| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بوسنیا کی ماں
’بدترین بات یہ ہوئی کہ میں زندہ بچ گئی۔ کسی کے لئے بھی اس سے بُرا انجام کوئی نہیں ہو سکتا۔‘ اکیاون سالہ خدیجہ مہمیتووچ کے باوقار اور بظاہر پرسکون چہرے پہ ان کے اندر کے کرب اور اذیت کا اندازہ لگانا مشکل تھا۔ سارا ژیوو کے ہوٹل کے ایک آرام دہ کانفرنس روم میں وہ جس سنجیدگی اور حقیقت پسندانہ انداز سے مجھے اپنی زندگی کے بارے میں بتا رہی تھیں اس سے میرے لئے یہ یقین کرنا مشکل تھا کہ میں واقعی خطۂ بلقان کی تاریخ کے خونی ڈرامے کے ایک کردار سے باتیں کر رہی ہوں۔ خدیجہ نے نہ صرف اپنے سینے کے زخموں کو سی لیا ہے بلکہ وہ اپنی جیسی ہزاروں ماؤں، بیویوں اور بہنوں کو بھی ہمت اور حوصلے کا درس دے رہی ہیں جو سربرینیتسا کے قتل عام میں لاپتہ ہونے والے اپنے پیاروں کی لاشیں تلاش کر رہی ہیں۔ ان سے میری ملاقات لاپتہ افراد کی عالمی تنظیم انٹرنیشنل کمیشن فارمسنگ پرسنز کی سالانہ کانفرنس پر ہوئی جہاں خدیجہ سربرینیتسا کی ماؤں کی تنظیم کی صدر ہونے کی حیثیت سے ان کی نمائندگی کر رہی تھیں۔ اپنا تعارف کراتے ہوئے انہوں نے کہا ’میری زندگی کا یہ دور میرے لیے بہوویں بیاہ کے لانے اور پوتے پوتیوں کو گود کھلانے کا تھا لیکن میں اپنے بیٹوں کی ہڈیاں تلاش کر رہی ہوں تاکہ انہیں دفن کر سکوں‘۔ سربرینیتسا مشرقی بوسینا کی سرسبز پہاڑیوں میں گھرا ایک چھوٹا سا شہر ہے جس کی آبادی شہر کے چوک کے قریب کی چند گلیوں کے علاوہ پہاڑی ڈھلانوں پر بکھرے گھروں پر مشتمل ہے۔ خدیجہ وہیں پیدا ہوئی تھیں۔ وہیں ان کی شادی عبداللہ مہمیتووچ کے ساتھ ہوئی اور وہیں ان کے دو بیٹے ازمیر اور المیر پیدا ہوئے۔ المیر کو وہ پیار سے ’لالو‘ کہتی ہیں۔ سربرینیتسا اور آس پاس کی آٹھ دوسری میونسپیلٹیوں میں مسلمانوں کی بھاری اکثریت تھی لیکن خاصی تعداد میں سرب اور کروشیائی بھی آباد تھے۔ جنگ سے قبل بوسنیا کے باقی علاقوں کی طرح وہاں بھی کبھی کسی نے نسل اور مذہب پر دھیان نہیں دیا تھا۔
خدیجہ کہتی ہیں: ’کبھی ہم نے یہ سوچا بھی نہیں تھا کہ کس کا نام سربوں والا ہے اور کس کا مسلمانوں والا۔ صرف ناموں ہی کا تو فرق تھا ورنہ رہن سہن اور رسم و رواج میں تو ذرا سا بھی فرق نہیں تھا۔ کرسمس آتا تو ہم سب لوگ مل جل کر مناتے۔ مسلمانوں کے بیرام (عید) کے موقع پر اپنے ہمسایوں کو اپنی تقریب اور خوشی میں شامل کرتے۔ پتہ ہی نہ چلا کہ نفرت کا بیج کب بویا گیا‘۔ لیکن خدیجہ کے مطابق یہ تبدیلی اپنے آپ نہیں آئی۔ یہ تفرقہ جان بوجھ کر سربیہ کے صدر سلابودن ملاسووچ اور رادووان کرازچ کے آدمیوں نے ڈالا البتہ بوسنیائی مسلمانوں کو وقت پر اندازہ نہیں ہوا۔ خدیجہ بتاتی ہیں کہ اس تبدیلی کے نتائج سب سے پہلے سلووینیا اور کروشیا میں سامنے آئے۔ وہ کہتی ہیں ’یہ انیس سو اکیانوے اور انیس سو بانوے کی بات ہے کہ میں ٹیلیویژن پر وُوکاوار میں پناہ گزینوں کے بارے میں رپورٹیں دیکھ رہی تھی۔ لوگ بے سرو سامانی کے عالم میں اپنے کمبل اٹھائے جارہے تھے۔ عورتیں اور بچے رو رہے تھے۔ ان کی بیچارگی دیکھ کر میں بھی رو پڑی، میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ بوسنیا میں کبھی ایسا ہو سکتا ہے‘۔ بوسنیا میں نہ صرف یہ سب کچھ ہوا بلکہ وہ علاقہ جسے اقوام متحدہ نے محفوظ علاقہ قرار دیا تھا وہاں اقوام متحدہ کے دستوں کی موجودگی میں یہ ہری بھری خوبصورت وادی نسلی تطہیر کی علامت بن گئی۔ سرب دستوں نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر ناکہ بندی کر دی اور گھیرا آہستہ آہستہ تنگ کرنا شروع کیا۔ بوسنیا کے عوام کی یہ سادگی تھی کہ وہ کچھ سمجھ نہ پائے۔ ’سرب اپنا سازو سامان، بھیڑ بکریاں سب کچھ لے کر مسلمان علاقوں سے نکل رہے تھے اور ہمیں تب بھی اندازہ نہ ہوا کہ سرب فوجیں کیا منصوبے بنا رہی ہیں‘۔ خدیجہ نے ٹھنڈی سانس لی۔ تھوڑی دیر تک وہ اپنے خیالات میں کھوئی رہیں۔ پھر آہستہ آہستہ تاسف سے اپنا سر ہلاتے ہوئے بولیں ’کاش اس وقت کسی نے مجھ سے کہا ہوتا تو میں اپنے بچوں کو لے کر یہاں سے چلی جاتی۔ اگر وہ مجھ پر ظلم بھی ڈھاتے اور زبردستی وہاں سے نکال دیتے تو بھی آج انہیں میں اپنے دوست سمجھتی‘۔ یہ وہ زمانہ تھا جب بوسنیا کے شمالی اور مشرقی شہروں اور قصبوں میں نسلی تطہیر کا عمل جاری تھا جنہیں سرب رہنما سربیا میں شامل کر کے ایک وسیع اور عظیم سربیا بنانا چاہتے تھے۔ ’میں وہ منظر کبھی نہیں بھول سکتی جو میں نے دریائے درنیہ کے پاس دیکھا۔ میں زوورنک جار رہی تھی۔ میں نے دیکھا کہ وہاں بے شمار لاشیں بکھری پڑی ہیں اور کچھ لوگ انہیں ٹرکوں پر لاد رہے ہیں۔ لادنے والے سرب تھے۔‘
خدیجہ ایک تاریخ دان کی طرح واقعات کی تفصیلات بتارہی تھیں اور مجھے سوال پوچھنے کے لئے مناسب الفاظ نہیں مل رہے تھے۔ اور خدیجہ؟ خدیجہ تو میرے جیسے درجنوں صحافیوں کو بارہا اپنی کہانی سنُا چکی تھیں۔ میں نے سوچا انہوں نے دل کو پتھر بنا لیا ہے اور ان کے آنسو کب کے خشک ہو چکے ہیں۔ لیکن نہیں! وہ لمحہ بھی آ گیا جب ان کے ہمت و حوصلے کا ذخیرہ ختم ہو گیا۔ ’اور پھر‘، ایک لمبا سانس لے کر انہوں نے اس سوال کا جواب شروع کیا جسے پوچھنے کی مجھ میں ہمت نہیں تھی،’تمہیں یاد ہوگا کہ سرے برنیتسا کے آس پاس اقوامِ متحدہ کی ڈچ فوج کے دستے تعینات تھے۔انہوں نے ہمیں کہا کہ ہمیں وہاں سے نکلنا ہوگا لیکن فکر کی کوئی بات نہیں ہم سب کو آزاد علاقے میں پہنچا دیا جائیگا۔ ہم سے کہا گیا کہ جو لوگ پیدل جنگل کے راستے نکل سکتے ہیں وہ ادھر چلے جائیں اور عورتوں اور بیمار لوگوں کو بسوں کے ذریعے پہنچا دیا جائےگا۔ ’مجھے صرف یہ پریشانی تھی کہ میرے بچے بہت تھک جائیں گے۔ مجھے تو اس وقت بھی یہ خطرہ نہیں تھا کہ کچھ اور ہوجائےگا۔ ’وہ گیارہ جولائی انیس سو پچانوے، منگل کا دن تھا جب ہم نے اپنا گھر چھوڑا۔ ہم لوگ جنگل کے راستے چل دیے تو میرے بڑے بیٹے نے جو اس وقت اکیس برس کا تھا مجھے کہا کہ دوسری عورتوں کو مت دیکھو کہ وہ کیا کرتی ہیں تم بس میرے ساتھ ہی رہو۔
’یہ وہ جگہ تھی جہاں سرب فوجی عورتوں اور مردوں کو الگ کر رہے تھے۔ عورتیں ایک طرف اور مرد دوسری طرف۔ عورتوں کو قریب ہی پوتو چیری میں بسوں پہ بٹھایا جارہا تھا۔ ’میرے لئے اپنے شوہر اور بیٹوں کو خدا حافظ کہنا بہت مشکل ہورہا تھا۔ میرا شوہر خاموش کھڑا تھا اور ’لالو‘ مجھ سے لپٹا ہوا تھا۔ وہ مجھے خدا حافظ بھی کہہ رہا تھا اور ساتھ ہی ساتھ اپنے بازوؤں میں مجھے اور سختی سے جکڑ رہا تھا۔‘ خدیجہ مہمیتوچ جو اب تک مجھے پہاڑی قبائلیوں کی طرح مضبوط ڈھانچے اور تراشے ہوئے نقوش کی ایک بہادر خاتون لگ رہی تھیں آہستہ آہستہ لرزنے لگیں اور ان کا غمزدہ چہرہ آنسوؤں سے تر ہو گیا اور آواز ڈوب گئی۔ ’لالو میرا بیٹا جس کے ہاتھ مجھے اب تک اپنی کمر کے گرد لپٹے محسوس ہوتے ہیں۔ جب میں نے اسے خدا حافظ کہا تو اس نے ہاتھ اپنی آنکھوں پر رکھ لئے اور مجھے کہنے لگا کہ ماں بس اب چلی جاؤ۔ میں نہیں دیکھنا چاہتا کہ تم کہاں جارہی ہو۔‘ ’وہ آخری بار تھی جب میں نے اپنے شوہر اور بیٹوں کو دیکھا تھا۔‘
میری مترجم کی آواز بھی بھرا گئی اور میں تو پہلے ہی اپنے آنسوؤں کو مشکل سے روکے ہوئے تھی۔ پوتو چیری میں خدیجہ کے دو بھائی اور ان کی بہن کے دو بیٹے بھی لاپتہ ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ صرف وہی نہیں ایسی ہزاروں عورتیں ہیں جن کے ساتھ یہی بیتی۔ بارہ اور اٹھارہ جولائی کے درمیان سرب فوجوں اور ملیشیا نے سرے برنیتسا کے آٹھ ہزار مردوں اور لڑکوں کو قریبی فیکٹری کے گودام، اسکول کی عمارت اور پوتو چیری کے کھیتوں میں مشین گنوں اور گرنیڈوں سے ہلاک کیا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ میں قتل عام کا یہ بدترین واقعہ ہے۔ خدیجہ نے سڑک کی دوسری جانب ایک فیکٹری کی عمارتوں اور اس سے پیچھے کھلے میدان کو دیکھتے ہوئے کہا: ’خدا جانے وہ کہاں ہیں۔ کتنی بار سربوں نے اجتماعی قبریں بدلی تھیں۔ ایک ہی لاش کی ایک ہڈی کسی ایک گڑھے سے ملتی ہے تو دوسری کسی اور سے۔‘ خدیجہ کا گھر سرے برنیتسا شہر کے نواحی علاقے میں بکھرے ہوئے ایک محلے میں ہے۔ جنگ کی توڑ پھوڑ اور کئی برسوں کی بربادی کے بعد جو ڈھانچہ باقی تھا اسے یورپی یونین کی امدادی تنظیموں نے مرمت کے بعد رہائش کے قابل بنادیا ہے۔ کئی گھنٹے کے سفر کے بعد جب ہم گھر پہنچے تو ایک سوال جو بہت دیر سے میرے ذہن میں تھا بالآخر میں نے پوچھ ہی لیا۔ یہ گھر جو آپ نے اپنے بیٹوں اور شوہر کے ساتھ چھوڑا تھا اور جس کے ساتھ اتنی تکلیف دہ یادیں وابستہ ہیں وہاں واپس آ کر اکیلے رہنے کا حوصلہ آپ نے کیسے پیدا کیا؟ ’نہیں‘ انہوں نے نہایت وثوق سے کہا۔ ’تکلیف دہ یادیں تو ان کھیتوں اور جنگل سے وابستہ ہیں جہاں وہ ہمیشہ کے لیے مجھ سے بچھڑ گئے۔ یہاں تو مجھے ان کے ہنسنے کھیلنے کی آوازیں آتی ہیں۔ باہر سڑک پر مجھے اپنا ’لالو‘ بھاگتا دوڑتا نظر آتا ہے۔ یہ دیکھو اس لکڑی کی پٹی کو لالو گھوڑا بنا کر کھیلا کرتا تھا اور یہ جو چھوٹا سا درخت ہے گھر کے سامنے یہ اسی نے لگایا تھا۔ میں اسے سینچ رہی ہوں۔ اس کی جڑیں مضبوط ہورہی ہیں اور ایک دن اس پر پھول آئیں گے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||