News image
دوہزار پانچ کی پانچ ہولناکیاں
News image
 
سونامی کی تباہ کاریاں
سونامی کی تباہ کاریاں
 


تحریر : ماہ پارہ صفدر

2005 کے سورج کی کونپل کرنوں نے جب دنیا کو سال نو کی نوید سنائی اس وقت کرہء کائنات کے مشرقی ساحلوں پر تباہی اور بربادیوں کی ایک دلدوز داستان رقم ہورہی تھی۔

ایک ہولناک خبر تھی۔ جو جنوری کے ابتدائی کئی دنوں تک دنیا بھرکے ذرائع ابلاغ میں چھائی رہی۔ گو کہ اس آفت کا تعلق سال گزشتہ کے آخری چند دنوں سے تھا۔ مگر جب تک اس کی غارت گری دنیا پر عیاں ہوئی۔ نیا برس دستک دے چکا تھا۔ا ور خبر یہ تھی کہ انڈونیشیا کے جزیرے سماٹرا کے قریب سمندر کی تہہ میں چھبیس دسمبر کو آنے والے زلزلے کے بعد پیدا ہونے والی طوفانی موجوں سے مرنے والوں کی تعداد اب ایک سو تیس ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے۔ اور پھر یہ تعداد بڑھتی چلی گئی۔ اور دو لاکھ سے تجاوز کرگئی۔


دنیا کے اکثر ممالک میں یکم جنوری کو سال نوکی ابتدا روائتی مغربی انداز یعنی کسی رقص و موسیقی کے جشن یا کسی آتشبازی کی رنگا رنگ تقریب سے نہیں ہوئی بلکہ آہوں اور سسکیوں سے ہوئی۔

متاثرہ بھارت، ،تھائی لینڈ اور سری لنکا میں نئے برس کے استقالیہ تقریبات اور آتشبازی کے پروگرام مرنے والوں کے لیے دعائیہ تقریبات میں تبدیل ہوگئے۔

مرنے والوں میں یورپی ملکوں سویڈن، ڈینمارک، ناروے اور فن لینڈ کے افراد بھی شامل تھے جو بڑی تعداد میں چھٹیاں منانے بحیرہ ہند کے ساحلوں کی طرف گئے ہوئے تھے۔لہذا مغربی دارالحکومتوں میں سال نو کا آغاز رنج و سوگواری سے ہوا۔

گو کے سونامی نے سال گزشتہ آخری چند دنوں میں یعنی چھبیس دسمبر کو تباہی مچانی شروع کردی تھی۔ مگر اس کی تباہ کاریاں سامنے آتے آتے کئی دن لگے۔ قدرتی آفات کے عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ ایک صدی میں ایسی تباہی نہ دیکھی نہ سنی۔

وہ ایسی قہر انگیز لہریں تھیں جنہوں نے قیامت برپا کردی تھی۔ لوگوں نے پل بھر میں موت کو قریب اور زندگی کو خود سے دور ہوتے دیکھا۔ ساحلوں پر بنے ہوئی پختہ کنکریٹ کی بڑی بڑی عمارتیں ایسے غرقاب ہوگئیں جیسے ریت کے گھروندے ہوں۔

تباہی کا وہ عالم تھا کہ نامہ نگاروں کے الفاظ اور قلم ان کا ساتھ نہیں دے پارہے تھے۔ انڈونیشیا کے شہر بندہ آچے کے بیچوں بیچ گزرنے والا دریا لاشوں سے پٹ چکا تھا جدھر نظر اٹھائی موت نظر آئی۔ بہت سی لاشیں آدمخور لہروں کے ساتھ بہہ گئی تھیں اور ان میں بہت سی قریبی جزیروں پر ریت میں دب گئیں۔ کسی ماں کی گود اجڑی تو کسی کا گھر اور ہزاروں بچوں کے سروں سے ماں باپ کا سایہ۔ آچے میں کوئی سینتیس ہزار افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔

سونامی سے سب سے زیادہ ایک لاکھ تیس ہزار کے لگ بھگ افراد آچے میں ہلاک ہوئے۔ خطے میں سونامی کے سیاسی اثرات بھی مرتب ہوئے۔ کئی عشروں سے سرگرم عمل مزاحمتی تحریک دم توڑ گئی۔ اس کے زیادہ تر کارکن پانی کی نذر ہوگئے اور جو بچ گئے ان میں اتنا دم خم نہیں رہا کہ وہ تحریک آگے بڑھاتے ۔ اور حکومت سے سجھوتے پر مجبور ہوگئے۔

انیس سو چونسٹھ میں الاسکا میں آنے والے طوفان کے بعد آنے والا یہ سب سے بڑا طوفان تھا۔
جس کی شدت امریکی جیولاجیکل سروے کے مطابق ریکٹر سکیل پر9 تھی جو گزشتہ چالیس برس کے دوران دنیا بھر میں کہیں بھی آنے والا شدید ترین زلزلہ ہے۔

اس طوفان سے انڈونیشیا سے بھارت تک تقریباً دو ہزار کلومیٹر علاقے کے دس ملکوں میں پچاس لاکھ افراد متاثر متاثر ہوئے۔ جن کی بحالی کے اس عمل میں دس برس تک لگ سکتے ہیں۔



 
 
سونامی کی تباہ کاریاں
 
 
 
 
^^تازہ ترین خبریں>>پاکستان>>اوپر واپس>>