بابر اعظم پاکستانی کرکٹ ٹیم کی کپتانی سے مستعفی: ’بابر کو دوبارہ کپتانی قبول کرنی ہی نہیں چاہیے تھی‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کی ون ڈے کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔
انھوں نے یہ اعلان منگل کی شب سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر ایک پیغام میں کیا۔ جبکہ بدھ کو پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ان کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے۔
اپنے پرستاروں کے نام پیغام میں بابر اعظم کا کہنا تھا کہ انھوں نے پاکستانی ٹیم کے کپتان کے عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے، اور وہ اس بارے میں کرکٹ بورڈ اور ٹیم مینجمنٹ کو گذشتہ ماہ بتا چکے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’اس ٹیم کی قیادت کرنا اعزاز کی بات ہے، لیکن اب وقت آگیا ہے کہ میں استعفیٰ دوں اور اپنے کھیل پر توجہ دوں۔‘
بابر اعظم نے کہا کہ کپتانی ان کے لیے ایک فائدہ مند تجربہ رہا ہے، لیکن اس نے ان پر کام کے بوجھ میں اضافہ کیا۔
ان کا کہنا تھا ’میں اپنی کارکردگی کو ترجیح دینا، اپنی بلے بازی سے لطف اندوز ہونا اور اپنے خاندان کے ساتھ وقت گزارنا چاہتا ہوں، جس سے مجھے خوشی ملتی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہX/BabarAzam258
بابر اعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستانی ٹیم کی کپتانی کی ذمہ داری سے الگ ہونے کے بعد وہ اپنے کھیل کو بہتر بنانے پر زیادہ توجہ دے سکیں گے اور وہ ایک کھلاڑی کے طور پر پاکستانی کرکٹ ٹیم کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہنے کے لیے پرجوش ہیں۔
اپنے بیان میں انھوں نے غیر متزلزل حمایت اور ان پر بھروسہ کرنے کے لیے مداحوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بابر اعظم کو سنہ 2019 کے ورلڈ کپ کے بعد دونوں وائٹ بال فارمیٹس کی کپتانی جبکہ سنہ 2020 میں ٹیسٹ کرکٹ میں بھی کپتانی کے فرائض سونپے گئے تھے۔
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اس کے بعد سے بابر اعظم کی فارم میں گذشتہ کپتانوں کے برعکس بہتری دیکھنے کو ملی تھی اور سنہ 2022 تک وہ اپنی فارم کے تسلسل کے باعث دنیا کے بہترین بلے بازوں میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو گئے تھے۔
بابر کی زیر قیادت پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے ٹیمیں دونوں ہی آئی سی سی ون ڈے رینکنگ میں سرِ فہرست رہیں تاہم ان پر فیصلہ کن مواقع پر غیریقینی کا شکار ہونے کے حوالے سے تنقید کی جاتی رہی۔
سنہ 2023 میں انڈیا میں ہونے والے کرکٹ ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کی ناقص کارکردگی کے بعد بابر اعظم نے ٹیم کی کپتانی سے استعفی دے دیا تھا جس کے بعد شان مسعود کو ٹیسٹ جبکہ شاہین آفریدی کو ٹی ٹوئنٹی ٹیم کا کپتان مقرر کیا تھا۔
سنہ 2024 کے آغاز میں کرکٹ بورڈ کے چیئرمین پھر تبدیل ہوئے اور اس مرتبہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے نو عمر کپتان شاہین آفریدی کی شامت آئی اور ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے ٹیم کی کپتانی ایک بار پھر بابر اعظم کو سونپ دی گئی۔ تاہم آئرلینڈ سے شکست، انگلینڈ سے سیریز ہارنے اور پھر ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے پہلے ہی راؤنڈ میں امریکہ اور انڈیا سے شکست کے بعد انھیں کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
پی سی بی کا کیا کہنا ہے؟
پی سی بی نے بدھ کے روز جاری ایک بیان کہا ہے کہ بابر اعظم کی جانب سے ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹیم کی کپتانی سے دیا گیا استعفیٰ منظور کر لیا گیا ہے۔
بورڈ کا کہنا ہے کہ قومی سلیکشن کمیٹی کو مستقبل میں وائٹ بال کرکٹ کی حکمت عملی بنانے کا عمل شروع کرنے کا کام سونپا گیا ہے جس میں نئے کپتان کے لیے نام کی سفارش بھی شامل ہے۔
پی سی بی کا کہنا ہے کہ اگرچہ بورڈ نے بابر اعظم کی وائٹ بال کے کپتان کے طور پر حمایت کی تھی لیکن ان کا مستعفی ہونے کا فیصلہ ان کی جانب سے بیٹنگ پر توجہ دینے کی خواہش کو ظاہر کرتا ہے۔
پی سی بی نے جاری بیان میں کہا کہ بابراعظم کا فیصلہ بیٹنگ پر مکمل توجہ دینے کی ان کی خواہش ظاہر کرتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہX.com
’بابر کو دوبارہ یہ ذمہ داری قبول نہیں کرنی چاہیے تھی‘
سوشل میڈیا پر جہاں بابر کے مداحوں کی ایک بڑی تعداد انھیں خراجِ تحسین پیش کر رہی ہے وہیں ان پر تنقید کرنے والے یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ انھیں کپتانی رواں سال پاکستان سپر لیگ کے بعد قبول نہیں کرنی چاہیے تھی۔
خیال رہے کہ پی سی بی کی جانب سے گذشتہ برس نومبر میں انڈیا میں ہونے والے ورلڈ کپ سے ناکام لوٹنے پر بابر اعظم کو کپتانی سے ہٹا دیا تھا، جس کے بعد ٹی ٹوئنٹی ٹیم کا کپتان شاہین آفریدی کو بنایا گیا تھا اور انھیں صرف ایک ہی سیریز کے بعد ہٹا دیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہX/Imran
بابر اعظم نے جب کپتانی کی پیشکش دوبارہ قبول کی تھی تو اس دوران شاہین آفریدی کی پی سی بی کے حوالے سے ناراضگی کی خبریں مقامی میڈیا پر رپورٹ ہوئی تھیں جس کے پی سی بی چیئرمین محسن نقوی کو پاکستان کے ٹریننگ کیمپ ملٹری اکیڈمی کاکول جا کر شاہین سمیت دیگر کھلاڑیوں سے ملاقات کی تھی۔
اس حوالے سے ٹویٹ کرتے ہوئے ایک صارف نے لکھا کہ ’بابر پاکستان کے بہترین کپتان اور بلے باز تھے، پی سی بی نے غلطی کر دی۔‘
صحافی شاہد اسلم نے لکھا کہ ’تنازعات سے دور رہنا اچھی بات ہے اس سے آپ کی کارکردگی میں بہتری آئے گی۔‘
اسی طرح ایک صارف نے ٹویٹ کیا کہ ’بابر کو رواں سال کے آغاز میں دوبارہ یہ ذمہ داری قبول نہیں کرنی چاہیے تھی۔‘













