http://www.bbc.com/urdu/

Monday, 06 March, 2006, 09:15 GMT 14:15 PST

تاجکستان میں یہودی معبد مسمار

تاجکستان میں مقامی انتظامیہ نے یہودیوں کے ملک میں آخری معبد کو مسمارکرنے کے کام کا آغاز کر دیا ہے تاکہ یہاں سے صدراتی کمپلیکس جانے کا راستہ بنایا جاسکے۔

یہ صدراتی کمپلیکس وسط ایشیائی ملک تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں تعمیر کیا جا رہا ہے۔

یہودی معبد (سینیگاگ)کا احاطہ بلڈوزروں کی مدد سےگرا دیا گیا ہے اور امکان ہے کہ اس سال کے آخر تک باقی عمارت بھی گرا دی جائے گی۔

وسط ایشیائی ملک تاجکستان کی قدیم یہودی کمیونٹی کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ انہیں نئے معبد کی تیاری کے لیے مناسب معاوضہ نہیں دیا گیا۔ ان کے مطابق معاوضے کےطور پر ملنے والا اراضی کا ٹکڑا ان کے معبد کی تعمیر کے لیے نا مناسب ہے۔

دوشنبے کی اس مختصر یہودی برادری کے زیادہ تر اراکین غریب اور بوڑھے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ نئی اراضی ایک تو شہر کے ایک کونے میں ہے جو انہیں بہت دور پڑتی ہے اور دوسرے یہ کہ وہ اس قابل نہیں کہ معبد کی عمارت کی تعمیر کر سکیں۔

مسمار کیے جانے والا سنیگاگ کوئی ایک صدی پرانا ہے اور شہر کے عین وسط میں ایک اہم جگہ پر قائم ہے جس کے نزدیک ہی حکومت اب ایوان صدر کے دفاتر کے لیے ایک کمپلیکس بنانا چاہتی ہے۔

یہودیوں کے ایک مذہبی پیشوا نے کہا ہے کہ انہیں ابھی بھی امید ہے کہ حکومت یا بین الاقوامی یہودی گروپ نئے معبد کے حصول میں ان کی مدد کرے گا۔

تاہم جو لوگ دوشنبے کی یہودی برادری کو جانتے ہیں انہیں علم ہے کہ جس یہودی نے بھی پرانے معبد کی تعمیر کی مخالفت کی تھی اسے سرکاری اہلکاروں کی طرف سے دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اب وہ اس بارے میں کھل کر بات کرنے سے گریزاں ہیں۔

اس ملک کے یہودیوں کا تعلق اس قدیم یہودی برادری سے ہے جو فارسی بولتی ہے اور بخاری ہے ۔ یہ یہودی وسط ایشیا میں کوئی دوہزار سال سے رہ رہے ہیں۔

اب دوشنبے میں صرف تین سو اور ملک بھر میں ایک ہزار یہودی باقی ہیں کیونکہ سوویت یونین کے خاتمے اور تاجکستان میں خانہ جنگی کے بعد لاکھوں یہودی یہاں سے ہجرت کر گئے تھے۔