
بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں لڑکیوں کے ایک راک بینڈ پراگاش کی ایک رکن نے سوال کیا ہے کہ آخر ان ہی کے بینڈ کو غیر اسلامی کیوں قرار دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ دسویں جماعت میں زیرتعلیم تین کشمیری لڑکیوں نے چند ماہ قبل ایک راک بینڈ قائم کیا تھا جس پر سیاسی اور سماجی حلقے بٹ گئے تھے۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر دھمکیوں اور شدید تنقید کے بعد ’پراگاش‘ یعنی روشنی کی پہلی کرن نامی اس بینڈ نے سرگرمیاں معطل کردی تھیں۔
اس بینڈ سے تعلق رکھنے والی ایک رکن نے بی بی سی ہندی سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آخر ان ہی کے بینڈ کو نشانہ کیوں بنایا گیا ہے جبکہ مردوں کے بینڈ تو ابھی بھی قائم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’موسیقی ہمارا جنون ہے۔ ہمیں نہیں معلوم تھا کہ موسیقی حرام ہے۔ کشمیر میں بہت سے گلوکار ہیں جو گلوکاری کر رہے ہیں۔ لیکن ان کے خلاف تو فتویٰ جاری نہیں کیا گیا ہے۔ ان کو روکا نہیں گیا ۔۔۔ لیکن ہمیں ہی کیوں روکا گیا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا ’ہم ان کی رائے کا احترام کرتے ہیں لیکن مجھے نہیں معلوم کہ ہمیں کیوں روکا گیا ہے۔‘
یاد رہے کہ پیر کو حکومت کے حمایت یافتہ مفتی اعظم بشیرالدین نے ایک فتویٰ جاری کیا تھا جس میں انہوں نے موسیقی کو حرام قرار دیا اور ان لڑکیوں سے کہا ہے کہ وہ کنسرٹس میں حصہ نہ لیں۔
دوسری جانب بالی ووڈ کے مایہ ناز موسیقار وشال ددلانی نے پراگاش کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے اپنے فیس بک پیچ پر لکھا ہے ’کسی دیوانے کی جانب سے دھمکی کے خوف سے موسیقی نہ روکیں۔‘
انہوں نے اس بینڈ کے اراکین کو پیشکش کی کہ وہ ممبئی آ جائیں اور وہ ان کی سفر اور رہائش میں مدد کریں گے۔
تاہم اب تک اس بینڈ کا اس پیشکش کو تسلیم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
بینڈ کی رکن نے کہا ’میں موسیقار وشال کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں لیکن ہم اب یہ کام جاری رکھنا نہیں چاہتے۔ کشمیر میں ہماری حمایت کوئی نہیں کر رہا۔‘






























