http://www.bbc.com/urdu/

ریاض سہیل
کراچی

پاکستان: دو خواتین حملہ آور گرفتار

کراچی پولیس کو مطلوب دو مبینہ خودکش آور بہنوں کو سوات پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔

گرفتاری کی تصدیق وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد اور گرفتار ہونے والی لڑکیوں کے والدین نے کی ہے۔

کراچی پولیس ایک سال دو بہنوں کو تلاش کر رہی تھی جن کے بارے میں پولیس کو اطلاح ملی تھی کہ ان کو مذہبی منافرت پھیلانے والے گروہوں نے خود کش حملوں کے لیے تیار کیا ہوا تھا۔
  یہ لوگ نوخیز لوگوں کو اپنے جال میں پھنساتے ہیں کہ بم باندھو جنت تمہارے سامنے ہے۔
 
لڑکیوں کے والد کا بیان

لیاری سے تعلق رکھنے والی ان بہنوں کے ماموں گل حسن کو پچھلے ہفتے پیتالیس لوگوں کو ہلاک کرنے کے جرم میں موت کی سزا سنائی گئی ہے۔

لڑکیوں کے والدین کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کے ماموں گل حسن نے ان کو اس خود کش حملوں کے لیے تیار کیا تھا۔

اگر یہ خودکش حملہ کرتیں تو پاکستان میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا حملہ ہوتا۔

گذشتہ سال کراچی میں امام بارگاہ حیدری اور علی رضا میں خودکش حملوں کے ان بہنوں کے خود کش حملوں کا چرچا عام ہوگیا تھا اور خواتین پولیس نے برقعہ پوش عورتوں کی تلاشی لینا شروع کردی تھی۔

لڑکیوں کے باپ شیر محمد بلوچ حبیب بنک میں نائب صدر ہیں ان کا کہنا تھا کہ ان کی بچیاں پانچ وقت نمازی تھیں اور سب کو نماز پڑھنے کی تلقین کرتیں رہتیں تھیں۔

اٹھارہ سالہ صبا اور بیس سالہ عارفہ کے بارے میں ان کی ماں کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹیاں پچھلے سال 29 جون کو نانی کے گھر جانے کا کہہ کرگئیں تھیں۔ مگر وہ وہاں سے اپنے ماموں گل حسن کے گھر چلیں گئیں جہاں سے اپنی ممانی اور اس کے بچوں کیساتھ گم ہوگئیں۔

لڑکیوں کے بھائی عابد بلوچ کا کہنا ہے کہ ان کے ماموں گل حسن نے گرفتاری کے بعد ان کو بتایا تھا کہ اگر اس گرفتاری ایک دن بعد ہوتی تو عارفہ کراچی کے علاقے کھارادر میں ایک امام بارگاہ پر خودکش حملہ کرچکی ہوتی۔

لڑکیوں کے والد نے بتایا کہ جب گل حسن کو پولیس نے گرفتار کیا تو اس دن اس کی بیگم نے بار بار فون کرکے اصرار کیا کہ عارفہ ان کے گھر آ جائے کیونکہ وہ اکیلی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لڑکیاں گھر سے نانی کے گھر جانے کا کہہ کر گئیں اور پھر واپس نہیں آئیں۔

والد کا کہنا تھا جب اس نے گل حسن سے اپنی بچیوں کے بارے میں معلوم کیا تو اس نے جواب میں کہا کہ اگر اس نے بتا دیا تو اس کی تنظیم والے اس کی بیوی اور میری بچیوں کوگلے میں پھندے ڈال کر مار دینگے۔

شیر محمد کے مطابق جب پولیس نے گل حسن پر تشدد کیا تو اس نے کچھ مکانات کی نشاندھی کی مگر وہ وہاں سے نکل چکی تھیں۔

شیر محمد نے بتایا کہ اس کے بعد وہ مسلسل پولیس سے رابطے میں رہا۔ کچہ دن قبل ایس پی فاروق اعوان نے بتایا کے ہم نے کچھ لوگ گرفتار کئے ہیں جو کہتے ہیں کہ کہ لڑکیاں مانسہرہ میں ہیں۔

تین دن قبل تیں خواتین کی گرفتاری کی خبر پر میں نے ڈی آئی جی سی آئی ڈی جاوید بخاری سے رابطہ کیا جس نے بتایا کے یہ میری بچیاں ہیں جو اب اسلام آباد میں خفیہ ادارے کے لوگوں کے پاس ہیں۔

شیر محمد کا کہنا تھا کہ ان کی بچیاں معصوم ہیں ان کو گمراہ کیا گیا ہے۔ یہ لوگ نوخیز لوگوں کو اپنے جال میں پھنساتے ہیں کہ بم باندھو جنت تمہارے سامنے ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اسلام آباد جا رہے ہیں جہاں وہ بچیوں کی رہائی کے لیے کوشش کرینگے۔

وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے بھی گرفتاریوں کی تصدیق کی مگر ان کا کہنا تھا کہ یہ پرانی بات ہے۔ انہیں سیدو شریف سے گرفتار کیا گیا تھا۔