کلبھوشن کی معافی پر بین الاقوامی عدالت انصاف میں سماعت آج سے شروع

بین الاقوامی عدالت انصاف میں آج انڈیا یہ استدعا کرنے والا ہے کہ پاکستان کو جاسوسی اور دہشت گردی کے الزامات میں موت کی سزا پانے والے مبینہ بھارتی جاسوس کلبھوشن جادھو کی سزا معاف کرنے کا حکم دیا جائے۔

بصورت دیگر خدشات ہیں کہ پلوامہ حملے کے بعد خطے میں پائی جانے والی کشیدگی سنگین شکل بھی اختیار کر سکتی ہے۔

کلبھوشن جادھو کے بارے میں پاکستان کا دعوی ہے کہ وہ انڈین بحریہ کے حاضر سروس آفسر ہیں جنھیں سنہ 2016 میں پاکستان کے صوبے بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا۔

بعد میں پاکستان کی ایک فوجی عدالت نے 10 اپریل سنہ 2017 میں انھیں جاسوسی، تخریب کاری اور دہشت گردی کے الزامات میں موت کی سزا سنائی تھی۔ پاکستان ایک عرصے سے بلوچستان میں بلوچ علیحدگی پسند عناصر کی پشت پناہی کرنے کا الزام انڈیا پر عائد کرتا رہا ہے۔

تاہم ہیگ میں عالمی عدالت انصاف میں اس معاملے کی سماعت مکمل ہونے کے بعد حتمی فیصلہ آنے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا کے وکلاء کی ٹیم دوسری جنگ عظیم کے بعد عالمی تنازعات کو حل کرنے کے لیے بنائی جانے والی اس عدالت کے سامنے آج اپنا موقف پیش کرے گی۔ جس کے بعد منگل کو پاکستان کلبھوشن جادھو کے بارے میں پاکستان میں انڈیا کے لیے جاسوسی کرنے اور مبینہ طور پر تخریب کارانہ کارروائیاں کرنے کے شواہد عدالت کے سامنے رکھے گا۔

20 فروری کو دوبارہ بھارت کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا جبکہ 21 فروری کو پاکستان اپنے حتمی دلائل دے گا۔ بین الاقوامی عدالت انصاف میں 18 سے 21 فروری تک جاری رہنے والی اس سماعت کو اقوام متحدہ کی ویب سائٹ پر براہ راست دیکھا جا سکتا ہے۔

ہیگ میں قائم اقوام متحدہ کی بین الاقوامی عدالت انصاف نے سنہ 2017 میں پاکستان کو کلبھوشن کی موت کی سزا کو اس وقت تک موخر کرنے کا حکم دیا تھا جب تک وہ انڈیا کی طرف سے اس سلسلے میں دائر کردہ درخواست کی سماعت مکمل نہیں کر لیتی۔

پاکستان نے عالمی عدالت انصاف کے کلبھوشن کی سزا موخر کرنے کے حکم پر بڑے ٹھنڈے طریقے سے عمل کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس حکم سے ان کی سزائے موت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور وہ اپنی جگہ قائم رہے گی۔

انڈیا کا موقف

انڈیا کے مطابق کلبھوشن انڈین بحریہ کا سابق اہلکار ہے اور انھیں ایران سے اغوا کر کے پاکستان لے جایا گیا۔

انڈیا کا کہنا ہے کہ پاکستان کی حکومت کلبھوشن تک قونصلر سطح کی رسائی نہ دے کر وینا کنونشن اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔

پاکستان نے سنہ 2017 میں کلبھوشن سے ان کی اہلیہ اور والدہ کی ملاقات کروائی تھی جس پر انڈیا نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان میں دونوں خواتین کو ہراساں کیا گیا۔

آخری مرتبہ عالمی عدالت انصاف میں دونوں ملکوں کے درمیان سنہ 1999میں آمنا سامنا ہوا تھا جب پاکستان نے پاک بحریہ کے ایک جہاز کو نشانہ بنانے کا معاملہ بین الاقوامی عدالت میں اٹھایا تھا۔ اس واقعہ میں سولہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

بین الاقوامی عدالت نے دونوں ملکوں کا موقف سننے کے بعد یہ فیصلہ دیا تھا کہ وہ اس طرح کے معاملات میں مداخلت کرنے کی مجاز نہیں ہے۔