BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 19 September, 2003, 17:17 GMT 21:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آج کا بوسنیا ہرزِگووینا

بانیا لوکا
بانیا لوکا کی پارلیمان کا اجلاس

بوسنیا ہرزِگووینا کے حالات مستقبل میں کیا رخ اختیار کریں گے اس کے بارے میں تو بوسنیا کی برادریاں یعنی مسلمان جو بوسنیئک کہلاتے ہیں، کروشیائی اور سرب تینوں ہی کچھ کہنے پر تیار نہیں لیکن ایک جواب بارہا سننے میں آیا کہ ’آپ کل کا پوچھتی ہیں؟ ہمیں تو آج کا پتہ نہیں کہ ملک میں کیا ہورہا ہے اور ’آپ کے پیڈی ایش ڈاؤن‘ کیا حکم نامہ جاری کرنے والے ہیں۔

’ہمارے‘ یعنی لندن سے آنے والوں کے پیڈی ایش ڈاؤن سرکردہ برطانوی سیاستدان اور یہاں کی لبرل پارٹی کے سابق سربراہ ہیں جنہیں یورپی یونین نے بوسنیا ہرزِگووینا میں ’ہائر ریپرزینٹیٹو‘ (او ایچ آر) یعنی نمائندہ اعلیٰ مقرر کررکھا ہے۔

آج کل ملک میں بیروزگاری اور مالی مشکلات سے لے کر بیرونی کمپنیوں کے مقامی کاروبار خریدنے کی کوشش اور موسیقاروں اور دوسرے فنکاروں کی بے مائیگی یہاں تک کہ مقامی فٹ بال ٹیم کی شکست کا الزام بھی او ایچ آر کے دفتر کے سر تھوپ دیا جاتا ہے۔

لیکن یہ کوئی سوچنے کے لیے تیار نہیں کہ اگر آج یورپی یونین کی تعینات کردہ انتظامیہ اور سڑکوں، بازاروں میں مختلف یورپی ملکوں کی فوجی وردیاں پہنے گشت کرنے والے نیٹو کے فوجی واپس بھیج دیئے جائیں تو ملک کی باگ دوڑ کون سنبھالے گا۔ اور کیا اب بھی یہ تینوں برادریاں مل بیٹھنے پر تیار ہیں۔

اس سوال کا جواب مختلف علاقوں میں مختلف ہے۔ اور ہاں علاقے اب بھی بٹے ہوئے ہیں اگرچہ باری باری کے نظام کے تحت آج کل ملک کے صدر بوری سلاؤ پارا ویج ایک سرب ہیں اور وزیر اعظم عدنان ترزیح ہیں یعنی ایک بوسنیئک۔

ساراژیوو کا ایک قصائی
ساراژیوو کا قصائی جس نے ڈیٹن امن معاہدے پر اپنی دکان کا نام ڈیٹن رکھا

ملک کے شمال مشرق اور جنوب میں سرحد کے ساتھ کی پٹی جو کل رقبے کا انچاس فیص بنتا ہے ریپبلکا سربسکا ہے جو سربوں کا علاقہ ہے۔ آبادی کے لحاظ سے سرب برادری تینتیس فیصد ہیں۔ باقی کا اکیاون فیصد رقبہ بوسنیا ہرزِگووینا کہلاتا ہے۔ جس میں کروشیائی اور مسلمان حصہ دار ہیں۔ مسلمانوں کی تعداد کل آبادی کا چوالیس فیصد اور کروشیائی سترہ فیصد ہیں۔ ملک کی کل آبادی چالیس لاکھ سے ذرا کم ہے۔ مختلف اندازوں کے مطابق پانچ سالہ جنگ میں دو لاکھ افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں بہت بھاری اکثریت مسلمانوں کی تھی۔

انیس سو چورانوے میں پہلی بار میرا بوسنیا جانا ہوا تو جنگ ابھی چل رہی تھی اور میری ملاقات زیادہ تر بوسنیائی مسلمانوں سے ہوئی جن میں زیادہ تر نے یہ تاثر دیا کہ یہ جنگ ملاسووچ اور رادووان کرازدچ جیسے چند سیاست دانوں کے جارحانہ رویہ کا نتیجہ ہے اور یہ کہ عام کروشیائی اور سرب اب بھی مل جل کر رہنے کے خواہشمند ہیں۔

کیا سب مل کر رہ سکتے ہیں؟

 یہ شادی زبردستی کی ہے

سرب صحافی واسیچ

اس ملک میں جہاں ایک تہائی شادیاں دوسری نسل کے لوگوں کے درمیان ہوتی ہوں وہاں یہ بات بالکل باعث تعجب نہیں تھی۔ لیکن اس بار جب میں ریپبلکہ سربسکا گئی اور جنوبی صوبے ہرزِگووینا کے کروشیائی علاقے میں چند روز رہنے کا اتفاق ہوا تو موسم کچھ بدلہ ہوا نظر آیا۔ اس سوال کے جواب میں کہ کیا تینوں برادریاں مل کر رہ سکتی ہیں؟ بوسنیائی مسلمانوں میں اکثریت اب بھی یہی کہتی ہے کہ آہستہ آہستہ جنگ کے زخم مندمل ہوجائیں گے اور ماضی کا بھائی چارہ لوٹ آئے گا۔

البتہ موستار میں مفتی ہرزِگووینا سعید سمائیکچ اس بارمے میں زیادہ پر امید نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یورپ میں اسلام سے لوگ خائف ہیں اور سربیائی پانچ سو سال تک مسلمانوں کے محکوم رہے ہیں جسے وہ معاف کرنے کے لیے تیار نہیں اور انہیں جب بھی موقعہ ملے گا وہ زک پہنچانے کی کوشش کریں گے۔

یورپی اتحاد کی نگراں انتظامیہ کو بھی وہ بوسنیائی مستقبل کے لیے خوش آئند نہیں سمجھتے۔ مفتی سمائیکچ کہتے ہیں فی الحال انہیں یورپی اتحاد کے تحفظ کے بغیر بوسنیا کا بقا خطرے میں نظر آتا ہے۔ ان کے خیالات مجھے نہایت مایوس کن تو لگے لیکن یہ کسی حد تک میرے ان تاثرات کی تصدیق بھی کرتے تھے جو چند ہفتے قبل سرب علاقے ریپبلکا سربسکا کے دارالحکومت بانیا لوکا سے میں لے کر لوٹی تھی۔

وہاں میں نے ایک سرب صحافی واسیچ پاپووچ سے پوچھا کہ کیا تمہارے خیال میں سرب اور بوسنیائی ایک دوسرے کو معاف کر دیں گے اور مل جل کر رہ سکیں گے۔ یہ جانتے ہوئے کہ میں بھی مسلمان ہوں اس نے اپنے خیالات کا اظہار نہایت محتاط الفاظ میں کیا جس کا لب لباب یہ ہے کہ ریپلکہ سربسکا کسی طور پر بھی بوسنیا کا حصہ نہیں ہے۔ بوسنیئک اپنی حدود میں حکمران ہیں اور ہم اپنی حدود میں خود مختار۔ یہاں تک تو معاملہ ٹھیک ہے۔ اس سے آگے کچھ کہنا مشکل ہے۔

واسیچ کا کہنا تھا کہ ’یہ شادی زبردستی کی ہے۔‘ کچھ اسی قسم کا ردعمل موستار کے قریب ہی ایک چھوٹے سے کروشیائی شہر شروکی پری ایگ میں دیکھنے میں آیا۔ جہاں میری ملاقات بڑی تعداد میں کروشیائی نژاد صحافیوں سے ہوئی۔ وہ سب کھلم کھلم کہہ رہے تھے کہ نہ تو وہ بوسنیائی مسلمانوں کے ساتھ ملکر رہنا چاہتے ہیں اور نہ ہی مستقبل میں ان دونوں برادریوں کے درمیان جنگ سے پہلے والے تعلقات بحال ہونے کی کوئی امید ہے۔

کروشیائی اور سربیائی نژاد لوگوں کا یہ ردِعمل پچھلی دہائی کے واقعات سمجھنے کے لئے ایک اچھی مثال ہے۔

سریبرنتزا میں اجتماعی طور پر ہلاک کیے جانے والوں کی لاشیں
ملک کا ٹوٹنا تھا کہ بھائی چارے کا شیرازہ بکھر گیا

نوے کی دہائی میں جب سابق یوگوسلاویہ کی تمام ریاستیں الگ ہو چکی تھیں بوسنیا کے اندر سرب اور کروشیائی قوم پرست تنظیمیں نہایت فعال تھیں جنہوں نے کروشیائی اور سربیائی حکومتوں کی شہ پر بوسنیا سے علیحدگی کی مہم شروع کی۔ جن میں ملک کے مشرقی علاقے میں سرب رہنما رادوان کرازچ نے خاص طور پر نمایاں کردار ادا کیا اور ان علاقوں سے مسلمانوں کو نکالنے کے لئے ہر قسم کا ہتھکنڈا استعمال کیا جنہیں وہ سرب علاقہ قرار دیتے تھے۔

انیس سو بانوے سے لیکر انیس سو پچانوے تک بوسنیا میں قتل و غارت گری کا بازار گرم رہا جس میں لاکھوں افراد ہلاک اور اس سے بھی کہیں بڑی تعداد میں بے گھر ہوئے۔ اس جنگ کا سب سے زیادہ غیر منصفانہ پہلو یہ تھا کہ اسلحے پر جو پابندی سابق یوگوسلاویہ پر عائد کی گئی تھی عملی طور پر اس کے اثرات و نتائج صرف بوسنیا کو بھگتنے پڑے کیوں کہ سربوں کے پاس فیڈریشن کا تمام تر اسلحہ پہلے ہی موجود تھا اور کروشیا کے ساتھ جنگ عظیم کے دوران نازی جرمنی کے گہرے تعلقات ہونے کی بنا پر جرمنی اب بھی کروشیا کو خفیہ طور پر اسلحہ مہیا کررہا تھا۔

بوسنیا کی فوج کے پاس بہت تھوڑی تعداد میں اکا دکا مسلمان ملکوں سے خفیہ طور پر اسلحہ حاصل کرنے کے علاوہ اپنے دفاع کے لیے اور کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ اس صورت حال میں امریکہ فوجی مداخلت کے ذریعے سربیہ کو روکنے کے حق میں تھا جبکہ یورپی ممالک اس کے مخالف تھے۔

بالآخر امریکی مصالحت سے ڈیٹن سمجھوتہ ہوا جس پر چودہ دسمبر انیس سو پچانوے میں سلوبودان ملاسووچ، فرانیے تْج مین اور بوسنیائی رہنما علیا عزت بیگووچ نے پیرس میں دستخط کیے۔ اس سے جنگ کا خاتمہ ہوا اور نئے بوسنیا نے جنم لیا۔ اب یہ تینوں رہنما سیاسی اسٹیج سے غائب ہوچکے ہیں۔ فرانیے تْج مین کا انیس سو ننانوے میں انتقال ہوگیا، علیا عزت بیگووچ دو ہزار ایک میں اپنے عہدے سے دستبردار ہوئے اور دو ہزار دو میں نہایت ڈرامائی حالات میں سلوبودان ملاسووچ کو گرفتار کر کے ہیگ میں جنگی جرائم کی عدالت کے حوالے کیا گیا۔ لیکن بوسنیائی سربوں کے رہنما رادووان کرازدچ جو بوسنیا میں سربیائی ایجنڈے پر عمل درآمد اور نسلی تطہیر کے گھناؤنے جرائم کے ذمہ دار تھے اب ریپبلکہ سربسکا میں مقامی سربوں کے تحفظ میں روپوش ہیں۔

بوسنیا دو ہزار نو تک یورپی اتحاد کی رکنیت کا امیدوار ہے لیکن اس کے تباہ شدہ ڈھانچے، خستہ حال معیشت اور زخمی روح کو صحتیاب ہونے کے لیے یوں لگتا ہے کہ صدیاں لگ جائیں گی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد