| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہٹن انکوائری میں کون کیا؟
ٹونی بلیئر ہٹن انکوائری کے نتیجے میں سب سے زیادہ نقصان برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کو پہنچ سکتا ہے۔ ان پر الزام تھا کہ وہ عراقی ہتھیاروں سے متعلق خفیہ اداروں کی رپورٹ پر اثرانداز ہوئے ہیں اور انہوں نے رپورٹ میں ردو بدل کروایا ہے۔ ہٹن انکوائری کے سامنے اپنے بیان میں ٹونی بلیئر نے اس الزام کو ’مکمل طور پر لغو‘ قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر یہ بات ٹھیک ہوتی تو اس بات پر انہیں استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا۔ الیسٹر کیمبل
الیسٹر کیمبل کو بجا طور پر ہٹن انکوائری کا مرکزی کردار قرار دیا جا سکتا ہے۔ بی بی سی کے صحافی اینڈریو گیلیگن کی رپورٹ میں ان پر الزام لگایا گیا تھا کہ ڈاؤننگ سٹریٹ نے، جہاں الیسٹر کیمبل اطلاعات کے شعبے کے انچارج تھے، عراق کے وسیع تباہی کے ہتھیاروں سے متعلق حکومت کی دستاویز کو زیادہ پراثر بنانے کے لئے اس میں ردو بدل کیا۔ یہی بات حکومت اور بی بی سی کے مابین تنازعے کا باعث بنی۔ گریگ ڈائیک
بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل کی حیثیت سے گریگ ڈائیک پر کارپوریشن کی طرف سے پیش کئے گئے تمام پروگراموں کے اچھا یا برا ہونے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اگرچہ اینڈریو گیلیگن کی خبر کے نشر ہونے کے وقت گریگ ڈائیک چھٹیوں پر تھے لیکن انہوں نے اس وقت بی بی سی کے نیوز کے شعبے کے سربراہ رچرڈ سیمبروک کی حمایت کی تھی جب حکومت کی طرف سے اینڈریو گیلیگن کی رپورٹ پر پے در پے حملے ہو رہے تھے۔ ہٹن انکوائری میں اپنے بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کے خیال میں حکومت کی طرف سے بی بی سی پر کئے جانے والے حملے ایک منصوبے کا حصہ تھے جس کا بنیادی مقصد پرانے حساب چکانا تھا۔ اینڈریو گلیگن
اینڈریو گلیگن کی اٹھائیس مئی کو ریڈیو فور کے ٹوڈے پروگرام میں نشر ہونی والی رپورٹ ہی حکومت اور بی بی سی کے درمیان تنازعے کا باعث بنی۔ اس رپورٹ میں اینڈریو گلیگن نے دعویٰ کیا تھا کہ خفیہ اداروں کے ایک سینیئر ذریعہ نے انہیں بتایا ہے کہ خفیہ اداروں کے اہلکار عراق کے وسیع تباہی کے ہتھیاروں پر حکومتی دستاویز کے مندرجات سے خوش نہیں ہیں، خاص طور پر اس نقطے پر جس میں کہا گیا ہے کہ عراق پینتالیس منٹ کے اندر ہتھیار تیار کرکے استعمال کر سکتا ہے۔ بعد میں اپنے ایک اخباری مضمون میں انہوں نے دستاویز میں ردوبدل کرنے کا الزام الیسٹر کیمبل پر لگایا۔ جیف ہون
سیکرٹری دفاع جیف ہون نے شروع میں اپنے محکمے کی طرف سے ڈاکٹر کیلی کا نام افشا کرنے سے متعلق اٹھائے جانے والے متعدد اقدامات سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔ لیکن بعد میں انہوں نے اس بات کا اقرار کیا کہ ڈاکٹر کیلی کا نام منظر عام پر لانے سے متعلق اٹھائے جانے والے اقدامات میں ملوث تھے۔ ان اقدامات میں محمکہ دفاع کے پریس آفس کی طرف سے اخبار نویسوں کے سوالوں کے جواب میں ڈاکٹر کیلی کے اینڈریو گیلیگن کے ذریعہ ہونے کی تصدیق بھی شامل ہے۔ ڈاکٹر کیلی
محمکہ دفاع میں ہردلعزیر اور احترام کی نظر سے دیکھے جانے والے ڈاکٹر کیلی غالباً برطانیہ میں جراثیمی ہتھیاروں پر سب سے زیادہ علم رکھنے والے ماہر تھے۔ وہ اقوام متحدہ کے اسلحہ کے معائنہ کار کی حیثیت سے بھی کام کر چکے تھے اور اپنے اسی تجربے کی بنیاد پر انہوں نے عراق ہتھیاروں پر حکومتی دستاویز کی تیاری میں حصہ لیا تھا۔ ہٹن انکوائری سے متعلق دیگر اہم شخصیات میں بی بی سی کے بورڈ آف گورنر کے صدرنشین گیون ڈیوس، ڈاکٹر کیلی کی بیوہ جانیس کیلی، بی بی سی کے نیوز کے شعبے کے سربراہ رچرڈ سیمبروک، جوائنٹ انٹیلیجنس کمیٹی کے چیئرمین جان سکارلٹ، بی بی سی کے پروگرام نیوز نائٹ کے سائنس کے شعبے کی ایڈیٹر سوزن واٹس اور خود لارڈ ہٹن شامل ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||