![]() | |
![]() تحریر: مہ پارہ صفدر، بی بی سی اردو ڈاٹ کام لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے
اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنے خوشی چلے اردو کلاسیکی ادب کے استاد ابراہیم ذوق کے اس شعر کی ہمہ گیر حقیقت سے انکار تو شاید ممکن نہیں لیکن یہ بھی درست ہے کہ اس حیاتِ مستعار میں کچھ چہرے کچھ نام اور کچھ آوازیں اپنی تخلیقات اور فن پاروں کے روپ میں ایسے انمٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں جنہیں وقت کی دھول شاید دھندلا تو سکتی ہے لیکن مٹا نہیں سکتی۔ ایسی ہی کچھ یادیں، کچھ باتیں راہ زندگی پر نقش چھوڑنے والی ان ہستیوں کی ہیں جو دو ہزار چار کی دھند میں ہم سے جدا ہو گئیں۔ کس جگہ جاتے ہیں اے دل اس جہاں کے رات دن کس جگہ میں بس رہے ہیں اس جہاں کے رات دن اب کہاں ہیں ہستیاں جو تھیں ہمارے درمیاں کیا انہیں کے ساتھ ہونگے اس جہاں کے رات دن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ^^واپس اوپر | |||