(COPY)

کیا کوہِ نور اور دیگر تاریخی نوادرات برطانیہ سے واپس لائے جا سکتے ہیں؟

ایک عرصے سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ برطانیہ سے کوہ نور سمیت اربوں ڈالر کے ہندوستانی نوادرات واپس لیے جائیں، کیا یہ مطالبہ پورا ہو سکتا ہے؟

زبیر احمد
نامہ نگار بی بی سی

ٹیپو سلطان کی تلوار اور دیگر نوادرات دو ہفتے قبل لندن میں 147 کروڑ روپے میں نیلام ہوئے تھے۔

برطانیہ میں ہندوستان کے انمول نوادرات کا ایک بہت بڑا خزانہ موجود ہے جس کی واپسی کے لیے انڈین حکومتیں مسلسل کوششیں کرتی رہی ہیں۔

نریندر مودی کی حکومت بھی اسی کوشش میں مصروف رہی ہے۔ بی بی سی کی اس خصوصی رپورٹ میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی ہے کہ اس سلسلے میں حکومت کو کیا مشکلات درپیش ہیں اور کیا برطانیہ کبھی لُوٹے گئے نوادرات واپس کرے گا بھی یا نہیں؟

'ہولوکاسٹ سروائیورز' (ہٹلر کی نسل کشی سے بچ جانے والے یہودی) کئی بار یہ کہتے ہوئے سنے گئے ہیں کہ نازی جرمنی نے نہ صرف بڑی تعداد میں یہودیوں کو قتل کیا بلکہ ان کے ہزاروں فن پارے اور نوادرات بھی لوٹ لیے۔

اس قتل عام کو روکنے میں ناکامی پر یورپ پچھتاوے میں ڈوبا ہوا تھا، اور دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے فوراً بعد امریکہ یہودی نوادرات کی بازیافت کے لیے سرگرم ہو گیا۔

امریکی فوج کی ہدایت پر تقریباً سات لاکھ نوادرات کی نشاندہی کی گئی اور انھیں ان ممالک کو واپس کیا گیا جہاں سے انھیں لوٹا گیا تھا۔ ان میں سے زیادہ تر یہودیوں کی ملکیت تھے۔

یہ کوشش یہیں ختم نہیں ہوئی۔ 1985 میں یورپی ممالک نے اجتماعی طور پر یہودیوں سے لوٹے گئے نوادرات کی شناخت اور واپسی کا کام باقاعدہ طور پر شروع کیا اور 1998 میں اس سلسلے میں ایک بین الاقوامی معاہدہ طے پایا جس پر 39 ممالک نے دستخط کیے تھے۔

لیکن ایشیا اور افریقہ کے کئی ممالک پر قبضہ کر کے انھیں اپنا محکوم بنانے والے یورپی ممالک نے ان ملکوں سے لوٹے گئے سامان کی واپسی میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی۔ ان دنوں پورے یورپ میں یہ سوچ زور پکڑ رہی ہے کہ قرون وسطیٰ سے لے کر آج تک آزاد ممالک پر قبضہ کرنا، آزاد لوگوں کو غلام بنانا اور ان کے قیمتی نوادرات لوٹنا ایک سنگین جرم تھا۔
اس جرم کا سب سے بڑا نقصان ہندوستان نے اٹھایا۔ سب سے پہلے، برطانیہ کی ایسٹ انڈیا کمپنی اور 1857 میں جنگِ آزادی کے بعد، برطانوی راج نے ہندوستان کے قیمتی نمونے، پینٹنگز، ٹیکسٹائل، مجسمے اور جواہرات کو لوٹا یا زبردستی حاصل کیا۔ ان میں سے کچھ انھیں تحفے کے طور پر دیے گئے تھے اور کچھ معاہدے کے تحت حاصل کیے گئے تھے۔

برطانوی سامراج کے دور کو ہندوستان میں 'تاریک دور' کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

دہلی میں دائیں بازو کے سیاسی، خارجہ پالیسی کے ماہر ڈاکٹر سوورو کمل دتہ بی بی سی کے ساتھ بات چیت میں کہتے ہیں کہ اب وقت آگیا ہے کہ برطانیہ ماضی کے جرائم کا کفارہ ادا کرے۔

 
وہ کہتے ہیں:

’اگر برطانیہ نے لوٹے گئے ہندوستانی نوادرات اور انمول ورثے کو واپس نہیں کیا تو اسے دنیا کے سامنے اعلان کرنا چاہیے کہ وہ غلامی، نوآبادیات، لوٹ مار، بیگار اور نسل کشی کو جائز قرار دیتا ہے۔ برطانیہ کو اپنی سیاہ تاریخ کو مٹانے کا اس سے اچھا موقع نہیں ملے گا۔ یہ ابھی یا کبھی نہیں والا معاملہ ہے'

'انڈیا پرائیڈ پروجیکٹ' دنیا بھر کے عوامی عجائب گھروں اور نجی طور پر نوادارات جمع کرنے والوں سے چوری شدہ اور سمگل کیے گئے قدیم نوادرات کو ہندوستان واپس لانے کے لیے ایک چھوٹی سی عوامی تحریک ہے۔

اسے 2013 میں چنئی میں مقیم ایس وجے کمار اور سنگاپور میں مقیم پبلک پالیسی ماہر انوراگ سکسینہ نے شروع کیا تھا۔

انوراگ سکسینہ کہتے ہیں:

’آپ کسی مقبوضہ ملک کو اس وقت تک آزادی نہیں دیتے جب تک کہ آپ اس کی جائیداد اس ملک کو واپس نہ کر دیں‘۔

انڈیا نے لوٹے گئے سامان کی کوئی باقاعدہ فہرست تیار نہیں کی اور نہ ہی اس کی قیمت کا کوئی درست اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے محکمے کے پاس ایسی کوئی فہرست نہیں ہے لیکن ایسے سامان کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ ایک اندازے کے مطابق برطانیہ میں ہندوستانی نوادرات کی تعداد 30 ہزار سے زیادہ ہے لیکن عام رائے یہ ہے کہ یہ نوادرات اتنے نایاب اور قیمتی ہیں کہ ان کی کوئی قیمت نہیں لگائی جا سکتی۔

ڈاکٹر دتہ کہتے ہیں، ’یہ ہندوستان کا قومی ورثہ ہے، یہ ہماری ثقافت سے جڑا ہوا ہے‘۔

برطانیہ میں ہندوستان کے خصوصی نوادرات کیا ہیں؟

کیا ہندوستان کے اس نادر ورثے کو واپس لانا ممکن ہے؟ اس اہم سوال پر روشنی ڈالنے سے پہلے آئیے یہ بتاتے ہیں کہ برطانیہ میں ہندوستان کے اہم نوادرات کون سے ہیں۔

کوہِ نور

سب سے مشہور ہندوستانی نوادرات میں سے ایک، کوہ نور ہیرا 'برٹش کراؤن جیولز' کا حصہ ہے، جسے برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے 1849 میں پنجاب میں ایک جنگ کے بعد حاصل کیا تھا اور بعد میں اسے ملکہ وکٹوریہ کو پیش کیا گیا تھا۔

کوہ نور کی تاریخ اور پس منظر کا تعارف:

کوہ نور کا فارسی میں مطلب ہے ’روشنی کا پہاڑ‘۔ دنیا کے قیمتی ترین جواہرات میں سے ایک کے طور پر مشہور کوہ نور ہیرے نے صدیوں سے لوگوں کے دل و دماغ کو مسحور کر رکھا ہے۔ انڈیا کا کہنا ہے کہ کوہ نور کا اصل گھر ہندوستان ہے جبکہ انگلینڈ کے لوگ اسے ان کی جائیداد سمجھتے ہیں۔ ملکیت کے تنازعات سے ہٹ کر، کوہ نور ہیرے نے اپنی نایابیت اور بےمثال چمک کی وجہ سے بین الاقوامی توجہ حاصل کی ہے۔

اصل اور ابتدائی تاریخ:

کوہ نور ہیرے کی اصل تاریخ اسرار میں ڈوبی ہوئی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اسے گولکنڈہ کے علاقے میں واقع کان سے نکالا گیا تھا۔ ہیرے کی ابتدائی دستاویزی تاریخ کا 1306 میں کتیہ خاندان کے دور حکومت میں چلتا ہے۔

ملکیت کے تنازعات اور دعوے:

کوہ نور ہیرے کی صحیح ملکیت شدید بحث اور تنازعے کا موضوع رہی ہے۔ یکے بعد دیگرے ہندوستانی حکومتوں اور مختلف افراد نے اس کی ہندوستان واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے نوآبادیاتی دور میں زبردستی لیا گیا تھا۔

ثقافتی ورثہ اور تحفظ:

حالیہ برسوں میں، ہندوستان اور برطانیہ کے درمیان کوہ نور ہیرے کے مستقبل کے حوالے سے بات چیت ہوئی ہے۔ کچھ لوگ ایک مشترکہ انتظام کی تجویز پیش کرتے ہیں جس سے ہیرے کو ہندوستان میں برطانوی کراؤن جیولز کے باقی ماندہ دور میں نمائش کے لیے، ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے اور اس کی تاریخی اہمیت کو تسلیم کرنے کی اجازت ملے گی۔

سلطان گنج بدھا

یہ ایک اہم ہندوستانی نمونہ ہے۔ یہ گوتم بدھ کا آٹھویں صدی کا کانسی کا مجسمہ ہے، اسے اس وقت لندن کے وکٹوریہ اینڈ البرٹ میوزیم میں رکھا گیا ہے۔

امراوتی سٹوپا پینل

لندن کے برٹش میوزیم میں امراوتی سٹوپا سے حاصل شدہ قدیم پتھروں کے پینلز کا ایک مجموعہ رکھا گیا ہے، جو ہندوستان میں بدھ مت کے سب سے اہم مقامات میں سے ایک ہے۔ یہ پینل گوتم بدھ کی زندگی کے مناظر کو پیش کرتے ہیں۔

ٹیپو سلطان کی تلوار

یہ لندن میں ایک پرائیویٹ کلیکشن میں ہے لیکن یہ ہندوستان کے ورثے کا ایک اہم حصہ ہے۔

 شیوا جی کی تلواریں

شیواجی کی تین مشہور تلواروں کے نام 'بھوانی'، 'جگدمبا' اور 'تلجا' تھے۔ یہ تلواریں اس وقت لندن کے سینٹ جیمز پیلس میں برطانوی شاہی خاندان کے پاس ہیں۔ دی ہندو اخبار کی رپورٹ کے مطابق مہاراشٹر حکومت نے ان تلواروں کو واپس لانے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔

ٹیپو سلطان کا شیر

یہ مشہور مکینیکل کھلونا جس میں ایک شیر کو برطانوی فوجی کو مارتے ہوئے دکھایا گیا ہے، سلطنت میسور کے حکمران ٹیپو سلطان کے لیے بنایا گیا تھا۔ یہ ویلز کے قلعہ پووس میں موجود ہے۔

امراوتی ریلنگ

برٹش میوزیم میں امراوتی سٹوپا پر نصب سنگ مرمر کی کھدی ہوئی ریلنگوں کا ایک مجموعہ بھی موجود ہے، جو کہ دوسری صدی قبل مسیح کی ہیں اور ان پر بدھا کی زندگی کے مناظر کو دکھایا گیا ہے۔

پنجاب کے مہاراجہ کا تاج

برطانیہ میں رائل کلیکشن ٹرسٹ کے پاس سکھ سلطنت کے آخری مہاراجہ رنجیت سنگھ کا تاج موجود ہے۔ یہ تاج بہت سے ہیروں اور قیمتی پتھروں سے مزین ہے۔

چولا سلطنت کے کانسی کے مجسمے

برٹش میوزیم میں ہندوستان کے چولا خاندان کے کانسی کے مجسموں کا ایک مجموعہ ہے، یہ شاندار مجسمے 9ویں سے 13ویں صدی کے ہیں اور دیوتاؤں اور سادھوؤں کی نمائندگی کرتے ہیں۔

'بنی تھانی' پینٹنگ

لندن کی نیشنل گیلری میں ایک مشہور راجستھانی منی ایچر پینٹنگ ہے جسے بنی تھانی کے نام سے جانا جاتا ہے، 18ویں صدی میں بنائی گئی اس پینٹنگ میں راجستھان کے کشن گڑھ کے دربار کی ایک خاتون کو دکھایا گیا ہے۔

اس کے علاوہ ہندوستان کی اور بھی بہت سی قیمتی چیزیں برطانیہ کے قبضے میں ہیں۔ یہ سب بنیادی طور پر چار قسم کی تحویل میں ہیں: عجائب گھر، یونیورسٹی لائبریریاں، نجی ملکیت اور برطانوی کراؤن جیولز۔

ڈاکٹر دتہ کہتے ہیں:

’میرا ماننا ہے کہ ہندوستان سے لوٹے گئے سامان کی تعداد کم از کم 25 سے 30 ہزار ہونی چاہیے، اس سے زیادہ بھی ہوسکتی ہے کیونکہ ابھی تک اس کی باقاعدہ گنتی نہیں ہوئی ہے‘۔

یہ ہندوستانی نوادرات کیسے واپس لائے جا سکتے ہیں؟

کئی انڈین حکومتوں نے برطانوی حکام سے کوہ نور اور ملک کے دیگر نوادرات واپس کرنے کا مطالبہ کیا لیکن انھیں اس میں کامیابی نہیں ملی۔

انگلش اخبار 'دی ٹیلی گراف' کے مطابق مودی حکومت کوہ نور ہیرے اور ہزاروں دیگر نوادرات کو واپس حاصل کرنے کی مہم کے لیے سفارتی تیاریاں کر رہی ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ کوہ نور جیسے متنازع ہیرے کو واپس لانا تقریباً ناممکن ہے۔

ہرش ترویدی سپریم کورٹ کے سینئر وکیل ہیں، ان کا کہنا ہے کہ بھارت کو دو اہم مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ان کے مطابق:

’پہلا چیلنج پیچیدہ قانونی طریقہ کار ہے۔ چوری شدہ فن پاروں کی واپسی کا قانونی عمل انتہائی پیچیدہ ہوسکتا ہے اور اس میں متعدد دائرہ اختیار اور قانونی نظام شامل ہیں۔ انڈیا کو کئی قانونی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اس میں قانونی ملکیت کا مظاہرہ کرنا اور یہ ثابت کرنا شامل ہے کہ فن پارہ یا نوادر چوری کیا گیا تھا یا غیر قانونی طور پر حاصل کیا گیا‘۔

’دوسرا چیلنج سیاسی اور سفارتی ہے۔ قوموں کے درمیان پیچیدہ سیاسی اور سفارتی تعلقات استوار کرنے ہوں گے، یہ خاص طور پر ان صورتوں میں چیلنج ہو سکتا ہے جہاں نوآبادیاتی دور میں نمونے لیے گئے تھے، جیسا کہ سابق نوآبادیاتی طاقت اور موضوع پر اقوام کے درمیان تاریخی تناؤ اور حل طلب سوالات موجود ہیں‘۔

قانونی نقطہ نظر سے ایسا لگتا ہے کہ انڈیا نے کم از کم کوہ نور کی واپسی کے معاملے میں شکست تسلیم کر لی ہے۔ 2016 میں ایک مفاد عامہ کی عرضی میں، ایک شہری نے انڈین سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی کہ وہ حکومت پر زور دے کہ کوہ نور کو واپس لایا جائے۔ اس کے جواب میں حکومت ہند نے کوہ نور کو برطانیہ کی ملکیت مان لیا اور اس سے ہاتھ دھو لیے۔

کوہ نور ہیرا ہندوستان اور برطانیہ کی باہم جڑی ہوئی تاریخ کا گواہ ہے، کوہ نور کی بے مثال خوبصورتی کی کہانیاں دنیا بھر کے دلوں کو موہ لیتی ہیں۔ یہ ہندوستانیوں کے لیے ایک حساس مسئلہ ہے۔ مودی حکومت کے قریبی لوگوں کا کہنا ہے کہ ہم وطنوں کو امید ہے کہ حکومت کوہ نور ہیرے اور دیگر ہندوستانی جائیدادوں کو ہندوستان واپس لانے کی کوشش ضرور کرے گی۔

ڈاکٹر دتہ کہتے ہیں:

’انڈیا میں پچھلی حکومتوں میں اس طرح کے جرات مندانہ اقدامات کرنے کی خواہش نہیں تھی لیکن اب حالات بہت بدل چکے ہیں۔ اب ہمارے پاس ایک طاقتور قوم پرست حکومت ہے لہٰذا اب ہندوستانیوں کو مودی حکومت سے زیادہ توقعات ہیں‘۔

لیکن اس کے لیے انڈیا کو ثبوت اور دستاویزات جمع کرنے اور برطانیہ کی عدالت سے رجوع کرنے کی ضرورت ہو گی۔ لندن میں برطانوی قانون کے ماہر سروش جے والا کہتے ہیں، ’انڈیا اپنے نوادرات صرف اسی صورت میں واپس حاصل کر سکتا ہے جب وہ برطانیہ کی عدالت میں یہ ثابت کر دے کہ وہ برطانوی قانون کے تحت ان کا حقدار ہے جو بذات خود ایک بہت مشکل کام ہوگا اور اس کے لیے واضح ثبوت کی ضرورت ہو گی‘۔

نٹراج کی واپسی، امید کی کرن؟

لیکن پھر بھی امید کی کرن باقی ہے۔ ہندوستان کو برطانیہ کی عدالت میں ایک انوکھے اور پیچیدہ کیس میں کامیابی ملی ہے اور اس کامیابی کا سہرا سروش جی والا کو جاتا ہے۔ یہ معاملہ نٹراج کے بت سے متعلق ہے جو تمل ناڈو کے ایک مندر سے برطانیہ پہنچا تھا۔

سروش جے والا خود اس بارے میں معلومات دیتے ہیں۔ ’یہ مورتی ہندوستان سے باہر برطانیہ سمگل کی گئی تھی، میری فرم جے والا اینڈ کمپنی تمل ناڈو حکومت کے لیے کام کرتی تھی اور نٹراج کی مورتی کو ہندوستان واپس کرنے میں کامیاب رہی تھی۔ خیال یہ تھا کہ نٹراج ایک قابل احترام بت ہے اور یہ ہندو قانون کے تحت قانوناً ایک فرد ہے اور اس لیے یہ تمل ناڈو کے مندر میں اپنے گھر واپس جانے کا حقدار ہے اور خود اس سلسلے میں مقدمہ کر سکتا ہے‘۔

نٹراج کی یہ مورتی 1976 میں تمل ناڈو کے تھانجاور ضلع کے پاتھور گاؤں کے اریل تھیرو وشوناتھ سوامی مندر سے چوری ہوئی تھی۔ پھر اسے انگلینڈ سمگل کر دیا گیا تھا جہاں اسے فروخت کیا گیا۔ اب یہ مورتی واپس اسی مندر کے حوالے کر دی گئی ہے۔

حال ہی میں وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ گذتشہ نو سالوں میں 240 قدیم نوادرات کو برآمد کر کے انڈیا واپس لایا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ آزادی کے بعد سے 2014 تک 20 سے کم نمونے واپس لائے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت سے ثقافتی نوادرات کی سمگلنگ میں بھی خاطر خواہ کمی آئی ہے۔
 

قیمتی بتوں کی واپسی کے لیے شہریوں کا اقدام

ہندوستان قدیم مندروں کا ملک ہے، صدیوں سے قدیم مندروں سے متعلق نایاب مورتیاں اور دیگر قیمتی اشیا چوری اور سمگلنگ کے ذریعے ملک سے باہر بھیجی جاتی رہی ہیں۔

وجے کمار اور انوراگ سکسینہ نے یہ کام 2013 میں شروع کیا اور اسے #BringOurGodsHome ہیش ٹیگ کے تحت انڈیا پرائیڈ پروجیکٹ کا نام دیا۔

وجے کمار کا کہنا ہے کہ وہ بہت سی چیزیں ہندوستان واپس لے کر آئے ہیں، جن میں ’نیو ساؤتھ ویلز کی آرٹ گیلری سے وردھاچلم آردھنیشورا، آسٹریلیا کی نیشنل گیلری سے سری پورنتنا نٹراج، لندن سے نالندا بدھ، لندن سے برہما برہمنی، آنندمنگلم راما گروپ سے۔ لندن، ٹولیڈو میوزیم سے گنیش، ایشیا سوسائٹی نیو یارک سے پنننالور نٹراج، بال سٹیٹ میوزیم تروپمب پورم سے النگانا مورتی وغیرہ شامل ہیں‘۔

فن پاروں کی واپسی کا طریقہ کار کیا ہے؟

دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد سے، چوری شدہ نوادرات کو واپس لانے کے لیے بین الاقوامی قانون سازی کے بارے میں آگاہی ہوئی ہے۔

ثقافتی نوادرات کے ماہر اور یورپ میں بونیلی اردے کی آرٹ اور ثقافتی فوکس ٹیم کے رکن پروفیسر مانیلیو فریگو کہتے ہیں کہ اصولی طور پر دو اہم کثیر القومی معاہدے ہیں جو ان معاملات پر لاگو ہوتے ہیں۔

پہلا، 1954 کا ہیگ کنونشن، جو جنگ کے وقت لوٹی گئی جائیداد سے متعلق ہے۔ پروفیسر مانیلیو فریگو کہتے ہیں، ’یہ معاہدہ نہ صرف ثقافتی املاک جیسے فن تعمیر، آرٹ یا تاریخی یادگاروں، آثار قدیمہ کے مقامات، نوادرات، مخطوطات، کتابیں اور تاریخی یا آثار قدیمہ کی اہمیت کی حامل دیگر اشیا کی حفاظت کرتا ہے۔ ، ہندوستان اور برطانیہ اس معاہدے کے فریق ہیں، جس پر ہندوستان نے 1958 میں اور برطانیہ نے 2017 میں دستخط کیے تھے‘۔

دوسرا کثیر القومی معاہدہ یونیسکو کنونشن ہے، جو 1970 میں منظور ہوا، جو امن کے وقت لوٹے گئے سامان سے متعلق ہے۔ پروفیسر مانیلیو فریگو کہتے ہیں، ’کنونشن ریاستوں پر زور دیتا ہے کہ وہ ثقافتی املاک کی غیر قانونی اسمگلنگ کو روکنے کے لیے اقدامات کریں، اس کنونشن کا ایک اہم پہلو چوری شدہ ثقافتی املاک کی واپسی ہے‘۔

ایک اور معاہدے پر 1995 میں روم میں دستخط کیے گئے تھے تاکہ 1970 کے یونیسکو کنونشن کی چوری یا غیر قانونی طور پر برآمد ہونے والی ثقافتی اشیاء کی کچھ خامیوں کو پورا کیا جا سکے۔ یہ معاہدہ غیر قانونی ثقافتی اشیا کے مالکان پر لاگو ہوتا ہے، لہٰذا کسی بھی مسروقہ یا مقبوضہ ثقافتی چیز کو واپس کرنا ضروری ہے، یہ معاہدے کے دعووں کے لیے وقت کی حدود بھی متعین کرتا ہے اور ثقافتی نمونے حاصل کرنے کے لیے معقول کوششیں کرتا ہے۔

ان بین الاقوامی معاہدوں کے تحت 23 ستمبر 2021 کو امریکا نے 2003 میں عراق پر قبضے کے بعد چوری کیے گئے 17 ہزار سے زائد فن پارے عراق کو واپس کیے ہیں۔
لیکن یہ تمام بین الاقوامی کنونشن قرون وسطیٰ میں لوٹے گئے ثقافتی نوادرات پر لاگو نہیں ہوتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جدید ہندوستان میں صرف لوٹی گئی ثقافتی نوادرات کی واپسی کا دعویٰ کیا جا سکتا ہے۔ جب ہندوستان ایسٹ انڈیا کمپنی اور برطانوی سلطنت کے ماتحت تھا، اس وقت لوٹی گئی قیمتی اشیاء ان بین الاقوامی معاہدوں کے تحت نہیں آتی تھیں
 

واپسی کے قانونی راستے بند؟

برطانوی قانون کے ماہر اور لندن میں سینئر وکیل سروش جے والا کا کہنا ہے کہ قانونی راستہ کھلا ہے لیکن مشکلات سے بھرا ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بھارت چاہے تو اپنے نوادرات کی واپسی کے لیے ثبوت کے ساتھ برطانوی عدالتوں میں مقدمہ دائر کر سکتا ہے۔

وہ کہتے ہیں:

’اگر برطانوی حکومت ہندوستانی نوادرات واپس کرنے پر راضی ہوجاتی ہے تو برطانیہ کو اس کے لیے کوئی قانون بنانے کی ضرورت نہیں ہوگی، اگر برطانوی عدالت اپنی حکومت کو کوہ نور انڈیا کے حوالے کرنے کا حکم دیتی ہے تو برطانیہ ایسا کرنے کا پابند ہوگا۔'

ان مسائل کے ماہر اور دہلی میں سینیئر وکیل رجت بھردواج کہتے ہیں کہ حکومت ہند کو سفارتی اور قانونی دونوں راستے اختیار کرنے چاہییں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اگر اس بات کا کوئی دستاویزی ثبوت نہیں ہے کہ نوادرات تحفے میں دیے گئے تھے یا لوٹے گئے تھے، تو یہ متنازعہ حقائق کا سوال ہے اور حکومت کو کوہ نور ہیرے اور دیگر قیمتی نوادرات کو واپس لانے کی ضرورت ہے۔ تمام اقدامات بشمول سفارتی اور قانونی کارروائی کی جائے، یہ ہمارے ملک کا اثاثہ ہیں‘۔

بھاردواج کا کہنا ہے کہ اگر انڈین حکومت کو عالمی عدالت انصاف میں جانا پڑے تو بھی جانا چاہیے۔ ’انڈیا کو یہ تجزیہ کرنے کے لیے بین الاقوامی عدالت سے رجوع کرنا چاہیے کہ آیا حقائق/گواہوں/دستاویزی شواہد کی بنیاد پر نوادرات تحفے میں دی گئیں یا لوٹی گئیں‘۔

آہستہ آہستہ ماحول بدل رہا ہے۔ یورپ کی استعماری طاقتیں اب یہ سمجھ رہی ہیں کہ غلام ممالک سے لوٹا ہوا مال واپس کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ بہت سی سابق استعماری طاقتیں ایسے قوانین بنا رہی ہیں تاکہ وہ لوٹا ہوا مال ان ممالک کو واپس کر سکیں جو کبھی غلام تھے۔

پروفیسر مانیلیو فریگو کے مطابق نوادرات کی واپسی کے لیے یورپی ممالک میں قانون نافذ کرنا ضروری ہے۔ ان کے بقول فرانس، اٹلی، بیلجیئم اور پرتگال جیسے ممالک میں ایک قانون پاس کرنا ضروری ہے، جہاں فن پارے پبلک کلیکشن کے تحت ہیں۔

کم از کم ان ممالک میں جہاں زیر بحث نوادرات عوامی ذخیرے سے تعلق رکھتے ہیں (جیسا کہ عام طور پر فرانس، اٹلی، بیلجیم اور پرتگال میں ہوتا ہے) نوادرات کی واپسی کی اجازت دینے کے لیے قوانین پاس کیے جانے چاہییں، لیکن برطانیہ نے ابھی تک ایسا نہیں کیا۔ لیا گیا ہے.
پروفیسر مانیلیو فریگو کہتے ہیں، ’جہاں تک میں جانتا ہوں، برطانیہ نے اس معاملے پر کوئی خاص قانون سازی نہیں کی ہے اس لیے کسی بھی درخواست کو ہر صورت میں نمٹا جائے گا۔ واپسی کے لیے کوئی قابل عمل قانونی حکمت عملی نہیں ہے۔‘

اخلاقیات کا معاملہ

انڈیا میں بہت سے ماہرین کا کہنا ہے کہ نوادرات کی واپسی کو قانونی یا سیاسی مسئلے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

یہ ایک اخلاقی مسئلہ ہے جیسا کہ انوراگ سکسینہ سابق استعماری طاقتوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’آپ نے ہماری جانیں لے لیں، آپ نے ہمارے قدرتی وسائل لے لیے، آپ نے ہمارا ورثہ لے لیا، آپ ہمیں ہماری زندگی واپس نہیں دے سکتے، وسائل واپس نہیں دے سکتے، کم از کم آپ ہماری میراث واپس کر دیں‘۔

دائیں بازو کے نظریہ ساز اور مودی حکومت کے حامی ڈاکٹر سووروکمل دتہ بھی غیر مشروط طور پر ورثے کو واپس کرنے کی بات کرتے ہیں۔ ’کئی یورپی ممالک اپنی سابقہ نوآبادیات سے لوٹا ہوا مال واپس کر رہے ہیں کیونکہ وہ اپنی ماضی کی بربریتوں پر شرمندہ ہیں، برطانیہ کو ایسا کرنے سے کیا روکتا ہے؟ برطانیہ یہ پہل کرتا ہے، یہ ہمارے زخموں کو مندمل کر سکتا ہے اور ہماری کچھ دردناک یادوں کو مٹا سکتا ہے‘۔

بی بی سی کے نامہ نگار: زبیر احمد
تصویر: گیٹی برٹش میوزیم میٹروپولیٹن میوزیم آف آرٹ انڈیا پرائیڈ پروجیکٹ
پروڈکشن: شاداب نجمی