’تمہارے بعد اب کبھی ڈانس نہیں کروں گا‘

کرسمس کے روز انتقال کر جانے والے مشہور گلوکار جارج مائیکل کی زندگی کی کہانی کچھ تصاویر کی زبانی۔

جارج مائیکل
،تصویر کا کیپشنمشہور برطانوی گلوکار جارج مائیکل کرسمس کے روز 53 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ جارج مائیکل انگریزی موسیقی کے افق پر سنہ 1980 کی دہائی میں اس وقت نمودار ہوئے جب انھوں نے اپنے بچپن کے دوست کے ساتھ ’ویم‘ نامی بینڈ کی پہلی البم ریلیز کی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس بینڈ کا شمار اپنے عہد کے کامیاب ترین اور سب سے زیادہ چاہے جانے والے میوزک بینڈز میں ہونے لگا۔
جارج مائیکل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنویم دراصل مائیکل اور ان کے سکول کے دنوں کے دوست اینڈریو رِگلی کی مشترک کوشش تھی۔ ان کی دو البمز میوزک چارٹس پر پہلے نمبر پر رہیں اور ان کے مشہور ترین گانوں میں ’لاسٹ کرسمس، کلب ٹروپیکانا، ویک می اپ‘ شامل ہیں۔
مائیکل

،تصویر کا ذریعہPA

،تصویر کا کیپشناپنے دو رکنی بینڈ کے علاوہ مائیکل نے اپنا سنگل سنہ 1984 میں ریلیز کیا۔ ’کئیر لیس وسپرز‘ کو عالمی سطح پر بہت پذیرائی ملی اور اس نغمے کی دُھن مائیکل کی شناخت بن گئی۔
جارج مائیکل

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنسنہ 1985 میں خیراتی اداروں کی امداد کے لیے لندن کے ویمبلی سٹیڈیم میں موسیقی کا میلہ منعقد ہوا تو مائیکل نے نہ صرف اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا بلکہ میلے کے آخری دن انھوں نے اس عہد کے بڑے بڑے فنکاروں کے ہمراہ نغمے گائے۔ یہاں مائیکل کے ساتھ دائیں سے بائیں ہاروی گولڈسمتھ، بونو، پال میکارٹنی، بوب گِلڈوف اور فریڈی مرکری کو دیکھا جا سکتا ہے۔
جارج مائیکل

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناور پھر جب سنہ 2000 میں خیراتی اداروں کے لیے ایک شو اٹلی کے شہر موڈینا میں منعقد کیا گیا تو تب بھی مائیکل نے وہاں بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔
جارج مائیکل

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشناپنے کیرئر کے دوران مائیکل نے بڑے بڑے فنکاروں کے ساتھ مل کر کئی نغمے بنائے اور شو کیے۔ ان میں اریتھا فرینکلن، ایلٹن جان، کوئین اور میری بلائیج بھی شامل تھے۔ اریتھا فرینکلن کے ساتھ ان کا گانا ’آئی نو یو آر ویٹنگ فار می‘ برطانیہ اور امریکہ دونوں میں ’نمبر ون‘ قرار پایا۔
جارج مائیکل

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشناپنے بینڈ ویم سے الگ ہونے کے بعد مائیکل کے ذاتی کیرئر کو خوب عروج ملا اور اس دوران ان کے حصے میں کئی ایک ایوراڈز اور انعامات بھی آئے۔ ان کے ایوراڈ یافتہ نغموں میں ’فیتھ، جیزس ٹو اے چائیلڈ اور فاسٹ لوّ‘ شامل رہے۔
جارج مائیکل

،تصویر کا ذریعہPA

،تصویر کا کیپشنمائیکل کے مداحوں میں بڑی بڑی شخصیات بھی شامل تھیں، جن میں سے شہزادی ڈیانا اور شہزادہ چارلس کا شمار مائیکل کے ذاتی دوستوں میں ہوتا ہے۔
جارج مائیکل

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسنہ 1997 میں جب شہزادی ڈیانا کا انتقال ہوا تو مائیکل نے خاص طور پر ان کی آخری رسومات میں شرکت کی اور سر ایلٹن جان کی طرح اپنی دوست کے لیے ایک الوداعی گیت بھی گایا۔
جارج مائیکل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسنہ 1980 اور 90 کی دہائیوں کی کامیابیوں کے بعد مائیکل کی زندگی اور ان کی شناخت پر سوالیہ نشان لگنا شروع ہو گئے اور وہ تنازعات میں گھر گئے۔ اسی دور میں سنہ 1997 میں انھیں امریکہ کے شہر لاس انجلیس کے ایک عوامی بیت الخلاء میں جنسی عمل کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا۔ اس گرفتاری نے مائیکل کو یہ تسلیم کرنے پر مجبور کر دیا کہ وہ ’گے‘ ہیں۔
جارج مائیکل

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسنہ 1993 میں مائیکل کو اس وقت شدید دھچکہ پہنچا جب ان کے دیرینہ ساتھی اینسلمو فلیپا کا دماغ کی رگ پھٹنے سے انتقال ہو گیا۔ تین برس بعد ان کی ملاقات کینی گوس سے ہوئی اور یہ دونوں سنہ 2009 تک اکٹھے رہے۔
جارج ماییکل

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنعوام کی نظروں سے قدرے دور رہنے کے بعد سنہ 2007 میں وہ مشہور برطانوی مزاح نگار اور اداکار رِکی جرویس کی ٹی وی سیریز ’ایکسٹرا‘ میں نمودار ہوئے اور اپنا تمسخر اڑانے میں کوئی عار محسوس نہیں کی۔ امریکہ میں گرفتاری کی بات کرتے ہوئے انھوں نے اسے مذاق میں اڑاتے ہوئے کہا کہ وہ اینڈی مِلمین کے ساتھ وہاں کوڑا پھینکنے گئے تھے۔
جارج مائیکل

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنمائیکل کی لاپروائیوں کا یہ سلسلہ جاری رہا اور پھر سنہ 2010 میں انھیں لندن میں ایک دوکان میں اپنی گاڑی دے مارنے کے الزام میں آٹھ ہفتوں کی قید کی سزا بھی بھگتا پڑی۔ انھوں نے عدالت میں اقرار کیا کہ ان کے پاس نشہ آور’کینیبس‘ موجود تھی اور وہ نشے کی حالت میں گاڑی چلا رہے تھے۔
جارج مائیکل

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنگذشتہ کچھ سالوں میں مائیکل کو کئی بیماریوں کا سامنا رہا۔ سنہ 2011 میں انھیں مہلک قسم کا نمونیا ہو گیا تھا جس کے بعد انھیں کافی عرصہ ایک ہسپتال میں رہنا پڑا تھا۔ بعد میں انھوں نے ذرائع ابلاغ کو بتایا تھا کہ ہسپتا ل والوں کو ’میری زندگی بچانے میں تین ہفتے لگے۔ میں بہت خوش قسمت ہوں کہ آج یہاں زندہ کھڑا ہوں۔‘
جارج مائیکل

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنمائیکل نے اپنا آخری میوزک ٹؤر 2010 میں لندن اولمپکس کی تقریب کے بعد کیا تھا۔ اتوار 25 دسمبر کو جارج مائیکل کے انتقال سے قبل ان کی جانب سے میڈیا کو بتایا گیا تھا کہ وہ اپنی آخری البم کے 12 سال بعد، آج کل ایک نئی میوزک البم پر کام کر رہے ہیں۔