موسم سرما کی آمد پر گُڑ کا تحفہ

خیبر پختونخوا کا ضلع چارسدہ گنے سے رس نکال کر گڑ بنانے کے لیے کافی مشہور ہے۔ تحریر و تصاویر، زین اللہ خان

گڑ

،تصویر کا ذریعہZAIN ULLAH KHAN

،تصویر کا کیپشنخیبر پختونخواہ کا ضلع چارسدہ کو نہ صرف چمڑے سے بنے چپلوں اور لوکل کارخانوں میں تیار کیے جانے والے کپڑے (جسے مقامی زباں میں خامتاء کہتے ہے) سے جانا جاتا ہے بلکہ گنے سے رس نکال کر گڑ بنانے کے لی بھی کافی مشہور ہے۔
گڑ

،تصویر کا ذریعہZAIN ULLAH KHAN

،تصویر کا کیپشنگڑ بنانے والے یہ کارخانے ہر سال اکتوبر سے لے کر اپریل تک گنے کے رس کو پکا کر اس سے گڑ بناتے ہیں۔
گڑ

،تصویر کا ذریعہZAIN ULLAH KHAN

،تصویر کا کیپشنگنے کی کم قیمت کی وجہ سے اکثر کاشتکار اسے چینی کی ملوں کو فروخت کرنے کی بجائے گڑ بنانے کو ترجیح دیتے ہیں۔
گڑ

،تصویر کا ذریعہZAIN ULLAH KHAN

،تصویر کا کیپشنایک ٹن گنے سے 100 کلوگرام چینی پیدا ہوتی ہے، لیکن اگر ہم گڑ کی پیداوار کرتے ہیں تو ایک ٹن گنے سے 140 کلو گرام گڑ بنتا ہے، جو کہ براہ راست 40 فیصد زیادہ پیداوار ہے۔
گڑ

،تصویر کا ذریعہZAIN ULLAH KHAN

،تصویر کا کیپشنگنے کے رس کو پکا کر اس کا پیسٹ بنایا جاتا ہے اور پھر اس پیسٹ کو ٹھنڈا کر کے گول گول شکل میں بنا کر رکھ دیا جاتا ہے۔
گڑ

،تصویر کا ذریعہZAIN ULLAH KHAN

،تصویر کا کیپشنپاکستان میں گنے کی فصلوں کے تحقیقاتی ادارہ کی 2014-16 کی شماریاتی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں سالانہ 4200 ٹن گنے کی پیداوار ہوئی۔
گڑ

،تصویر کا ذریعہZAIN ULLAH KHAN

،تصویر کا کیپشنچینی کے مقابلے میں گڑ انسانی جسم کے لیے غذائیت، متوازن کھانے کے ساتھ ساتھ انتہائی فائدہ مند ہے۔
گڑ

،تصویر کا ذریعہZAIN ULLAH KHAN

،تصویر کا کیپشنپاکستان اور افعانستان جیسے ممالک میں چینی کی جگہ گڑ کی چائے بھی کافی مقبول ہے جبکہ اس میں خشک میواجات ملا کر بطور تحفہ بھی دیا جاتا ہے۔