عدنان عادل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
پاکستان دنیا کی شاید واحد ایسی قومی ریاست ہوگی جہاں ملک کے فوجی حکمران کی تصویر پر مبنی ڈاک ٹکٹ پہلے جاری کیاگیا اور ملک کے بانی کی تصویر کا ٹکٹ بعد میں۔
ملک کے گزشتہ چھپن برسوں میں جو ایک ہزار سے زیادہ ڈاک ٹکٹ جاری کیے گئے ان پر بادشاہوں اور مشہور شخصیات کی تصویریں ہیں، عمارتوں کی تصویریں ہیں لیکن ملک کا عام آدمی، کسان اور مزدور کہیں نظر نہیں آتا۔ تاہم گزشتہ بیس برسوں میں جاری ہونے والے ٹکٹوں میں موضوعات کا تنوع نظر آتا ہے۔
پاکستان کے پہلے ڈاک ٹکٹ سے لے کر سنہ دو ہزار چھ کے پہلے مہینہ تک جاری کیے گئے بارہ سو پچاس ٹکٹوں کا ایک رنگین کیٹلاگ لاہور سے شائع کیا گیا ہے اور وہ لوگ جو اصل پرانے ٹکٹ حاصل نہیں کرسکتے وہ اس کے ذریعے ان ٹکٹوں تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔
اگر یہ ڈاک ٹکٹ پاکستانی ریاست کی ترجیحات اور پسند و ناپسند کا آئینہ ہیں تو ان سے ایک دلچسپ تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے۔
ڈاک ٹکٹوں کا یہ کیٹلاگ دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان وجود میں آیا تو فوری طور پر برطانوی عہد کے ٹکٹوں پر پاکستان کا لفظ بڑا بڑا شائع کرکے انہیں ملک کے پہلے عبوری ٹکٹوں کے طور پر استعمال کیا گیا اور بعد میں کراچی میں ان ٹکٹوں کو دوبارہ چھاپا کیا گیا۔
ان ٹکٹوں پر انڈیا پوسٹیج لکھا ہوا ہے اور شاہ جارج ششم کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ یہ آدھے آنہ سے لے کر بارہ آنہ تک کے اور ایک روپے سے پچیس روپے تک کی مالیت کے ٹکٹ ہیں۔
پاکستان کے اپنے باقاعدہ ٹکٹ آزادی کی یاد منانے کے عنوان سے نو جولائی انیس سو اڑتالیس میں جاری کیے گئے۔ ان چار مختلف ڈیزائنوں کے ٹکٹوں کو لندن سے چھپوایا گیا۔
ایک روپیہ کا پہلا ڈاک ٹکٹ معروف مصور عبدالرحمان چغتائی نے ڈیزائن کیا تھا جس پر پاکستان زندہ باد لکھا تھا۔ آزادی کی یاد میں جاری کیے گئے اس پہلے ٹکٹ کا رنگ سرخ ہے، اس پر چاند تارہ بنا ہوا ہے اور پاکستان کے قیام کی تاریخ پندرہ اگست لکھی ہوئی ہے جو بعد میں تبدیل کرکے چودہ اگست کردی گئی۔
اگست انیس سو انتالیس تک جاری کئے گئے مختلف ٹکٹوں میں سے کسی پر بھی بانی پاکستان قائداغطم محمد علی جناح کی کوئی تصویر یا نام نہیں ہے۔ ان ٹکٹوں پر بھارت سے ہجرت کرکے آنے والے مصیبت زدہ مہاجرین یا فسادات میں مارے جانے والے عام لوگوں کی کوئی تصویر یا کوئی مصوری نہیں۔ان سب ٹکٹوں پر عمارتوں کی تصویر ہے یا چاند تارا بنا ہوا ہے۔
ستمبر انیس سو انچاس میں قائداعظم محمد علی جناح کی وفات پر ٹکٹ جاری کیا گیا جس پر قائداعظم لکھا ہوا ہے لیکن ان کی تصویر نہیں ہے۔
پاکستانی ٹکٹوں پر پہلی بار کوئی زندہ چیز اونٹوں کے قافلہ کی شکل میں انیس سو باون میں نمودار ہوئی۔ یہ ٹکٹ متحدہ ہندوستان میں جاری ہونے والے پہلے ڈاک ٹکٹوں کی صد سالہ یاد میں جاری کیے گئے تھے۔
مصور عبدالرحمان چغتائی نے انیس سو اکیاون میں ایک بار پھر ڈاک ٹکٹ ڈیزائن کیے جن پر وقت ناپنے کے لیے ریت کی گھڑی بنی ہوئی ہے۔ نیلے، سبز اور سرخ رنگوں میں یہ خاصے خوبصورت ڈاک ٹکٹ ہیں۔
ملک بننے کے نو سال بعد اکتوبر انیس سو چھپن میں پاکستان کی قومی اسمبلی کے ڈھاکہ میں ہونے والے پہلے اجلاس کے تین یادگاری ٹکٹ شائع ہوئے۔ ان میں سے ایک ٹکٹ پر مالٹے کا درخت بنا ہوا ہے اور ایک پر کرنافلی کاغذ مل کی تصویر ہے۔
اکتوبر انیس سو اٹھاون میں ملک کا پہلا آئین منسوخ کرکے پہلا جنرل ایوب خان نے اقتدار سنبھالا۔ اس کے ایک سال بعد حکومت نے یوم افواج پر جو دس جنوری کو منایا جاتا تھا دو ٹکٹ جاری کیے جن پر افواج پاکستان کا بیج شائع ہوا ہے۔ یہ ٹکٹوں پر فوج کا پہلا داخلہ ہے۔
جنرل ایوب خان کے مارشل لا لگانے کی یاد میں یوم انقلاب کے عنوان سے ستائیس اکتوبر انیس سو ساٹھ کو ٹکٹ جاری کیے گئے۔ان کا موضوع ایوب خان کی زرعی اصلاحات ہیں جنہیں کسانوں سے نہیں بلکہ قطعہ زمین سے واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
ایوب خان اور ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں دو دو بار ان کی تصاویر والے ٹکٹ جاری ہوئے ۔ بے نظیر بھٹو نے بھی اپنی تصویر والا ٹکٹ شائع کیا لیکن وہ جاری نہیں کیا گیا۔ محمد خان جونیجو، نواز شریف اور جنرل ضیاالحق نے اپنی تصاویر کے ٹکٹ جاری نہیں کیے۔
انیس سو اکسٹھ میں ملک کی کرنسی آنہ کی بجائے پیسے اور روپے میں ہوگئی تو اس کی یاد میں بھی ٹکٹ جاری ہوئے۔ اس موقع پر پہلی بار مسجد کی شبیہ ٹکٹوں کا موضوع بنی۔ ان پر لاہور کی شاہی مسجد کی تصویر ہے۔ بعد میں انیس سو اکسٹھ میں بنگال کی سونا مسجد کی شبیہ ایک روپے کے ٹکٹوں کا موضوع بنی۔
شروع کے پندرہ سال ڈاک ٹکٹوں پر عمارتیں چھائی رہیں۔ مفاد عامہ کا کوئی موضوع انیس سو باسٹھ میں پہلی بار ٹکٹوں پر جگہ بناسکا۔ ملیریا کی بیخ کنی کے لیے حکومت نے سات اپریل انیس سو اکسٹھ میں مچھر کی تصویروں والی دو ٹکٹیں جاری کیں۔
جب انیس سو چھن میں پارلیمینٹ نے ملک کا پہلا آئین بنایا تھا تو اس کی تو کوئی یادگاری ٹکٹ جاری نہیں ہوئی تھی نہ انیس سو تہتر کے پہلے متفقہ آئین کی ہوئی۔
البتہ جنرل ایوب خان کی فوجی حکومت نے انیس سو باسٹھ میں جو آئین نافذ کیا تھا اس کی یاد میں اسی سال گیارہ دسمبر کو ٹکٹ جاری کیے گئے۔ ان پر مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے نقشے اور گل یاسمین کے ساتھ علامہ اقبال کے ایک شعر کا مصرعہ بھی درج ہے۔
مارچ انیس سو تریسٹھ میں قدرے عوامی رنگ کا ایک ٹکٹ جاری ہوا جس پر قومی ہارس اور کیٹل شو کے موقع پر ایک گہرے گلابی رنگ کے ٹکٹ پر ایک گھوڑے، بیل اور ایک اونٹ کو رقص کرتے دکھایاگیا ہے۔
ملک کی مقامی ثقافتوں کا پہلا اعتراف شاہ عبداللطیف بھٹائی کے مزار کی شبیہ کے ساتھ جاری ہونے والے جون انیس سو چونسٹھ کے ٹکٹ سے ہوتا ہے۔
فوجی جوانوں کے چہرے وہ پہلے انسانی چہرے ہیں جو ڈاک ٹکٹوں پر ظاہر ہوئے۔ انیس سو پینسٹھ کی جنگ کے بعد اسی سال دسمبر میں جاری کیے گئے ڈاک ٹکٹوں پر پاکستان کی بری، بحریہ اور فضائیہ کے باوردی جوانوں کو ان کے ہتھیاروں کے ساتھ ٹکٹ پر دکھایا گیا۔
نومبر انیس سو چھیاسٹھ میں کسی شخص کی تصویر پہلی بار دو ڈاک ٹکٹوں پر شائع کی گئی اور وہ تھے فوجی حکمران جنرل ایوب خان۔ موقع تھا اسلام آباد کے ملک کا نیا دارالحکومت بننے کا۔ ایک ٹکٹ پر باوردی جنرل ایوب اور دوسرے پر انگریزی سوٹ میں ملبوس۔ اس وقت تک قائداعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال کی تصویریں بھی ٹکٹوں پر نہیں آئی تھیں۔
شائد حکومت کو اس بات کا احساس ہوگیا ہو اور اس نے ایک ماہ بعد اکتیس دسمبر سنہ انیس سو چھیاسٹھ میں بانی پاکستان کی تصویروں والے ٹکٹ جاری کیے جن میں قائداعظم نے کوٹ اور ٹائی پہنے ہوئے ہیں۔ ایک سال بعد پہلی بار علامہ اقبال کی تصویر کے ساتھ بھی ٹکٹ جاری کردیے گئے۔
بنگال کی نمائندگی پہلی بار جون انیس سو اڑسٹھ میں جاری کیے گئے ٹکٹوں سے ہوتی ہے جن پر مشہور بنگالی شاعر قاضی نذرالسلام کی تصاویر ہیں۔ اس کے ایک سال بعد قومی زبان اردو کے شاعر مرزا غالب کی تصاویر والے ٹکٹ بھی جاری ہوئے۔
ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کی تصویر والا پہلا ٹکٹ ان کی وفات کی برسی کے موقع پر اکتوبر انیس سو چونسٹھ میں ڈاک ٹکٹ کا موضوع بنا۔ اس تصویر میں وہ کالا کوٹ اور ٹائی لگائے ہوئے ہیں۔
شیروانی انیس سو چھہتر تک ملک کے سرکاری لباس کے طور پر سامنے نہیں آئی۔ اس سال نومبر میں قائداغطم کی ایسی پہلی تصویر والا ٹکٹ جاری ہوا جس میں انہیں شیروانی پہنے دکھایا گیا ہے۔ اگلے ہی سال علامہ اقبال کی صد سالہ پیدائش کے موقع پر ان کی تصویر والے ٹکٹ میں انہیں بھی کوٹ اور ٹائی کے بجائے گاؤن پہنے دکھایا گیاہے۔
ایک دلچسپ قصہ فیصل مسجد کی تصاویر والے ٹکٹوں کا ہے جو بارہ اکتوبر انیس سو چھہتر کو جاری ہونا تھے لیکن گیارہ اکتوبر کو اس کی افتتاحی تقریب منسوخ ہونے کے باعث انہیں واپس لے لیا گیا تاہم کچھ ڈاکخانوں سے وہ عوام میں تقسیم کردیے گئے تھے۔
ایسا ہی واقعہ بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور اقتدار کا ہے۔ انیس پچانوے میں پاکستان میں مسلمان ملکوں کی خواتین ارکان پارلیمینٹ کی کانفرنس ہوئی۔اس موقع پر بنگلہ دیش کی وزیراعظم خالدہ ضیاء، ترکی کی وزیراعظم تانسو چلر اور پاکستان کی وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی تصاویر پر مبنی ایک ڈاک ٹکٹ شائع کیاگیا لیکن اسے جاری نہیں کیاگیا۔ اس ٹکٹ کی نقل اس کیٹلاگ میں دی گئی ہے۔
قرارداد لاہور کی جگہ پر ساٹھ کی دہائی میں بننے والے مینار پاکستان کی تصویر پہلی بار انیس سو اٹھہتر میں ڈاک ٹکٹ پر نمودار ہوئی۔
اسی اور نوے کی دہائی سے پاکستان کے ڈاک ٹکٹوں میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آتی ہے۔ ان میں موضوعات کی رنگارنگی نظر آتی ہے۔ ان کے عنوانات مقامی شاعروں ، ادیبوں، مصوروں، اسکالروں اور دانشوروں کی تصاویر، مقامی دستکاریاں اور لباس اور مفاد عامہ کے پیغامات ہیں۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو ڈاک ٹکٹوں کے متنوع موضوعات ایک تیزی سے بدلتے ہوئے پاکستان کے آئینہ دار ہیں۔