خیرپور میں پولیس کا ’ڈرون حملہ‘، دو ہلاکتیں اور تین افسران کی معطلی: ’ہمارے ساتھ یہ ظلم کیوں کیا گیا؟‘

سندھ، پولیس، ڈرون

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو، کراچی
  • مطالعے کا وقت: 5 منٹ

سندھ کے شمالی ضلع خیرپور میں پولیس کے ڈرون حملے میں مبینہ طور پر دو افراد کی ہلاکت اور متاثرین کے احتجاج کے بعد تین ایس ایچ اوز کو معطل کر کے ان کے خلاف تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔

ضلع خیرپور کی حدود میں سکھر پولیس کی ایک کارروائی کے دوران مبینہ طور پر دو شہریوں کی ہلاکت ہوئی جس پر اب پولیس اور محکمۂ انسداد دہشتگردی کی دو الگ تحقیقات شروع کی گئی ہیں۔

آئی جی سندھ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق کندھرا سمیت تین تھانوں کے تین ایس ایچ اوز کو معطل کیا گیا ہے جبکہ تھانہ کندھر کے ایس ایچ او شوکت آرائیں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

ادھر وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے اس واقعے پر ڈی آئی جی سکھر سے رپورٹ طلب کی ہے اور کہا ہے کہ ’اگر تحقیقات کے دوران کسی بھی فرد یا اہلکار کی ذمہ داری ثابت ہوئی تو اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔‘

سندھ، پولیس، ڈرون

’ہمارے خلاف کوئی کچی رپورٹ بھی نہیں‘

یہ واقعہ ضلع خیرپور کی حدود میں پیش آیا۔ ایس ایس پی خیرپور سعود مگسی نے بی بی سی کو بتایا کہ سکھر پولیس کی ٹیم نے تھانہ کندھرا کے ایس ایچ او شوکت آرائیں کی سربراہی میں ایک مطلوب ملزم کی تلاش میں سرچ آپریشن کے دوران علاقے کا گھیراؤ کیا تھا۔

ان کے بقول اس دوران ’فائرنگ کا تبادلہ ہوا‘ جس کے بعد پولیس کی طرف سے ’ڈرون استعمال کیا گیا جس میں دو افراد ہلاک ہو گئے۔‘

ہلاک ہونے والوں کی شناخت 12 سالہ زمین ولد شہباز دینو اور 27 سالہ صدرالدین ولد نظام الدین کے ناموں سے ہوئی ہے۔ زخمیوں میں 27 سالہ ولی شاہ ولد اسد شاہ دھاریجو اور عبدالصمد ولد محمد نواز دھاریجو شامل ہیں۔

جب ہم نے ایس ایس پی خیرپور سعود مگسی سے سوال کیا کہ کیا یہ ہلاکتیں ڈرون حملے سے ہوئیں تو انھوں نے اس کی تصدیق کی۔

اسی طرح تھانہ شاہ لطیف کے پولیس اہلکاروں کے مطابق صبح ساڑھے تین بجے گوٹھ سعید خان لاکو میں ایک ڈرون حملہ ہوا جس کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور دو شدید زخمی ہوئے۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ایس ایس پی سکھر اظہر مغل نے بی بی سی کو بتایا کہ جب سکھر پولیس چار افراد کے قتل میں ملوث ملزم نادر دہاریجو کی گاؤں میں موجودگی کی اطلاع پر کندھرا پہنچی تو 'فائرنگ ہوئی جس میں یہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔'

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ہلاکتیں ڈرون سے ہوئیں تو ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے تحقیقات جاری ہے۔

دوسری جانب ایس ایس پی سعود مگسی کا کہنا ہے کہ ہلاکتیں مارٹر کے پیلٹس لگنے سے ہوئی ہیں۔

شکارپور کے ایک سابق ایس ایس پی جو اس وقت سندھ سے باہر تعینات ہیں نے بتایا کہ پولیس کے پاس مختلف کمپنیوں کے کواڈ کاپٹر ڈرونز ہیں جو ایک کلو سے چار کلو مارٹر اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق بعض اوقات موڈیفائی کیے گئے گرنیڈ بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔

متاثرین نے لاشوں سمیت خیرپور میں ایس ایس پی کے دفتر کے باہر دھرنا دیا جو کئی گھنٹے جاری رہا جس کے دوران پولیس اور مشتعل افراد کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔

مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے محمد نواز نے بتایا کہ جب رات کو تین بجے فائرنگ کی آواز سے گاؤں والے باہر نکلے تو پولیس نے ’ڈرون سے حملہ کیا۔ ہمارے خلاف تو کبھی کوئی کچی رپورٹ بھی داخل نہیں ہوئی، نہ کسی چوری میں ملوث ہیں۔‘

ایک متاثرہ خاتون نے بتایا کہ ان کا شوہر صدر الدین ’وہیں گھر میں مر گیا، اس کے دماغ کا علاج جاری تھا۔ اس کا ایک مہینے کا بچہ ہے، دوسرا تین سال کا بیٹا ہے۔ پولیس بتائے کہ ان کے ساتھ یہ ظلم کیوں کیا گیا ہے؟‘

سندھ، پولیس، ڈرون

تین ایس ایچ اوز کی معطلی

اس احتجاج کی خبریں سامنے آنے کے بعد صوبائی وزیر داخلہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی سکھر سے تفصیلات طلب کر لیں اور سی ٹی ڈی کے ایڈیشنل آئی جی ذوالفقار لاڑک کو انکوائری آفیسر مقرر کیا۔ انھیں ہدایت جاری کی گئی کہ واقعے کی شفاف اور جامع تحقیقات کی جائیں۔

اسی طرح آئی جی سندھ نے تھانہ کندھرا، پٹنی اور صالح پٹ کے تینوں ایس ایچ اوز کو معطل کر دیا اور ان کے خلاف سخت قانونی و محکمانہ کارروائی کی ہدایت جاری کی ہے۔

واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس ایس پی گھوٹکی کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی گئی ہے۔