آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’شادی کر کے لے جاتے ہیں اور وہاں نہ جانے کیا کرواتے ہیں‘
بین الاقوامی و غیر سرکاری ادارے ہیومن رائٹس واچ کی حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں پاکستان سے لڑکیوں کو چین ٹریفک کرنے کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ اسی حوالے سے پاکستان میں انسانی حقوق پر کام کرنے والے کارکنوں کے مطابق پچھلے ایک سال سے پاکستان کے صوبے پنجاب میں چینی باشندے شادی کی غرض سے آرہے ہیں اور لڑکیوں کو شادی کرکے چین لے جارہے ہیں جس کا مقصد ازدواجی تعلقات قائم کرنا نہیں بلکہ یہ مبینہ طور پر بین الاقوامی سطح پر جسم فروشی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
اس سلسلے میں بی بی سی کی نامہ نگار سحر بلوچ نے فیصل آباد میں مقیم ایک ایسی ہی لڑکی سے بات کی جس کی ایک چینی لڑکے سے شادی کرا دی گئی۔ انھوں نے ہمیں کیا بتایا، جانیے انھی کی زبانی۔