اداکارہ عتیقہ اوڈھو شراب کیس میں بری: ’نو سال اذیت ناک تھے، سو بار عدالت گئی، آج انصاف ملا‘

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت کے جڑواں شہر راولپنڈی کی ایک مقامی عدالت نے مشہور ٹی وی اداکارہ عتیقہ اوڈھو کو نو سال بعد شراب کے کیس سے بری کر دیا ہے۔

راولپنڈی کی مقامی عدالت کے جج یاسر چوہدری کا کہنا ہے کہ اس مقدمے میں ملزمہ کے خلاف شراب برآمدگی کے حوالے سے کوئی شواہد نہیں ملے اس لیے عدم ثبوت کی بنا پر اُنھیں اس مقدمے سے بری کیا جاتا ہے۔

عدالتی فیصلہ آنے کے بعد بی بی سی کی حمیرا کنول سے گفتگو میں عتیقہ اوڈھو نے کہا کہ نو سال اذیت ناک تھے لیکن آج میں خوش ہوں کہ انصاف ملا۔

’سب کو پتہ ہے کہ میرے خلاف نو سال پہلے یہ جو ایک کیس بنا تھا، یہ سیاسی مقاصد کے طور پر بنا تھا۔ مجھے یقین تھا کہ کسی نہ کسی دن یہی عدالت مجھے انصاف دے گی اور آج پاکستان کی عدالت نے ہی مجھے انصاف دیا ہے اور میں اس کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔‘

یہ بھی پڑھیے

عتیقہ نے مزید کہا ’ان نو برسوں میں مجھے کوئی 100 مرتبہ عدالت کے روبرو پیش ہونا پڑا۔ 190 سے زائد مرتبہ کیس کی کارروائی ہوئی۔ اس عرصے میں 12 جج بدلے گئے۔ پھر کچھ سال پہلے مجھے یہ ریلیف ملا کہ مجھے کہا گیا کہ ہر بار آپ کو عدالت میں پیش ہونے کی ضرورت نہیں۔ لیکن جب مجھے بلایا جاتا تو میں کراچی سے راولپنڈی کورٹ آتی تھی کیونکہ میں قانون کا احترام کرتی ہوں۔‘

عتیقہ نے بتایا کہ اس مقدمے اور الزام سے بریت کے لیے انھوں نے نو سال میں تین مرتبہ درخواست دی جو دو مرتبہ مسترد ہوئی۔

عتیقہ نے یہ بھی بتایا کہ اس کیس سے ان کے کرئیر پر بھی اثر پڑا اور اس عرصے میں وہ جذباتی اور ذہنی طور پر بہت سی تکالیف اور مسائل سے گزریں۔

عتیقہ کہتی ہیں کہ یہ کیس لوگوں کے لیے ایک امید ہے خاص طور پر نوجوان لڑکیوں کے لیے کہ انھیں ڈرنا نہیں چاہیے۔ اپنی گفتگو کے اختتام پر عتیقہ نے کہا کہ اگر آپ معصوم ہیں تو آپ کو اپنی بات اپنے موقف پر قائم رہنا چاہیے کسی سے ڈرنا نہیں چاہیے۔

وہ کہتی ہیں کہ میرے خیال میں اب کسی کے ساتھ ایسی ناانصافی نہیں ہو گی اور عدلیہ کے سیکھنے کے لیے بھی اس کیس میں ایک سبق ہے۔

بی بی سی اردو کے شہزاد ملک نے بتایا کہ کراچی سے تعلق رکھنے والی ٹی وی آرٹسٹ عتیقہ اوڈھو کے خلاف مقدمہ سنہ 2011 میں اس وقت درج کیا گیا تھا جب وہ کراچی سے اسلام آباد سفر کر رہی تھیں کہ وفاقی دارالحکومت کے بےنظیر بھٹو انٹرنیشل ایئر پورٹ پر ان کے سامان سے مبینہ طور پر شراب کی دو بوتلیں برآمد ہوئی تھیں۔

جب یہ معاملہ اخبارات کی زینت بنا تو اس وقت کے پاکستان کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اس معاملے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے حکام کو قانون کے مطابق کارروائی کرنے کا حکم دیا تھا جس پر کسٹم کے حکام نے مذکورہ اداکارہ کے خلاف شراب کی برآمدگی کا مقدمہ درج کیا تھا۔

عتیقہ اوڈھو کے خلاف جب مقدمہ درج کیا گیا تھا اس وقت وہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ میں اہم عہدے پر تعینات تھیں۔

یاد رہے کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے ہی مارچ سنہ 2007 میں اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف صدارتی ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں بھجوایا تھا جو کہ سپریم کورٹ نے مسترد کر دیا تھا۔

اس مقدمے میں عتیقہ اوڈھو متعدد بار عدالت میں پیش ہوچکی ہیں اور عدالتی ریکارڈ کے مطابق وہ چھ ماہ تک مسلسل عدالت میں پیش ہوتی رہیں جس کے بعد عدالت نے اُنھیں مستقل طور حاضری سے استثنیٰ دے دیا کیونکہ ملزمہ کا موقف تھا کہ اُنھیں ہر پیشی کے لیے کراچی سے راولپنڈی آنا پڑتا ہے۔

اس مقدمے کے اندراج کے بعد ملزمہ عتیقہ اوڈھو نے راولپنڈی کی ایڈنشل سیشن جج کی عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری بھی کروالی تھی۔

ضابطہ فوجداری کے قانون کے مطابق اگر کسی ملزم سے شراب کی بوتلیں برآمد ہو جائیں تو متعقلہ تھانے کا سٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) بھی ملزم کو شخصی ضمانت پر رہا کرنے کا مجاز ہے۔

اس مقدمے کے اندارج کے بعد تفتیش کے لیے راولپنڈی کی پولیس نے ملزمہ کا بیان ریکارڈ کیا تھا اور عدالت عظمیٰ کے احکامات کی روشنی میں عتیقہ اوڈھو کے خلاف مقدمے کا چالان 14 روز میں مقامی عدالت میں پیش کردیا تھا۔

2011 میں آل پاکستان مسلم لیگ کے ترجمان فواد چوہدری نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’عتیقہ اوڈھو نے بتایا ہے کہ اُنھیں سیاسی وابستگی کی بنا پر اس مقدمے میں ملوث کیا گیا ہے۔‘

اُنھوں نے کہا تھا کہ عتیقہ اوڈھو کے بقول اُنھوں نے نہ تو کبھی شراب نوشی کی اور نہ ہی وہ شراب کی بوتلیں لے کر جارہی تھیں۔

عتیقہ اوڈھو 1990 کی دہائی سے پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری میں ایک جانا مانا نام ہیں۔ انھوں نے پی ٹی وی کے مشہور ڈرامے 'ستارہ اور مہرالنسا' میں ستارہ کے کردار سے مقبولیت حاصل کی تھی۔ ان کے مشہور ڈراموں میں عکس، تلاش، ذکر ہے کئی سال کا اور دیگر کئی نام شامل ہیں۔ انھوں نے مجھے چاند چاہیے، دوبارہ پھر سے، ممی اور جو ڈر گیا وہ مر گیا کے نام سے کچھ فلموں میں بھی اداکاری کی ہے۔

انھوں نے 2004 میں عتیقہ اوڈھو کاسمیٹکس کے نام سے اپنی میک اپ کمپنی متعارف کرائی تھی۔