BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 18 September, 2003, 17:00 GMT 21:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تاریخ خود کو دہراتی ہے

موستار شہر
موستار شہر کی قدیم گلیاں

بلقان ترکی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں پہاڑیاں۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ سر سبز و شاداب پہاڑیوں والے اس علاقے کو یہ نام ترکوں کی آمد سے پہلے دیا گیا یا بعد میں، لیکن یہ بات وا ضع ہے کہ یہ علاقہ ترک ورا ثت کا حصہ ہے۔

حضرت عیسیٰ کی پیدائش کے وقت یہ علاقہ سلطنت روم کا حصہ تھا اور اس عظیم سلطنت کے زوال تک روم ہی کا حصہ رہا۔ ساتویں صدی عیسوی میں یہاں سلاوِک قوم آباد تھی۔

چودھویں صدی میں ترک فوجوں نے خطۂ بلقان پر حکمران ہنگری کے بادشاہ کو شکست دی اور سن چودہ سو تریسٹھ میں بوسنیا سلطنت عثمانیہ میں شامل ہوا اور یہاں اِسلامی دور کا آغاز ہوا۔

اس دوران مدرسے، یونیورسٹیاں اور علم و ادب کے دوسرے مراکز قائم ہوئے، لائبریریاں اور یتیم خانے بنے، شاندار مسجدیں اور ترک اندازِ تعمیر کی عالیشان عمارتیں تعمیر ہوئیں۔ پل اور سڑکیں بنیں اور صنعت وحرفت کو فروغ مِلا۔

ترکوں نے مذہبی اقلیتوں کو جہاں تحفظ دیا اور رواداری کا مظاہرہ کیا وہاں ان سے زیادہ ٹیکس بھی طلب کئے اور بڑی حد تک انہیں سرکاری عہدوں سے محروم رکھا۔ کچھ تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ سربوں کی اسلام دشمنی کی بنیادیں غالباً اس دور کی محرومیوں پر رکھی گئی تھیں۔

انیسویں صدی میں سلطنت عثمانیہ کا زوال شروع ہوا اور اٹھارہ سو اٹھہتر میں خطۂ بلقان میں ترک حکومت کا خاتمہ ہوا۔

موستار شہر
قدرتی خوبصورتی اور ’انسانی درندگی‘ اس خطے کی قسمت ہے

انیسویں صدی کے آخری حصے میں بوسنیا ہرزِگووینا، آسٹرو ہنگری کی ہیپس برگ بادشاہت کا حصہ بنا جبکہ سربیا، مونٹے نیگرو اور بلغاریہ کو خود مختار قرار دیا گیا۔ اِس دور میں بوسنیا میں ایک بار پھر ترقی کی لہر آئی۔ ریلوے کا نظام قائم ہوا، آسٹروی طرز تعمیر میں نئ شاندار عمارتیں بنیں جو اب بھی سلطنت عثمانیہ کے دور کی عمارتوں کے ساتھ مل کر علاقے کے ثقافتی ورثےمیں قیمتی اضافہ کرتی ہیں۔

یہی وہ دور تھا جب روس کی پشت پناہی میں سربیا کی آرتھوڈاکس مسیحی برادری نےعظیم سربیا کا خواب دیکھنا شروع کیا اور نہ صرف بوسنیا میں، بلکہ جنوبی سلاو علاقے جس میں کروشیا اور سلووینیہ شامل تھے، ہیپس برگ بادشاہت کے خاتمے کے منصوبے بنانے شروع ہو گئے۔

تاریخ کی کتابوں میں اس المیے کا ذکر نمایاں طور پر نہیں ہوا کہ پہلی جنگ عظیم کا آغاز سن انیس سو چودہ کے موسم گرما میں سارا ژیوومیں ایک سرب قوم پرست نوجوان کے ہاتھوں آسٹریا کے ولیعہد آرچ ڈیوک فراتز فرڈیننڈ کے قتل سے ہوا تھا۔ چار سال بعد جب عالمی جنگ ختم ہوئی تو سربوں کا خواب پورا ہوا اور جنوبی سلاویہ کی ریاستیں جن میں سرب، کروشیائی اورسلووینیائی قومیں آباد تھیں، سرب بادشاہ کے قبضے میں آئیں اور اسے یوگوسلاویہ کا نام دیا گیا۔

سربوں کی یہ حکومت صرف تئیس سال تک قائم رہی اور دوسری جنگ عظیم کے دوران انیس سو اکتالیس میں ہٹلر کی جرمن فوجوں کے حملے سے ختم ہوئی۔ خطۂ بلقان کے مسلمانوں کے لۓ یہ بہت کڑا وقت تھا جس میں ان کے قو می تشخص کو ختم کرنےکی ہر کوشش کی گئی اور انہیں سرب یا کروشیائی قومیت اپنانے پر مجبور کیا گیا۔

یہی مقصد سربوں کی حالیہ نسلی تطہیر کی مہم کا بھی تھا اور سرب اب بھی یہ جواز پیش کرتے ہیں کہ بوسنیائی قوم کا کوئی وجود نہیں کیونکہ ترکوں سے پہلے یہ سب سرب یا کروشیائی تھےجنہیں ترکوں نے قبول اسلام پر مجبور کیا تھا۔

خوبصورت موستار
پہلی جنگِ عظیم کا آغاز اسی خطے سے ہوا

سن انیس سو اکتالیس اور پینتالیس کے درمیان خطۂ بلقان میں جنگ کا بازار گرم رہا جس میں مختلف دھڑے ایک دوسرے کا صفایا کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ ان میں کروشیائی قوم پرست تحریک اوستاشا اور سربوں کی قوم پرست گوریلا تنظیم چیٹنکس قابل ذکر ہیں جنہوں نے اپنے اپنے علاقے میں نسلی تطہیر کی مہم میں ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ مسلمان دونوں دھڑوں کا نشانہ بنتے رہے۔

اس دوران جوزف ٹیٹو نامی ایک گور یلا رہنما ابھر کر سامنے آیا جس نے کثیر النسلی دستے منظم کیے اور نازیوں کے خلاف مزاحمت شروع کی۔ دوسری جنگ عظیم کے خاتمے پر مارشل ٹیٹو کے دستوں نےاپنی کامیابی کے بعد ہزاروں کی تعداد میں ان کروشیائی اور سلووینیائی فوجیوں کو قتل کیا جو ہتھیار ڈال چکے تھے۔

یوں خطۂ بلقان اور بوسنیا کی تاریخ کے ایک خونی باب کا خاتمہ ہوا اور اگلے پینتیس سال تک یوگوسلاویہ کی کمیونسٹ حکو مت نے اس علاقے کو استحکام دیا جس میں سوویت یونین کے زیر انتظام علاقوں کو نسبتًا آزادی اور مالی خوشحالی میسر رہی۔ کمیونسٹ نظام میں اگر لوگوں کو پوری مذہبی اور سیاسی آزادی نہیں حاصل تھی تاہم بنیادی ضروریات زندگی کا مکمل تحفظ ضرور حاصل تھا۔ موجودہ دور کی مشکلات سے نالاں کچھ لوگ اب بھی ٹیٹو کے دور کو بے فکری کا دور قرار دیتے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد