’جنگ‘ اخبار کا آخری اداریہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, محمد حنیف
- عہدہ, صحافی و تجزیہ کار
کیا آپ کے ساتھ بھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کسی مشہور بزرگ کی وفات کی خبر سُن کر افسوس سے پہلے یہ خیال آتا ہے کہ کیا وہ ابھی زندہ تھے، میرا تو خیال تھا کب کے نکل لیے۔
جنگ اخبار نے اپنے ادارتی صفحے پر اداریہ چھاپنا بند کیا تو کچھ صحافی بھائیوں نے سوشل میڈیا پر ایک ’عہد کے خاتمے‘ کا رونا رویا۔ ڈوبتی ہوئی صحافت پر نوحہ پڑھا۔ اگر اخبار کا مدیر ہی نہیں تو اداریہ کیا۔ اگر اخبار کی ادارتی پالیسی صرف اشتہار ہے تو پھر اداریہ بکنے کا کیا فائدہ۔
اور پھر میری عمر کے ہر صحافی کا تازیانہ کہ صحافت تو ہوتی تھی ہمارے زمانے میں، اب تو صرف فیک نیوز کا دور ہے۔
کیبل ٹی وی، سمارٹ فون اور سوشل میڈیا سے پہلے ہم جیسے نیم پڑھے لکھے لوگوں کے لیے اخبار خبروں کا ہی نہیں تفریح کا ذریعہ بھی ہوتا تھا۔
حجام کی دکان پر، چائے کے کھوکھے پر یا گاؤں کی چوپال میں ایک ہی اخبار کو درجن سے زیادہ لوگ پڑھتے تھے اور کچھ تو ایسے پڑھتے تھے جیسے ہم آج کل سوشل میڈیا پر ڈوم سکرولنگ کرتے ہیں۔ دن ختم ہو جاتا ہے لیکن ریلیں ختم نہیں ہوتیں۔
گاؤں کی نہ ختم ہونے والی بور دوپہروں میں اخبار پڑھتے نہیں تھے، چاٹتے تھے۔ ساری خبریں، پھر خبروں کے بقیے، سارے کالم پڑھنے کے بعد کلاسیفائیڈ صفحے پر ضرورتِ رشتہ، مکان کرائے کے لیے خالی ہے، عمرے کا پیکج اور آج کے سونے کے بھاؤ بھی پڑھ جاتے تھے۔
مجھے نہیں یاد اس زمانے میں بھی کبھی اداریہ پڑھا ہو۔ وہ تو لکھا ہی اس لیے جاتا تھا کہ کوئی نہ پڑھے۔
ایک صحافی نے جنگ کا اداریہ بند ہونے پر کمنٹ لینے کے لیے فون کیا۔ میں نے عرض کیا صحافت میں کتنے سال ہو گئے؟ انھوں نے کہا 25 سال سے زیادہ۔ میں نے پوچھا کبھی جنگ کا اداریہ پڑھا؟ انھوں نے کہا کبھی نہیں۔ لیکن ظاہر ہے اس پر ایک کہانی تو بنتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اداریہ تو چھوڑیں اب کاغذ والا اخبار بھی صرف سرکاری دفاتر میں یا ایک خاص عمر کے صحافیوں کے گھر میں ملے گا۔
اخبار کے بارے میں ہمیشہ کہا گیا ہے اور درست کہا گیا ہے کہ آج کی تازہ خبر جس کاغذ پر چھپی، اگلے دن اس میں پکوڑے بیچے جاتے ہیں۔
پچھلے کچھ سالوں میں کبھی تندور سے روٹی یا کسی ریڑھی سے پکوڑے لیے ہیں تو وہ ملتے تو اخبار میں ہی لپٹے ہوئے ہیں، لیکن وہ اخبار مقامی نہیں ہوتا، چینی زبان میں ہوتا ہے۔
اس سے گہری دوستی کیا ہو سکتی ہے کہ ہمارا برادر ملک ہماری دفاعی ضروریات بھی پوری کر رہا ہے اور ہمارے پکوڑوں کی پیکنگ میں بھی مدد کر رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ہمیشہ سے حیرت رہی کہ اخبار کے قاری کالم تو بہت شوق سے پڑھتے ہیں، اداریہ کیوں نہیں پڑھتے۔ شاید اس لیے کہ اداریے پر نہ کسی کی تصویر ہوتی ہے نہ کسی کی بائی لائن۔
مقصد شاید یہ ہوتا تھا کہ تین، چار پیروں میں اخباری ادارے کی پالیسی بیان کر دی جائے۔ اخبار بین کو پالیسی خبریں اور کالم پڑھ کر ہی سمجھ آ جاتی ہے تو وہ اداریہ کیوں پڑھے؟
اور اگر ایک مرتے ہوئے میڈیم میں مسئلہ صرف کچھ سال مارکیٹ میں اور زندہ رہنے کا ہو تو اخبار اپنی ادارتی پالیسی کے بارے میں کیا سوچے اور کیوں سوچے۔
اپنی صحافتی زندگی میں ایک آدھ بار ہی کسی اداریے سے سیاست میں ہلچل ہوتے دیکھی ہے۔ کراچی کے ایک انگریزی اخبار نے پرانی ایم کیو ایم والے الطاف حسین کو دبے لفظوں میں فاشسٹ کہتے ہوئے اخبار کے پہلے صفحے پر اداریہ چھاپ دیا۔
تمام میڈیا سیٹھوں کو ساری رات الطاف بھائی کا لیکچر سننا پڑا اور صبح ناشتے پر معافی کے بعد اخبارات چھاپنے کی اجازت ملی۔
تب سے اداریے لکھنے پر قلم کے نامعلوم مزدور مقرر تھے۔ ان کی اگر نوکری گئی ہے تو اس کا افسوس ہے۔ اداریہ ختم ہونے کا کوئی افسوس نہیں۔
جنگ کا آخری اداریہ پڑھ لیا۔ ایک سیرت النبی کے بارے میں ہے، دوسرا پاک چین دوستی کے بارے میں۔
یقین جانیے ان میں ایسی کوئی بات نہیں جو آپ خود نہیں لکھ سکتے یا بہتر نہیں لکھ سکتے۔ تو جنگ والوں کا تنگ نہ کریں، اپنا اداریہ خود لکھ لیا کریں۔











