تصاویر: ہٹلر، امریکی صدور اور مہاراجاؤں کی ’گاڑیاں‘

انڈیا کی ریاست بہار کے شہر پٹنہ کے رہائشی آصف وصی کے پاس پرانے زمانے کی کاروں کے علاوہ سائیکل اور بائیک کے بھی کئی ماڈلز ہیں۔ پٹہ میں منیش شانڈلے نے کاریں جمع کرنے والے اس فنکار سے بات چیت کی۔

ماڈل

،تصویر کا ذریعہMaNISH SHANDILYA/BBC

،تصویر کا کیپشنآصف وصی کے پاس ہٹلر کی مرسڈیز بینز جیسی کار کا ماڈل بھی ہے۔
ماڈل

،تصویر کا ذریعہManish shandilya/bbc

،تصویر کا کیپشنیہ ہیں سنہ 1938 کے بعد امریکی صدور کی الگ الگ کاروں کے ڈائیکاسٹ ماڈل۔ ڈائیکاسٹ ماڈل یعنی کسی چیز کا ایسا ہی ماڈل جو دیکھنے میں تو کھلونے جیسا ہوتا ہے مگر یہ محض کھلونا نہیں ہوتا۔ یہ ماڈل اصل چیز کے چھوٹے روپ ہوتے ہیں اور انہی باریکیوں سے مزین ہوتا ہے۔
ماڈل

،تصویر کا ذریعہManish shandilya/bbc

،تصویر کا کیپشن1820 میں بنے پہلی سائیکل کا ماڈل۔ آصف وصی کے پاس گذشتہ کئی ادوار کی سائیکلوں کے ماڈلز ہیں۔ ان ماڈل کو دیکھنے کے بعد سائیکلوں کی کہانی آسانی سے سمجھی جا سکتی ہے۔
ماڈل

،تصویر کا ذریعہManish shandilya/bbc

،تصویر کا کیپشندنیا کی پہلی چار پہیوں والی گاڑی۔
ماڈل

،تصویر کا ذریعہManish shandilya/bbc

،تصویر کا کیپشنآصف کی اس کلیکشن کی بات کریں تو موٹر بائیکس میں ان کے پاس بی ایم ڈبلیو، ہارلے ڈیویسن، ڈکاٹی اور ہونڈا کے ماڈلز ہیں۔ ان کے پاس بی ایم ڈبلیو کا وہ ماڈل بھی ہے جس کا استعمال اداکار عامر خان نے فلم سیریز ’دھوم‘ کی ایک فلم میں کیا تھا۔
ماڈل

،تصویر کا ذریعہManish shandilya/bbc

،تصویر کا کیپشن1936 کا مرسیڈز کمپنی کا وہ ماڈل جسے کمپنی نے خاص طور پر اندور کے مہاراجہ یشونت راؤ ہولکر کے لیے بنایا تھا۔
ماڈل

،تصویر کا ذریعہManish shandilya/bbc

،تصویر کا کیپشنآصف وصی نے اپنی کلیکشن کے لیے تمام معلومات انٹرنیٹ سے حاصل کیں۔ 50 سالہ آصف کے پاس لگ بھگ 800 ایسے ماڈلز ہیں جن میں تقریباً 500 کاروں کے ماڈل اور 300 سائیکلوں اور بائیکس کے ماڈل ہیں۔