http://www.bbc.com/urdu/

بینک آف انگلینڈ پر ہرجانے کا دعوٰی

گزشتہ دہائی کے سب سے بڑے اقتصادی سکینڈلز میں سے ایک، بی سی سی آئی کیس، نے ایک مرتبہ پھر سر اٹھایا ہے۔ برطانیہ کے مرکزی بینک، بینک آف انگلینڈ، پر منگل کو لندن کی ہائی کورٹ میں بی سی سی آئی کے حوالے سے ایک ارب ڈالر ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا گیا ہے۔

بی سی سی آئی کی بنیاد ایک پاکستانی بینکار آغا حسن عابدی نے رکھی تھی۔

اکاؤنٹینسی کی ایک بین الاقوامی فرم ڈیلوئٹ ٹوش نے بینک آف انگلینڈ پر الزام لگایا ہے کہ بی سی سی آئی کے معاملات کی دیکھ بھال میں اس نے بے احتیاطی کا ثبوت دیا تھا۔

بی سی سی آئی کو بینک آف انگلینڈ نے کاروبار کا لائسنس دیا تھا جو 1991 میں بے تحاشا قرض کے تلے بیٹھ گیا تھا اور ابو ظہبی کی حکومت سمیت اس کے حصہ داروں اور کھاتے داروں کو، جن میں چھوٹے بڑے بزنس اور نجی لوگ شامل تھے، اربوں ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا تھا۔

بینک کے شیئر ہولڈرز اور قرض خواہ جن میں پاکستانی، برطانوی اور خلیج میں رہنے والوں کی ایک بڑی تعداد شامل تھی بینک کے ڈوبتے ہی اپنے اربوں ڈالر کھو بیٹھے۔

بی سی سی آئی کے ایک سابق پاکستانی اہلکار اور اقتصادیات کے تجزیہ کار قیصر ملک کا کہنا ہے کہ اس مقدمے کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں۔ ایک یہ کہ بینک آف انگلینڈ یہ مقدمہ ہار جائے اور ایک بلین ڈالر کا ہرجانہ ادا کرے جوکہ پھر بینک کے کھاتہ داروں میں تقسیم کردیا جائے گا۔ تاہم اس صورت میں بینک کے ملازمین کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ بینک کے باہر ہی کوئی معاہدہ طے کرلیا جائے اور بینک آف انگلینڈ کچھ رقم دے کر معاملہ ختم کروادے۔

اس کے حصص میں بڑا حصہ شیخ زید اور ابو ظہبی کی حکومت کا تھا۔

اکاؤنٹینسی کی فرم ڈیلوئٹ ٹوش جو حتی الامکان رقومات جمع کرنے کا کام کر رہی ہے کہتی ہے کہ بینک آف انگلینڈ نے سرمایہ کاروں کے تحفظ کا پورا انتظام نہیں کیا تھا۔

بینک کے ڈوبنے کے بعد یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ یہ فرم بہت کم پیسے وصول کر کے قرض خواہوں کو ادا کر سکے گی۔ لیکن آہستہ آہستہ اس نے قرض خواہوں کو ستر فیصد تک پیسے ادا کر دیئے۔

اب ڈیلوئٹ ٹوش بینک آف انگلینڈ پر ہرجانے کا دعوٰی کر کے قرض خواہوں کے لیے مزید رقم اکٹھا کرنا چاہتی ہے۔

اس کا کہنا ہے کہ بینک کو چاہیئے تھا کہ بی سی سی آئی کو جلد بند کر دیتا یا اس کو شروع ہی میں بینکنگ کا لائسنس ہی جاری نہ کرتا۔

واضح رہے کہ بینک آف انگلینڈ کے خلاف غیر ذمہ داری پر ہرجانے کا دعوٰی نہیں کیا جا سکتا۔ فرم کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ بینک آف انگلینڈ نے ’بے ایمانی‘ کا مظاہرہ کیا تھا۔

قیصر ملک کا کہنا ہے کہ بی سی سی آئی پر یہ الزامات اس وقت سامنے آئے جب بش سینئر انتخابات لڑنے والے تھے۔ امریکی اخبارات میں اس بینک کے خلاف پروپیگینڈا شروع کردیا گیا۔ قیصر ملک کے خیال میں امریکی انتظامیہ نے اپنے خفیہ آپریشن کے لئے بینک کا استعمال کیا اور آج بھی مختلف بینکوں کو ایسے ہی آپریشنز کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔ قیصر ملک نے کہا کہ انتظامیہ کے غلط استعمال سے بینک کی قانونی حیثیت مشکوک ہونی چاہئے یا غلط اقدام کرنے والے کو ہی مورود الزام ٹھہرانا چاہئے۔