| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
شہر مرتے نہیں
ہوٹل سرائے میں اپنے کمرے کی بالکنی سے میں نے ساراژیوو کی پہلی جھلک دیکھی تو تھوڑی دیرکے لیے تو اس کے قدرتی حسن کے سحر میں کھوکر رہ گئی۔ سرسبز پہاڑیوں میں گھرا ہوا یہ تاریخی شہر مئی کی دھوپ میں کسی آرٹسٹ کی پینٹنگ کی طرح رومانوی حسن کا مکمل نمونہ پیش کررہا تھا۔ میرے سامنے حد نظر تک دریائے ’مل یتسکہ‘ ایک ریشمی ڈوری کی طرح لہراتا نظر آرہا تھا جس پہ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر چھوٹے چھوٹے پلوں کی گرہیں لگی ہیں۔ دریا کی بائیں جانب پہاڑی کی چوٹی پر مسلمانوں کا صدیوں پرانا قبرستان ہے جس میں صاف ستھری سفید قبریں قطار اندر قطار بنی ہوئی ہیں۔ دریا کے دائیں کنارے پر پرانے ٹاؤن ہال کی قدیم مورش انداز کی شاندار عمارت ہے۔ اس کی مرمت کا کام قیام امن کے آٹھ سال بعد بھی جاری ہے۔ اس کے ٹوٹے پھوٹے کنگرے اور نقش و نگار اس کے عظیم ماضی کی نشاندھی کرتے ہیں تو اس کے در و دیوار پہ ہزاروں کی تعداد میں گولیوں اور مارٹر بموں کے نشان انسانی جنون کی تباہ کاریوں کی داستان سناتے ہیں۔ اگست انیس سو بانوے میں دریا کے پار اپنے مورچوں سے قوم پرست سرب دستے مسلسل تین دن تک اس پر گرینیڈوں اور مارٹر بموں کی بارش کرتے رہے اور جب تک اس کے نایاب علمی و ادبی ورثے سمیت اسے خاکستر کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے ان کی بمباری میں وقفہ نہیں آیا۔
بوسنیائی عوام اور دانشوروں کو تو اس وقت اپنی جان کے لالے پڑے ہوئے تھے وہ اس کا ماتم کیا کرتے لیکن اس تباہی پر مغربی دنیا کے دانشور چیخ اٹھے تھے اور مجھے یاد ہے کہ اس لائبریری اور ایک سال بعد موستار کے تاریخی پل ستاری موست کی تباہی پر دنیا بھر کے دانشور اور تاریخ دان بلبلا اٹھے تھے اور رابرٹ فسک جیسے سرکردہ صحافیوں نے باقاعدہ مرثیے لکھے تھے۔ اس ایک عمارت کو تباہ کرکے انہوں نے بیک وقت پندرہ لاکھ قیمتی کتابیں جلا دی گئیں جن میں ایک لاکھ پچپن ہزار قدیم اور نادر کتابیں اورمینو سکرپٹ تھے اور پچھلے سو سال کے اخبارات اور جریدوں کا ذخیرہ شامل تھا۔ اس لائبریری کے ذرا پیچھے ساراژیوو کی مشہور مسجد غازی خسرژیو بے کا مینار اور گنبد نظر آتا ہے اور دریا کے دوسری جانب لائبریری کے سامنے شاہی مسجد ہے۔ دونوں ہی سولہویں صدی کی عمارتیں ہیں اور نہ صرف اچھی حالت میں ہیں بلکہ نمازیوں اور طلباء کی موجودگی سے بارونق بھی نظر آتی ہیں جو بوسنیا کی زیادہ تر مسجدوں کے لیے غیر معمولی بات ہے۔ تاریخی اعتبار سے سب سے زیادہ پرانی اور اہم ترین مسجد جامعہ علی پاشنیہ شمار ہوتی ہے جس کے بارے میں ساراژیو کی فائن آرٹ اکیڈمی کی پروفیسر میٹکا خوزو نے بتایا کہ یہ مسجد ترک طرز تعمیر کا بہترین نمونہ ہے اور جنگ میں خوش قسمتی سے بہت حد تک تباہی سے بچی رہی۔ ساراژیوو کی زیادہ تر مسجدیں اس اندھا دھند تباہی سے بچ گئیں جو بانیا لوکا اور موستار میں دیکھنے میں آتی ہے۔ ساراژیوو کے دفتر رئیس علما میں نرمین شانس کا کہنا تھا کہ جنگ سے قبل ساراژیوو میں کل ستر مسجدیں تھیں جن میں صرف پانچ مکمل طور پر تباہ ہوئیں اگر چہ سرب مارٹر بموں اور گرینیڈوں کا نشانہ تو سبھی بنیں۔ علی پاشنیہ شہر کے بیچوں بیچ چھوٹی اور بہت سادہ سی مسجد ہے۔ مسجد کے قریب ہی سکندریہ کا شاپنگ سینٹر ہے، جس کے قریب ہی دریا کا رخ مڑجاتا ہے لیکن ہوائی اڈے کی جانب جاتی ہوئی سڑک دور تک یونہی سیدھی چلی جاتی ہے اور اس کے دونوں طرف اونچی اونچی عمارتیں دور سے ستونوں کی طرح کھڑی نظر آتی ہیں۔ جنگ بندی اور ڈیٹن معاہدے کے آٹھ سال بعد اب بھی اس علاقے میں بڑے بڑے اور خوفناک کھنڈرات کی کمی نہیں جو ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے غیر محفوظ لگتے ہیں اور ان کے اندر بڑی بڑی جھاڑیاں اور درخت اگ آنے کی وجہ سے وہ ایک عجیب منظر پیش کرتے ہیں۔
اب اس سڑک پر معمول کے مطابق زندگی اور لوگوں کی آمدورفت دیکھ کر یہ یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ وہی سڑک ہے جسے نامہ نگاروں نے ’سنائیپرز ویلی‘ یعنی نشانہ بازوں کی وادی کا نام دیا تھا۔ کیوں کہ آس پاس کی پہاڑیوں پر اپنے مورچوں میں ڈٹے سرب فوجی اس سڑک کو پار کرنے کی کوشش کرنے والوں کو تاک تاک کر اپنی گولیوں کا نشانہ بنایا کرتے تھے۔ مجھے یاد آرہا تھا کہ تین سال تک ہم اور دنیا کے دوسرے ذرائع ابلاغ ساراژیوو کے محصارے اور ’سنائیپر ویلی‘ کی خبریں سناتے رہے، برف سے ڈھکے شہر میں نقطۂ انجماد سے بیس پچیس ڈگری کم کے درجہ حرارت میں بجلی اور ایندھن کی کمی سے ٹھٹھر کر مرجانے والوں کی تفصیلات دنیا کو سناتے رہے اور انہیں عمارتوں میں پھنسے اپنے ساتھ کے صحافیوں کی شاندار رپورٹوں اور ان کی بہادری کی داد دیتے رہے تھے۔ ان ہی دنوں کی بات ہے کہ انیس سو پچانوے میں ڈیٹن معاہدے سے چند ہی ماہ پہلے میں نے ایک نو مسلم برطانوی امدادی کارکن ابراہیم گولائیٹلے کے مارے جانے کی خبر سنی جو ایک دوسرے برطانوی رضا کار کے ساتھ کھانے پینے کی اشیاء سے بھری ایک لاری ساراژیوو پہنچانے کی کوشش کررہا تھا جب سربوں نے اس کی لاری پر راکٹ داغ دیا تھا۔ ابراہیم سے میری ملاقات انیس سو چورانوے میں ہوئی تھی جب اس کی امدادی ویگن میں میں نے برطانیہ سے بوسنیا تک کا سفر کیا تھا۔ تین دن اور دو راتوں کے مسلسل سفر کے دوران وہ ان پہاڑی درّوں اور زمین دوز سرنگوں کے خطرات کے بارے میں بتارہا تھا۔ جن سے گزر کر اس جیسے اکا دکا جاں فروش خوراک کی اشیاء محصور شہریوں تک پہنچانے کی کوشش کررہے تھے جبکہ اقوام متحدہ کے امدادی قافلے نیٹو افواج کے تحفظ میں بھی سرب محاصرے کو توڑ کر وہاں پہنچنے سے قاصر تھے۔ اسی سال اٹھائیس اگست کو سربوں نے پرانے شہر کے عین درمیان ساراژیوو کی مرکزی مارکیٹ پر راکٹ داغ دیئے تھے جس میں پنسٹھ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔ ٹیلی وژن پر کٹے پھٹے جسموں کے حصوں اور خون سے لتھڑے زخمیوں کی تصویروں نے یورپی عوام اور سیاستدانوں کو دہلا دیا تھا جو اس قسم کی تصویریں افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے غیر اہم اور غیر مہذب ملک کی رپورٹوں میں دیکھنے کے عادی تھے۔ اور جو پچھلے پانچ سال سے یہ طے نہیں کر پا رہے تھے کہ اپنی ہمسائیگی میں اپنے ترقی یافتہ اور مہذب یورپ میں، اس خون خرابے سے کیسے نمٹیں۔ جو فیصلے لاکھوں جانوں کی قربانی سے نہیں ہوپائے تھے وہ دو دنوں میں طے ہوئے اور تیس اگست کو نیٹو کی فوج نے بوسنیا میں سرب ٹھکانوں پر بمباری شروع کردی تھی۔ دو ہی ہفتوں میں سرب فوجوں کو اندازہ ہوگیا کہ نہتے بوسنیائی عوام کا قتل عام اور بات ہے اور نیٹو فوجوں کا مقابلہ بالکل اور۔ چنانچہ دو ہفتے کے اندر اندر سرب فوجیں ساراژیوو کے گرد ٹینکوں اور توپوں کا گھیرا ختم کرنے پر مجبور ہوگئیں۔ آج اس مارکیٹ کی گہما گہمی، خوشبو اور رنگوں کا طوفان دیکھ کر طبیعت خوش ہوگئی۔ پھلوں، پھولوں اور سبزیوں کے لدے پھندے اسٹال، دوکانداروں کے نعرے، ریڈیو اور ٹیپ ریکارڈوں پر موسیقی کی دھنیں، موبائل ٹیلیفونوں کے نامعقول اور شوخ سُر اور پاس سے گزرنے والی ٹرام کی گھنٹیاں۔۔۔ جاوداں ہر دم جواں، ہر دم رواں ہے زندگی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||