انڈیا میں کورونا کی دوسری لہر، تصاویری جھلک

انڈیا میں ایک روز میں کورونا سے ریکارڈ ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ شہری متاثر ہوئے ہیں جبکہ 800 سے زائد اس بیماری سے ہلاک بھی ہوئے ہیں۔ کورونا کی اس لہر کے دوران انڈیا کے شہروں کے مناظر ہمیں کیا بتاتے ہیں؟

انڈیا کووڈ کی دوسری لہر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپٹنا ریلوے سٹشین پر مہاراشٹرا سے آنے والے مسافر زمین پر ہی لیٹے آرام کر رہے ہیں۔ ایسی بھیڑ والی جگہوں پر سماجی فاصلے کا اہتمام کرنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔
انڈیا کووڈ کی دوسری لہر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپٹنا جنکشن پر مہاشٹررا سے آنے والے مسافر کووڈ ٹیسٹ کروانے کے انتظار میں قطار میں کھڑے ہیں۔ زیادہ تر افراد ماسک پہنے دکھائی دے رہے ہیں لیکن سماجی فاصلے کا خیال نہیں رکھا جا رہا۔
انڈیا کووڈ کی دوسری لہر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانڈیا میں اب تک دس کروڑ لوگوں کو ویکسین دی جا چکی ہے، اور ویکیسنیشن مہم زور و شور سے جاری ہے
انڈیا کووڈ کی دوسری لہر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانڈیا میں ابتدائی طور پر چالیس کروڑ لوگوں کو ویکسین لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، اور اس مقصد کے لیے آکسفورڈ ایسٹرازینیکا ویکسین کا استعمال کیا جا رہا ہے جو مقامی طور پر انڈیا میں ہی تیار کی جا رہی ہے۔
انڈیا کووڈ کی دوسری لہر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنایک راہ گیر کا سڑک کے کنارے کورونا ٹیسٹ کیا جا رہا، ملک میں کورونا وائرس کی یہ لہر گذشتہ لہروں سے بھی زیادہ خطرناک اور تیزی سے پھیلتی دکھائی دے رہی ہے۔
انڈیا کووڈ کی دوسری لہر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنحکام کے مطابق اس لہر کے تیزی سے پھیلنے کی بڑی وجہ احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کرنا اور سماجی فاصلے برقرار نہ رکھنا ہے
انڈیا کووڈ کی دوسری لہر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمہارشٹرا میں لاک ڈاؤن میں مفت خوارک بھی تقسیم کی جا رہی ہے، تاکہ جو لوگ لاک ڈاؤن کے باعث پریشان ہیں انھیں گھر پر ہی کھانا فراہم کر دیا جائے۔