کابل: فضائی حملے کے بعد ریسکیو آپریشن جاری
کابل میں فارینزک لیبارٹری کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ شہر میں منشیات کے عادی افراد کے بحالی مرکز پر ہونے والے ایک فضائی حملے کے نتیجے میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان نے ایکس پر لکھا ہے کہ اس مرکز کو پیر کی شام نشانہ بنایا گیا اور طالبان حکومت کا دعویٰ ہے یہ فضائی حملہ پاکستان کی جانب سے کیا گیا ہے۔
تاہم پاکستان نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے پیر کی شام کیے گئے فضائی حملے میں کابل اور مشرقی افغان صوبے ننگرہار میں فوجی تنصیبات اور 'دہشت گردوں کے مراکز' کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
افغان وزارتِ صحت کے ترجمان شرافت زمان امرخیل نے بی بی سی کو بتایا کہ مرکز کے قریب کسی قسم کی عسکری تنصیبات نہیں ہیں۔
حکام کے مطابق اس مرکز میں تقریباً دو ہزار افراد زیرِ علاج تھے۔ افغان حکام کا دعویٰ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد سینکڑوں میں ہو سکتی ہے۔ جائے وقوعہ پر امدادی ٹیمیں مسلسل ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں، جبکہ حملے کے بارہ گھنٹے بعد بھی ملبے سے دھواں اٹھتا دیکھا جا سکتا تھا۔



