آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
جنوبی افغانستان کے اہم شہر سنگین پر طالبان کا قبضہ
طالبان نے افغانستان کے جنوبی حصے کے ایک اہم شہر سنگین پر ایک سال سے مسلسل جاری جنگ کے بعد قبضہ کر لیا ہے۔
افغان فورسز کا کہنا ہے کہ انھوں نے جنگی حکمت عملی کے تحت سنگین سے پسپائی اختیار کر لی ہے۔
ہلمند کے گورنر کے ایک ترجمان نے تصدیق کی کہ پولیس کا ضلعی دفتر اور گورنر کا ہیڈ کواٹر طالبان کے ہاتھوں میں ہیں۔
افغانستان میں برطانیہ فوج کی موجودگی کے دوران برطانوی فوج کو ہونے والے مجموعی جانی نقصان کا ایک چوتھائی سنگین کے محاذ پر ہوا تھا۔
حالیہ لڑائی میں سینکڑوں افغان فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ طالبان ترجمان قاری یوسف احمدی نے کہا کہ انھوں نے گزشتہ رات سنگین پر قبضہ کر لیا تھا۔
افغان وزارتِ دفاع کے ترجمان نے کہا کہ چیف آف آرمی اسٹاف کے حکم پر فوجیوں کو سنگین سے نکل جانے کا کہا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اطلاعات کے مطابق بیرونی فوجیوں علاقے پر شدید بمباری کر رہی ہیں۔
سنگین میں کجاکی ڈیم کی سڑک پر برطانوی اور امریکی فوجیوں کی سنہ دو ہزار تیرہ سے قبل شدید لڑائیاں ہوتی رہی ہیں جن میں انھیں شدید جانی نقصان بھی اٹھانا پڑا تھا۔