تیراہ میں سکیورٹی فورسز کے کیمپ کے سامنے فائرنگ کے واقعے میں پانچ افراد کی ہلاکت: صوبائی حکومت متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے، بیرسٹر سیف

،تصویر کا ذریعہJabran Shanwari
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو، پشاور
صوبہ خیبرپختونخوا کے علاقوں، ٹانک اور ضلع خیبر کی وادی تیراہ، میں دو بچیوں کی ہلاکت اور اِن واقعات کے خلاف احتجاج کے دوران کم از کم مزید پانچ افراد کی ہلاکت کے بعد ان علاقوں میں حالات تاحال کشیدہ ہیں۔
معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کے لیے سیاسی اتحاد اور قبائلی عمائدین پر مشتمل جرگوں نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا ہے جبکہ خیبرپختونخوا حکومت نے ان واقعات پر دُکھ کا اظہار کیا ہے۔
وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے وادی تیراہ میں مرنے والے افراد کے لیے فی کس ایک کروڑ جبکہ زخمیوں کے لیے 25 لاکھ روپے کا اعلان کیا ہے جبکہ انھوں نے عوامی نمائندوں اور قبائلی رہنماؤں پر مشتمل جرگہ بھی آج پشاور میں طلب کیا ہوا ہے۔
وادی تیراہ میں کیا واقعہ پیش آیا؟
اتوار کے روز خیبر پختونخوا کے قبائلی علاقے ضلع خیبر کی وادی تیراہ میں سکیورٹی فورسز کے کیمپ کے سامنے مظاہرین پر فائرنگ کے ایک واقعے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک جبکہ 16 زخمی ہوئے تھے۔
یہ افراد وادی تیراہ کے دور دراز علاقے پیر میلہ میں سنیچر کی شام مارٹر گولہ لگنے کے واقعے میں ایک بچی کی ہلاکت کے بعد لاش لے کر باغ بازار میں سکیورٹی فورسز کے کیمپ کے سامنے احتجاج کی غرض سے پہنچے تھے۔
مقامی صحافیوں اور سیاسی رہنماؤں کے مطابق اس موقع پر سکیورٹی فورسز کے کیمپ پر پتھراؤ کیا گیا جبکہ ایک گاڑی کو نذر آتش بھی کر دیا گیا۔ مقامی افراد کا الزام ہے کہ اس موقع پر ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں ہلاکتیں ہوئیں اور اس واقعے کی مختلف ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔ بی بی سی ان ویڈیوز کی آزادنہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔
اگرچہ سرکاری سطح پر ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کی گئی ہے تاہم ضلع خیبر سے پاکستان تحریک انصاف کے منتخب رُکن قومی اسمبلی اقبال وزیر اور مقامی صحافیوں نے بی بی سی کو کم از کم پانچ افراد کی ہلاکت جبکہ 16 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔
وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے بھی تیراہ میں سکیورٹی فورسز کے کیمپ کے باہر پیش آئے واقعے پر دُکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے متاثرین کے لیے معاوضوں کا اعلان کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اسی معاملے پر پیر کو تیراہ میں باڑہ سیاسی اتحاد اور مقامی قبائل کا جرگہ منعقد ہوا ہے جبکہ سرکاری سطح پر بلائے گئے جرگے نے مطالبات کے لیے ایجنڈا طے کر لیا ہے۔
ضلع خیبر سے پاکستان تحریک انصاف کے منتخب رکن صوبائی اسمبلی عبدالغنی آفریدی نے بی بی سی کو بتایا کہ آج کی بیٹھک میں ایجنڈا طے کیا گیا ہے اور اس ایجنڈے کے ساتھ وزیراعلی خیبر پختونخوا کی قیادت میں سکیورٹی فورسز کے اعلی افسران سے ملاقات کی جائے گی اور اس ملاقات میں تمام مسائل پر بات ہوگی ۔
ان کا کہنا تھا کہ اس ایجنڈے میں امن کا قیام اور علاقے میں تشدد کے واقعات کی مکمل تحقیقات شامل ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ تیراہ واقعات کی باقاعدہ ایف آئی آر درج کرنے، اسے عام کیے جانے اور اس واقعے کے ذمہ داران کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کا مطالبہ بھی ایجنڈے میں شامل ہے۔
ادھر قمبر خیل قبیلے کے افراد نے بڑی تعداد میں تیراہ کے دور افتادہ گاؤں بھوٹان کا رخ کیا ہے اور وہاں موجود مسلح شدت پسندوں سے رابطہ کیا ہے ۔ قوم قمبر کے قبائلی رہنما کمال الدین نے شدت پسندوں سے رابطے کے لیے جانے والے مظاہرین سے خطاب میں کہا ہے کہ ’آج مسلح افراد کو انھوں نے قران کا واسطہ دیا ہے کہ جو ظلم شروع کیا ہے اب بس کر دو اب ہمیں معاف کردو۔ مزید برداشت ختم ہو گئی ہے۔‘
ان کے مطابق مسلح افراد نے قوم قمبر کے مسائل اپنی قیادت کو بھیجے ہیں اور کہا ہے کہ پانچ اگست کو اس بارے میں جواب دیں گے۔
کمال الدین کے مطابق اگر پانچ اگست تک ان کے مطالبات تسلیم کر لیے گئے تو ٹھیک وگرنہ باغ بازار میں دھرنا دے کر آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ باغ بازار وہی جگہ ہے جہاں سکیورٹی فورسز کے کیمپ کے قریب مظاہرین پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا۔
مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر سیف کے دفتر سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور خود تیراہ واقعے کی نگرانی کر رہے ہیں اور متعلقہ انتظامیہ کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ قبائلی عمائدین کا جرگہ پشاور طلب کیا گیا ہے، جس میں عمائدین کو سنا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت تیراہ واقعے پر انتہائی افسردہ ہے اور غمزدہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔
ٹانک میں سکیورٹی آپریشن کے دوران بچی کی ہلاکت

،تصویر کا ذریعہSocial Media
23 جولائی کو پیش آئے اِسی نوعیت کے ایک اور واقعے میں ضلع ٹانک کے علاقے اما خیل میں فائرنگ کے ایک مبینہ واقعے میں ایک بچی ہلاک ہوئی تھی۔
مبینہ طور پر گولی کا نشانہ بننے والی بچی کے رشتہ دار اور مقامی ویلج کونسل کے چیئرمین محمد علی نے اس واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ نمازِ عصر کے وقت اُن کے گاؤں میں گاڑیوں کی آوازیں آنا شروع ہوئیں۔ 'ہمارا چھوٹا سا گاؤں ہے اور ایک پتلی سڑک ہے، (یہاں) زیادہ گاڑیاں نہیں آتیں۔'
ان کے بقول 23 جولائی کی شام گاؤں میں سکیورٹی فورسز کے لوگ گاڑیوں میں آئے تھے اور سکیورٹی فورسز کی بکتر بند گاڑی کے پیچھے پولیس کی نیلے رنگ کی بکتر بند گاڑیاں بھی تھی جو سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔
محمد علی نے بتایا کہ 'ہم بھاگے کیونکہ ہمیں بچوں کا ڈر تھا۔ اس وقت بچے وہاں کھیل رہے تھے۔ اتنے میں فائرنگ کی آوازیں آئیں جس میں ایک بچی کو گولی لگی اور وہ وہیں دم توڑ گئی۔ باقی بچے گھروں میں چلے گئے تھے۔'
ان کا کہنا تھا کہ 'ہم نے ان گاڑیوں کو روکا اور ان سے وجہ پوچھی کہ ایسا کیوں ہوا ہے۔ لیکن ان کے پاس جواب نہیں تھا۔ وہ ہم سے موبائل فون لینا چاہتے تھے لیکن ہم نے یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر ڈال دی۔'
جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا اُن کے علاقے میں مسلح شدت پسندوں کے خلاف کوئی آپریشن جاری تھا اور شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپ کے دوران گولی بچی کو لگی تو انھوں نے دعویٰ کیا کہ 'جس گلی میں بچی موجود تھی، وہاں کوئی شدت پسند نہیں تھے۔'
بچی کے ہلاکت کے بعد مقامی افراد اور قبائلی رہنما بچی کی میت کے ہمراہ اس مقام پر پہنچے جہاں سکیورٹی فورسز کی گاڑیاں کھڑی تھیں اور شدید احتجاج کیا۔
خیال رہے کہ یہ وہی علاقہ ہے جہاں گذشتہ دنوں مقامی لوگوں نے اما خیل کالج کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا تھا۔ یہ وہی کالج ہے جہاں سکیورٹی فورسز کے بعض اہلکار بھی مقیم ہیں۔
ویڈیو کے منظرِ عام پر آنے کے بعد سنیچر کے روز ضلع ٹانک کے علاقے گل امام میں مقامی عمائدین کا ایک جرگہ منعقد ہوا تھا۔ اس جرگے کے سربراہ عبدالقیوم کنڈی نے بی بی سی کو بتایا کہ 'بچی کی ہلاکت کے بعد اما خیل دھرنے میں اعلان کیا گیا تھا کہ 29 جولائی کو پیزو کے مقام پر انڈس ہائی وے کو بلاک کیا جائے گا۔ 'ہمارا وہ اعلان اپنی جگہ برقرار ہے۔ اگر ہمارے مطالبات تسلیم کر لیے جاتے ہیں تو پھر ہم احتجاج نہیں کریں گے۔'
محمد علی کی مدعیت میں تھانہ سی ٹی ڈی میں درج ایک مقدمے میں اس بچی کا نام ثانیہ بی بی بتایا گیا ہے جس کی عمر لگ بھگ 9 یا 10 سال تھی۔
مقدمے کے متن کے مطابق محمد علی اپنے علاقے میں موجود تھے جب فائرنگ کی آوازیں آنا شروع ہوئیں اور جب وہ بھاگ کر آبادی میں پہنچے تو ایک مکان کے ساتھ ثانیہ بی بی کی لاش خون میں لت پت پڑی تھی۔
اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انھیں بتایا گیا کہ سکیورٹی فورسز نے علاقے میں دہشت گرد عناصر کی موجودگی پر کارروائی کی ہے۔ دوسری طرف ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ جب یہ واقعہ رونما ہوا تو اس سے قبل علاقے میں مسلح شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاعات تھیں جن کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائی جاری تھی۔
پولیس افسر نے بتایا کہ اس علاقے میں مسلح شدت پسندوں کے ساتھ سکیورٹی فورسز کی جھڑپ ہوئی ہے اور اس دوران ایک گولی اس بچی کو لگی جس سے لڑکی کی جان چلی گئی۔
بی بی سی کی جانب سے اس حوالے سے پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے رابطہ کیا گیا ہے اور اس واقعے سے متعلق سوال پوچھے گئے ہیں۔ لیکن اب تک اُن کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔
جرگے کے سربراہ عبدالقیوم کنڈی کے مطابق اس جرگے میں سرکاری افسران، پولیس اور سکیورٹی حکام فریقین کے درمیان صلح کے لیے 'نناواتے' 25 لاکھ روپے اور تین دنبے لائے تھے۔ یہ روایت ہے کہ مقامی طور پر فریقین کے درمیان صلح کے لیے نناواتے لائے جاتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اس سرکاری جرگے کو عمائدین کی جانب سے امن کے قیام کے لیے مطالبات دیے گئے ہیں تاکہ ان پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔
جرگے کی جانب سے 11 مطالبات رکھے گئے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ:
- علاقے میں پائیدار امن کو یقینی بنایا جائے
- پاکستان آرمی کے زیرِ حراست ایسے افراد جو ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث نہ ہوں انھیں فوری رہا کیا جائے
- دہشتگردی میں ملوث افراد کے اہل و عیال کو گرفتار نہ کیا جائے
- سہولت کاری کے الزام میں بغیر ثبوت کے کسی کو گرفتار نہ کیا جائے
- جو اسلحہ پاکستانی فوج لوگوں کے گھروں سے لے کر گئی ہے وہ انھیں واپس کیا جائے
- جو مطلوب افراد ہیں وہ سرکل کنڈیان امن جرگہ کی کابینہ حاضر کریں گی، لیکن اس کی واپسی یقینی بنائی جائے
- گھر میں چھاپے کے دوران چادر اور چار دیواری کا خیال رکھتے ہوئے بغیر اجازت داخلے کا سلسلہ بند کیا جائے۔
- سرکل کنڈیان میں جو حساس دیہات ہیں وہاں چیک پوسٹ بنائے جائیں
- اس شخص کو گرفتار کیا جائے جو طالبان کے ساتھ بندوق اٹھائے یا اس کے لیے مخبری کرے۔ لیکن مخبری کے ثبوت پیش کرنے ہوں گے
- اس کے علاوہ آخری مطالبے میں مزید مقامات پر فوجی چوکیاں بنانے کا کہا گیا ہے











