سنتے آئے ہیں۔ ہیر رانجھا کو برطانوی مصنفین نے بھی اپنی تصنیف کا حصہ بنایا ہے۔
ہیر رانجھا
،تصویر کا کیپشنگوڑ کہتے ہیں کہ ہیر رانجھا کی داستان پنجابیوں کے لیے دستاویزی اہمیت کی حامل ہے۔ یہ لوگ سندھ اور جمنا دریا کے درمیان آباد ہیں اور ان کی زندگی میں ہیر بڑی اہمیت کی حامل ہے۔
ہیر رانجھا
،تصویر کا کیپشنگوڑ نے لکھا ہے کہ ہیر نے اصل پنجابی شناخت دی ہے جس میں ذات پات، اعلیٰ ادنی طبقے اور مذہب کی کوئی سرحد نہیں۔ ہیر رانجھا کی کہانی انڈیا کی تقریباً تمام زبانوں میں موجود ہے۔ فرینہ میر نے 19 ویں صدی میں ہیر رانجھا سے تعلق رکھنے والے قلمی نسخوں کا مطالعہ کیا۔ ابتدا کے بیشتر شاعروں میں ہیر رانجھا کا ذکر یا حوالہ ملتا ہے۔
ہیر رانجھا
،تصویر کا کیپشنانڈیا کی تقسیم کے دوران معروف مصنف امریتا پریتم نے وارث شاہ کو یاد کرتے ہوئے کہا تھا ’آج اکھاں وارث شاہ نوں کہ توں قبراں وچوں بول‘ یعنی اپنی قبر سے نکل کر کچھ تو ان خواتین کے درد کو بیان کریں۔
ہیر رانجھا
،تصویر کا کیپشنایشور دیوال گوڑ ہیر اور رانجھا کو پنجاب کے شہدا کے طور پر دیکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہیر کا ذکر بھائی گروداس اور گرو گووند سنگھ کی نظموں میں بھی ملتا ہے۔