![]() | |
![]() شاعر سیاستدان اٹل بہاری واجپائی بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی اپنے ملک کے ایک بہت زیادہ عرصے تک منظرعام پر رہنے والے سیاستدان اور ایک کرشماتی رہنما کے طور پر سامنے آۓ ہیں۔
وہ سب سے زیادہ عرصے تک حکومت کرنے والے ایسے وزیراعظم ہیں جن کا تعلق کانگریس جماعت سے نہیں ہے۔انہوں نے پہلے ہی اپنی حکومت کے چھ سال مکمل کر لئے ہیں جو تین تین سال کے دو ادوار پر پھیلے ہوۓ ہیں۔ مسٹر واجپائی کو بی جے پی کا معتدل رہنما تصور کیا جاتا ہے جو اپنے سخت گیر ساتھیوں کی نسبت عوام میں زیادہ مقبول ہیں۔ دو سال قبل ایک جسمانی عارضے سے گزرنے کے باوجود مسٹر واجپائی کی عوام اور اپنی جماعت میں بہت مضبوط پوزیشن ہے۔ ان کے قریبی ساتھیوں کے مطابق مسٹر واجپائی کی پہلی ترجیح پاکستان سے تعلقات بہتر بنانا ہے۔ ستر کی دہائی میں بھی بھارت کے وزیر خارجہ کے طور پر مسٹر واجپائی اپنے مقابل نیوکلیائی ہمسایہ کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کرنے میں کامیاب رہے تھے۔ اپنے موجودہ دور ِ اقتدار میں مسٹر واجپائی نے دو دفعہ پاکستان سے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی۔ ایک تو سن دو ہزار ایک میں جب آگرہ میں سربراہی ملاقات ناکام ہوئی اور دوسرے ماضی قریب میں جب انہوں نے اسلام آباد کا تاریخ ساز دورہ کیا۔ مسٹر واجپائی پچھلی نصف صدی سے سیاست کے میدان ِ کارزار میں سرگرمِ عمل ہیں۔ وہ اعلی ذات کے برھمن ہیں اور سن انیس سو چھبیس میں مدہیہ پردیش کی وسطی ریاست میں پیدا ہوۓ۔ برطانوی سامراج کی مخالفت کی پاداش میں وہ لڑکپن میں مختصر عرصے کے لئے جیل میں بھی رہے۔ لیکن اس کے علاوہ انہوں نے تحریک آزادی میں کوئی قابل ِ ذکر کردار ادا نہیں کیا۔ شروع میں کچھ عرصہ کمیونزم کی تحریک سے وابستہ رہنے کے بعد مسٹر واجپائی نے ہندو قومی راشڑیہ سوامی سیوک (آرایس ایس) اور جان سنگھ جو دونوں دائیں بازو کی جماعتیں تھیں، کی حمایت شروع کر دی۔ ان دونوں جماعتوں نے بعد میں بی لے پی کے ساتھ قریبی روابط استوار کر لئے۔ مسٹر واجپائی نے انیس سو پچاس کی دہائی کے شروع میں قانون کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر آر ایس ایس کا میگزین نکالنا شروع کر دیا۔ بعد میں وہ آر ایس ایس میں اپنی حیثیت مضبوط کر کے بی جے پی میں ایک معتدل آواز کے طور پر ابھرے ۔ بی جے بی کا ہندو نشاۃ ثانیہ کا فلسفہ نہ صرف بھارت کے مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کے لئے قابلِ قبول نہیں بلکہ بہت سے معتدل ہندو بھی اس سے متفق نہیں۔ واجپائی نے کئ مواقع پر بھارت کے مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں گروہوں کے ساتھ اچھی طرح معاملہ کرنے کی کوشش کی ہے اور یہی وجہ ہے کہ واجپائی کی موجودگی بھارت کے مقتدر حلقوں کے لئے باعثِ تقویت ہے۔ اگرچہ ان کا ذاتی کردار عام طور پر ہر قسم کے شک و شبہ سے بالا رہا ہے لیکن اسلحہ رشوت اسکینڈل نے نہ صرف ان کی حکومت میں بدعنوانی کو آشکار کر دیا ہے بلکہ مسٹر واجپائی کے قوت ِ فیصلہ پر بھی سوالیہ نشان ڈال دیا ہے۔ مسٹر واجپائی زندگی بھر کنوارے رہے ہیں، ان کا مشغلہ کھانا پکانا ہے اور فارغ اوقات میں وہ فلسفیانہ شاعری کرتے ہیں۔ بھارت کے پہلے وزیراعظم جواہر لال نہرو نے ایک بار واجپائی کے ایک لیڈر کے طور پر اچھے مستقبل کی طرف اشارہ کیا تھا۔ آج نواسی سال کی عمر میں مسٹرواجپائی اپنی سیاسی زندگی کے اختتام کی طرف گامزن ہیں۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ مسٹر واجپائی کی نظریں اب اپنی زندگی کی آخری انتخابی فتح پر ہیں، ایک ایسی فتح جو بھارت کے سب مضبوط اور کامیاب رہنما کے طور پر ان کے سیاسی ورثہ پر مہر ثبت کر دے گی۔ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ^^واپس اوپر | |||