BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 19 September, 2003, 15:39 GMT 19:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نفرتوں کا آتش فشاں پھٹ پڑا

موستار کی ایک گلی
صدیوں سے مختلف برادریاں اکٹھی رہتی آئی ہیں

ساراژیوو میں ’ستاری گراد‘ یعنی پرانے شہر میں باشچرشیہ کی چھوٹی چھوٹی پتھروں سے بنی سڑکیں اور قدیم پتھروں کی عمارتیں، دکانوں میں ترکی کے قالین میناکاری والے پیتل اور تانبے کے گلدان اور چھوٹے چھوٹے سجاوٹی تھال اور اسی قسم کی دستکاری والی لکڑی کی دوسری اشیاء ایک ایسا ماحول پیدا کرتی ہیں جو قاہرہ، استبول اور مسلمانوں کے ایسے بہت سے تاریخی شہروں کی یاد دلاتا ہے۔

لیکن اسی باشچرشیہ کے بیچوں بیچ جہاں سولہویں صدی کی غازی خسریوبے کی قدیم مسجد ہے، وہیں موڑ مڑتے ہی یہودیوں کا سِناگاگ بھی ہے جو اسی دور میں تعمیر ہوا اور ایک سڑک چھوڑ کر رومن کیتھولک کیتھیڈرل اور ساتھ ہی سربوں کا آرتھوڈاکس گرجا گھر بھی۔ یہ دونوں انیسویں صدی کی عمارتیں ہیں۔ سادہ لیکن باوقار اور خوبصورت۔

انہیں دیکھ کر خیال آتا ہے کہ خطۂ بلقان کی یہ مختلف برادریاں جنہوں نے پچھلی دہائی میں انسانی وحشت کی نئی مثالیں قائم کردیں اور جو اب بھی ایک دوسرے سے خائف اور شاکی ہیں ہمیشہ سے تو ایک دوسرے کے خون کی پیاسی نہیں تھیں۔ حالیہ جنگ کے دوران سربوں نے جہاں جہاں انہیں موقعہ ملا مسجدوں کی بنیادیں تک کھود دیں اور موستار کی ہر مسجد کے مینار اور گنبد کو اپنے راکٹوں کا نشانہ بنایا۔ اگر وہ ہمیشہ سے ہی اس قدر اسلام دشمن تھے تو اپنی عبادت گاہ انہوں نے مسجد کے سائے میں کیوں بنائی۔

لوگوں کا کہنا ہے کہ اس نفرت کی جڑیں سلطنت عثمانیہ کے دور تک جاتی ہیں جب سربوں کے قومی تشخص کو اس سلطنت کے ہاتھوں پہلی زد لگی اور کچھ جدید تاریخ دان اسے ٹیٹو کے زمانے میں کمیونزم کے نظام کے جبر کا نتیجہ قرار دیتے ہیں جب طاقت کے ذریعے مذہبی اور قومی جذبات کو کچل دیا گیا تھا۔ وجہ کچھ بھی ہو یوگوسلاویہ کا شیرازہ ٹیٹو کے بعد سے بکھرنا شروع ہوا۔ اگرچہ ابتدائی دس برسوں میں ملک بظاہر اتفاقِ رائے سے چلتا رہا جس میں تمام ریاستوں کے منتخب شدہ صدور کی کمیٹی کاروبار حکومت کی ذمہ دار تھی اور باری باری ہر ریاست کا صدر ملک کے سربراہ کے فرائض انجام دیتا رہا۔

اس زمانے میں یوں تو کمیونسٹ رہنماؤں کو کئی اختیارات حاصل تھے لیکن درحقیقت سرب تیزی سے ملک پر حاوی ہو رہے تھے۔ اہم عہدے اور خاص طور پر فوجی افسروں کی بھاری اکثریت سربوں کی تھی۔ حالات نے سنگین صورت اس وقت اختیار کی جب سرب صدر سلوبودان ملاسووچ نے تیزی سے سرب ایجنڈے پر عمل درآمد شروع کیا۔

دریائے مِلیجسکا
ٹیٹو کا دور ختم ہوتے ہی روادری کے پل ٹوٹ گئے

یہ وہی زمانہ تھا جب سابق سوویت یونین میں گورباچوف سربراہ مملکت تھے اور یہ واضع تھا کہ کمیونزم آخری دموں پر ہے۔ چند سال قبل ہیگ میں جنگی جرائم کی عدالت میں ججوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے پروفیسر پال گراد نے، جو سلاو ادب اور زبانوں کے ماہر ہیں، بتایا کہ کمیونزم نظام کے کمزور ہونے سے ملاسووچ نے خوب فائدہ اٹھایا اور سرب قوم پرستی کو کھلم کھلا ہوا دینا شروع کی۔

سرب ایجنڈے کا مقصد ایک ’عظیم سربیہ‘ کا قیام تھا۔

ملاسووچ کے ان ارادوں کا پہلا نشانہ کوسوو تھا جہاں ترکوں نے تیرہ سو نواسی میں سربوں کو شکست دی تھی۔ چنانچہ انہوں نے انیس سو نواسی میں کوسوو سے نمٹنے کا فیصلہ کیا جہاں نوے فیصد آبادی البانوی مسلمانوں کی تھی۔

اِس سال کے آغاز میں مجھے کوسوو جانے کا اتفاق ہوا۔ اور یہ دیکھنا مشکل نہیں تھا کہ البانوی لوگ سربوں کے سامنے سر اٹھانے کے بالکل قابل نہیں تھے۔ کجا یہ کہ وہ ملاسووچ کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرتے۔ چنانچہ سرب پارلیمنٹ نے یکطرفہ فیصلے میں کوسوو اور ایک دوسری چھوٹی ریاست وائے ووْدنہ کی خودمختار حیثیت ختم کر کے اپنی نگرانی میں لینے کا اعلان کردیا اور البانوی نژاد آبادی کی مخالفت کو اپنی فوجی طاقت سے سختی سے کچل دیا۔

سلوبودان ملاسووچ نے سلووینیا اور اسی طرح کی خوشحال ریاست کروشیا کو زیر کرنے کے لیے مختلف حکمت عملی استعمال کی۔ انہوں نے ان دونوں ریاستوں سے مطالبہ کیا کہ وہ وفاقی خزانے کے لیے زیادہ رقوم ادا کریں۔

انہی دنوں کروشیائی صدر کی ملک کے سربراہ کی حیثیت سے اختیارات سنبھالنے کی باری تھی لیکن ملاسووچ نے مختلف صدور کا نظام ختم کرکے ایک ’مضبوط ہاتھ‘ میں قیادت کی باتیں شروع کیں اور کروشیائی صدر کی تقرری میں رکاوٹیں ڈالنا شروع کردیں۔ سلووینیا کی پارلیمنٹ پہلے ہی خودمختاری کا فیصلہ کرچکی تھی۔ اب کروشیا نے بھی اس سوال پر استصواب رائے کرایا اور دونوں ریاستوں نے جون انیس سو اکیانوے میں خود مختاری کا اعلان کردیا۔

یوگوسلاویہ کے ٹوٹتے ہی قتل و غارت کا بازار گرم ہو گیا
بلقان کی جنگ میں لاکھوں افراد دربدر ہوئے

ساراژیوو میں میری ملاقات ایک کروشیائی صحافی یاسمینہ سے ہوئی جو باشچرشیہ کی گلیوں میں گھومنے کے لیے بے قرار تھیں۔ ایک ریستوران میں بیٹھے وہ مسلسل چاروں طرف دیکھ رہی تھیں اور آہستہ آہستہ ٹھنڈے سانس لے رہی تھیں۔ ’میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ کبھی ہم پر یہ وقت بھی آئے گا کہ میں ساراژیوو چھٹیوں کے لیے نہ آسکوں۔‘

یہی بات میں کچھ دوسرے کروشیائی ساتھیوں سے بھی سن چکی تھی۔ میں نے یاسمینہ سے پوچھا کہ کیا واقعی کمیونزم کے دور میں لوگ نفرتوں کا لاوا چھپائے بیٹھے تھے جو اس کے خاتمے پر ابل کر باہر آگیا؟ ان کا کہنا تھا اور یہ بات خطۂ بلقان کی صورت حال کا تجزیہ کرنے والے سبھی لوگ کہتے ہیں کہ ’یہ موضوع بہت ہی گنجلک ہے لیکن اگر ایک عنصر تلاش کیا جائے تو ایمانداری کے ساتھ یہ کہنا پڑے گا کہ اس میں ملاسووچ اور سرب قوم پرستوں کی ہوس کا بہت بڑا دخل تھا اور ہمارے اس وقت کے راہنما ’تج مین‘ نے بھی دانشمندی سے کام نہیں لیا۔ اگر انہوں نے شروع ہی میں مسلمانوں کا ساتھ دیا ہوتا تو اتنا خون خرابہ نہ ہوتا اور ملاسووچ کو شاید روکا جاسکتا تھا۔‘

یاسمینہ کہنے لگیں کہ انہیں سب سے زیادہ افسوس بوسنیائیوں کے لیے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’صرف مسلمان سیاسی پارٹیاں جو انیس سو نوے کے پہلے آزادانہ انتخابات میں کمیونسٹوں کے مقابلے میں ابھر کر سامنے آئیں، ایک متحدہ یوگوسلاویہ برقرار رکھنے کے حق میں تھیں۔ اس وقت سوائے غریب کوسوو کے ان کے ساتھ کسی نے آواز نہیں ملائی اور سب سے برا حشر ان دونوں کا ہوا ہے۔‘

اپریل انیس سو بانوے میں استصواب رائے کے بعد بوسنیاہرزِگووینا نے بھی خودمختاری کا اعلان کیا جو امریکہ اور مغربی دنیا نے تسلیم کرلیا۔ لیکن چونکہ انیس سو اکیانوے میں یوگوسلاویہ کی بگڑتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر اقوام متحدہ نے اسے اسلحہ مہیا کرنے پر پابندی عائد کردی تھی چنانچہ آزاد بوسنیا کے پاس اپنی فوج کو مسلح کرنے کے راستے بند ہوچکے تھے، جبکہ سربیہ وفاقی فوج کے تمام تر اسلحے پر قابض ہوچکا تھا۔

ٹیٹو کے زمانے میں یوگوسلاویہ کی فوج یورپ میں چوتھے نمبر پر طاقتور ترین فوج تھی اور وہ سارے ہتھیار اب سربیہ کے پاس تھے، جبکہ بوسنیائی فوج تقریباً نہتی تھی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد