’ارشد شریف کا ٹارگٹڈ قتل ہوا، پوسٹ مارٹم سے تشدد کی تصدیق ہوئی، میڈیا پر نشر ہونے والی تصاویر درست ہیں‘

ارشد شریف

،تصویر کا ذریعہGetty Images

حکومت اور پمز ہسپتال کی انتظامیہ نے کینیا میں قتل کیے جانے والے پاکستانی صحافی ارشد شریف کے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ان کے جسم پر تشدد کے نشانات اور میڈیا پر سامنے آنے والی پمز کی رپورٹ کی تصاویر کی بھی تصدیق کی ہے۔

وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ جس طرح کے ارشد شریف کے جسم پر نشانات ہیں اس سے لگتا ہے کہ انھیں ٹارچر کیا گیا ہے۔ تاہم انھوں نے مقتول صحافی کے خاندان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ان زخموں کی تفصیلات نہیں بتائیں گے۔

خیال رہے کہ نجی ٹی وی دنیا کے کامران شاہد نے اپنے پروگرام میں صحافی ارشد شریف کے پوسٹ مارٹم رپورٹ کی تصاویر نشر کی تھیں، جس پر ان کی اہلیہ نے غم کا اظہار کیا تھا اور پمز ہسپتال سے ان تصاویر کے لیک ہونے پر سخت ردعمل کا بھی اظہار کیا تھا۔

جمعرات کو نجی ٹی وی جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے وزیرداخلہ نے کہا کہ یہ بیانیہ غلط ہے کہ ارشد شریف کا قتل غلط شناخت کی بنیاد پر ہوا۔ ان کے مطابق کینیا میں تحقیقاتی ٹیم کو ایسا کچھ نہیں ملا ہے۔

ان کے مطابق تحقیقاتی ٹیم نے دیکھا کہ کینیا میں جہاں یہ قتل ہوا وہ ایک ویران سڑک ہے، جہاں دن بھر میں تفتیش کاروں کو صرف تین گاڑیاں گزرتی نظر آئی ہیں۔ وہاں کوئی ناکہ وغیرہ نہیں تھا۔

وزیر داخلہ کے مطابق وقار اور خرم کا اس قتل میں اہم کردار ہیں، جو اپنے فون کا ڈیٹا دینے سے انکاری ہیں۔ ان کے مطابق ہو سکتا ہے کہ پہلے ارشد شریف پر ٹارچر کیا اور پھر پولیس کو ساتھ ملا کر یہ ایک فائرنگ والا ڈھونگ رچایا گیا۔ ان کے مطابق وہاں کی پولیس اس طرح کی ساکھ رکھتی ہے کہ وہ اس طرح کے کام کرتی ہے۔

ارشد شریف

،تصویر کا ذریعہEPA

یہ بھی پڑھیے

ارشد شریف

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ارشد شریف کے پوسٹ مارٹم کی تصاویر ہسپتال سے ہی لیک ہوئیں: ڈائریکٹر پمز

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

پمز ہسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر خالد مسعود نے تصدیق کی ہے کہ ارشد شریف کے پوسٹ مارٹم رپورٹ کی تصاویر درست ہیں اور یہ تصاویر ہسپتال سے ہی لیک ہوئی ہیں، جن کے بارے میں تحقیقات کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق مقتول صحافی ارشد شریف کے جسم پر زخموں کے نشانات ہیں، کچھ ناخن بھی ہیں اور یہ کہ تصاویر اسلام آباد کے پمز ہسپتال سے ہی لیک ہوئی ہیں۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے شاہ زیب خان زادہ کے ساتھ بات کرتے ہوئے پمز ہسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر خالد مسعود نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم کرنے والی ٹیم کے سربراہ نے ارشد شریف کے جسم پر تشدد کے 12 نشانات کی نشاندہی کی ہے۔

ڈاکٹر خالد نے بتایا کہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق ارشد شریف کی دائیں کلائی پر تشدد کے نشانات ملے، سیدھے ہاتھ کی 4 انگلیوں کے ناخن نہیں تھے، بائیں ہاتھ کی انگلی پر بھی زخم کا نشان ملا، اس طرح 12 مختلف جگہوں پر زخم کے نشانات ملے، اس حوالے سے فارنزک ہو رہا ہے جس کی رپورٹ میں سامنے آئے گی تو پتا چل سکے گا کہ کتنا تشدد ہوا، ہوا بھی یا نہیں ہوا۔

ڈائریکٹر پمز ہسپتال کا کہنا تھا کہ ہمیں کینیا میں ہوئے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ نہیں ملی، ہمیں نہیں پتا کہ انھوں نے پوسٹ مارٹم کے لیے جسم کے کس حصے کو استعمال کیا، ہم نے جب دیکھا تو ناخن نہیں تھے، ہوسکتا ہےکینیا میں پوسٹ مارٹم کے دوران ناخن نکالے گئے ہوں۔

پمز کے ڈائریکٹر نے مزید بتایا کہ قانون کے تحت ابتدائی رپورٹ پولیس کو دے دی ہے، ان کے اہلخانہ میں سے کسی نے تحریری درخواست نہیں دی ہے۔ تاہم اگر کوئی درخواست آئے گی تو رپورٹ دے دیں گے۔