آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
دلیپ کمار: مغل اعظم، دیوداس جیسی شہرہ آفاق فلموں میں کردار نبھانے والے مایہ ناز اداکار کی تدفین کر دی گئی
کئی دہائیوں تک بالی وڈ پر راج کرنے والے معروف اداکار دلیپ کمار کی تدفین ممبئی کے جوہو قبرستان میں سرکاری اعزاز کے ساتھ کر دی گئی ہے۔
چھ جون کو دلیپ کمار نے سانس لینے میں دشواری کی شکایت کی تھی جس کے بعد انھیں ہسپتال داخل کیا گیا اور آج بدھ کی صبح 'ٹریجیڈی کنگ' 98 برس کی عمر میں ممبئی کے ہندوجا ہسپتال میں وفات پا گئے تھے۔
دلیپ کمار کے نام سے مشہور محمد یوسف خان کی پیدائش 11 دسمبر 1922 کو پشاور میں ہوئی تھی اور 1930 میں دلیپ کمار اپنے خاندان کے ہمراہ بمبئی چلے گئے تھے۔
ہندوجا ہسپتال کے ڈاکٹروں اور دلیپ کمار کے ترجمان فیصل فاروقی نے دلیپ کمار کی موت کی تصدیق کی تھی۔ فیصل فاروقی نے 98 سالہ دلیپ کمار کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جاری کردہ پیغام میں لکھا تھا کہ 'انتہائی دکھ کے ساتھ میں دلیپ صاحب کی وفات کی تصدیق کر رہا ہو جن کی موت کچھ منٹ قبل ہوئی۔ ہمیں خدا نے بھیجا ہے اور ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔‘
دلیپ کمار کے ڈاکٹر جلیل پالکر نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے بدھ کو سات بج کر 30 منٹ پر اپنی آخری سانسیں لیں۔ ڈاکٹر جلیل کا کہنا تھا کہ ان کی موت کی وجہ طویل عرصے سے جاری عارضے ہیں۔
کلچرل ہیرٹیج کونسل پختونحوا کی طرف سے لیجنڈری اداکار دلیپ کمار کی غائبانہ نمازِ جنازہ پشاور میں ان کے آبائی گھر کے قریب محلہ خداداد میں ادا کی گئی جس میں ان کے مداحوں اور مختلف مکتبہِ فکر کے افراد نے شرکت کی۔
وزیرِ اعظم عمران خان کی جانب سے دلیپ کمار کی وفات پر رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ ’شوکت خانم ہسپتال کی تعمیر کا آغاز کیا تو عطیات جمع کرنے کے لیے انھوں نے نہایت سخاوت سے وقت دیا جسےمیں کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔
’یہ پہلے10 فیصد عطیات جمع کرنے کا کٹھن مرحلہ تھا چنانچہ لندن و پاکستان میں ان کی رونمائی یہ خطیر رقم جمع کرنے میں معاون ثابت ہوئی۔ اس سب کے سوا، دلیپ کمار میری نسل کے لیے سب سے عظیم اور ہر فن مولا اداکار تھے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دلیپ کمار کی وفات پر وزیرِاعظم نریندر مودی کی جانب سے ایک ٹویٹ میں اسے ثقافتی دنیا کے لیے ایک نقصان قرار دیا ہے۔
انھوں نے ٹویٹ میں کہا کہ 'دلیپ کمار جی کو سینما کی دنیا میں بطور لیجنڈ یاد رکھا جائے گا۔ انھیں ایک ایسے ٹیلنٹ سے نوازا گیا تھا جس کا کوئی ثانی نہیں تھا اور اس نے نسل رد نسل مداحوں کو اپنی گرفت میں لیے رکھا۔ ان کی وفات ثقافتی دنیا کے لیے نقصان ہے۔ ان کی فیملی، دوستوں اور مداحوں سے اظہار افسوس کرتا ہوں۔'
انھیں بالی وڈ میں 'ٹریجڈی کنگ' کہا جاتا تھا اور ان کے نام 'مغل اعظم'، 'دیوداس'، 'نیا دور' اور 'رام اور شام' جیسی کئی ہٹ فلمیں شامل ہیں۔
وہ پانچ دہائیوں تک فلموں میں کام کرتے رہے اور انھیں آخری بار 1998 کی فلم قلعہ میں دیکھا گیا تھا۔
'پشاور کا لڑکا جس نے بالی ووڈ پر راج کیا، اب ہم میں نہیں'
دلیپ کمار کی وفات کے بعد سے سرحد کے دونوں اطراف ان کے مداح انھیں یاد کر رہے ہیں اور ان کی وفات پر افسوس کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس وقت انڈیا کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی دلیپ کمار ٹاپ ٹرینڈز میں سے ہے۔
یہ بھی پڑھیے
محمد تقی نے ٹویٹ کرتے ہوئے دلیپ کمار کی فلم 'میلہ' میں محمد رفیع کا گانا 'زندگی کے میلے' کے بول لکھے: یہ زندگی کے میلے، یہ زندگی کے میلے، دنیا میں کم نہ ہوں گے، افسوس ہم نہ ہوں گے
انھوں نے لکھا کہ: پشاور کا لڑکا جس نے بالی ووڈ پر راج کیا، اب ہم میں نہیں۔ دلیپ کمار کو الوداع، فلموں میں کام کرنے والے شخص کے دل سے اس کا آبائی شہر کبھی نہیں نکلا اور اب وہ ہمارے دل ہمیشہ کے لیے رہیں گے۔ لالے کو کبھی نہیں بھلایا جائے گا۔'
سرحد کے دونوں اطراف سے اداکار بھی دلیپ کمار کی وفات پر افسوس کا اظہار کر رہے ہیں اور انھیں خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔
بالی ووڈ اداکار سنیل شیٹی کا کہنا تھا کہ 'آج ایک دور کا اختتام ہوا اور ہم نے انڈین سینما کے سب سے چمکدار ستارے کو کھو دیا۔ آپ ہمارے دلوں میں ہمیشہ کے لیے رہیں گے دلیپ صاحب۔'
بالی وڈ کے معروف اداکار امیتابھ بچن نے ٹویٹ کیا کہ ’ایک ادارہ اب ہم میں نہیں ہے۔ جب بھی انڈین فلم انڈسٹری کی تاریخ لکھی جائے گی تو ہمیشہ اسے دلیپ کمار سے پہلے اور دلیپ کے بعد کے دو ادوار میں بانٹا جائے گا۔‘
فرنٹیئر کانسٹیبلیری کے سابق کمانڈنٹ عبدالمجید خان مروت نے دلیپ کمار کے پشاور کے سنہ 1998 کے دورے کے دوران کی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’وہ ایک یادگار شام تھی جب دلیپ کمار نے دوسری مرتبہ پشاور کا دورہ کیا تھا۔ ان کے لیے ان کے کزن فواد اسحاق نے عشائیہ منعقد کروایا تھا جہاں انھوں نے اپنے کریئر اور ساتھ کام کرنے والی اداکاراؤں کے حوالے سے خاصی پر لطف گفتگو کی تھی۔
’ان کے خوبصورت ساتھ اور روانی کے ساتھ بولی جانے والی ہندکو مجھے اب بھی یاد ہے۔‘
پاکستان کے وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے ایک ٹویٹ میں دلیپ کمار کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’برصغیر اور پوری دنیا میں لاکھوں افراد دلیپ کمار سے محبت کرتے تھے اور اس مایہ ناز ہیرو اور ٹریجڈی کنگ کو ہمیشہ یاد کیا جائے گا۔‘
صحافی مہا صدیقی نے لکھا کہ دلیپ کمار آف ایئر جتنے سکرین پر دلکش تھے اتنے سکرین کے علاوہ ھی۔ 17 سال پہلے میں نےان کے اور سائرہ بانو کے ساتھ ایک شوٹنگ پر ایک دن گزارا تھا۔ انھوں نے مجھے دیکھ کر میری تعریف کی تھی اور کہا تھا کہ میں بالکل سائرہ بانو کی طرح لگتی ہوں۔‘
اداکارہ رادیکا نے دلیپ کمار کو سیلوٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ ایک ایسے اداکار تھے جنھوں نے اداکاروں کو پیش آنے والے مسائل کو اتنا آسان بنا کر پیش کیا کہ ان تک آج بھی دوسرے اداکار پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘
ایک انڈین صارف ارن بوتھرا نے لکھا کہ ’جب تک میری نسل نے ان کی فلمیں دیکھنا شروع کیں دلیپ صاحب اس وقت تک عمر رسیدہ کردار نبھانے لگے تھے۔ تاہم جب میں نے ان کی پرانی فلمیں دیکھیں تو میں ان کے اداکاری کے سٹائل اور ہنر سے محبت میں مبتلا ہو گیا۔ ہیروؤں کے ہیرو، خدا حافظ۔‘