






رن اپ کے ابتدائی نشان پر کھڑے ارشد پہلے اپنی بائیں ایڑھی اٹھاتے ہیں اور پھر دائیں ایڑھی، اپنی کمر سیدھی کرتے ہیں اور پھر اپنی بائیں ٹانگ سے رن آپ کا آغاز کرتے ہیں۔
ان کا رن اپ نو قدم کا ہے جس کے بعد وہ تین مرتبہ چھوٹی چھلانگیں یا کراس اوور سٹیپ لیتے ہیں۔
دوسرا کراس اوور سٹیپ جسے امپلس سٹیپ بھی کہتے ہیں تھوڑا بڑا ہوتا ہے جس سے انھیں لینڈنگ کے وقت اپنا وزن اپنے پچھلے پیر پر رکھنے کا موقع ملتا ہے۔
جیولن پھینکتے وقت وہ اپنے پچھلے پیر پر لینڈ کرتے ہیں اور اس دوران ان کا ہاتھ سیدھا ہوتا ہے اور جیولن ان کی آنکھوں کی سیدھ میں۔
ارشد یہ جیولن اپنے کندھے کے اوپر سے پھینکتے ہیں اور اس دوران ان کی کمر میں جھکاؤ آتا ہے۔
پاکستان کے سٹار ایتھلیٹ ارشد ندیم کی طرح جیولن کیسے پھینکا جائے
سواتی جوشی
پاکستان کے ارشد ندیم نے پیرس اولمپکس 2024 میں جیولن تھرو کے مقابلوں میں نیا اولمپک ریکارڈ قائم کرتے ہوئے طلائی تمغہ حاصل کیا ہے۔
ارشد نے یہ کارنامہ 92.97 میٹر طویل تھرو کر کے سرانجام دیا جو ان کے کریئر کی بہترین کارکردگی بھی ہے۔ ارشد نے اس مقابلے میں اپنی آخری تھرو بھی 90 میٹر سے زیادہ فاصلے پر پھینکی۔
وہ اولمپکس کی تاریخ میں ایتھلیٹکس سمیت کسی بھی انفرادی مقابلے میں طلائی تمغہ حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی ہیں۔
ٹوکیو اولمپکس 2020 میں 84.62 میٹر کی تھرو کے ساتھ وہ پانچویں نمبر پر رہے تھے اور کانسی کا تمغہ جیتنے والے ایتھلیٹ سے صرف 0.82 میٹر پیچھے تھے۔
اپنے کامیاب اولمپک ڈیبیو کے بعد، ندیم نے 2022 کے دولتِ مشترکہ کھیلوں میں اس وقت تک کی بہترین ذاتی کارکردگی کے ساتھ گولڈ میڈل جیت کر تاریخ رقم کی۔ اس کے بعد انھوں نے 2023 کی عالمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ میں چاندی کا تمغہ حاصل کیا جو ان مقابلوں کی تاریخ میں پاکستان کا پہلا تمغہ تھا۔
وہ پاکستان میں ایتھلیٹکس کے مستقبل کے لیے امید کی کرن کے طور پر سامنے آئے ہیں اور پیرس اولمپکس میں نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کی نظریں ان پر تھیں۔
ارشد کی دس بہترین پرفارمنسز

ارشد بمقابلہ نیرج

چاہے وہ کرکٹ ہو یا ہاکی، انڈیا اور پاکستان کے درمیان مقابلہ ہمیشہ توجہ کا مرکز بنا رہتا ہے۔ ایتھلیٹکس میں یہ مسابقت اس وقت مشہور ہوئی جب 1960 کی دہائی میں ہندوستان کے ایتھلیٹ ملکھا سنگھ نے پاکستان کے عبدالخالق سے مقابلہ کیا۔ اب ارشد ندیم اور نیرج چوپڑا نے دونوں ملکوں کے درمیان مقابلے کا نیا دور شروع کیا ہے۔
یہ دونوں اب تک دس مقابلوں میں آنے سامنے آ چکے ہیں جن میں چوپڑا نے اکثر سبقت حاصل کی ہے۔ ان میں سے آٹھ مقابلے سینیئر سطح کے جبکہ باقی دو جونیئر سطح کے تھے۔
پیرس اولمپکس میں بھی یہی دونوں کھلاڑی جیولن کے مقابلوں میں پہلے اور دوسرے نمبر پر رہے تاہم اس بار نیرج اپنے اعزاز کا دفاع کرنے میں ناکام رہے اور گولڈ میڈل ارشد کے حصے میں آیا۔
اس سے قبل اکتوبر 2023 میں ایشین گیمز میں ان دونوں کے ایک بار پھر مدِمقابل آنے کی توقع تھی، لیکن ارشد ندیم گھٹنے کی چوٹ کی وجہ سے دستبردار ہو گئے۔ پیرس 2024 میں شرکت کے لیے اپنے امکانات کو خطرے میں ڈالنے کے بارے میں فکرمند، ندیم نے جیولین فائنل سے قبل دستبردار ہونے کا انتخاب کیا اور پھر علاج کے لیے سرجری کروائی۔
ارشد کی بہترین کارکردگی 92.97 میٹر جبکہ نیرج کی 89.94 میٹر کی تھرو ہے۔
پاکستانی جیولن ایتھلیٹس کی بہترین کارکردگی

پیرس اولمپکس سے قبل پاکستان نے ان مقابلوں میں ایتھلیٹکس میں کوئی تمغہ حاصل نہیں کیا تھا۔ 1948 کے بعد سے 2024 کے پیرس اولمپکس تک پاکستان نے ان کھیلوں میں کل 11 تمغے حاصل کیے ہیں جن میں سے صرف تین انفرادی تمغے جیولن تھرو، ریسلنگ اور باکسنگ میں ہیں جبکہ باقی سارے تمغے ہاکی کے کھیل میں جیتے گئے ہیں۔

ندیم نے جیولن تھرو کے کھیل میں اپنے کارناموں سے پاکستان میں جوش و خروش پیدا کیا ہے، وہ ملک اور جنوبی ایشیا کے واحد ایتھلیٹ ہیں جنھوں نے 90 میٹر کا ہدف عبور کیا ہے۔
ہندوستان کے جیولن ایتھلیٹ نیرج چوپڑا کے ساتھ ان کی دوستانہ رقابت شائقین کے درمیان بحث کا موضوع رہی ہے اور اب جبکہ دونوں پیرس اولمپکس میں آمنے سامنے آئے تو اس بارے میں ایک بار پھر جوش میں اضافہ ہوا۔
لیکن اس کھیل نے اولمپکس میں کیسے جگہ بنائی؟ جیولین ہوتا کیسا ہے؟ آپ جیولن کیسے پھینکتے ہیں؟ اور اسے پھینکنے کے پیچھے کی فزکس کیا ہے؟
آئیے معلوم کرتے ہیں۔
جیولن تھرو کی تاریخ

708 قبل مسیح
سب سے پہلے یونان میں قدیم اولمپکس میں ایک کھیل کے طور پر سامنے آیا۔ اس وقت جیولن زیتون کی لکڑی سے بنایا گیا تھا۔
394 عیسوی کے لگ بھگ
رومی شہنشاہ تھیوڈوسیئس اول کے کافرانہ تقریبات کو غیر قانونی قرار دینے کے بعد اولمپک گیمز باضابطہ طور پر ختم ہو گئے۔ اس نے ایک کھیل کے طور پر جیولن تھرو کو بھی ختم کر دیا۔
1700s
سکینڈے نیویا ممالک میں جیولین تھرو کا کھیل پھر سامنے آیا۔
1908
جیولن کو لندن میں اولمپکس کے تیسرے ایڈیشن میں شامل کیا گیا تھا۔ ایرک لیمنگ نے سٹینڈرڈ کے ساتھ ساتھ فری سٹائل جیولن میں بھی گولڈ میڈل جیتا۔
1932
خواتین کی جیولن تھرو کو 1932 میں اولمپکس مقابلوں میں شامل کیا گیا تھا، جہاں امریکی ایتھلیٹ بیبی ڈیڈرکسن نے گولڈ میڈل جیتا تھا۔
1986
جیولن کا ڈیزائن تبدیل کیا گیا جس نے اس کے مرکز ثقل کو آگے منتقل کر دیا گیا تاکہ تھرو کے فاصلے کو کم کیا جا سکے اور سٹیڈیم میں دستیاب جگہ سے زیادہ دور جیولن گرنے کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔
1999
کشش ثقل کے مرکز کو آگے منتقل کرنے کے لیے خواتین کے جیولن میں بھی تبدیلیاں کی گئیں۔
واپس اوپر جائیں
مزید پڑھنے کے لیے نیچے سکرول کریں
جیولن کیسا ہوتا ہے اور اس کی قیمت کیا ہوتی ہے؟






جیولن یا نیزہ شکل میں ایک سلینڈر جیسا ہوتا ہے جو دونوں سروں سے چھدرا ہوتا ہے
ایک جیولن کے تین حصے ہوتے ہیں، ہیڈ، شافٹ اور کورڈ گرپ
جیولن کا مرکزی حصہ دھات یا دیگر مناسب چیزوں سے بنایا جاتا ہے
مردوں کے سینیئر مقابلوں میں جیولن کا وزن کم از کم 800گرم اور لمبائی 2.6سے2.7 میٹر کے درمیان ہونی چاہیے
خواتین کے لیے جیولن کا وزن کم از کم 600 گرم اور لمبائی 2.2 سے 2.3 میٹر کے درمیان ہونی چاہیے
جیولن کی قیمت کیا ہوتی ہے؟
دنیا کے بہترین ایتھلیٹس نورڈک اور نیمتھ نامی کمپنیوں کے جیولن استعمال کرتے ہیں۔

واپس اوپر جائیں
مزید پڑھنے کے لیے نیچے سکرول کریں
جیولن کیسے پھینکا جائے

جیولن پھینکنے کا عمل تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے جن میں رن اپ، ٹرانزیشن اور ڈیلیوری شامل ہیں
رن اپ
اس عمل میں جیولن کو ہاتھ میں تھام کر رفتار حاصل کرنے کے لیے دوڑ لگانا شامل ہے۔
ٹرانزیشن
رن اپ کے بعد ایتھلیٹ دو سے تین کراس اوور قدم اٹھاتا ہے جس سے ایک بہترین ریلیز پوزیشن حاصل کرتے ہوئے رفتار بڑھانے میں مدد ملتی ہے
ڈیلیوری
ایتھلیٹ جیولن کو سر کے قریب کندھے سے اوپر اٹھاتا ہے اور اس کا نوکیلا سر اس سمت میں ہوتا جہاں تھرو کرنا مقصود ہو۔ پھر جیولن پھینکنے والا پہلو کو موڑ کر کندھے کے اوپر سے اسے ہوا میں پھینک دیتا ہے۔
جیولن پھینکتے وقت، ایک کھلاڑی کا مقصد نیزے کو زیادہ سے زیادہ فاصلے تک پھینکنا ہوتا ہے۔ اپنی باری کا اعلان ہونے کے بعد، کھلاڑیوں کو ایک منٹ کے اندر اپنی تھرو مکمل کرنی ہوتی ہے۔
اس تھرو کو درست سمجھا جاتا ہے جو لینڈنگ سیکٹر کی حدود کے اندر رہتی ہے۔


جیولن کو زمین میں گڑنا ضروری نہیں بلکہ اس کا زمین سے ٹکرا کر وہاں اپنا نشان چھوڑنا کافی سمجھا جاتا ہے۔ جب تک تھرو مکمل نہ ہو جائے ایتھلیٹ کے لیے لازم ہے کہ اس کا رخ لینڈنگ سیکٹر کی جانب ہو۔
جیولن پھینکنے اور اس کے زمین سے ٹکرانے تک ایتھلیٹس کے لیے لازم ہے کہ وہ تھروئنگ آرک یا فاؤل لائن کے عقب میں رہیں۔
واپس اوپر جائیں
مزید پڑھنے کے لیے نیچے سکرول کریں
85 میٹر سے طویل تھرو (2024-1900)*

واپس اوپر جائیں
مزید پڑھنے کے لیے نیچے سکرول کریں
85 میٹر سے طویل تھرو کی ممالک کے لحاظ سے تقسیم

واپس اوپر جائیں
مزید پڑھنے کے لیے نیچے سکرول کریں
جیولن کے پیچھے کی فزکس کیا ہے؟

بہت سے ٹریک اور فیلڈ ایونٹس کی طرح، جیولین تھرو بنیادی طبیعیات اور انسانی مہارت کا امتزاج ہے۔
کئی عوامل جیولن کی پرواز کے فاصلے پر اثر انداز ہوتے ہیں، جن میں ریلیز کی اونچائی، جیولن کی رفتار، ریلیز اینگل، اٹیکنک اینگل اور جیولن پر اثر کرنے والی قوتیں شامل ہیں۔







جیولن کی رفتار
جیولن جتنی تیزی سے پھینکا جائے گا، اتنا ہی دور جائے گا، جیسے کہ کسی گیند کو زور سے پھینکنا اسے دور لے جاتا ہے۔
ریلیز کی اونچائی
جتنی زیادہ اونچائی سے اسے ریلیز کیا جائے گا، جیولن ہوا میں اتنا زیادہ وقت گزارے گا تاوقتیکہ کشش ثقل اسے نیچے کھینچ لے۔ ایک مطالعے کے مطابق، ریلیز کی اونچائی جیولن پھینکنے والے ایتھیلیٹ کی اونچائی کے تقریبا 105٪ ہونی چاہیے۔
ریلیز اینگل
اگر ریلیز اور لینڈنگ پوائنٹس ایک ہی سطح پر ہوں تو پروجیکٹائل موشن کا زیادہ سے زیادہ زاویہ 45 ڈگری ہے تاہم، جیولین تھرو میں ریلیز اور لینڈنگ پوائنٹس
ایک مختلف زاویے پر ہوتے ہیں اس لیے کوئی مطلق بہترین زاویہ نہیں ہے جو ہر تھرو پر سب سے زیادہ فاصلے کی ضمانت دے۔
اٹیک اینگل
اٹیک کا زاویہ ریلیز کی رفتار اور جیولن کے عمودی زاویے کے درمیان کا زاویہ ہے۔
جیولن پر اثرانداز ہونے والی قوتیں
جیولن کا وزن کشش ثقل کے مرکز کے طور پر کام کرتا ہے اور اسے نیچے کھینچتا ہے۔
ایروڈائینیمکس یہ ہیں کہ ہوا کس طرح جیولن کے گرد اس کی رفتار اور شکل سے متاثر ہو کر بہتی ہے۔ ان میں لفٹ اور ڈریگ جیسی قوتیں شامل ہیں۔ جیسے ہی جیولن اڑتا ہے، یہ ایروڈائنامک قوتیں اپنی پوزیشن کو تبدیل کرتی ہیں (ہمیشہ جیولن کے مرکز میں نہیں ہوتیں)، جس سے ہوا میں اس کا زاویہ اور استحکام متاثر ہوتا ہے۔
جیسے ہی کھلاڑی جیولن پھینکتا ہے، وہ زاویے کی رفتار کا استعمال کرتا ہے جسے پچنگ مومنٹ بھی کہا جاتا ہے۔
تحریر و پیشکش: سواتی جوشی
ڈیزائن اور السٹریشن: لوکیش شرما
ڈیٹا سورس: ورلڈ ایتھلیٹکس، آئی او سی، نیمتھ جیولنز کیٹلاگ 2022، نورڈک سپورٹ
تصاویر: گیٹی امیجز، بی بی سی


